Add 1

Thursday, December 20, 2018

لبرلینڈ پاکستان کوتوانائی کے بحران سے نکالنے میں ہر ممکن مدد کرے گا, ڈاکٹر طارق عباسی

لبرلینڈ پاکستان کوتوانائی کے بحران سے نکالنے میں ہر ممکن مدد کرے گا ، پاک لبرلینڈ چیمبر آف کامرس کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ سٹیٹ سیکرٹری لبرلینڈ ڈاکٹر طارق عباسی
لبرلینڈ پاکستان کے تعلیمی سیکٹرمیں سرمایہ کاری کر کے پاکستان میں تدریسی شرح کو بڑھانے میں تعاون کرے گا ، قونصل جنرل پاکستان فیصل بٹ

لاہور (نمائندہ ہمارا مقصد) یورپ کے نقشے پر ابھرنے والے نئے ملک ”لبرلینڈ“ کے سٹیٹ سیکرٹری ڈاکٹر طارق عباسی اور پاکستان میں تعینات لبرلینڈ کے قونصل جنرل فیصل بٹ نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔
پریس کانفرنس میں قونصل جنرل پاکستان فیصل بٹ نے لبرلینڈ کا تفصیلی تعارف بیان کیا ۔ بعد ازاں سٹیٹ سیکرٹری ڈاکٹر طارق عباسی نے لبرلینڈ کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر طارق عباسی کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ یورپین پارلیمنٹ میں اپنا اہم مقام بنا چکا ہے جسکا منہ بولتا ثبوت USA Libertarian Party اور UK Libertarian Party کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ لبرلینڈ کو تسلیم کرنے کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اب تک 14 ممالک لبرلینڈ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ابھی ہم ان ممالک کے نام عیاں نہیں کر سکتے ، وقت کو بھانپتے ہوئے ان ممالک کے نام ظاہر کر دیے جائیں گے ۔
انکا کہنا تھا کہ صومالیہ سفارتی طور پر لبرلینڈ کو تسلیم کرچکا ہے دریں اثناء لبرلینڈ اور صومالیہ کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط قائم ہو چکے ہیں ، اسکے علاوہ لبرلینڈ صومالیہ کو بنکنگ ، ای کامرس ، کرپٹو کرنسی اور انرجی سیکٹر ز میں تعاون کر رہا ہے ۔
ڈاکٹر طارق عباسی کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ UNPO(Unrepresented Nations and Peoples Organization) میں آبزرور کے طو پرر موجود ہے ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا میں لبرلینڈ کے 106 آپریٹنگ دفاتر موجود ہیں جو لبرلینڈ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پاکستان میں تعینات لبرلینڈ کے قونصل جنرل ”فیصل بٹ“ کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ ریاستی بالادستی کے قیام کے لیے Montevideo conventionکے آرٹیکل 1 کے مطابق اپنی اہلیت مکمل کر چکا ہے ۔
پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل بٹ کا کہنا تھا کہ پچھلے دور حکومت میں وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے لبرلینڈ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات قائم نہ ہوسکے ۔ لبرلینڈ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے موجودہ وزیر خارجہ کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبرلینڈ پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا ۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہنر مند افراد پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ، لبرلینڈ کے انفرا سٹرکچر میں پاکستانی ماہرین کی خدمات لی جائیں گے ۔ جس سے پاکستان کی اکانومی بہتر ہوگی، یہ اقدام بیروزگاری کے خاتمے میں معاون ثابت ہو ں گے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گا ، پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے ، لبرلینڈ پاکستان جیسے ممالک میں سرمایہ کاری کرکے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کروانے کی کوشش کرے گا ۔
انکا کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان چیمبر آف کامرس کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے پاکستان اور لبرلینڈ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا ۔ قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی کمپنیاں جو یورپ میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہشمند ہیں انہیں چاہیے کہ وہ لبرلینڈ کی وساطت سے خود کو رجسٹرڈ کروائیں تاکہ انہیں یورپ میں بھاری بھرکم ٹیکس سے چھٹکارہ مل سکے ۔ انکا کہنا تھا کہ لبرلینڈ یورپ میں واحد ملک ہے جو ٹیکس فری سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرہا ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان میں نا صرف Block Chain Technology متعارف کروائے گا بلکہ پاکستان کو اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کرنے میں بھی معاونت کرے گا ۔ قونصل جنرل فیصل بٹ کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سرمایہ کاری کرکے شرح خواندگی کو بڑھانے میں مدد کرے گا ۔ آخر میں قونصل جنرل نے عوام کو آسان شرائط پر لبرلینڈ کی شہریت حاصل کرنے کی متعلق بتایا ۔

Thursday, December 13, 2018

Missing educational facilities in Layya.

علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے, اس قول کی زندہ مثال شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر پڑھنے والے لیہ کے بچے
(تحریر : مرزا رضوان بیگ لیہ)

لیہ میں ایک ایسا سکول بھی موجود ہے جوشدید سردی میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر علم کے روشنی پھیلانے کے لیے کوشاں ہے بغیر چھت کے سکول کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سکول وزیر اعلی پنجاب کے ایڈوائزر سید رفاقت گیلانی کے حلقہ میں واقع ہے

پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمپین کے دوران ووٹرز سے تعلیمی بجٹ میں اضافہ، سکول سے باہر سکول جانے والی عمر کے بچوں کا سکولوں میں داخلہ،نظام تعلیم کی بہتری، مفت صحت و تعلیم دینے اورغریب طبقے کو غربت کی لکیر سے نکالنے جیسے وعدوں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے لیکن 100 دن سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود لیہ شہر کے وسط میں آباد کچی آبادی کے مکین بچوں کو محکمہ تعلیم قریبی سرکاری سکولوں میں داخل کروانے میں ناکام ہے

پل انگڑا کے قریب آباد کچی آبادی کے مکینوں نے بتایا کہ ایک نجی تنظیم کی تقریب میں انہیں بتایا گیا کہ غربت سے نکلنے کا واحد ہتھیار بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے اس کے بعد ہم تمام بستی والوں نے بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا اور حصول تعلیم کے لیے تمام بچوں کو قریبی گورنمنٹ سکول میں داخل کروا دیا تاکہ بچے پڑھ لکھ کر اچھے شہری بن سکیں لیکن سکول میں اساتذہ کے غیر منصفانہ رویے اور دوسرے بچوں کی مار پیٹ کی وجہ سے جلد ہمارے بچوں نے سکول جانا چھوڑ دیا انہوں نے شہر کے معززین سے بات کی کہ ہم بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن تعلیم کی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے نہیں پڑھا پا رہے سماجی کارکنوں اور خداترس شہریوں کی مدد سے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ نے بستی میں غیر روائتی سکول بنا دیا 1 مارچ 2018 کو سکول کا ہوا جس پر ہم سب والدین سمیت بچے بھی بہت خوش ہوئے تمام بچے روزانہ صبح 8:30 بجے سکول جاتے ہیں اور 12:30 بجے تک تعلیم حاصل کرتے ہیں

بستی کے رہائشی قمر عباس جوکہ بلدیہ میں کلاس چہارم کا ملازم ہے نے بتایا کہ والدین کی اولین ترجیح اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا اور اچھا انسان بنانا ہوتی ہے لیکن محدود وسائل کی وجہ سے تعلیم دلوانا مشکل ہوجاتا ہے لٹریسی سکول بن جانے سے ہمارے بچوں کو تعلیم تو مل رہی ہے لیکن دسمبر کی اس شدید سردی میں کھلے آسمان تلے اس چھونپڑی میں صبح سویرے بچوں کا آنا اور تعلیم جاری رکھنا بہت مشکل ہے بجائے اس کے کہ گورنمنٹ سکول کے اساتذہ کو منصفانہ رویے پر آمادہ کیا جاتا ہمارے بچوں کو شدید سردی اور تیز ہواوں میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر تعلیم کی نعمت سے نوازا جارہا ہے ہم اس پر بھی حکومت وقت کے شکر گزار ہیں مخیر حضرات کے تعاون سے بچوں کو بستے اور کاپیاں تو مل گئی ہیں لیکن جوتے، جرسیاں اور ٹھنڈی ہوا کو روکنے کے لیے تاحال کوئی انتظامات نہیں ہو سکے

سکول ٹیچر تصور عباس کا کہنا ہے کہ غربت تعلیم کے راستے میں حائل ضرور تھی لیکن بستی کے بچے عام سہریوں کے بچوں کی طرح ذہین ہیں اور ذمیہ کام ذمہ داری سے کرکے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں محدود تنخواہ کے باوجود صدقہ جاریہ سمجھتے ہوئے غریب پسماندہ بستی کے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے کوشاں ہوں حکومتی نمائندگان کو چاہیے کہ بچوں کے بیٹھنے اور سردی سے بچنے کے لیے انتظامات کریں بچوں کو بنیادی سہولیات مل جائیں تو ان کا مستقبل سنور جائے گا

مشیر وزیر اعلی پنجاب سید رفاقت علی گیلانی نے بتایا کہ جلد صوبہ بھر میں تعلیمی اصلاحات لارہے ہیں جس کے تحت سکول سے باہر سکول جانے کی عمر کے تمام بچوں کو سکول داخل کروایا جائے گا۔

پروجیکٹ انچارج لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ مہر انوار تھند نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایسے علاقہ جات جہاں سکول دور ہو اور بچوں کی زیادہ تعداد سکول نہ پہنچ سکے وہاں لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ ہنگامی بنیادوں پر غیر روائتی سکول کا قیام کرتا ہے اور بچوں کو تعلیم کی سہولیات فوری بہم پہنچائی جاتی ہیں کچی آبادی کے بچوں کو استاد اور کتابیں مہیا کردی گئی ہیں دیگر اخراجات اور لوازمات لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

بقول شاعر

کشکول میں جس روز کوئی بھیک نہ ہوگی
وہ رات میری قوم پر تاریک نہ ہوگی
اس شہر کے ماتھے پر لکھی ہے تباہی
جس شہر کی مکتب کی فضا ٹھیک نہ ہوگی

Tuesday, December 11, 2018

آشیانہ سکیم سکینڈل, سابق وفاقی وزیر سعد رفیق اپنے بھائی خواجہ سلیمان کے ساتھ گرفتار.

آشیانہ سکیم سکینڈل میں سعد رفیق اور خواجہ سلمان کو گرفتار کرلیا گیا.
( مانیٹرنگ ڈیسک)

حکومت کیا گئی ن لیگ پر تو جیسے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے, ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ برا ثابت ہونے لگا, نواز شریف اور مریم نواز ضمانت پر ہیں تو شہباز شریف ان دنوں نیب کی حراست میں, خبر ہے کہ حمزہ شہباز کو بھی بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا. جبکہ آج ن لیگ کے اہم رہنما و سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو آشیانہ / پیراگون ہاؤسنگ سکیم سکینڈل میں گرفتار کرلیا گیا, دونوں بھائیوں کے خلاف منصوبے کا جنرل منیجر وعدہ معاف گواہ بن گیا جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی, دوسری جانب نیب نے سابق وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کے خلاف بھی آمدن سے زائد کے اثاثوں پر تحقیقات کا عندیہ دے دیا ہے. حالات سے لگتا ہے کہ اگلے دو تین ماہ میں بڑے پیمانے پر مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائینگی. ان گرفتاریوں کی زد میں چند ایک حکومتی ارکان کے آنے کا بھی خدشہ ہے.

FIA offloaded Hamza Shehbaz

آپ بیرون ملک نہیں جاسکتے,ایف آئی اے نے حمزہ شہباز کو جہاز سے اتار لیا,
(ٹی وی رپورٹ)

ایف آئی اے کی ٹیم نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے و رکن صوبائی اسمبلی حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا, تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز ایک نجی ایئر لائن کی پرواز سے بیرون ملک جا رہے تھے کہ ایف آئی اے حکام نے انہیں بیرون ملک جانے سے روکتے ہوئے جہاز سے اتار لیا, یاد رہے کہ حمزہ شہباز اور انکے والد شہباز شریف کیخلاف کیسز کی تحقیقات چل رہی ہیں جبکہ شہباز شریف پہلے ہی نیب کی حراست میں ہیں.

Monday, December 10, 2018

موسم سرما کی پہلی بارش, ملک بھر میں جل تھل, روجھان کے شہری بارش سے خوش ہونے کی بجائے پریشان.

موسم سرما کی پہلی بارش, ملک بھر میں جل تھل, روجھان کے شہری بارش سے خوش ہونے کی بجائے پریشان.
( ہمارا مقصد رپورٹ)

ملک کے دیگر حصوں کی طرح راجن پور میں بھی ابررحمت جم کے برسا, موسم سرما کی پہلی بارش سے جہاں درختوں کے پتے دھل گئےاور فصلیں ہری بھری ہوگئیں, وہاں روجھان میں  باران رحمت شہریوں کیلئے باعث زحمت بن گیا تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح راجن پور اور اس کے مضافات میں بھی موسم سرما کی پہلی بارش نے ہر طرف جل تھل کردی, باران رحمت سے درختوں کے پتے دھل گئے تو کھیت اور کھلیان بھی کھل اٹھے, دوسری طرف بارشوں کی پیشگی اطلاعات کے باوجود مقامی انتظامیہ کی طرف سے مناسب انتظامات کی کمی کے باعث روجھان میں بارش کا پانی اور کیچڑ شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا, سیوریج کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی گلیوں, محلوں اور سڑکوں پر پھیل گیا, لوگوں کو آمد ورفت میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ گیا.

Passengers Bus accident took placed in Rajanpur, 4 dead, 15 injured.

راجن پور میں تیز رفتارمسافر بس کو حادثہ, 4 افراد جانبحق,15 زخمی ہوگئے
(ہمارا مقصد رپورٹ)

راجن پور میں انڈس ہائی موگ پر دھینگن کے قریب مسافر بس الٹ گیا, افسوسناک حادثے میں 4 افراد جانحق جبکہ 15 زخمی ہوگئے, تفصیلات کے مطابق سوموار کےصبح سویرے راجن پور میں انڈس ہائی پر بنگلہ دھینگن کےقریب کراچی سے سوات جانے والی مسافر بس تیز رفتاری کے باعث الٹ گئی جس کے نتیجے میں خواتین سمیت 4 افراد جاں بحق ہو گئے ۔ جبکہ حادثہ میں 15 مسافر زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں میں بچے بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں ۔ ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر زخمیوں اور جانبحق افراد کی نعشوں کو ڈسٹرکٹ ہسپتال منتقل کر دیا, جبکہ 5 مریضوں کی حالت تشویشناک ہونے کے سبب ڈی جی خان ریفر کردیئے گئے, ڈاکٹروں کے مطابق مزید ہلاکتوں کا خدشہ موجود ہے ۔

Sunday, December 9, 2018

معروف فلمی کامیڈین مرزا شاہی انتقال کرگئے

مشہور فلمی کامیڈین مرزا شاہی انتقال کرگئے
نیٹ نیوز
فلمی دنیا کے معروف مزاحیہ فنکار مرزا شاہی اب ہم میں نہیں رہے, معروف فلم سٹار ندیم کی پہلی فلم چکوری میں مرزا شاہی نے طوطے والے کا انمول کردار ادا کیا, انہوں نے اپنے کیرئیر میں بے شمار لاجواب کردار کیے, مرحوم کافی عرصہ سے قسم پرسی کی زندگی گزار رہے تھے اور کافی عرصہ سے شدید علیل بھی تھے, آج مرحوم غربت اور بیماری سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار گئے.

صحافیوں کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے( ایک جذباتی و مبنی برحقیقت تحریر)

*ہم صحافی بھی رو دیتے ہیں*
تحریر: رضوان طاہر مبین

پہلے یہ سن لیجیے، ہمارے عنوان کا تعلق کارکن صحافیوں کی بے روزگاری سے نہیں، بلکہ ہمارا موضوع پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے ہے۔
صحافت کا تعلق حالاتِ حاضرہ سے ہے، جس میں سیاسی گرما گرمی اور زندگی کے سارے کھیل تماشے ہوتے ہیں، اس میں رنج کے ایسے مقام بھی آتے ہیں کہ جہاں آپ کو خبر سے جُوجھنا بھی ہوتا ہے اور اپنی دلی کیفیات کو یکسر ایک طرف بھی رکھنا ہوتا ہے۔
یہ بڑی مجبوری کا وقت ہوتا ہے، ہمارے دل میں ایک ٹیس اٹھتی ہے، پلکیں ڈبڈباتی ہیں، کبھی زار و قطار رو پڑتے ہیں، مگر ’ڈیڈ لائن‘ کی سر پر لٹکتی تلوار اتنی چھوٹ بھی نہیں دیتی کہ ذرا ہلکے ہولیں۔ قارئین و ناظرین کو یہ اندازہ کیسے ہو کہ یہ سب اخبار کے صفحے یا ٹی وی پر دکھائی تو دیتا ہی نہیں۔
پھر کسی بھی خبر کی ’قامت‘ کا تعین مختلف پیمانوں پر کیا جاتا ہے، پہلی بار اس کا اندازہ ہمیں ’نوائے وقت‘ کی مرکزی ڈیسک پر ’ٹرینی‘ کے طور پر بیٹھ کر ہوا۔ اُن دنوں ’ائیر بلو‘ کا طیارہ مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرا کر تباہ ہوا تھا، شاید دوسرے دن ایک خبر میں اس کے مسافروں کا ذکر تھا کہ کون کیا خواب دیکھتا تھا اور کسے کیا کرنا تھا۔ ہماری دانست میں یہ بہت بڑی خبر تھی، مگر ہمیں حکم ہوا کہ بس ’ایک کالمی‘ بنا دو!
تب ہمیں خبری تازگی اور اخبار کی جگہ جیسے بے رحم عنصر کا درست اندازہ ہوا۔ جیسے اسکول کے زمانے میں ہم نے ایک کہانی پڑھی تھی، جو 4 جانیں لینے والی ایک چھوٹی سی خبر کے تناظر میں لکھی گئی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹی سی خبر کے پیچھے 4 نوحے اور المیے تھے!
ہمیں بھی کبھی ایک خبری تصویر، ایک منظر یا ایک جملہ کلیجہ تھامنے پر مجبور کردیتا ہے اور کام ہمارا ’خبر‘ کا، جس میں ہمارے جذبات کی کوئی گنجائش ہی نہیں، البتہ پھر ہم خبر سے جُڑی ہوئی دیگر تحریروں میں اپنے ان احساسات کا ابلاغ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ دھیان رہے کہ ہمیں قارئین کی طرح اخبار کا صفحہ تہہ کرکے ایک طرف رکھنے، ریموٹ اٹھا کر چینل بدلنے یا انگلی کی جنبش سے کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین بدلنے کی سہولت نہیں ہوتی!
ہم ہی تو وہ زبان اور وہ آنکھ ہوتے ہیں، جو آپ کو یہ سب بتاتے اور دکھاتے ہیں، ایسے میں ہم خبری ڈیسک پر ہی اپنے آنسو چھپا لیتے ہیں، ضبط کی توہین ہوجائے تو جلدی سے اشک پونچھ لیتے ہیں۔ کاغذ تر بھی ہو تو چھپنے کے بعد وہ بالکل ’مشینی‘ ہوتا ہے، یہ تھوڑی بتاتا ہے کہ صحافی کے اشک بھی اس کی روشنائی میں جذب ہیں۔
کمپیوٹر تو ٹھہرا ہی سپاٹ، اس کا ’کی بورڈ‘ یہ کیسے بتائے کہ یہ تحریر لکھتے ہوئے انگلیوں کی ’پُوریں‘ کتنی بار آنسووں سے تر ہوئیں! البتہ مائیک اور کیمرے کے معاملے میں ہم چغلی کھا جاتے ہیں اور کیوں نہ کھائیں، ہم کوئی کلاکار تو نہیں اور نہ کوئی فرضی داستان عکس بند ہو رہی ہے کہ مشق کیجیے اور سدھار لیجیے۔ یہ تو حقائق کا بیان ہے اور اکثر ہمیں ’براہِ راست‘ سنانا اور دکھانا پڑتا ہے۔
آپ نے ٹی وی پر وسعت اللہ خان کو دیکھا ہوگا، جب وہ ایک فٹ پاتھ اسکول پر پڑھنے والے بے گھر معصوم بچے سے گفتگو کے دوران اس کے دل دوز جوابات نہ سہہ پائے تو کیمرے سے نگاہیں بچا کر آگے بڑھ گئے۔ اس وسیم بادامی کو بھی سنا ہوگا، جو کراچی میں ڈاکوؤں کی گولی کا نشانہ بننے والی ننھی امل کی والدہ کی ڈائری پڑھ رہے تھے اور ان کی آواز میں آنسوؤں کی چاپ صاف سنی جاسکتی تھی!
لیکن اس کے باوجود ہم نے ابھی تک صحافیوں کے لابالی سوالات پر لعن طعن ہی سنی ہے کہ وہ حدود میں نہیں رہتے، چھاپے مارتے ہیں، ہر ایک کے منہ میں مائیک گھسیڑ گھسیڑ کر پوچھتے ہیں کہ ’آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟‘ مگر حساس اور ایماندار صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران کس کرب سے گزرنا پڑتا ہے، اس جانب کم ہی توجہ کی جاتی ہے۔
ہم صحافیوں کو ایک کرب جائے وقوعہ پر جھیلنا پڑتا ہے اور دوسرا کرب ڈیسک پر بیٹھے سب ایڈیٹروں کے نصیب میں ہوتا ہے۔ مجھے دونوں طرف کی لاچاری کا خوب اندازہ ہے، پھر ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ ہمیں بہت سے اَن کہی اور اَن سنی چیزوں کا ابلاغ ہوجاتا ہے، یہ دُہری مشکل ہے!
لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہم کن مراحل سے گزر کر خبر یا فیچر قلم بند کرتے ہیں، کبھی ہمارا مخاطب ہمارے ہی کسی سوال پر اس قدر نڈھال ہوتا ہے کہ ہمیں قلم اور کیمرے سے رخصت لے کر کچھ دیر اس کے ساتھ بیٹھ کر آنسو پونچھنا پڑتے ہیں، اسے دلاسہ دینا اور گلے سے بھی لگانا پڑتا ہے تاکہ اُسے یہ احساس ہو کہ ہم بھی دردِ دل رکھتے ہیں اور صرف روزی روٹی کی مجبوری سے تمہارے پاس نہیں آئے۔
مجھے یاد ہے جب 2014ء کے آرمی پبلک اسکول، پشاور میں جان سے گزرنے والے بچوں کی خبروں نے بہت دنوں تک میری آنکھیں خشک نہ ہونے دی تھیں، پھر 2017ء میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر دھماکے کے بعد خون میں ایک بچے کی دودھ کی شیشی کی تصویر نے بہت گھائل کیا، میں اس تصویر میں موجود کرب کو تحریر میں دینے میں ناکام رہا!
ہم جب مختلف فیچر اور انٹرویوز کے لیے شہر کے طول و ارض میں نکلتے ہیں، تو کئی بار صورتحال ایسی ہوتی ہے کہ ہمارے سوالات گنگ ہوجاتے ہیں۔ ہماری برداشت ساتھ چھوڑ دیتی ہے، آنکھیں عَلم احتجاج بلند کردیتی ہیں اور ہم متوقع جوابات کی سہار نہ ہونے کے سبب چپ ہوجاتے ہیں۔
بس بتانا یہ تھا کہ اس سماج میں غموں کی بہتات ہے، جنہیں زبان دیتے ہوئے ہم صحافی بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے اور رو دیتے ہیں۔

Layya's snatched wheet truck recovered from Rajanpur,one arrested

لیہ کے لٹیروں کا سہولت کار راجن پور سے گرفتار
(رپورٹ:  نمائندہ ہمارا مقصد )

لیہ کے نواحی علاقہ میں لٹیروں نے گندم کی 7000 بوری گندم لدا ٹرک لوٹ لیا, ضلع لیہ کی پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا تو تفتیش کے جدید طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پولیس نے راجن پور کے مشہور و معروف ہوٹل مالک دینو پٹھان کو گرفتار کیا جس کی نشاندہی پر گندم سے لدا ٹرک بھی برآمد کرلیا گیا, لیہ پولیس نے سٹی تھانہ راجن پور کی مدد سے کارروائی کی, تھانہ سٹی پولیس نے ملزم دینوں پٹھان کو لیہ پولیس کے حوالے کردیا.