Add 1

Saturday, September 22, 2018

A great man Mir Balakh sher Mazari

ایک عظیم انسان شرافت دیانت اور سخاوت کا نشان چیف آف تمن مزاری "میر بلخ شیر خان مزاری"

بلخ شیر مزاری 8 جولائی 1928ء کو کوٹ کرم خان  روجھان ، راجن پور، ضلع ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
وفاق پرست بلوچ ہماری ملکی سیاست کا ایک اہم نام ہیں۔ آپ پاکستان کے صوبہ بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں پھیلے ہوئے مزاری بلوچ قبیلے کے چیف ہیں۔مزاری قبیلے کا علاقہ تین صوبوں بلوچستان سندھ اور پنجاب کے درمیان واقع ہے۔ مزاری قبیلے کا قائد ہونے کی وجہ سے ان کو میر کا خطاب دیا گیا ہے۔ وہ مزاری قبیلے کے بائیسویں سردار اور ساتویں میر ہیں۔ آپ کے بھائی سردار شیر باز مزاری بھی پاکستان میں شرافت اور اصول پسندی کی سیاست کے حوالے سے بہت بڑا نام ہیں۔"دی بلوچ ریس" نامی کتاب کے مصنف سر ڈیمز کے مطابق مزاری لفظ بلوچ زبان کے لفظ مزار سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے شیر۔ یعنی بلوچی زبان میں مزاری کا مطلب شیر کا بچہ ہے۔ کہتے ہیں ایک بلوچ سردار نے شیر کا مقابلہ کر کے شیر مار ڈالا تھا جس سے ان کا نام مزار پڑ گیا اور بعد میں ان کی اولاد مزاری کہلائی۔ مزاریوں کا ہیڈ کوارٹر روجھان ہے۔ جہاں مزاری چیف کا تاریخی میری بنگلہ واقع ہے۔ روجھان مزاری پنجاب کے ضلع راجن پور کی آخری تحصیل ہے۔ ماضی میں یہ روجھان کا قصبہ مزاری قبائلی سٹیٹ کا صدر مقام تھا۔ مزاری تمن اس حلقے کی سب سے بڑی برادری ہے۔

بلخ شیر مزاری بے 1950ء کی دہائی میں سیاست میں حصہ لیا۔ 1951ء کو ڈسٹرکٹ بورڈ ڈیرہ غازی خان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے ر کن بنے۔ 1955ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پاکستان دستور ساز اسمبلی جبکہ 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1973ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پنجاب صوبائی اسمبلی جبکہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم پارٹی سے اختلافات کے بعد انہوں نے استعفا دیدیا۔ 1982ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات می قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے پارلیمانی ایسوسی ایشن، دولت مشترکہ، انٹر پارلیمانی یونین اور اقوام متحدہ میں متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کی۔

میر بلخ شیر مزاری کی سیاسی زندگی لگ بھگ  70 سال پر مشتمل ہے۔ 90 سالہ روائتی بلوچ سردار کا پنجاب کے بلوچ قبائل کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے بلوچ قبائل میں بھی بہت احترام ہے۔ قبائلی روایات کے حامل اس خطے کوہ سلیمان اور ڈیرہ بگٹی سے لیکر رحیم یارخان تک اور کشمور سے لیکر فورٹ منرو تک ہمیشہ سے مزاری چیف سردار میر بلخ شیر مزاری کا احترام کیا جاتا رہا ہے۔ میر صاحب کی نواب اکبر بگٹی سے رشتہ داری ہے۔ نواب اکبر بگٹی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بلوچ سرداروں میں صرف میر بلخ شیر مزاری کا بے حد احترام کرتے تھے۔ یہاں کے لوگ میر بلخ شیر مزاری کی شرافت، وضع داری، اصول پسندی، سچائی اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے بے پناہ عزت کرتے ہیں۔

بلوچ روایات میں قبائلی چیف کو باپ کا درجہ حاصل ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بے نظیر بھٹو تک سب ہمیشہ ان کی شرافت اور اصول پسندی کے مداح رہے ہیں۔ آپ نے ساری زندگی صاف ستھری اور کرپشن سے پاک سیاست کی ہے۔ ان کے دامن پر کرپشن کا داغ تو دور کی بات آپ کے سیاسی مخالف جھوٹا الزام بھی آپ پر نہیں لگا سکتے۔ آج بھی سیاست میں فعال ہیں اور حالیہ دنوں میں اس خطے کے لوگوں کے لئے الگ صوبے کی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ میر بلخ شیر مزاری 1988 سے قومی اسمبلی کے فورم سے الگ صوبے کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے کی پسماندگی کا حل الگ صوبے میں پوشیدہ ہے۔ میر بلخ شیر مزاری 8 جولائی 1928 کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد انتقال کے وقت مزاری قبیلے کے قائد (اعلیٰ سربراہ) تھے اس لئے آپ ان کے جانشین میر مقرر ہوئے۔ آپ نے 1945 میں ایچی سن کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی اور روجھان واپس آ گئے۔ 1951 میں آپ نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ آپ قانون ساز اسمبلی ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ایوب دور اور بھٹو دور میں بھی پارلیمنٹ کے ممبر رہے۔ 1962 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ ایک وقت تھا جب راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کا ایک ہی حلقہ ہوتا تھا اس ایک حلقے کی حددو سندھ کے ضلع کشمور کی سرحد پر واقع شاہوالی سے لیکر صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے باڈر پر واقع قصبے رمک تک تھی۔ تب یہاں لغاری قبیلے اور مزاری قبیلے کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا۔ اس حلقے میں اس وقت جوان رعنا میر بلخ شیر مزاری نے بزرگ اور جہاندیدہ سر جمال خان لغاری کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ نواب محمود خان لغاری کو ہرا کر ڈیرہ غازی خان ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ بلوچی قبائلی جرگے کے چیئرمین بھی رہے۔

ایوب خان کے مقابلے میں مادر ملت کا ساتھ دیا۔ 1970 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست دیکر صوبائی اسمبلی کے رکن بنے۔ بعدازاں بھٹو کے ساتھ مل گئے۔1977 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی کے رکن بنے۔ 1985 میں بھی میر بلخ شیر مزاری ممبر قومی اسمبلی کے طور پر کامیاب ہو ئے تھے۔ 1990 میں میر بلخ شیر مزاری ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 1993 میں بھی میر بلخ شیر مزاری روجھان سے کامیاب ہوئے۔ صدر غلام اسحاق خان کے دور میں جب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت ہٹائی گئی تب صدارتی حکم نامے پر آپ 90 دن کے لئے پاکستان کے نگران وزیراعظم مقرر کیے گئے مگر سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی حکم نامہ منسوخ کر دیا جس کے نتیجے میں میاں محمد نواز شریف واپس اپنے عہدے پر آ گئے۔آپ نے 19 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993 تک نگران وزیراعظم کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ بطور نگران وزیراعظم آپ نے او آئی سی (آرگنائیزیشن آف اسلامک کنٹریز) سمٹ پاکستان کی نمائندگی کی جس میں آپ نے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کی اور فلسطین پر بات کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 242 اور 338 پوری طرح نافذ کرے اور فلسطینیوں کو ان کے وطن جانے کی اجازت دے۔ اس کے علاوہ آپ نے بوسنیا ہرزگووینا میں انسانی نسل کشی، آذر بائیجان پر حملے اور وہاں موجود بیرونی قوتوں کی مداخلت کی سخت مذمت کی۔ آپ نے او آئی سی سے افغانستان کو سیاسی بحران سے نکالنے کی اپیل کی اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اس مختصر دور حکومت میں او آئی سی میں پاکستان کی نمائندگی کرنا آپ کے سیاسی کیرئیر کا ایک یادگار موقع ہے۔ روجھان مزاری، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی سیاست ہمیشہ سے ان کے گرد گھومتی رہی ہے۔ آپ کا ضلع رحیم یار خان کی سیاست پر بھی اثر رہا ہے۔ آپ کے چھوٹے بھائی شیر جان خان مزاری کے بیٹے سردار سلیم جان خان مزاری کشمور سندھ سے ممبر قومی اسمبلی اور ضلع ناظم منتخب ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے اپنے محاذ کو تحریک انصاف میں ضم کیا ہے۔ آپ کے بیٹے سردار زاہد مزاری بھی رکن صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔ اب میر بلخ شیر مزاری کے سب سے بڑے  بیٹے اور بیوروکریٹ سردار طارق مزاری کے بڑے صاحبزادے سردار دوست محمد مزاری انکے سیاسی جانشین ہیں۔وہ  2008 میں رکن قومی اسمبلی اور وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اب کی بار میر بلخ شیر مزاری اور انکے پوتے سردار دوست محمد مزاری پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب میر بلخ شیر مزاری کے تاریخی میری بنگلہ واقع روجھان پر پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا لہراتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سردار ریاض محمود مزاری ممبرقومی اسمبلی اور ان کے پوتے دوست محمد مزاری روجھان سے ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر ہیں۔

Sunday, September 2, 2018

Crown of Lahore( Takht e Lahore) and Usman Khan Buzdar

تخت لاہور اور عثمان خان بزدار

تحریرو تحقیق: سعید مزاری راجن پور
Email: rindaannews@gmail.com
فون نمبر: 03334143061

اقتدار ایک ایسا نشہ ہے کہ جب ایکبار لگ جائے تو پھر اس کاعلاج صرف ایک ہی طبیب کے پاس ہے اور وہ طبیب فقط موت ہے. موت خواہ سیاسی ہو یا وجود کی اس کے بغیر اقتدار کا خمار اترنے کا نام نہیں لیتا. کچھ اس طرح کی صورتحال آجکل گزشتہ ستر سال سے تخت لاہور پر قابض لوگوں کی دکھائی دے رہی ہے. پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر ستر سال سے بالائی پنجاب کے چند گھرانے مسلسل حکومت کرتے چلے آرہے ہیں. عام طور پر خیال یہ کیا جاتا ہے کہ جس کی حکومت پنجاب میں ہے وہ تقریباً پورے ملک کا حاکم ہے. اس کی وجہ بھی کافی حد تک معقول ہے پنجاب کی آبادی باقی ماندہ تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے. ملکی بجٹ کا بھی بڑا حصہ پنجاب ہی کو ملتا ہے. اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بجٹ کو بلاتفریق پورے صوبے پر خرچ کیا جاتا اور پورے صوبے کے لوگوں کو برابری کی سطح پر شراکت داری دی جاتی. لیکن بدقسمتی سے گزشتہ ستر سال کے دوران ایسا کیا نہ جاسکا. تخت لاہور پر براجمان اپر پنجاب اور سنٹرل پنجاب کے لوگوں نے صوبے کے جنوبی حصہ کو یکسر نظرانداز کیے رکھا. پنجاب کا یہ جنوبی حصہ جس کی آبادی تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سے متجاوز ہے اور صوبے کی کل آمدن کا تقریباً 48 فیصد ریونیو بھی دیتا ہے. بدقسمتی سے آج بھی پتھر کے دور میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. تعلیم,روزگار اور صحت کی سہولتات کی کمی کی وجہ سے یہاں ہرطرف غربت کا راج دکھائی دیتا ہے. اسی غربت اور تعلیم کی کمی کے سبب جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپر پنجاب میں اچھوت خیال کیا جاتا ہے. بیوروکریسی میں بھی اپر پنجاب اور سنڑل پنجاب کے لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اس لیے انکی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جنوبی پنجاب کا کوئی بندہ آگے نہ آ سکے.
وہ جو کہتے ہیں ناں کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور پانی کو جتنا نیچے دباؤ گے پانی اتنا ہی اوپر کو ابھرے گا کچھ اسی طرح کی صورتحال آج کل عملی طور پر دیکھنے میں آرہا ہے. قدرت اپر پنجاب کے مقتدر حلقوں کے تکبر کےباعث ان سے بلآخر ناراض ہوہی گیا. تخت لاہور کے ناخداؤں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے الیکشن 2018 میں نہ صرف بری طرح شکست سے دوچار کیا بلکہ تخت لاہور کا تاج جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ ترین علاقے کے بلوچی و سرائیکی بولنے والے شخص کے سر پر رکھ دیا.
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و حالیہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جب کوہ سلیمان کے بغل میں بسنے والے سردار عثمان خان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد کیا تو جیسے لاہور سمیت اپر پنجاب میں قیامت برپا ہوگیا. خودکو ستر سال سے تخت لاہور کا بلا شرکت غیرے ولی وارث سمجھنے والوں کی چیخیں نکل گئیں ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہوگئیں. اجارہ داری کے خاتمے کا خیال انہیں خوابوں میں ڈرانے لگا تو انہوں نے بارتھی کے اس شریف النفس اور سادگی کے پیکر بلوچ سردار کے پیچھے اپنی پوری فوج ظفرموج لگادی کہ کچھ بھی کرو پہاڑوں میں رہ کر پلنے بڑھنے والے اس بلوچی و سرائیکی بولنے والے کا راستہ روکو اسے کسی طرح تخت لاہور کا تاج نہ پہننے دو. پھر کیا تھا بڑے بڑے مہان صحافی, بیوروکریٹ, سیاستدان اور سوشل میڈیا کے پردھان جنوبی پنجاب کے اس سادہ لوح انسان پر چڑھ دوڑے. کئی سال پرانے جھوٹے ایف آئی آر سے لیکر گھر کے باتھ روم تک پر تبصرے اور فتوے چلنے لگے. ایک اچھے انسان کا راستہ روکنے کیلئے دنیا جہاں کا پروپیگنڈہ کیا گیا. اس کے اٹھنے بیٹھنے, چلنے پھرنے حتیٰ کہ کھانے پینے پر بھی اعتراض کیا گیا. لیکن کہتے ہیں ناں کہ.....
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِخدا ہوتا ہے
اللہ جس کو چاہتا ہے عزت سے نواز دیتا ہے سردار عثمان خان بزدار کو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے لاکھوں ان دیکھے مخالفین کی سازشوں کے باوجود تخت لاہور کا تاج پہنانے کا فیصلہ کردیا تھا تو دنیا کے حاسدین کو کیسے کامیابی مل سکتی تھی.
دنیا نے دیکھا کہ کوہ سلیمان کے سنگلاخ چٹانوں کے سائے میں پرورش پانے والا بلوچ سردار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ منتخب ہوا اور تخت لاہور پر براجمان ہوا.
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ بارتھی سے تعلق رکھتے ہیں. ان کا گھرانہ بلوچ قوم کے بزدار قبیلہ کا سردار ہے. آپ کے والد گرامی بھی کافی عرصہ سیاست سے وابسطہ رہے. اور مختلف ادوار میں تین بار ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے رہے.
سردار عثمان خان کی پیدائش یکم مئی 1969 ہے اور انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی اپنے آبائی علاقہ بارتھی ہی سے حاصل کی. پوسٹ گریجوایشن کے بعد سیاست میں قدم رکھا تو لوکل گورنمنٹ میں ناظمیت کی کرسی مل گئی. اپنے حلقے شہر اور علاقے کے لوگوں سے ہمیشہ خلوص کا رشتہ قائم رکھا. عوامی مسائل کو ہرممکن حد تک حل کرنے کی کوشش کرتے رہے. عوامی خدمت اور کچھ کرگزرنے کی لگن کو لیکر 2013 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر بطور امیدوار صوبائی اسمبلی الیکشن لڑا لیکن کامیابی نہ مل سکی. عثمان بزدار اس ناکامی سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اپنی جدوجہد جاری رکھی. اور عوام دوستی کو پروان چڑھاتے رہے. سردار عثمان بزدار کو اپنے علاقے سمیت جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا بخوبی ادراک تھا. اور وہ مختلف پلیٹ فارموں پر اس حوالے سے آواز بھی بلند کرتے رہے لیکن اپرپنجاب لابی نے ان کی آواز ہمیشہ دبائے رکھی. الیکشن 2018 سے قبل جب جنوبی پنجاب کے عوامی نمائندوں نے بزرگ سیاستدان و نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کی سرپرستی میں تخت لاہور سے چھٹکارا پانے کیلئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کیا تو سردار عثمان خان بزدار نے بھی ن لیگ کو خیرباد کہہ کر میربلخ شیر مزاری کے ہاتھ بیعت کرلی اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قافلہ میں شامل ہوگئے.
الیکشن 2018 میں اللہ تعالیٰ نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو پورے وسیب میں شاندار کامیابی عطا کی تو اس دوران سردار عثمان خان بزدار بھی پی ٹی آئی اور صوبہ محاذ کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت بَلے کے نشان سے ایم پی اے منتخب ہوئے. عثمان خان بزدار ایک دردمند دل اور بہترین سوچ کے حامل انسان ہیں. ایک بلوچ سردار ہونے کے باوجود سادہ طرز زندگی کے حامل اور ایک شگفتہ مزاج شخصیت رکھتے ہیں. عوام میں گھل مل جاتے ہیں. کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اپنے جذباتی ہوجاتے ہیں. بطورسردار اپنی رعایا کیساتھ بھی ان کا رویہ برادرانہ ہوتا ہے وہ کسی بھی غریب شخص کیساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانے اور کسی ڈھابے پر بیٹھ وہاں کی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں چائے پینے میں بھی عار نہیں سمجھتے.
عمران خان نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے عثمان خان بزدار کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی. وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان اپنے کردار اور قابلیت سے جہاں عمران خان کے ویژن کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرینگے وہاں ان مخالفین کو بھی اپنی بہترین کارکردگی سے غلط ثابت کرینگے جو آجکل انہیں ہر طرح سے تنقید کا نشانہ بنا کر انہیں ناکام اور ڈی گریڈ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں.
سردار عثمان خان بزدار بلوچ قوم کیساتھ ساتھ پورے جنوبی پنجاب کا فخر ہیں اور یہاں کی عوام کو ان سے بے انتہا توقعات ہیں. ایک مخصوص لابی میڈیا ٹرائل اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں اور جھوٹے پروپینگنڈہ کے ذریعے ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور عوام کو ان سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا رہے گا. لیکن سردار عثمان خان بزدار اللہ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کے ویژن پر عمل کرنےاور جنوبی پنجاب کے عوام کو گزشتہ کئی دہائیوں کی محرومیوں سے نکالنے کی مخلصانہ کوشش کرتے رہیں. اللہ ان کا حامی و ناصر ہو...آمین

Tuesday, August 21, 2018

Hajj and Eid ul azhaa performed in KSA, Pakistani will celebrateEid tommarow.

20 لاکھ مسلمانوں نے حج اکبر کی سعادت حاصل کرلی. فضاء میں لبیک اللھم لبیک کی صدائیں. پاکستانی کل عید منائیں گے.

رپورٹ: سعید مزاری.

حج بیت اللہ دین اسلام کا ایک اہم رکن ہے اور ہر مسلمان حج کی سعادت حاصل کرنا اپنی خوش نصیبی تصور کرتا ہے. دنیا بھر سے لاکھوں اہل استطاعت لوگ یہ عظیم سعادت حاصل کرنے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں. ہرسال کی طرح امسال اہل عرب کو دنیا بھر کے 20 لاکھ مسلمان حاجیوں کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا. حجاج کرام نے مناسک حج مکمل کرکے آج سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی دی. سعودی عرب سمیت بیشتر خلیجی ممالک نے آج عیدالاضحٰی مذہبی عقیدت و احترام کیساتھ منایا جبکہ پاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے مطابق کل بروز بدھ عید قربان منائی جائیگی. فرزندان اسلام اس روز سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے نماز عید کے بعد جانوروں کی قربانی کرینگے. مسلمان عید کے تہوار کو مذہبی جوش و جذبہ سے مناتے ہیں ایک دوسرے سے گلے مل کر دل کی کدورتیں دور کرتے ہیں جبکہ اپنے آس پاس کے غرباء و مساکین کیساتھ بھی خوشیاں بانٹتے ہیں.

Friday, December 23, 2016

Peshawar: Terrorism cost 58 lives this year.

پشاور: رواں سال 2016 کے دوران 58 افراد دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے،

پشاور نیٹ نیوز:

پشاور میں دہشتگردی میں رواں سال58افراد جاں بحق اور107 زخمی ہوئے،شہر میں رواں سال 144 افراد گاڑیوں اور ڈیڑھ سو افراد موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے،چوری اور راہزنی کے 553 واقعات رجسٹرڈ ،169 افراد اغوا اور زنا بالجبر کے 23 واقعات پیش آئے،رپورٹ
پشاور: پشاور میں رواں سال دہشت گردانہ واقعات میں 58 افراد جاں بحق اور 107 زخمی ہوئے۔نجی ٹی و ی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے جبکہ ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ہوا ۔پشاور میں رواں سال 39 افراد ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جبکہ مجموعی طور پر89 حملے ہوئے جن میں پولیس پر ہونے والے 63 حملے بھی شامل ہیں۔دیگر سالوں کی نسبت بم دھماکوں میں واضح کمی آئی اور صرف دو بڑے دھماکے ہوئے جبکہ 19 عام شہری اور 20 پولیس و دیگر سیکورٹی اہلکار ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے جو گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہے۔جرائم اور دیگر واقعات میں 415 قتل اور443 افراد زخمی ہوئے جبکہ اقدام قتل کے 519 واقعات پیش آئے۔پشاور میں رواں سال 144 افراد گاڑیوں اور ڈیڑھ سو افراد موٹر سائیکلوں سے محروم ہوئے۔چوری اور راہزنی کے 553 واقعات رجسٹرڈ ہوئے۔ 169 افراد اغوا جبکہ زنا بالجبر کے 23 واقعات پیش آئے۔ جبکہ 20 ہزار چھوٹے جرائم اس کے علاوہ ہیں۔

Monday, December 12, 2016

Birthday of Holy Prophet Muhammad (PBUH) has celebrated all across the country.

ملک بھر میں عید میلادالنبی جوش و خروش سے منایا گیا, قریہ قریہ درود وسلام کی صداؤں سے گونج اٹھا.

رپورٹ:سعید مزاری
راجن پور:
جن کی آمد نے بخشا ہے چاند کو چاندنی,
جس کے قدموں سےہوئی معتبر یہ زمین
ایسی تخلیق میرے رب کی آفریں
میرے نبی کے سوا باخدا کچھ نہیں
آقائے دوجہاں, حبیب کبریا کا ظہورِ پُور نوربلاشبہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے کائینات کا سب سے بڑا انعام ہے اور اس انعام کو پالینے کی خوشی کا نظارہ آج ملک بھر کے طول عرض میں نظر آرہا ہے, محسن انسانیت کی آمد کو ملک بھر کی طرح ضلع راجن پور میں بھی انتہائی جوش و خروش اور مذہبی عقیدت واحترام کیساتھ منایا جا رہا ہے, عاشقانِ ختم الرُسُل نے آج گھروں, دکانوں, گلی محلوں اور بازاروں کو انتہائی محبت سے سجا رکھا ہے, ہر سوسبز جھنڈوں اور اماموں کی بہاریں دکھائی دیتی ہیں, محبانِ سرکارِعربی نے ضلع بھر کے مختلف شہروں, قصبوں اور دیہاتوں میں عید میلادالنبی کے سلسلے میں جلوسوں کا اہتمام کیا, راجن پور کا مرکزی جلوس چوک الٰہ آباد سے شروع ہوکر اپنے روائتی راستےکچہری چوک سے ہوتا ہوا ہائی سکول کے سامنے پہنچ کر اختتام پذیر ہوا, جلوس کے راستے میں ٹی ایم اے کی جانب سے ناقص انتظامات اور تجاوزات کے باعث جلوس کے شرکاء نے کچہری چوک پر دھرنا بھی دیا جو بعدازاں مطالبات کی منظوری کے بعد ختم کر دیا گیا تھا, اسی طرح روجھان میں بھی میلاد کا جلوس مسجد ٹِلو خان سے روانہ ہوا جو مختلف مقامات پر قیام کرتے ہوئے صدربازار سے ہوتے ہوئے عیدگاہ اہلسنت پر منتج ہوا, شرکاء نے مرحبا مرحبا, کے نعروں سے سماں باندھ رکھا تھا, عیدمیلادالنبی کے جلوس راجن پور ضلع کے دیگر شہروں کوٹمٹھن, فاضل پور, محمد پور, جامپور, داجل, حاجی پور, عمرکوٹ سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں نکالے گئے عاشقانِ رسولؐ نے اپنے اپنے انداز میں اپنی عقیدت کا اظہار کیا, بلاشبہ آج ہر گلی, ہر محلہ اور ہر شاہراہ پر درود و سلام کی صدائیں ہی بلند ہوتی رہیں,
رپورٹ: سعید مزاری

Tuesday, November 29, 2016

Well done Raheel Sharif, history can't forget your good works.

الوداع راحیل شریف ۔۔۔۔۔۔ !

جنگی لحاظ سے دنیا کے سب سے مشکل علاقے فاٹا کے 27000 مربع کلومیٹر رقبے میں سے 16000 مربع کلومیٹر پر دہشت گردوں کا کنٹرول تھا جنکا اثرونٖفوذ نہ صرف فاٹا کے بقیہ علاقوں تک پھیلا ہوا تھا بلکہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد تک ان کے نشانے پر تھے۔
راحیل شریف نے نہ صرف پورے فاٹا کو دہشت گردوں سے آزاد کروایا بلکہ صوبہ کے پی کے میں ان کے چھپے ہوئے ٹھکانوں تک سے ان کو نکال باہر کیا۔ بہت سے مارے یا پکڑے گئے۔ جو بچ گئے وہ افغانستان بھاگ گئے۔
مختلف رپورٹوں کے مطابق راحیل شریف کے آپریشن ضرب عضب کے نیتجے میں کم از کم 10،000 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ 450 کے لگ بھگ کو پھانسیاں دی گئیں اور 1000 سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔
راحیل شریف کے اس آپریشن کا اثر پاکستان سے باہر بھی محسوس کیا گیا۔ دنیا بھر کے دفاعی تجزیہ نگاروں نے رائے دی کہ ضرب عضب نے عالمی سطح پر دہشت گردوں کا مورال ڈاؤن کیا ہے جسکی وجہ سے اس آپریشن کے بعد وہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی شکست سے دوچار ہیں۔
جو مبصرین ٹی ٹی پی اور داعش کو امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کی مشترکہ پراکسی قرار دیتے ہیں ان کے مطابق راحیل شریف نے اس پراکسی جنگ کو بہت بڑی زک پہنچائی ہے اور اسکو بہت بری طرح سے تباہ برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ راحیل شریف کو یہ کامیابی صرف عسکری محاذ پر ہی نہیں ملی بلکہ وہ نظریاتی محاذ پر بھی عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جن میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو پہلے دہشت گردوں کے حمایتی سمجھے جاتے تھے۔
راحیل شریف صرف پاکستان میں جنگ کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس سلسلے میں اس نے افغانستان کے بھی کئی دورے کیے اور افغان حکومت سے موثر بات چیت کر کے افغان سرزمین بھی دہشت گردوں پر تنگ کر دی۔
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں پاکستان کا نام لینا تک جرم بن گیا تھا۔ غیر بلوچوں کا قتل عام معمول تھا اور پورے بلوچستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کی ایک مصنوعی فضا قائم تھی۔ حالت یہ تھی کہ قوم پرست بلوچ لیڈر اختر مینگل نے شیخ مجیب کی طرح اپنا 6 نقاطی ایجنڈا تک پیش کر دیا تھا۔
راحیل شریف نے جتنی توجہ بلوچستان پر دی اتنی شائد اس نے فاٹا پر بھی نہیں دی ہوگی۔ اس نے بلوچستان میں بیک وقت دو محاذوں پر جنگ کی۔
عسکری محاذ پر نہ صرف بلوچستان کے طول و عرض میں دہشت گردوں کا چن چن کر صفایا کیا بلکہ انڈین اور افغان اینٹلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورکس بھی پکڑنے میں کامیاب رہا۔ جس میں انڈین ایجنٹ کھل بھوشن یادیو کی گرفتاری کو انٹلی جنس کی تاریخ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی گرفتاری قرار دیا جاتا ہے۔
ان آپرینشنز کے نیتجے میں لڑنے والے تقریباً تمام بڑے باغی لیڈر مارے گئے اور سینکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالے جن کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم پہنا کر قومی دھارے میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔
وہ بلوچستان جو کل تک پاکستان مخالف نعروں سے گونج رہا تھا " پاکستان زندہ باد " کے نعروں سے گونجچ اٹھا۔ آج بلوچستان میں انڈیا کے لیے جتنی نفرت پائی جاتی ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق راحیل شریف نے انڈیا کی 50 سالہ محنت اور سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا ہے۔
بلوچوں کو بہکانے والے غداروں کے خلاف راحیل شریف برطانیہ تک گیا جس کے بعد وہاں پناہ گزین ہربیار مری اور براہمداغ بگٹی سے برطانوی وزیراعظم کو انڈیا جانے کی درخواست کرنی پڑی۔
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے گنجان شہر کراچی میں قتل غارت گری، اغواء برائے تاون اور بھتہ خوری روز کا معمول تھا۔ حالت یہ تھی کہ صرف بھتہ نہ ملنے پر ڈھائی ڈھائی سو لوگوں کو بیک وقت زندہ جلا دیا جاتا تھا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بیان جاری کیا کہ  "کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گرد ونگ موجود ہیں۔"
راحیل شریف نے کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بہت بڑا آپریشن کیا جس کے نتیجے میں یہ بھیانک انکشافات ہوئے کہ دہشت گردی کے پیچھے پاکستان کی مںتخب جمہوری قوتیں ہیں اور وہ کرپشن کی رقم دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ان کاروائیوں کے نتیجے میں پاک فوج نے آصف زرداری کے دست راست ڈآکٹر عاصم کو گرفتار کیا، ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر کئی ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کر لیا۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے کئی "منتخب عوامی نمائندے" بمع شرجیل میمن جیسے وزیروں کے پاکستان سے بھاگ گئے۔ بھاگنے والوں میں پیپلز پارٹی کی اعلی ترین قیادت بھی شامل تھی۔
اس آپریشن کے نتیجے میں کم از کم تین عشروں کے بعد پہلی بار کراچی کو بھتہ خوری، اغواء اور ٹارگٹ کلنگ سے پاک کر دیا گیا۔
تین عشروں کے بعد پہلی بار کراچی کے عوام نے قربانی کی کھالیں اپنی مرضی سے دیں۔ تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملنا بند ہوگئیں۔
کراچی میں دہشت کی علامت الطاف حسین کو اس طرح بے نقاب کیا گیا کہ پوری دنیا نے اسکی اصلیت جان لی۔ اب وہ ایک زندہ لاش میں تبدیل ہو چکا ہے جس کو اسکی پشت پناہی کرنی والی طاقتیں مصنوعی تنفس دے رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے نام سے اسکا دہشت گرد بازو تقریباً معذور ہوچکا ہے۔
مہاجروں کو پہلی بار الطاف حسین سے آزاد ہوکر محب وطن سیاسی قیادتوں کو منتخب کرنے کا موقع ملا۔
قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے پاک افغان بارڈر کے قیام اور افغان مہاجرین کی واپسی کا ناممکن کام شروع کیا جس کے لیے افغانستان سے ایک چھوٹی سی جھڑپ بھی ہوئی۔ لیکن آج الحمد اللہ یہ کام نہایت تیزی اور کامیابی سے جاری ہے۔
اس معاملے میں قوم پرست سیاسی لیڈروں کے تمام تر تحفظات اور چیخ و پکار کو نظر انداز کر دیا۔
پاک افغان بارڈر کے قیام کے سلسلے میں افغان نیشنل آرمی کی مزاحمت کو ایک مختصر لیکن بھرپور کاروائی کی مدد سے ختم کر دیا۔
اب تک کم از کم 6 لاکھ افغان مہاجرین وطن واپس جا چکے ہیں اور بہت بڑے حصے پر سرحد کی تعمیر کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 60 لاکھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ااشیائے خورد نوش کی قیمتوں میں استحکام آئیگا اور لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع دستیاب ہونگے۔ جبکہ پاک افغان سرحد کے قیام کے بعد افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دراندازیوں کا سلسلہ بھی رک جائیگا جو پچھلے70 سال سے جاری ہے۔
انڈیا افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک بفر زون کے طور پر استعمال کرنے کے لیے وہاں سینکڑوں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ راحیل شریف کے ان اقدمات کےنیتجے میں انڈیا کو اپنی وہ سرمایہ کاری ڈوبتی محسوس ہو رہی ہے۔
گوادر پراجیکٹ اور اس کے لیے بننے والی معاشی راہداری کے حوالے سے جو مرضی دعوے کیے جائیں لیکن سچ یہی ہے کہ یہ آمریت ہی کے تحفے ہیں۔
پرویز مشرف کے جانے کے بعد یہ منصوبہ تقریباً مردہ ہوچکا تھا۔ نواز شریف کی آمد کے بعد بھی حالت یہی رہی۔ لیکن راحیل شریف نے آکر اس میں دوبارہ جان ڈالی۔
پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے قیام امن کو یقینی بنانے کے بعد راحیل شریف نے گوادر پراجیکٹ اور اس کے لیے بننے والی معاشی راہداری ( سی پیک ) کے لیے جو دیوانہ وار بھاگ دوڑ کی اسکا مشاہدہ پوری قوم نےکیا۔
جمہوری طاقتوں کی جانب سے اس کو کالاباغ ڈیم بنانے کی ساری کوششیں ناکام بنا دیں اور جانے سے پہلے پہلے اس راہداری کے ذریعے پہلی کامیاب شپمنٹ کر کے اسکو آپریشنل بھی کردیا۔
راحیل شریف اس منصوبے کو گیم چینجر قرار دیتا رہا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں نہ صرف چین بری طرح سے پاکستان پر انحصار کرنے لگا ہے بلکہ روس اور ایران بھی انڈیا کی نسبت پاکستان کے قریب آرہے ہیں۔
اس کے لیے پاکستان میں آنے والے سرمائے کا تخمینہ 46 ارب ڈالر سے بڑھ کا 56 ارب ڈالر تک جا چکا ہے جو روس اور ایران کی شمولیت کی صورت میں مزید آگے جائیگا۔
اس منصوبے کی بدولت پاکستان ایک زبردست قسم کی معاشی چھلانگ لگانے کے لیے بلکل تیار ہوچکا ہے۔ یہ راحیل شریف کا قوم پر وہ احسان ہے جسکا پھل نسلیں کھائینگی۔

ویسے تو راحیل شریف بہت کچھ کر کے جا رہا ہے لیکن یہ تین بہت بڑے کام ہیں جنکا ااثر عشروں تک محسوس کیا جائیگا۔

کچھ عرصہ پہلے میرے ایک عزیز دوست نے سوال اٹھایا تھا کہ " کیا کوئی آنے والا راحیل شریف کی طلسماتی اور سحر انگیز شخصیت کا طلسم توڑ سکے گا ؟"

آپ کیا کہتے ہیں ؟؟ سلام ہے اس کی حکمت عملی کو, ہم بطور پاکستانی جناب باجوہ صاحب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے نام نہاد جمہوری مصلحت کے بغیر امت مسلمہ اور پاکستان کی سلامتی کو ہر قسم کے جمہوری مصلحت سے بالا تر رکھیں گے,