Add 1

Friday, October 21, 2016

Hackers steal 32lac debt cards data from Indian banks.

نامعلوم ہیکرز نے بھارتی غرور خاک میں ملا دیا, مختلف بھارتی بنکوں کے 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈز کا ڈیٹا چوری کرلیا گیا,

ٹی وی رپورٹ:
نئی دہلی : بھارت پاکستانی حدود میں سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا اور بے بنیاد دعویٰ کرتا رہا جبکہ نامعلوم ہیکرز نے ہندوستانی بینکوں پر تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کر کے بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری کا غرور اور انڈین سیکیورٹی کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑ دیا ،بھارت میں 32لاکھ سے زائد ڈیبٹ کارڈز کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ جبکہ 30لاکھ سے زائد ڈیبٹ کا رڈز کی خفیہ معلومات چوری ہو چکی ہیں ،حملے کی اہم بات یہ ہے کہ جن صارفین کا ڈیٹا چوری ہوا ان میں زیادہ تعداد ان صارفین کی بتائی جارہی ہے جن کا تعلق فوج اور سیکیورٹی اداروں سے ہے ،بھارتی بینکوں نے تاریخ کے بڑے سائبر حملے کے بعد صارفین سے اے ٹی ایم کارڈ تبدیل کرنے یا پھر پن کوڈ بدلنے کی درخواست کر دی ۔
بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’زی نیوز ‘‘ کے مطابق بھارت میں قریب 32 لاکھ ڈیبٹ کارڈ زپر خطرہ منڈلا گیا ہے، ملک کے کئی بینکوں سے صارفین کے خفیہ ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بینکوں نے اپنے صارفین سے اے ٹی ایم کارڈز تبدیل کرنے یا پھر اس کا پن کوڈ تبدیل کرنے کے لئے کہا گیا ہے،بھارتی ٹی وی کے مطابق اسے ہندوستانی بینکوں پر اب تک کا سب سے بڑا سائبر حملہ بتایا جا رہا ہے۔تقریبا 30 لاکھ بینک صارفین کے ڈیبٹ اور اے ٹی ایم کارڈ زکے ڈیٹا چوری ہو نے کے انکشاف کے بعد حکام کے ہوش اڑ گئے ہیں۔اس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھارتی اسٹیٹ بینک (ایس بی آئی) نے اب تک تقریبا 6 لاکھ لوگوں کے بینک کارڈ زکو بلاک کر دیا ہے،ایس بی آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ جن 6 ملین صارفین کے کارڈ بلاک ہو چکے ہیں، ان کونئے کارڈ ز بنا کر دیے جائیں گے،وہیں تقریبا 10 بینکوں نے اس کی شکایت سائبر کرائم سیل سے کی ہے۔

Accidents claimed 7 death in 48 hours in Rajanpur.

راجن پور :ضلع بھر میں مختلف ٹریفک حادثات کے نتیجےمیں پیٹرولنگ پولیس اہلکار سمیت 7 افراد جان بحق چھ زخمی ہو گئے،،،

رپورٹ, الیاس گبول راجنپور:

راجن پور :ضلع بھر میں مختلف ٹریفک حادثات کے نتیجےمیں پیٹرولنگ پولیس اہلکار سمیت 7 افراد جان بحق چھ زخمی ہو گئے تفصیلات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ضلع راجن پور میں مختلف ٹریفک حادثات کے رونما ہوئے جس کےنتیجے میں پیٹرولنگ پولیس اہلکار شریف سمیت 7 افراد جان بحق  اور چھ زخمی ہوئے،، رانا فارم کے قریب انڈس ہائی وے پر ڈبل کیبن ڈالے کی ٹکر سے موٹر سوار پیٹرولنگ پولیس اہلکار شریف اور ہاشم نامی شخص  موقع ہر جان بحق ہوگئے، تھانہ گوٹھ مزاری پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کرکے ڈالہ قبضہ میں لے لیا دوسری جانب روجھان ٹول پلازہ کے قریب تیز رفتار مسافر کوچ دو موٹر سواروں کو کچل دیا دونوں موقع پر جان بحق ہوگئے روجھان پولیس نے ڈرائیور کو گرفتار کرلیا، کوٹلہ نصیر کے قریب گھاس سے لدی ٹریکٹر ٹرالی الٹ گئی حادثے کے نتیجے میں 2افراد جانبحق جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں ریسکیو 1122 مدد سے ڈی ایچ کیو اسپتال راجن پور منتقل کردیا گیا،کوٹلہ عیسن کے قریب تیز رفتار ٹرالر نے ڈالے کو ٹکر ماردی حادثے کےنتیجے میں ڈارئیور جان بحق ایک شخص زخمی جنہیں ڈی ایچ کیو راجن پور منتقل کردیا گیا واضع رہے آئے روز حادثات کا موجب انڈس ہائے پر ٹریفک کا رجحان ہے جس کی وجہ سے ےٹریفک حادثات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے امر یہ ہے انڈس ہائی وے کو چوڑا کر کے ون وے میں تبدیل کیا جائے تاکہ آئے روز ٹریفک حادثات میں کمی واقع ہوسکے.

Chiniot Police caught weapons smuggler's head,

چنیوٹ پولیس کی بڑی کارروائی بین الصوبائی اسلحہ سمگلنگ کرنے والے گروہ کا سرغنہ گرفتار ,

نیوز ایجنسیاں:
چنیوٹ:  پولیس کی بڑی کارروائی بین الصوبائی اسلحہ سمگلنگ کرنے والے گروہ کا سرغنہ گرفتار ,7 اے کے 47 ایس ایم جی کلاشنکوف ۔ 18 جدید خود کار ساختہ کلاشنکوف ۔ خود کار پسٹل 73 اور 22000ہزار گولیاں برآمد, درہ آدم خیل سے پنجاب کو اسلحہ سپلائی کرنیوالا ہری پور کا رہائشی ملزم شفیق خالد سابق پولیس اہلکار ہے جو پولیس کی نوکری سے برخاست ہوچکا ہےیہ اسلحہ درہ آدم خیل سے لاکر ساہیوال سپلائی ہونا تھا پہلے بھی ساہیوال گوجرانوالہ ,گجرات اسلحہ سپلائی کیا جاچکا ہے ڈی پی او مستنصر فیروز کی میڈیا سے گفتگو, اس کاروائی میں ایس ایچ او سٹی ظفر اقبال وٹو ۔ایس ایچ او صدر رانا عمر درازنے اور ان کی پوری ٹیم نےبہت محنت کر کے شہر کو کسی بڑی کاروائی سے بچا لیا.

Sindh Govt to vacate 1000 flats of Worker Welfare.

وزیر اعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ کا ورکرز ویلفئیر فلیٹس خالی کرانے کا حکم

نمائندہ ہمارا مقصد:
کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ نے ورکرز ویلفئیر فلیٹس خالی کرانے کا حکم دے دیا،وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ اس ضمن میں کوئی حیلہ بہانہ قبول نہیں کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ گلشن معمار میں ایک ہزار 1000ورکرزویلفیئر کے فلیٹس ہیں جنہیں فوری طور پر خالی کروایا جائے گایہ فلیٹس مزدوروں کیلئے تعمیر کئے گئے تھے،لیکن ان میں غیر متعلقہ لوگ رہائش پذیر ہیں انہوں نے متعلقہ اداروں کے افسران کو سختی دے حکم دیتے ہوئے کہا کہ مزکورہ فلیٹس فوری طور پرخالی کروا کر انہیں رپورٹ دی جائے.

Lodhran Police caught facebook kidnapers gang.

فیس بک پر دوستی کرکے اغوا برائے تاوان میں ملوث گروہ کا خاتون رکن گرفتار,

نمائندہ ہمارامقصد:

لودھراں : فیس بک پر دوستی کرنے والے نوجوان ہوشیارہوجائیں, کیونکہ فیس بک پر دوستی کرکےموبائل فون پر میٹھی میھٹی باتیں کرنے والی  حسینہ اغواکاروں کی ایجنٹ بھی ہو سکتی ہے.  لودھراں میں نوجوانوں کودوستی کرکے اغوا برآے تاوان وصول کرنے والے گروہ کا انکشاف, تفصیلات کے مطابق فیس بک پر فیک آی ڈی کے ذریعے دوستی کرکے نوجوانوں کواغوا کرکے تاوان لینے والا گروہ لودھراں پولیس نے پکڑ لیا گروہ کی سرغنہ جمیلہ نامی خاتون نے
لودھراں کے محمد سلیم کو فون پر میٹھی میٹھی باتیں کرکے سوات  ملنے کےلیے بلا لیا دل کے ہاتھوں مجبور سلیم دوڑا چلا گیا دوستی کرنے والی سوات کی حسینہ اغواکاروں کا سرغنہ نکلی, جس نے ساتھیوں کے ہمراہ سلیم کو اغوا کر لیا اور سلیم کے گھر والوں سے 20 لاکھ تاوان مانگ لیا لودھراں پولیس نے حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور اغوا کاروں کوگروہ کی سرغنہ سمیت گرفتار کر لیا اور مغوی کو بازیاب کروالیا ملزمان کا فیس بک دوستی کے ذریعے متعدد وارداتوں کا اعتراف  سلیم کے والدین سے لیے گیے 3 لاکھ بھی برآمد کرلیےملزمان سےتفتیش جاری ہےمزید سنگین انکشاف متوقع ہیں.

Thursday, October 20, 2016

Baldia Town incident links to Governor House, Mustafa Kamal said

پاک سرزمین پارٹی کے مصطفیٰ کمال گورنر سندھ پر برس پڑے, بلدیہ ٹاؤن واقعے کے تانے بانے گورنر ہاؤس سے جا ملتے ہیں, مصطفیٰ کمال.

نیوزایجنسیاں:

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بلدیہ ٹاؤن واقعے کے تانے بانے گورنر ہاؤس سے جا ملتے ہیں, میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معزرت کے ساته میرے منہ سے عشرت نکلتا ہی نہیں جب میں رشوت کہوں سمجھ کہ جانا عشرت کہہ رہا ہوں, انہوں نے کہا کہ 12 مئی کو رینجرز اور پولیس سمیت سب ادارےعشرت  العباد کے ماتحت تھے، 12 مئی 2007 کو کمانڈ اینڈ کنٹرول روم  گورنر ہاؤس میں قائم تھا، 12 مئی کو گورنر صاحب  کراچی کی تمام انتظامیہ کو خود ڈیل کررہے تھے،انہوں نے الزام عائد کیا کہ 12 مئی کے ذمے داروں کو چوکوں پر لٹکا نے کی بات کرنیوالا  خود ذمے دار ہے، 12 مئی کے کیس کو کھول کر از سر نو تحقیقات کی جائیں، 12 مئی کو 53 افراد مارے گئے ، عشرت العباد پھر بھی گورنرشپ کے عہدے پر رہے،پی ایس پی سربراہ نے انکشاف کیا کہ گورنرعشرت العباد کو 12 مئی کے واقعات کا پہلے سے علم تھا،عشرت العباد خود جے آئی ٹی بنائیں،جو کہتا ہے  12 مئی کے ذمے داروں کو چوکوں پر لٹکاؤں گا،وہ خود ذمے دار ہے،مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ مجھ پر لگائے گئے الزام پر جےآئی ٹی بنائی جائے، جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت ہو،اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھ پر بھی اللہ کی لعنت ہو،گورنر سندھ معزز شخصیات کےپیچھے چھپنا چاہتے ہیں،بلدیہ ٹاؤن سانحے کی ازسر نوتحقیقات کرائی جائے،گارنٹی کیساتھ کہتاہوں تحقیقات شروع ہوئی توسرے گورنرہاؤس سےملیں گے12 مئی کا سانحہ گزر گیا، گورنری قائم رہی اور کوئی آواز بھی نہ اٹھائی ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ گورنر سندھ عشرت العباد کی دہری شہریت پرفوری کارروائی  کی جائے ،عشرت العباد بانی ایم کیو ایم سے رابطے میں ہیں اورا نہیں محسن قرار دیتے ہیں گورنر سندھ عشرت العباد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، ان کا مزیدکہنا تھا کہ ہم سب کوبانی متحدہ نےرکن پارلیمنٹ بنایا،لیکن پاکستان مخالف نعرہ منظورنہیں،مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گورنر سندھ برطانیہ سے پیسے لیتے ہیں اور یہ پیسےبرطانوی حکومت تب دیتی ہےجب آپ بیروزگارہوں عشرت العباد آپ نے برطانوی حکومت سے بھی جھوٹ بول رکھا ہے،اسی بات پر آپ صادق و امین نہیں رہے 5سال تک آپ نےڈکلیئرنہیں کیاتھا کہ میرےپاس اب روزگارہےآج بھی عشرت العبادبرطانیہ حکومت سے جھوٹ بول رہے ہیں،آج بھی عشرت العبادبرطانیہ حکومت سےایک ہزارپاؤندماہانہ وظیفہ لےرہےہیں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بی بی سی نیوزاورٹیلی گراف کی رپورٹ بھی میرے پاس ہےانکی دوہری شہریت پرفوراایکشن لیاجائے.

Wednesday, October 19, 2016

More then 50 died in Miyanmar

میانمر میں کشتی ڈوبنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی,

نیٹ نیوز:
ینگون: بی بی سی نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ میانمر کی دریا میں ڈوب جانے والی کشتی کے 50 سوار جانبحق ہو گئے ہیں جبکہ باقی افراد کی تلاش ابھی جاری ہے, رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریا میں ڈوب کر مرنے والے کشتی سواروں میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہے چند روز پہلے دریا میں ایک کشتی ڈوب گئی تھی جس پر متعدد افراد سوار تھے, اب تک کی اطلاعات کے مطابق 50 افراد کے مرنے کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں,.

Special Article by Rauf kalasra

اسحاق ڈار نے پورے ملک کو گروی رکھنے کی منصوبہ بندی کرلی,

روف کلاسرہ کا کا لم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں پاکستان ٹیلی ویژن کی اسلام آباد، لاہور، کراچی اورکوئٹہ کی عمارتیں بچ گئی تھیں جنہیں گروی رکھ کر اب اسحاق ڈار سکوک بانڈزکے نام پر قرضہ لے رہے ہیں۔ وزارت خزانہ کو پتا چلا کہ پی ٹی وی کی ان عمارتوں سے بھی کام نہیں چلے گا کیونکہ قرضہ بڑی مقدار میں لینا مقصود ہے، لہٰذا فیصلہ ہوا کہ ریڈیو پاکستان کے ملک بھر میں پھیلے نیٹ ورک کی تمام عمارتوںکو بھی گروی رکھا جائے۔ سروے کرایا گیا تو پتا چلا پاکستان میں ریڈیو پاکستان کی اکسٹھ عمارتیں ہیں۔ حکم ہوا کہ ان سب کی قیمت لگائی جائے اور پتا کیا جائے کہ ان پرکتنا قرضہ مل سکتا ہے۔ جس نے قیمت لگائی اسے داد دیں، اس نے ان تمام عمارتوں کی مجموعی قیمت بہترکروڑ روپے لگائی۔ آپ یقیناً حیران ہوںگے کہ سپریم کورٹ کے سامنے واقع ریڈیو پاکستان کے ہیڈکوارٹر کی عمارت کی قیمت پانچ سے دس ارب روپے ہونی چاہیے جو ایک پنج ستارہ ہوٹل کے قریب واقع ہے۔ اس ہوٹل کی قیمت یقیناً اربوں روپے ہوگی، لیکن ریڈیو پاکستان کی اس عمارت کی قیمت صرف چند کروڑ روپے لگائی گئی۔
میرے پاس موجود دستاویزات کے مطابق ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کو وزارت خزانہ کی طرف سے حکم ملا کہ سکوک بانڈز خریدنے کے لیے ان کی عمارتوںکوگروی رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ یہ قرضہ ملک چلانے کے لیے ضروری ہے۔ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی انتظامیہ کو مطمئن کرنے کے لیے کہا گیا کہ وہ پریشان نہ ہوں،اس سے پہلے اسحاق ڈار موٹروے اور کراچی ایئرپورٹ کو بھی گروی رکھ کر قرضے لے چکے ہیں۔ اب باری پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کی ہے۔ اس پر ان اداروں کے سربراہوںکو حکم ہوا کہ وہ فوری طور پر اپنے اپنے بورڈزکے اجلاس بلائیں اوروزارت خزانہ کے اس حکم کی تعمیل کی جائے۔ ایک قرارداد بھی تیارکی گئی تاکہ اس کو منظور کرنے کے فوراً بعد ان سرکاری عمارتوںکی کاغذی کارروائی پوری کرکے دستاویزات ان سرمایہ کاروں کے حوالے کی جائیں جو ان عمارتوں پر قرضہ دیںگے۔ اگر سود سمیت انہیں قرضہ واپس نہ کیا گیا تو انہیں یہ حق ہوگا کہ وہ ان عمارتوںکا کنٹرول سنبھال لیں۔
میں نے جس دن یہ خبر اپنے ٹی وی شو میں بریک کی، اگلے روز ریڈیو پاکستان کے بورڈ کا اجلاس ہونا تھا اوران عمارتوں کو قرضہ لینے کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی جانی تھی۔ اجلاس میں یہ سوال اٹھایاگیا کہ کس نے اکسٹھ عمارتوںکی قیمت صرف بہترکروڑ روپے لگائی گئی؟ کس نے ان عمارتوں کی مارکیٹ ویلیو (قیمت) پتاکرائی کہ اگر انہیں بیچا جائے تو یہ صرف بہترکروڑ روپے کی بکیں گی؟ اب نئے سرے سے ان کا سروے ہوگا، شاید چند ڈالر زیادہ مل جائیں۔ اگرچہ اس اجلاس میں فیصلہ نہ ہو سکا لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی کیونکہ اسحاق ڈارکو اس وقت ڈالرز چاہئیں تاکہ وہ فخریہ کہہ سکیں کہ انہوں نے ملکی خزانہ بھر دیا ہے اور ریزرو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریزرو پہنچانے کا جنون ہمیں اس حالت میں لے آیا ہے کہ اب عالمی ادارے ہماری ساورن گارنٹی پراعتبار کرنے کو تیار نہیں رہے اور وہ چاہتے ہیںکہ پاکستان پہلے اپنی سرکاری عمارتیںگروی رکھے۔ مجھے یاد ہے،کبھی ساورن گارنٹی دینا بہت بڑی خبر ہوتی تھی کہ حکومت پاکستان نے قرضہ لینے کے لیے ساورن گارنٹی دے دی ہے کہ اگر فلاں محکمے نے قرضہ واپس نہ کیا تو حکومت واپس کرے گی، مدت پوری ہونے پر اگر قرضہ واپس نہ ہوا تو وہ پارٹی عالمی فورم پر جا کر سود سمیت اپنا قرضہ واپس لے سکتی ہے۔ پہلے ایک آدھ قرضے کے لیے ساورن گارنٹی دی جانے لگی، پھر قرضہ دینے والوںکو پتا چل گیاکہ ان تلوں میںتیل نہیں رہا، کب یہ دکان بند ہوجائے اور وہ قرضہ واپس نہ لے سکیں، لہٰذا ہر ایک نے ساورن گارنٹی مانگنا شروع کردی۔ ڈالرز لینے کے چکر میں ہمارے سب وزیرخزانہ یہ گارنٹیاں دیتے رہے اور ایک دن ساورن گارنٹیاں بھی ٹکے ٹوکری ہوکر رہ گئیں۔
اب بات سارون گارنٹی سے آگے نکل گئی ہے۔ اب ساہوکار حکومت پاکستان کی گارنٹی پر یقین بھی نہیں کرتا۔ اب وہ کہتا ہے آپ کا کیا بھروسہ، کل کو دلوالیہ ہوجائو تو ہم کہاں سے گارنٹیاں کیش کراتے پھریںگے۔ سیدھی بات کرو اور اپنے اثاثے ہمارے حوالے کرو اور ڈالر لو۔ یوں پہلی دفعہ پاکستان نے ایک فیصلہ کیا اور موٹرویزکوگارنٹی کے طور پرگروی رکھ کر قرضہ لیا۔ اس کے بعد دوسرے موٹر وے کی باری آئی اور پھر تیسرے کی۔ جب سب موٹروے ختم ہوگئے تو خیال آیا کہ اب ملک کے ایئر پورٹس کوگارنٹی
کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سب سے پہلے کراچی ایئرپورٹ کو گروی رکھ کر قرضہ لیا گیا۔ یقیناً جن عالمی بینکوں یا ساہوکاروں سے قرضہ لیا گیا ہوگا وہ اپنی نسلوں کو فخر سے بتاتے ہوںگے کہ بیٹا میں پاکستان میں ایک ایئرپورٹ کا مالک ہوں، پاکستان کے موٹروے میری ملکیت ہیں۔ دعا کرو پاکستانی حکومت کرپشن پر لگی رہے، ایکسپورٹس گرتی رہے، بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقومات میں کمی آتی رہے، اس ملک کے حکمرانوںکی شاہی خرچیاں چلتی رہیں، بیوروکریسی اسی طرح اپنے ہی ملک کو لوٹتی رہے، شاہی خاندان کی حفاظت پر سات ارب روپے خرچ ہوتے رہیں، لندن سے لاہور پی آئی اے کے خصوصی طیارے وزیراعظم کو لاتے رہیں، وزیراعظم پاکستان دنیا بھر کے سو ممالک کے دورے قرض کی رقم سے چند ماہ میں پورے کر کے ریکارڈ قائم کرلیں تو بیٹا یہ سب کچھ ہمارا ہوگا،کیونکہ پاکستانی ہمارے قرضے واپس نہیں کرسکیںگے۔ جس ملک کا بجٹ کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی واپسی میں جاتا ہے وہ بھلا کب اور کیسے قرضے واپس کرے گا۔ خصوصاً جب ماہرین معیشت یہ پیش گوئی کر رہے ہوںکہ موجودہ دور حکومت کے اگلے دو برس میں بیرونی قرضوں کا حجم نوے ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ بہتر ارب ڈالرکا قرضہ ہوچکا اور واپس کرنے کے لیے نئے قرضے لیے جاتے ہیں تو اندازہ کرو جب یہ قرضے دو برس بعد نوے ارب تک پہنچیں گے تو پھر گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی!
سابق سیکرٹری خزانہ واجد رانا کا اخبار میںبیان پڑھا کہ اب تک اسحاق ڈار تین برسوں میں چوبیس ارب ڈالرقرضہ لے چکے ہیں۔ سابق وزیرخزانہ حفیظ پاشا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 2018ء تک پاکستان کے قرضے نوے ارب ڈالر ہوجائیں گے اور پاکستان واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ سینیٹر انور بیگ کہتے ہیںکہ انہیں ایک مغربی سفارتکار نے بتایا تھا کہ پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسانے کا پورا پلان ہے۔ جب نوے ارب ڈالر تک قرضے پہنچیںگے اور پاکستان واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا تو پھر اسے اپنے ایٹم بم پر کمپرومائزکرنا پڑے گا ورنہ دنیا بھر میں تنہائی کا شکار ہوگا اور چند دنوں میں ہی دلوالیہ ہوجائے گا۔
دوبرس قبل دھرنے کے دنوں میں جب پاکستان عوامی تحریک کے ورکرز پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوگئے تھے تو اسے پاکستان پر حملہ قرار دیا گیا تھا اور مقدمے درج کر کے گرفتاریاں شروع ہوگئی تھیں۔ اب جبکہ اسی پی ٹی وی کی عمارت کو گروی رکھ کر ڈالر لینے کا پلان ہے تو اسے کیا تصور کیا جائے؟پارلیمنٹ ہائوس، ایوان صدر ، وزیراعظم ہائوس اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھی گروی رکھا جاسکتا ہے۔ امید ہے یہ تمام عمارتیں بھی اسحاق ڈار کی فہرست میں شامل ہوںگی۔
ہاں، میں یہ تو بھول ہی گیا کہ ایک منسٹرانکلیو بھی موجود ہے جہاں سب وزراء کی سرکاری رہائش گاہیں ہیں۔ اگر اسے بھی گروی رکھا جائے تواسحاق ڈار بہت ڈالر ساہوکاروں اور عالمی بینکوں سے ہتھیا سکتے ہیں۔ ویسے تو ججوں کی کالونی بھی منسٹرز اینکلیو کے قریب ہی واقع ہے، اسے گروی رکھ کر بھی خاصہ قرضہ لیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیوکو بھی گروی رکھنے پر غور ہو سکتا ہے۔ تمام بڑے ممالک جو ہمیں قرضے دیتے ہیںان سب کے سفارت خانے وہیں ہیں، لہٰذا نئے قرضوں کی ڈیل جل................. جاری ہے.

2 kids injured by BSF firing in Nakiyal.

کوٹلی ۔نکیال بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک بچہ اور ایک بچی زخمی۔

نیوز ایجنسی :
کوٹلی: بھارتی فوج ک پاکستان کے سرحدی علاقے میں بلااشتعال فائرنگ سے دو معصوم بچے زخمی ہو گئے, تفصیلات کے مطابق بھارتی بارڈر فورس کی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں, ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے سرحدی علاقے نکیال سیکٹر کےقریب رہائشی علاقے میں بلااشتعال فائرنگ کر کے دو معصوم بچوں ولید ولد خادم حسین عمر 11سال جبکہ حلیمہ وحید ولد محمد وحید عمر دو سال کو زخمی کر دیا, زخمی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال نکیال طبعی امداد دی جا رہی ہے۔جبکہ پاکستانی جونوں کے جوابی فائرنگ سے دشمن کی گنیں خاموش ہو گئیں,