Add 1

Saturday, December 8, 2018

لیہ کے مسائل کون حل کرے گا؟؟ عمران خان اور عثمان خان سے سوال

لیہ کے مسائل کون حل کرے گا؟؟؟ عمران خان اور عثمان خان سے سوال
( تحریر: مرزا رضوان  بیگ)

ضلع لیہ موجودہ دور حکومت میں بھی نظر انداز سابقہ دور حکومت کے جاری ترقیاتی منصوبہ جات  کے لیے معمولی فنڈز جاری، سڑکوں کی تعمیر کا کوئی نیا منصوبہ منظور نہ ہوسکا جبکہ خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے گزشتہ 8 سال کے دوران لیہ میں 16978 حادثات میں 350 افراد جانبحق، 1000 سے زائد افراد اپاہج اور 13425 مریضوں کو مختلف ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا

پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمپین کے دوران کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر عوام سے ووٹ مانگے اور پاکستان کے ہر شہری نے یہ سوچ کر ووٹ دیا کہ 70 سال میں پرانے سیاستدانوں نے قسمت آزمائی اب کی باری پی ٹی آئی یوں اقتدار کی بال پاکستان تحریک انصاف کے کورٹ میں جاگری لیکن اقتدار میں آنے کے بعد تمام وعدے وعدے ہی رہے آج بھی پاکستان بھر کے تمام اکاونٹس آفسز میں میٹھائی کے نام پر ہر نئے آنے والے گونمنٹ ملازمین سے ہزاروں روپےمیٹھائی طلب کی جاتی ہے نہ دینے والا مہینوں خوار ہوتا ہے۔ بسوں میں من مانے کرائے اور پیٹرول پمپس پر اپنی مرضی کے پیمانے بھی تو کرپشن کے ذمرے میں آتا ہے گورنمنٹ ہسپتالوں میں آپریشن یا ڈلیوری کے بعد میٹھائی کے نام پر ہزاروں روپے لینا حق سمجھا جاتا ہے ہر نئی خریدی جانے والی جائیداد پر ہزاروں روپے میٹھائی کے نام پر پٹواری کو دینا بھی تو کرپشن ہے ہر گورنمنٹ آفس میں بڑا آفیسر جہاں لاکھوں کماتا ہے وہیں چھوٹے ملازمین میٹھائی اور مبارکباد کے نام پر ماہانہ لاکھوں روپے گھر لے جاتے ہیں اگر یہ کرپشن نہیں تو ہم معذرت چاہتے ہیں 

پسماندگی دور کرنے کے نام پر جن علاقوں سے ووٹ لیے گئے اور پاکستان تحریک انصاف نے کلین سویپ کیا وہاں ایک اہم نام پسماندہ ضلع لیہ کا بھی ہے جی ہاں وہی لیہ جس کا بیشتر حصہ صحراء پر مشتمل ہے جہاں سہولیات کی کمی کے پیش نظر کوئی بھی ایک ایسا تعلیمی ادارہ موجود نہیں جس میں آفیسرز تیار کیے جاتے ہوں لیہ سے تعلق رکھنے والے تمام آفیسرز لاہور، ملتان، کراچی یا اسلام آباد کی بڑی یونیورسٹیز اور اکیڈمیز سے تعلیم یافتہ ہیں جس پر یقینا اخراجات کئی گناہ زیادہ آتے ہیں اور غریب والدین اپنے بچوں کو افسر دیکھنے کا خواب لیے ہی راہی عدم ہوجاتے ہیں وہی لیہ جہاں آج بھی بچے ٹاٹوں پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتےہیں جہاں انڈسٹری نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری زیادہ ہے وہ علاقہ جس کے کھیل کے میدان سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیشنل لیول کا کھلاڑی پیدا کرنے سے قاصر ہیں وہ لیہ جسے ہر سال دریائے سندھ نشانے پر رکھے ہوئے ہے لیکن آج تک مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکے وہ لیہ جہاں اچھی اور اونچی آواز میں تقریر کرنے والا شیر اسمبلی تو رہتا ہے لیکن اسے فنڈز کبھی نہیں ملے پسماندہ علاقوں کے ہسپتالوں، سکولوں سڑکوں، اور منظور شدہ میگا پراجیکٹس کے فنڈز روکنا یا چند لاکھ روپے جاری کرنا اگر کفایت شعاری اور ترقی ہے تو ہم معذرت چاہتے ہیں

حکومت پنجاب کے سالانہ میزانیہ 2018-19 کے لیے بجٹ بک کے مطابق ضلع لیہ کے منظور شدہ منصوبہ جات  جن میں گورنمنٹ ویمن کالج راجن شاہ پر لاگت کاتخمینہ 128.430 ملین روپے لگایا ہے 5 ملین روپے منظور کیے گئے جبکہ منصوبہ کے لیے رقم کا اجراء صفر ہے، 200 بیڈز پر مشتمل مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کی تعمیر کا تخمینہ1ہزار ملین روپے لگایا گیا ہے 14 ملین روپے اس میزانیہ میں جاری ہونے تھے جبکہ گورنمنٹ پنجاب کی جانب سے اس پروجیکٹ کے لیے بھی فنڈز کا اجراء زیرو ہے ڈیرہ ڈویژن کے اضلاع میں ورکنگ ویمن ہاسٹلز کی تعمیر کی کاسٹ 150 ملین روپے مقرر کی گئی ہے کنسٹرکشن ورکے کے آغاز کے لیے منظور کی گئی رقم 10 ملین روپے ہے جبکہ اس پروجیکٹ کے لیے بھی حکومت پنجاب نے ایک دھیلا جاری نہیں کیا، حکومت پنجاب کے لیہ میں چوتھے منظور کیے گئے بڑے منصوبے میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ شامل ہے جس کی تعمیر کے اخراجات 14.912 ملین روپے مقرر کی گئی ہے اس منصوبے کے لیے10 ملین روپے جاری ہونے تھے لیکن فنڈز ندارد ہیں یوں حکومت پنجاب کی جانب سے لیہ کے منظور شدہ 4 نئے منصوبہ جات پر 1293 ملین روپے اخراجات آئیں گے 39 ملین روپے کی گرانٹ منظور کی گئی اور ایک روپیہ بھی جاری نہ کیا گیا۔ ضلع لیہ کے چاروں ترقیاتی منصوبہ جات میں سے بہادر سب کیمپس بہاءالدین زکریا یونیورسٹی  کے زیر تعمیر توسیعی منصوبہ کی تکمیل کے لیے 343.613 ملین روپے درکار ہیں 104.547 ملین روپے کی گرانٹ منظور کرنے کے بعد صرف 17.425 ملین روپے جاری کیے گئے۔ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چوک اعظم میں گائنی وارڈ، میڈیکل سٹور اور مین بلڈنگ کے لیے 10 ملین روپے کی گرانٹ درکار تھی جس کے لیے 10 ملین روپے منظور کیے گئے جبکہ 4 لاکھ 26 ہزار روپے جاری ہوسکے۔ اسٹیبلشمنٹ آف بہادر لائبریری ڈسٹرکٹ کمپلیکس لیہ کے لیے 130 ملین روپے کی ڈیمانڈ تھی 10 ملین روپے منظوری کے بعد جاری ہوئے جو بقایاجات کی ادائیگی میں صرف ہوگئے۔ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کی بلڈنگ کی تعمیر کے لیے 10.654 ملین روپےدرکار ہیں جس میں سے 5.654 ملین روپے منظور ہوئے اور صرف 9 لاکھ 43 ہزار روپے کی گرانٹ جاری ہو سکی جو بقایاجات میں پورے ہوگئے۔ یوں ضلع لیہ کے گزشتہ دور میں شروع کیے گئے بلڈنگ ورکس کے لیے مختلف منصوبہ جات کی تکمیل اور انہیں فعال کرنے کے لیے 494.267 ملین روپے درکار ہیں اور محکمہ کے پاس موجود ڈویلپمنٹ گرانٹ برائے جاری ترقیاتی منصوبہ جات کا فقط 4 لاکھ 26 ہزار روپے ہے 

خستہ حال سڑکوں کی وجہ سے حادثات اور اموات کے برعکس رواں مالی سال میں لیہ میں سڑکوں کی تعمیر کا کوئی منصوبہ منظور نہ ہوسکاسابق دور حکومت کے شروع پروجیکٹس میں سے لیہ تا چوک اعظم دورویہ سٹرک 26 کلو میٹر پر لاگت کا تخمینہ 3092.902 ملین روپے لگایا گیا ہے جس میں سے 332.577 ملین روپے خرچ ہوچکے ہیں 60 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں چکنمبر 160A تا ایم ایم روڑ تک سڑک کی لمبائی 26 کلومیٹر ہے جس کا تخمینہ لاگت265.410 ملین روپے ہے اور جون 2018 تک 142.757 ملین روپے خرچ بھی کیے چا چکے ہیں بقیہ گرانٹ 2019-21 تک 40،40 ملین روپے 3 اقساط جاری کی جائیں گے۔ تعمیر سڑک ہیرا اڈا تا گھلو موڑ براستہ قصبہ لدھانہ 37 کلو میٹر پر تخمینہ لاگت 260.576 جبکہ 209.969 ملین روپے خرچ ہوئے بقیہ فنڈز 30.202 ملین روپے 2 اقساط میں جاری ہوں گے۔ توسیع و امپورمنٹ کاظمی چوک تا قاضی آبادتخمینہ لاگت 788.25 ملین روپے ہے 35 ملین خرچ ہو چکے 2019،2021،2022 میں بالترتیب 16.275 ملین، 14 ملین اور 13.552 ملین روپے گرانٹ جاری ہوگی۔ تعمیرپختہ سڑک دربار میاں رانجھا تاپیر جگی 20.89 کلومیٹر پر لاگت کا تخمینہ 98.150 ملین روپے ہے جبکہ 77.344 خرچ ہوچکے ہیں بقایا گرانٹ دو فنانشل ائیرز میں جاری ہوگی۔ تعمیر سڑک دین پور تا بستی واڑھ کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ 12.782 ہے جس پر 10.199 ملین روپے خرچ آچکے ہیں حکومت پنجاب نے بقایا 2.583 ملین روپے کی گرانٹ جاری کر دی ہے اور یہ سڑک اسی مالی سال کے دوران مکمل ہوجائے گی

 جبکہ ضلع لیہ کی سڑکوں پر گزشتہ 8 سالوں میں 16 ہزار 978 سے زائد حادثات رونما ہوئے 350 سے زائد شہری حادثات کے نتیجہ میں اپنے پیاروں کو آہوں اور سسکیوں میں روتا چھوڑ کر راہی عدم ہوگئے 1 ہزار سے زائد لوگ زندگی بھر یا طویل عرصہ کے لیے  معذور ہوگئے 13ہزار 425 زخمیوں کو لیہ کے ہسپتالوں میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مختلف ہسپتالوں میں ریفر کیا گیا

سابق ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف چوہدری یاسر عرفات نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی کے پاس آمدن سے زائد اخراجات کی فہرست ہے جبکہ سابق پنجاب حکومت نے اپنے آخری سال میں یکمشت اتنے منصوبہ جات کا افتتاح کیا کہ اگر وہ جیت بھی جاتے تو ان کے پاس ان منصوبوں کو جاری رکھنے کے لیے فنڈز نہ ہوتے اس لیے قوم انتظار کرے اور آئندہ اچھے وقت کی امید پر ان نامسائد حالات میں حکومت کا ساتھ دے

مسلم لیگ ن کے رہنماء میاں یاسین آزاد نے کہا کہ ضلع لیہ کی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے جن وعدوں پر پاکستان تحریک انصاف نے ووٹ لیے ان پر عمل ہونا تودرکنار پرانے منصوبہ جات کے لیے فنڈز نہ دینا ضلع لیہ کو یکسر نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جاری منصوبہ جات کے لیے فنڈز نہ دینے سے لاگت بڑھے گی اور ترقی کا عمل 20 سے 30 سال پیچھے چلا جائے گا اور اسی طرح پسماندہ لیہ کے رہائشی دوسرے شہروں کے تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں میں ریفر ہوتے رہیں گے اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا چلا جائے گا

Saturday, September 22, 2018

A great man Mir Balakh sher Mazari

ایک عظیم انسان شرافت دیانت اور سخاوت کا نشان چیف آف تمن مزاری "میر بلخ شیر خان مزاری"

بلخ شیر مزاری 8 جولائی 1928ء کو کوٹ کرم خان  روجھان ، راجن پور، ضلع ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔
وفاق پرست بلوچ ہماری ملکی سیاست کا ایک اہم نام ہیں۔ آپ پاکستان کے صوبہ بلوچستان، پنجاب اور سندھ میں پھیلے ہوئے مزاری بلوچ قبیلے کے چیف ہیں۔مزاری قبیلے کا علاقہ تین صوبوں بلوچستان سندھ اور پنجاب کے درمیان واقع ہے۔ مزاری قبیلے کا قائد ہونے کی وجہ سے ان کو میر کا خطاب دیا گیا ہے۔ وہ مزاری قبیلے کے بائیسویں سردار اور ساتویں میر ہیں۔ آپ کے بھائی سردار شیر باز مزاری بھی پاکستان میں شرافت اور اصول پسندی کی سیاست کے حوالے سے بہت بڑا نام ہیں۔"دی بلوچ ریس" نامی کتاب کے مصنف سر ڈیمز کے مطابق مزاری لفظ بلوچ زبان کے لفظ مزار سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے شیر۔ یعنی بلوچی زبان میں مزاری کا مطلب شیر کا بچہ ہے۔ کہتے ہیں ایک بلوچ سردار نے شیر کا مقابلہ کر کے شیر مار ڈالا تھا جس سے ان کا نام مزار پڑ گیا اور بعد میں ان کی اولاد مزاری کہلائی۔ مزاریوں کا ہیڈ کوارٹر روجھان ہے۔ جہاں مزاری چیف کا تاریخی میری بنگلہ واقع ہے۔ روجھان مزاری پنجاب کے ضلع راجن پور کی آخری تحصیل ہے۔ ماضی میں یہ روجھان کا قصبہ مزاری قبائلی سٹیٹ کا صدر مقام تھا۔ مزاری تمن اس حلقے کی سب سے بڑی برادری ہے۔

بلخ شیر مزاری بے 1950ء کی دہائی میں سیاست میں حصہ لیا۔ 1951ء کو ڈسٹرکٹ بورڈ ڈیرہ غازی خان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ کے ر کن بنے۔ 1955ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پاکستان دستور ساز اسمبلی جبکہ 1956ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ 1973ء میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے پنجاب صوبائی اسمبلی جبکہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تاہم پارٹی سے اختلافات کے بعد انہوں نے استعفا دیدیا۔ 1982ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ کا رکن نامزد کیا۔ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات می قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے پارلیمانی ایسوسی ایشن، دولت مشترکہ، انٹر پارلیمانی یونین اور اقوام متحدہ میں متعدد بار پاکستان کی نمائندگی کی۔

میر بلخ شیر مزاری کی سیاسی زندگی لگ بھگ  70 سال پر مشتمل ہے۔ 90 سالہ روائتی بلوچ سردار کا پنجاب کے بلوچ قبائل کے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے بلوچ قبائل میں بھی بہت احترام ہے۔ قبائلی روایات کے حامل اس خطے کوہ سلیمان اور ڈیرہ بگٹی سے لیکر رحیم یارخان تک اور کشمور سے لیکر فورٹ منرو تک ہمیشہ سے مزاری چیف سردار میر بلخ شیر مزاری کا احترام کیا جاتا رہا ہے۔ میر صاحب کی نواب اکبر بگٹی سے رشتہ داری ہے۔ نواب اکبر بگٹی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بلوچ سرداروں میں صرف میر بلخ شیر مزاری کا بے حد احترام کرتے تھے۔ یہاں کے لوگ میر بلخ شیر مزاری کی شرافت، وضع داری، اصول پسندی، سچائی اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے بے پناہ عزت کرتے ہیں۔

بلوچ روایات میں قبائلی چیف کو باپ کا درجہ حاصل ہے۔ پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر بے نظیر بھٹو تک سب ہمیشہ ان کی شرافت اور اصول پسندی کے مداح رہے ہیں۔ آپ نے ساری زندگی صاف ستھری اور کرپشن سے پاک سیاست کی ہے۔ ان کے دامن پر کرپشن کا داغ تو دور کی بات آپ کے سیاسی مخالف جھوٹا الزام بھی آپ پر نہیں لگا سکتے۔ آج بھی سیاست میں فعال ہیں اور حالیہ دنوں میں اس خطے کے لوگوں کے لئے الگ صوبے کی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ میر بلخ شیر مزاری 1988 سے قومی اسمبلی کے فورم سے الگ صوبے کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس خطے کی پسماندگی کا حل الگ صوبے میں پوشیدہ ہے۔ میر بلخ شیر مزاری 8 جولائی 1928 کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد انتقال کے وقت مزاری قبیلے کے قائد (اعلیٰ سربراہ) تھے اس لئے آپ ان کے جانشین میر مقرر ہوئے۔ آپ نے 1945 میں ایچی سن کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی اور روجھان واپس آ گئے۔ 1951 میں آپ نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ آپ قانون ساز اسمبلی ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ایوب دور اور بھٹو دور میں بھی پارلیمنٹ کے ممبر رہے۔ 1962 میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ ایک وقت تھا جب راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کا ایک ہی حلقہ ہوتا تھا اس ایک حلقے کی حددو سندھ کے ضلع کشمور کی سرحد پر واقع شاہوالی سے لیکر صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے باڈر پر واقع قصبے رمک تک تھی۔ تب یہاں لغاری قبیلے اور مزاری قبیلے کے درمیان مقابلہ ہوتا تھا۔ اس حلقے میں اس وقت جوان رعنا میر بلخ شیر مزاری نے بزرگ اور جہاندیدہ سر جمال خان لغاری کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ نواب محمود خان لغاری کو ہرا کر ڈیرہ غازی خان ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ بلوچی قبائلی جرگے کے چیئرمین بھی رہے۔

ایوب خان کے مقابلے میں مادر ملت کا ساتھ دیا۔ 1970 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کو شکست دیکر صوبائی اسمبلی کے رکن بنے۔ بعدازاں بھٹو کے ساتھ مل گئے۔1977 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اسمبلی کے رکن بنے۔ 1985 میں بھی میر بلخ شیر مزاری ممبر قومی اسمبلی کے طور پر کامیاب ہو ئے تھے۔ 1990 میں میر بلخ شیر مزاری ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ 1993 میں بھی میر بلخ شیر مزاری روجھان سے کامیاب ہوئے۔ صدر غلام اسحاق خان کے دور میں جب وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت ہٹائی گئی تب صدارتی حکم نامے پر آپ 90 دن کے لئے پاکستان کے نگران وزیراعظم مقرر کیے گئے مگر سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی حکم نامہ منسوخ کر دیا جس کے نتیجے میں میاں محمد نواز شریف واپس اپنے عہدے پر آ گئے۔آپ نے 19 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993 تک نگران وزیراعظم کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ بطور نگران وزیراعظم آپ نے او آئی سی (آرگنائیزیشن آف اسلامک کنٹریز) سمٹ پاکستان کی نمائندگی کی جس میں آپ نے جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کی اور فلسطین پر بات کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 242 اور 338 پوری طرح نافذ کرے اور فلسطینیوں کو ان کے وطن جانے کی اجازت دے۔ اس کے علاوہ آپ نے بوسنیا ہرزگووینا میں انسانی نسل کشی، آذر بائیجان پر حملے اور وہاں موجود بیرونی قوتوں کی مداخلت کی سخت مذمت کی۔ آپ نے او آئی سی سے افغانستان کو سیاسی بحران سے نکالنے کی اپیل کی اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی بھی یقین دہانی کرائی۔ اس مختصر دور حکومت میں او آئی سی میں پاکستان کی نمائندگی کرنا آپ کے سیاسی کیرئیر کا ایک یادگار موقع ہے۔ روجھان مزاری، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کی سیاست ہمیشہ سے ان کے گرد گھومتی رہی ہے۔ آپ کا ضلع رحیم یار خان کی سیاست پر بھی اثر رہا ہے۔ آپ کے چھوٹے بھائی شیر جان خان مزاری کے بیٹے سردار سلیم جان خان مزاری کشمور سندھ سے ممبر قومی اسمبلی اور ضلع ناظم منتخب ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے چیئرمین ہیں۔ انہوں نے اپنے محاذ کو تحریک انصاف میں ضم کیا ہے۔ آپ کے بیٹے سردار زاہد مزاری بھی رکن صوبائی اسمبلی رہے ہیں۔ اب میر بلخ شیر مزاری کے سب سے بڑے  بیٹے اور بیوروکریٹ سردار طارق مزاری کے بڑے صاحبزادے سردار دوست محمد مزاری انکے سیاسی جانشین ہیں۔وہ  2008 میں رکن قومی اسمبلی اور وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اب کی بار میر بلخ شیر مزاری اور انکے پوتے سردار دوست محمد مزاری پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب میر بلخ شیر مزاری کے تاریخی میری بنگلہ واقع روجھان پر پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا لہراتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سردار ریاض محمود مزاری ممبرقومی اسمبلی اور ان کے پوتے دوست محمد مزاری روجھان سے ممبر صوبائی اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر ہیں۔

Sunday, September 2, 2018

Crown of Lahore( Takht e Lahore) and Usman Khan Buzdar

تخت لاہور اور عثمان خان بزدار

تحریرو تحقیق: سعید مزاری راجن پور
Email: rindaannews@gmail.com
فون نمبر: 03334143061

اقتدار ایک ایسا نشہ ہے کہ جب ایکبار لگ جائے تو پھر اس کاعلاج صرف ایک ہی طبیب کے پاس ہے اور وہ طبیب فقط موت ہے. موت خواہ سیاسی ہو یا وجود کی اس کے بغیر اقتدار کا خمار اترنے کا نام نہیں لیتا. کچھ اس طرح کی صورتحال آجکل گزشتہ ستر سال سے تخت لاہور پر قابض لوگوں کی دکھائی دے رہی ہے. پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر ستر سال سے بالائی پنجاب کے چند گھرانے مسلسل حکومت کرتے چلے آرہے ہیں. عام طور پر خیال یہ کیا جاتا ہے کہ جس کی حکومت پنجاب میں ہے وہ تقریباً پورے ملک کا حاکم ہے. اس کی وجہ بھی کافی حد تک معقول ہے پنجاب کی آبادی باقی ماندہ تمام صوبوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے. ملکی بجٹ کا بھی بڑا حصہ پنجاب ہی کو ملتا ہے. اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بجٹ کو بلاتفریق پورے صوبے پر خرچ کیا جاتا اور پورے صوبے کے لوگوں کو برابری کی سطح پر شراکت داری دی جاتی. لیکن بدقسمتی سے گزشتہ ستر سال کے دوران ایسا کیا نہ جاسکا. تخت لاہور پر براجمان اپر پنجاب اور سنٹرل پنجاب کے لوگوں نے صوبے کے جنوبی حصہ کو یکسر نظرانداز کیے رکھا. پنجاب کا یہ جنوبی حصہ جس کی آبادی تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سے متجاوز ہے اور صوبے کی کل آمدن کا تقریباً 48 فیصد ریونیو بھی دیتا ہے. بدقسمتی سے آج بھی پتھر کے دور میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں. تعلیم,روزگار اور صحت کی سہولتات کی کمی کی وجہ سے یہاں ہرطرف غربت کا راج دکھائی دیتا ہے. اسی غربت اور تعلیم کی کمی کے سبب جنوبی پنجاب کے لوگوں کو اپر پنجاب میں اچھوت خیال کیا جاتا ہے. بیوروکریسی میں بھی اپر پنجاب اور سنڑل پنجاب کے لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اس لیے انکی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ جنوبی پنجاب کا کوئی بندہ آگے نہ آ سکے.
وہ جو کہتے ہیں ناں کہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور پانی کو جتنا نیچے دباؤ گے پانی اتنا ہی اوپر کو ابھرے گا کچھ اسی طرح کی صورتحال آج کل عملی طور پر دیکھنے میں آرہا ہے. قدرت اپر پنجاب کے مقتدر حلقوں کے تکبر کےباعث ان سے بلآخر ناراض ہوہی گیا. تخت لاہور کے ناخداؤں کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے الیکشن 2018 میں نہ صرف بری طرح شکست سے دوچار کیا بلکہ تخت لاہور کا تاج جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ ترین علاقے کے بلوچی و سرائیکی بولنے والے شخص کے سر پر رکھ دیا.
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و حالیہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے جب کوہ سلیمان کے بغل میں بسنے والے سردار عثمان خان بزدار کو پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد کیا تو جیسے لاہور سمیت اپر پنجاب میں قیامت برپا ہوگیا. خودکو ستر سال سے تخت لاہور کا بلا شرکت غیرے ولی وارث سمجھنے والوں کی چیخیں نکل گئیں ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہوگئیں. اجارہ داری کے خاتمے کا خیال انہیں خوابوں میں ڈرانے لگا تو انہوں نے بارتھی کے اس شریف النفس اور سادگی کے پیکر بلوچ سردار کے پیچھے اپنی پوری فوج ظفرموج لگادی کہ کچھ بھی کرو پہاڑوں میں رہ کر پلنے بڑھنے والے اس بلوچی و سرائیکی بولنے والے کا راستہ روکو اسے کسی طرح تخت لاہور کا تاج نہ پہننے دو. پھر کیا تھا بڑے بڑے مہان صحافی, بیوروکریٹ, سیاستدان اور سوشل میڈیا کے پردھان جنوبی پنجاب کے اس سادہ لوح انسان پر چڑھ دوڑے. کئی سال پرانے جھوٹے ایف آئی آر سے لیکر گھر کے باتھ روم تک پر تبصرے اور فتوے چلنے لگے. ایک اچھے انسان کا راستہ روکنے کیلئے دنیا جہاں کا پروپیگنڈہ کیا گیا. اس کے اٹھنے بیٹھنے, چلنے پھرنے حتیٰ کہ کھانے پینے پر بھی اعتراض کیا گیا. لیکن کہتے ہیں ناں کہ.....
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِخدا ہوتا ہے
اللہ جس کو چاہتا ہے عزت سے نواز دیتا ہے سردار عثمان خان بزدار کو بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے لاکھوں ان دیکھے مخالفین کی سازشوں کے باوجود تخت لاہور کا تاج پہنانے کا فیصلہ کردیا تھا تو دنیا کے حاسدین کو کیسے کامیابی مل سکتی تھی.
دنیا نے دیکھا کہ کوہ سلیمان کے سنگلاخ چٹانوں کے سائے میں پرورش پانے والا بلوچ سردار پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ منتخب ہوا اور تخت لاہور پر براجمان ہوا.
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ بارتھی سے تعلق رکھتے ہیں. ان کا گھرانہ بلوچ قوم کے بزدار قبیلہ کا سردار ہے. آپ کے والد گرامی بھی کافی عرصہ سیاست سے وابسطہ رہے. اور مختلف ادوار میں تین بار ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے رہے.
سردار عثمان خان کی پیدائش یکم مئی 1969 ہے اور انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی اپنے آبائی علاقہ بارتھی ہی سے حاصل کی. پوسٹ گریجوایشن کے بعد سیاست میں قدم رکھا تو لوکل گورنمنٹ میں ناظمیت کی کرسی مل گئی. اپنے حلقے شہر اور علاقے کے لوگوں سے ہمیشہ خلوص کا رشتہ قائم رکھا. عوامی مسائل کو ہرممکن حد تک حل کرنے کی کوشش کرتے رہے. عوامی خدمت اور کچھ کرگزرنے کی لگن کو لیکر 2013 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر بطور امیدوار صوبائی اسمبلی الیکشن لڑا لیکن کامیابی نہ مل سکی. عثمان بزدار اس ناکامی سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ اپنی جدوجہد جاری رکھی. اور عوام دوستی کو پروان چڑھاتے رہے. سردار عثمان بزدار کو اپنے علاقے سمیت جنوبی پنجاب کی محرومیوں کا بخوبی ادراک تھا. اور وہ مختلف پلیٹ فارموں پر اس حوالے سے آواز بھی بلند کرتے رہے لیکن اپرپنجاب لابی نے ان کی آواز ہمیشہ دبائے رکھی. الیکشن 2018 سے قبل جب جنوبی پنجاب کے عوامی نمائندوں نے بزرگ سیاستدان و نگران وزیراعظم میر بلخ شیر مزاری کی سرپرستی میں تخت لاہور سے چھٹکارا پانے کیلئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے کا اعلان کیا تو سردار عثمان خان بزدار نے بھی ن لیگ کو خیرباد کہہ کر میربلخ شیر مزاری کے ہاتھ بیعت کرلی اور جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قافلہ میں شامل ہوگئے.
الیکشن 2018 میں اللہ تعالیٰ نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو پورے وسیب میں شاندار کامیابی عطا کی تو اس دوران سردار عثمان خان بزدار بھی پی ٹی آئی اور صوبہ محاذ کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت بَلے کے نشان سے ایم پی اے منتخب ہوئے. عثمان خان بزدار ایک دردمند دل اور بہترین سوچ کے حامل انسان ہیں. ایک بلوچ سردار ہونے کے باوجود سادہ طرز زندگی کے حامل اور ایک شگفتہ مزاج شخصیت رکھتے ہیں. عوام میں گھل مل جاتے ہیں. کسی کو تکلیف میں دیکھ کر اپنے جذباتی ہوجاتے ہیں. بطورسردار اپنی رعایا کیساتھ بھی ان کا رویہ برادرانہ ہوتا ہے وہ کسی بھی غریب شخص کیساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھانے اور کسی ڈھابے پر بیٹھ وہاں کی چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں چائے پینے میں بھی عار نہیں سمجھتے.
عمران خان نے جنوبی پنجاب کے پسماندہ ترین علاقے سے عثمان خان بزدار کا بطور وزیراعلیٰ پنجاب انتخاب کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی. وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان اپنے کردار اور قابلیت سے جہاں عمران خان کے ویژن کو پروان چڑھانے میں اپنا کردار ادا کرینگے وہاں ان مخالفین کو بھی اپنی بہترین کارکردگی سے غلط ثابت کرینگے جو آجکل انہیں ہر طرح سے تنقید کا نشانہ بنا کر انہیں ناکام اور ڈی گریڈ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں.
سردار عثمان خان بزدار بلوچ قوم کیساتھ ساتھ پورے جنوبی پنجاب کا فخر ہیں اور یہاں کی عوام کو ان سے بے انتہا توقعات ہیں. ایک مخصوص لابی میڈیا ٹرائل اور دیگر اوچھے ہتھکنڈوں اور جھوٹے پروپینگنڈہ کے ذریعے ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور عوام کو ان سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا رہے گا. لیکن سردار عثمان خان بزدار اللہ تعالیٰ کی رضا کو سامنے رکھتے ہوئے عمران خان کے ویژن پر عمل کرنےاور جنوبی پنجاب کے عوام کو گزشتہ کئی دہائیوں کی محرومیوں سے نکالنے کی مخلصانہ کوشش کرتے رہیں. اللہ ان کا حامی و ناصر ہو...آمین