Add 1

Showing posts with label Freedom of Expression. Show all posts
Showing posts with label Freedom of Expression. Show all posts

Wednesday, May 13, 2020

گندم خریداری مہم 2020اور وزیراعلیٰ عثمان بزاد کے مثالی کسان دوست اقدامات(CM Usman Buzdar's initiatives for Wheat purchasing )


عنوان: گندم خریداری مہم 2020اور وزیراعلیٰ عثمان بزاد کے مثالی کسان دوست اقدامات

تحریر: محمد اسداللہ شہزاد
 
رواں سال گندم کی کٹائی کا سیزن آن پہنچا تو کارونا وائرس کا خوف عالمی افق پر چھایا ہوا تھا۔ ہر طر ف بے یقینی اور نفسا نفسی اپنے پیر جما چکی تھی۔ صوبہ بھرمیں کے گند م کی شکل میں سونا اگانے والے کسانوں کی امیدیں دم توڑ تی دکھائی دیتی تھیں اور کسانوں کے چہرے بے رونق ہو کر کسی بھی بڑی ناامیدی کا شکار ہوتے نظر آرہے تھے۔ ایسے میں حضرت شاہ سلیمان ؒکی دھرتی کے فرزند وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان خان بزدار نے واقعی بڑے ہونے کا حق ادا کردکھایا اور علی الاعلان کہا کہ حکومت پنجاب نہ تو کارونا وائرس سے ڈر کرکسانوں کا تنہا چھوڑے گی اور نہ ہی گندم کٹائی اور خریداری مہم کسی طور متاثر ہوگی۔ بلکہ انہوں نے واضح طور کہا کہ اس سال اوپن پالیسی کے تحت کسانوں سے ان کی گندم کا دانہ دانہ خرید کیا جائے گا اورانہیں کسی صورت بے یار و مدگار نہیں چھوڑا جائے گا۔ جس طرح T-20طرز کے کرکٹ میچ میں موثر اور مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ہنگامی اور بروقت فیصلے کیے جاتے ہیں ، بالکل ویسے ہی گندم خریداری مہم 2020میں وزیرعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی جانب سے ہنگامی اور موثر فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے رواں سال گندم کٹائی و خریداری مہم کا آغاز ضلع راجن پور سے کیا جو کہنے کو تو ایک پسماندہ ضلع ہے اور صرف اپنی پسماندگی کے اور چھوٹوگینگ جیسے منفی رحجانات سے پکارا اور تصور کیا جاتا ہے۔ مگر اگر حقیت کی بات کی جائے تو ٹرائی بارڈ ایریا کا مرکز ہونے کے باعث یہ ضلع اپنی ایک کلیدی جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ صوبہ سندھ کے بعد ہمہ قسمی فصلات اسی ضلع میں پک کر تیار ہوتی ہیں جنہیں صوبہ پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں کے عوام بھی استعمال میں لاتے ہیں اور اپنی غذائی و دیگر ضروریات پوری کرتے ہیں۔ یہاں کی عالمی سطح پر برآمد کی جانے والی فصلوں میں گندم، کپاس، مونگ، پیاز اور سرخ مرچ قابل ِ ذکر ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے 9اپریل 2020کو صوبہ پنجاب کی سے آخری تحصیل روجھان مزاری کے علاقہ مٹ واہ میں خود روایتی طریقہ سے درانتی سے اور ہارویسٹر چلا کر اور کسانوں میں اپنے ہاتھوں سے باردانہ تقسیم کرکے گندم کٹائی وخریداری مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ رواں برس 45لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے ہدف مقرر کیا گیا ہے۔بہاولپور ڈویژن میں گندم خریداری کا ہدف 853269میٹرک ٹن، ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں 752014میٹرک ٹن، ملتان ڈویژن میں 734575میٹرک ٹن، لاہور ڈویژن میں 344798میڑک ٹن، ساہیوال ڈویژن میں 418030میٹرک ٹن، گوجرانوالہ ڈویژن میں 468635میٹرک ٹن، فیصل آباد ڈویژن میں 592531میٹرک ٹن، سرگودھا ڈویژن میں 327808میٹرک ٹن اور راولپنڈ ی میں 8341میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ کاشتکاروں سے 1400 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدی جائے گی جبکہ گندم خریداری کیلئے گرداوری کی شرط پر عمل کرنے کی بجائے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر باردانہ کی تقسیم کا اصول لاگوکیا گیا ہے۔گندم خریداری مہم کے دوران 15 بین الصوبائی داخلی اور خارجی راستوں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مزید کہا کہ کاشتکار ہمارے محسن ہیں، گندم کے دانے دانے اور کاشتکار کی پائی پائی کا تحفظ کریں گے۔کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے پرائم منسٹر زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت پنجاب میں 300 ارب روپے کے منصوبہ جات لائے جا رہے ہیں۔گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔رواں برس کاشتکاروں کو تصدیق شدہ بیج کی 4 لاکھ بوریاں رعایتی نرخ پر فراہم کی گئی ہیں جبکہ اگلی فصل کیلئے بیج کی 12 لاکھ بوریاں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فصل بیمہ سکیم کا دائرہ کار بڑھا کر اڑھائی لاکھ کاشتکاروں کی فصل کی انشورنس کی گئی ہے۔کاشتکار کی خوشحالی کیلئے پیداواری لاگت کم کرنا بے حد ضروری ہے۔پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے 52 لاکھ کاشتکاروں کو کھادوں کی خریداری پر ساڑھے 8 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 28 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب میں 10 ہزار کھالوں کو پختہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب زرعی ترقی کیلئے مختلف سبزیوں، پھلوں اور اجناس کی 80 نئی اقسام متعارف کرا چکی ہے۔غیر معیاری اور جعلی ادویات و کھادوں کے سدباب کیلئے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم شروع کیا گیا ہے۔ای کریڈٹ سکیم کے تحت کاشتکاروں کو 15 ارب روپے کے بلاسود قرضے دیئے گئے ہیں۔حکومت پنجاب کاشتکاروں کی محنت کی قدردان ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ زراعت میں کمبائن ہارویسٹر جیسی جدید مشینوں کے استعمال سے نہ صرف وقت بلکہ سرمائے کی بھی بچت ہوتی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال ایک کروڑ 65 لاکھ زیر کاشت رقبے سے ایک کروڑ 90 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے۔صوبہ میں غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے 29,800 میٹرک ٹن گندم روزانہ فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے کے 11 لاکھ 91 ہزار تھیلے مارکیٹ میں فراہم کئے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عوام کو آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے فوڈ گرین لائسنس کے بغیر گندم خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ذاتی استعمال کیلئے ایک ہزار کلو سے زائد نجی طور پر گندم نہیں خریدی جا سکے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جو دیگرا قدامات کیے گئے ان میں کاشتکار کو 100بوری گندم کی نقد ادائیگی، فی ایکڑ باردانہ کی مقدار کو تعین نہ ہونا اور کاشتکاروں کی شکایات کے فوری ازالہ کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر شکایات سیل کا قیام شامل ہیں۔ مزید یہ کہ شکایات بارے رجوع کے لیے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنروں کے رابطہ نمبر بھی قومی اخبارات اور ٹیلی ویژن پر تشہیر کیے گئے تاکہ کاشتکار اپنے مسائل کے فوری حل کے لیے ٹھوکریں نہ کھاتے پھریں۔ 
ایک طرف وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی جانب سے صوبائی وزراء، مشیران اور معاونین خاص کی مختلف اضلاع میں گندم خریداری مہم کی نگرانی کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں جس سے گندم خریداری کا عمل او ربھی موثر اور تیز ہو گیا۔ جن وزراء، مشیران اور معاونین خاص کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں اس کے مطابق صوبائی وزیر چودھری ظہیر الدین فیصل آباد، رائے تیمور جھنگ،مہر اسلم چنیوٹ، آشفہ ریاض ٹوبہ ٹیک سنگھ، یاسمین راشدلاہور، ہاشم ڈوگر قصور،ملک اسد ننکانہ او رمیاں خالد شیخوپورہ ، راجہ راشد حفیظ راولپنڈی، حافظ عمار یاسر چکوال، آصف محمود جہلم، ملک انور اٹک،عنصر مجید خان نیازی سرگودھا، ممتاز احمد خوشاب، امیر محمد خان بھکر، میاں محمورالرشید گوجرانوالہ، محمد رضوان گجرات، عمر فاروق حافظ آباد، محمد اجمل منڈی بہاو ¿الدین، پیر سید سعید الحسن شاہ نارووال، محمد اخلاق سیالکوٹ ، ملک نعمان ساہیوال، صمصام بخاری اوکاڑہ، فیصل حیات پاکپتن، سمیع اللہ چودھری بہاولپور، شوکت لالیکا بہاولنگر، محسن لغاری رحیم یارخان،محمداختر ملتان، سید حسین جہانیاں گردیزی خانیوال،زوار وڑائچ لودھراں، جہانزیب کچھی وہاڑی، حنیف پتافی ڈی جی خان، حسنین بہادر دریشک راجن پو ر، عبدالحئی دستی مظفر گڑھ، سید رفاقت گیلانی لیہ میں مانیٹرنگ کے فوکل پرسن مقررکیے گئے۔ جہاں افسران نے گندم خریداری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات ایک کیا وہیں وزیراعلیٰ کی جانب سے مقررکیے گئے فوکل پرسن صوبائی وزرائ، مشیران اور معاونین خاص نے بھی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کیا۔ تمام فوکل پرسن اپنے متعلقہ ضلع کی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے عملہ کے ساتھ روابط میں رہے اور مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے مفید ہدایات دیں۔اور مزید یہ کہ چیف سیکریٹری پنجاب کی جانب سے گندم خریداری مہم کو بروقت اور انتہائی شفاف طریقہ سے مکمل کرنے کے لیے مختلف افسران اور سیکریٹروں کی بھی ڈیوٹیاں لگائی گئیں جنہوں نے تمام اضلاع کے اچانک دورے کیے اور گندم خریداری مہم کی نگرانی کی۔حکومت ِ پنجاب کی اس موثر حکمت عملی سے شفافیت کے ساتھ گندم خریداری مہم کو مکمل کرنے میں بہت مدد ملی۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو محکمہ خوراک کا قلمدان سونپ دیا جوکہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور منتظم ہیں۔ جنہوں نے قلمدان سنبھالتے ہی گندم کی غیر قانونی بین الصوبائی منتقلی اور اسمگلنگ کو سختی سے روکا اور واضح اعلان کیا کہ پہلے صوبہ پنجاب کی گندم کی ضروریات پوری کی جائیں گی پھر دوسرے صوبوں کو گندم دی جائیگی۔ مزید یہ کہ محکمہ خوراک کی جانب سے گندم خرید کے اپنے ہدف کے علاوہ سیڈ کمپنیوں کو بھی گندم فراہمی کے لیے معاونت کرے گا۔اب تک صوبہ بھر میں ایک ماہ کے اندر کل ہدف کا تقریباً75فی صد سے زائد ہد ف حاصل کرلیا گیا ہے۔ 
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی جانب سے گندم کٹائی وخریداری مہم 2020کے افتتاح کے بعد محکمہ خوراک راجن پور کی جانب سے فوکل پرسن گندم خریدار مہم /صوبائی وزیرلائیواسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب سردار حسنین بہادر دریشک، ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقارعلی اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد عمران کی سرپرستی و قیادت میں فوری طور باردانہ کی تقسیم و گندم خرید کرنے کے عمل کا آغاز کردیا گیا۔ ضلع بھر میں 9مختلف مقامات پر گندم خرید مراکز بنائے گئے جن میں راجن پور، فاضل پور، نور پور، مٹھن کوٹ، محمد پور دیوان، کوٹلہ مغلاں، جام پور، عمرکوٹ اور مٹ واہ شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر ضلع بھر میں 18لاکھ بوری گندم خرید کرنے کا ہدف مقررکیا گیا جو کہ گذشتہ سال سے 4لاکھ بوری زائد تھا ۔ مگر بعد ازاں گندم کی اچھی پیداوار اور حکومتی احکامات کے مدِ نظر ضلع راجن پور کا ہدف20 لاکھ 56ہزار 970بوری کردیا گیا۔ ہر مرکز پر کسانوں کی آن لائن رجسٹریشن کی گئی اور گردآوری کے عمل دخل کے بغیر اوپن پالیسی کے تحت ضلع بھر میں باردانہ تقسیم کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی متحرک قیادت میں محکمہ خوراک و مال راجن پور نے گندم خریداری مہم میں ہدف کے حصول کے لیے دن رات کام کرنا شروع کردیا۔ ڈپٹی کمشنر نے خود مختلف مراکز پر چھاپے مارے اور گندم کی خریداری کے عمل کا جائزہ لیا۔ مختلف کسانوں کی طرف سے ملنے والی شکایات کا موقع پر نوٹس لیا ۔ محکمہ خوراک راجن پور کی جانب سے ضلع کے تینوں داخلی و خارجی راستوں شاہ والی تحصیل روجھان، بے نظیر شہید پل مٹھن کوٹ تحصیل راجن پور اور کوٹ طاہر تحصیل جام پور مانیٹرنگ ٹیمیں تعینات کرکے ضلع سے گندم کی دوسرے علاقوں منتقلی کو موثر طریقہ سے روکا کیا گیا۔ اور صرف ایک ماہ کے اندر اندر گندم خریداری مہم کا ہدف 100فی صد سے بھی زائد حاصل کرلیا گیا اور کسانوں کوادائیگیاں بھی تقریباً مکمل کرلی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقارعلی اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ اس سال تفویض کردہ ہدف سے بہت زیادہ گندم خرید کی جائے گی جوکہ ضلع کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہوگا۔ اگر بات کی جائے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کرنے کی تو پنجاب حکومت کی جانب سے انسداد ذخیرہ اندوزی آرڈینینس2020کے نفاذ کے بعد ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقار علی کی جانب سے ضلع بھر کے 23پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ضلع کی تینوں تحصیلوں راجن پور، جام پوراور روجھان کے اسسٹنٹ کمشنر نے اس حوالے سے کاروائیاں کرکے مختلف مقامات پر غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی 1لاکھ بوری سے زائد گندم قبضے میں لے کر محکمہ خوراک کے حوالے کردی ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقارعلی کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کو قبضہ میں لی گئی گندم کی مالیت کا 50فی صد جرمانہ کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع کرایا جائے گا جبکہ ذخیرہ اندوزوں کو جیل بھجوایا جائے گا تاکہ ان شر پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہو اور عوام کو صحیح معنوں میں ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ 
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کورونا وباءکے باعث مراکز گندم خریداری پر خصوصی انتظامات کئے گئے ، کاشتکاروں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے ضروری ایس او پیز پر من و عن عملدرآمد کیا گیا۔گندم خریداری مراکز پر داخلی و خارجی راستے الگ الگ بنائے گئے، جبکہ کاشتکاروں اور عملے کیلئے ہاتھ دھونے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہر گندم خریداری مرکز پرباقاعدگی سے خراثیم کش محلول کا سپرے کیا گیا۔اور کاشتکاروں کے درمیان عملہ میں مناسب فاصلہ رکھنے کویقینی بنایا گیا۔ جہاں مہم کی کامیابی میں فعال کردار اداکرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک اور محکمہ مال بنیادی اہمیت کے حامل ہیں وہیں ایک ایسا ادارہ بھی یقینا مبارکباد کا مستحق ہے جوتمام تر حکومتی اقدامات کو بروقت انتہائی کم وسائل کے ساتھ موثر طریقہ سے عوام الناس تک پہنچانے اور عوامی مسائل کو ارباب اختیار کے نوٹس میں لانے کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے وہ ادارہ تعلقات عامہ ، محکمہ اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب ہے۔ اس ادارہ کا ہیڈ آفس ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ پنجاب اور فیلڈ دفاتر ڈویژنل ڈائریکٹرز و ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسرز کی سربراہی میں حکومت پنجاب کے عوام کے لیے کیے گئے اقدامات کی موثر تشہیر میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ یہ وہ نہ دکھائی دیئے جانے والے اور بالکل غیر اہم محسوس کیے جانے والے افسران و ملازمین ہیں جن کی بدولت حکومت اور انتظامیہ کا میڈیا کے ساتھ توازن والاتعلق قائم ہے بلکہ عوام کے مسائل بھی بروقت حکومت تک پہنچ جاتے ہیں۔ضلع راجن پورمیں گندم خریداری مہم کو کامیاب بنانے اور حکومتی اقدامات کسانوں اور لوگوں تک بروقت پہنچانے میں محکمہ اطلاعات راجن پور نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ 

<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-8225283696374545"
     crossorigin="anonymous"></script>

Sunday, May 3, 2020

World Press Freedom/ Freedom of Expression Day Reality or Fiction (اظہار رائے کی آزادی، حقیقت یا فسانہ)

اظہار رائے کی آزادی، حقیقت یا فسانہ

تحریر: سعید مزاری 

Email:rindaannews@gmail.com
فون: 03334143061
آج دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔  اقوام متحدہ نے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس 1948 کی شق 19 کے تحت ہرسال 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن (پریس فریڈم ڈے ) قرار دے رکھا ہے، اسے آزادیِ اظہارِ رائے کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں صحافت سے جڑے ہوئے لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرنا اور اظہار رائے کی ازادی کیلئے کوششیں کرنے والے اور اس مقصد کیلئے قربانیاں دینے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ 1991 میں افریقی اخبارات کے صحافیوں نے آزاد صحافت کے حوالے سے کچھ اصول وضع کیے جو بعد ازاں وقتاً فوقتاً کچھ تبدیلیوں کے ساتھ قابل استعمال قرار پاتے رہے۔
آزادی اظہار رائے یا پھر آزادی صحافت کیلئے جدو جہد ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور آج بھی دنیا میں 63 فیصد سے زائد ممالک میں صحافت اور اظہار رائے پر کسی نہ کسی طرح پابندی عائد ہے۔ دنیا کی مختلف صحافتی تنظیمیں آزادی صحافت اور آزادی اظہاررائے کیلئے مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی بیشتر حکومتیں آزاد صحافت اور رائے کی آزادی کو ناپسند کرتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ زبانی کلامی طور پر اس حوالے سے بڑے بڑے دعوے اور اعلان کیے جاتے ہیں عملی طور پر مقتدر حلقہ صحافت کو اپنی مٹھی میں بندکرکے رکھنے کا خواہشمند ہی دکھائی دیتا ہے۔ اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کیلئے مختلف حیلے بہانوں سے ایسے ہتھکنڈے، قوانین اور اصول بروئے کار لاتے ہیں جن کی وجہ سے ناصرف کسی بھی صحافی یا صحافتی ادارے کیلئے آزادانہ طور پر کام کرنا مشکل ہوتا ہے بلکہ کسی بھی عام شہری کیلئے بھی اپنی رائے کا آزادانہ اظہار ممکن نہیں رہتا۔ اگر پھر بھی کوئی ادارہ ، صحافی یا کوئی شہری جراؑت کا مظاہرہ کرے اور مقتدر حلقوں یا ان کے زیرانتظام اداروں سے متعلق حقائق عوام  کے سامنے لے آئے اور ان کے غلد اقدامات پر تنقید کرے تو ایسے لوگوں اور اداروں کومقتدر اور طاقتور حلقوں کی طرف سے بے شمار سختیوں اور مسائل سے دوچار کردیا جاتاہے۔ انسانی حقوق کے طے شدہ قوانین کے مطابق دنیا کے ہر فرد کواپنے ارد گرد کے حالات سے باخبر رہنے اور اپنی رائے کے اظہار کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ لیکن دنیا کی آمرانہ سوچ کی حامل حکومتوں اور شخصیتوں کو اظہاررائے کی آزادی اور لوگوں کو باخبر رکھنا انتہائی ناگوار گزرتا ہے۔ اس لیے ایسی حکومتیں ،اور شخصیات اداروں اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے سمیت حکومتی اقدامات پر تنقید کرنے والوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے پریشان کرتے ہیں۔
سال 2020 کا آغاز ہی مختلف ممالک میں غیرجانبدارانہ رائے کا اظہار کرنے والے افراد اور صحافیوں کے خون سے ہوا ایک رپورٹ کے مطابق جنوری سے اپریل تک 7 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لوگوں کو حقائق کی آگاہی دینے کے دوران جانبحق ہونے والوں میں عراق اور شام سے 2،2 جبکہ پاکستان،سومالیہ، پیراگوئے سے ایک ایک صحافی شامل ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں کی رپورٹس کے مشاہدے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ آزادی اظہار رائے یا پریس فریڈم کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کی نسبت ترقی یافتہ اور خود کو انسانی حقوق کا علمبرادر سمجھنے والے امریکہ، چین اور بھارت جیسے ممالک اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے میں زیادہ  آگے ہیں۔ صحافیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ( سی پی جے) کی طرف سے صحافیوں اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے دس انتہائی برے ممالک کی فہرست میں چین کا پانچواں نمبر ہے جبکہ اس لسٹ میں ایریٹیریا پہلے، جنوبی کوریا دوسرے،ترکمانستان تیسرے اور سعودی عرب چوتھے نمبر پر موجود ہے سی پی جے کی لسٹ میں ساتویں نمبر ایران بھی دکھائی دے رہا ہے۔ جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پریس فریڈم گزشتہ پانچ سالوں کی نسبت ٹرمپ دور میں زیادہ متاثر ہوا اور یہ پریس فریڈم اور اظہار رائے کے حوالے سے انتہائی برا وقت ہے۔
دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے بلند و بانگ دعووں کے باوجود 1992 سے اپریل 2020 تک 1370 صحافی قتل ہوئے۔ ان سالوں میں 2009 کو صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا کیونکہ 2009 میں 76 صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کیا گیاجبکہ دوسرے نمبر پر 2012 اور 2013 کے سالوں کو صحافیوں کا قاتل سال کہا جا سکتا ہے ان دو سالوں کے دوران 148 صحافیوں کا قتل ہوااسی طرح 2015 میں بھی 73 صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنے جان کی قربانی دینی پڑی۔  1992 سے اپریل 2020 تک 872 صحافیوں کے قتل کے ایسے کیسز ہیں جو کئی سال گزر جانے کے باوجود التوا کا شکار ہو کرابھی تک کسی منتقی انجام کو نہیں پہنچے۔ امریکہ اور چین میں صحافیون کیلئے آزادانہ طور پر کام کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت ان دنوں صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھ مکمل طور پر برسرپیکار دکھائی دیتےہیں۔ نشریاتی اداروں اور صحافتی تنظیموں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان دنوں پریس فریڈم اور اظہار رائے کی آزادی کو جس طرح سلب کررکھا ہے اس کی امریکی تاریخ میں گزشتہ 20 سالوں میں مثال نہیں ملتی۔ صحافیوں کو مختلف اوقات میں صدر ٹرمپ کی طرف سے دھمکیاں دینے اور عوامی مقامات پر صحافیوں کی تذلیل کرنے کے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔  اسی طرح چین میں بھی صحافتی اداروں اور سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے بے شمار پابندیوں کا سامنا ہے اور یہ چیز عام دیکھنے میں آئی ہے کہ چینی حکومت براہ راست صحافتی اداروں اور اظہار رائے کے پلیٹ فارمز کے معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے اور وہاں پر سیلف سینسرشپ کا تناسب دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔  اظہار رائے اور پریس فریڈم کے حوالے سے کام کرنیوالے ایک بین الاقوامی ادارے فریڈم ہاؤس کی ایک سینئر ریسرچ ڈائریکٹر سارہ ریپیوسی نے کچھ عرصہ قبل جاری کردہ ایک رپورٹ میں باقاعدہ انکشاف کیا کہ پریس فریڈم اور آزادی اظہار رائے کے حوالےسے بڑے بڑے دعوے کرنیوالے ملک بھارت میں وہاں کی برسراقتدار پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) باقاعدہ طور پر ان مہمات اور اقدامات کی سپورٹ کرتی ہے جو حکومتی غلط اقدامات سے متعلق حقائق کو سامنے لانے والے اور سچائی پر مبنی تنقید کرنے والے صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور تشدد کرنے کیلئے منظم انداز میں شروع کیے جاتے ہیں معروف ریسرچر اور تجزیہ نگار سارہ ریپیوسی اپنی رپورٹ میں لکھتی ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بذات خود اکثر صحافیوں کو حکومتی مرضی کی خبریں چلانے کیلئے ہدایات دیتے ہیں۔ فریڈم ہاؤس نے لکھا کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت جب کوئی غیر جمہوری قدم اٹھانے لگتی ہے یا اٹھاتی ہے تو وہ سب سے پہلے میڈیا کو کنٹرول کرکے ان کی آزادانہ کام کرنے کا حق سلب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ 2017 میں ایک ملیشئین صحافی کو فقط اس لیے قتل کردیا گیا کہ اس نے سیاستدانوں کی کرپشن کو نقاب کیا تھا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ امریکہ، وسطی ایشیا، اور افریکی ممالک میں 2014 سے لیکر 2019 تک اظہاررائے کی آزادی یا آزادی صحافت کے حوالے سے حالات میں فقط 3 فیصد کا فرق ہی دیکھنے میں آیا۔  مشرقی ایشیا کے حوالے سے اسی ادارے کی ایک اور سینئر ریسرچر سارہ کاک نے اپنی رپورٹ میں چین میں صحافتی اداروں میں سرکاری مداخلت میں مسلسل اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔
آزادی اظہار رائے کی سلبی میں یوں تو بھارت ہمیشہ سے ہی آگے رہا تاہم نریندر مودی کے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد آزادی رائے کو دبانے کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انتہا پسندانہ سوچ اور پرتشدد مزاج کے حامل مودی سرکار بھارت میں کئی سالوں سے مکین سکھ ، مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو ظلم اور بربریت روا رکھے ہوئے ہے وہاں کے کسی فرد، ادارے یا صحافی کو اس ظلم و بربریت کی آزادانہ رپورٹنگ کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ بھارتی حکومت نے صحافتی اداروں سے بڑھ کر سوشل میڈیا پر بے شمار پابندیاں عائد کررکھی ہیں اور خلاف ورزی کرنے پر انسانی حقوق کے برعکس سخت ترین سزائیں دینے کے واقعات عام ہیں ۔  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کو منظر عام پرآنے سے روکنے کیلئے بھارتی فوج اور حکومت وہاں کے صحافیوں کو آئے روز تشدد کا نشانہ بناتی اور ان کی نقل وحمل پر پابندیوں سمیت فون اور انٹر نیٹ کے استعمال پر بھی پابندیاں لگاتی رہتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی اور پریس فریڈم کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ بھی کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستان میں 1994 سے اب تک 70 کے قریب صحافیوں کو قتل کردیا گیا، فریڈم نیٹ ورک نامی تنظیم نے انکشاف کیا کہ مئی 2019 سے اپریل 2020 تک 90 سے زائد صحافیوں پر تشدد اور حملوں کے واقعات ہو چکے ہیں فریڈم نیٹ ورک کے مطابق اس دوران سب سے زیادہ تشدد کے واقعات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آئے جن کی تعداد 34 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ میں صحافیوں پر تشدد کے 24، پنجاب میں 20، خیبر پختونخوا میں 13 اور بلوچستان میں 3 واقعات رونما ہوئے۔
 فروری 2020 میں پاکستانی حکومت نے بڑی خاموشی کے ساتھ سوشل میڈیا سے متعلق قانون نافذ کردیا جس کے بعد صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کیلئے حکومتی اقدامات پر تنقید کرنا بہت مشکل ہو گیا۔ گزشتہ سال دسمبر میں نصراللہ چوہدری نامی صحافی کو دہہشتگردی کی عدالت نے ممنوعہ مواد کی تشہیر کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی۔ اسی طرح حکومت اور اس کے حامی اسٹیبشمنٹ پر تنقید کرنے کی وجہ سے معروف صحافیوں حامد میر، سلیم سافی، منیزہ جہانگیر، شاہ زیب خانزادہ سمیت متعدد اینکروں کے پروگرام بند اور سینسر کردیئے گئے۔ فروری 2020 میں سندھ کا ایک صحافی عزیز میمن کا مبینہ قتل ہوا جس کا تاحال یہ طےنہیں کیا جا سکا کہ عزیز میمن کو قتل کیا گیا یا پھر اس کی موت کسی اور وجہ سے ہوئی۔سی پی این ای کی گزشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال پاکستان میں 60 صحافیوں پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ۔ سرکاری محکموں کے تقریباً تمام دفاتر میں حقائق کو چھپانے کیلئے صحافتی اداروں کے نمائندوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ کسی صحافی کو کسی ادارے میں ماسوائے اپنے مطلب کی رپورٹنگ کے موبائل کیمرہ تک لیجانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حکومت کے نامناسب اقدامات اور متنازعہ پالیسیوں پر تنقید کرنے کے جرم میں پیمرا آئے روز ٹی وی چینلز کو نوٹسز اور جرمانے کرتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اظہار رائے کی آزادی کو کم کرنے کیلئے موجودہ حکومت نے نئے اخبارات اور میگزینوں کے دیکلریشن کے اجراء پر بلاجواز پابندی عائد کررکھی ہے۔ اور چھوٹے اخباروں اور ادارون کو اشتہارات کی بندش اور ان کے واجبات کی عدم ادائیگی ان اداروں میں کام کرنے والے ورکروں کے بنیادی حقوق کو متاثرکرنے اور انہیں آزادنہ طور پر اپنی رائے کے اظہار سے روکنے کی کوشش ہے۔
بین الاقوامی اخبار گارڈین نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کی موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کی حکومت پر تنقید کرنے کا مطلب اخبار یا چینل کو بند کرنا ہے۔  گارڈین نے عمران خان کے دور حکومت میں میڈیا  اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں کو ایوب خان اور ضیاء الحق کے دور آمریت سے بھی زیادہ بدتر اور خطرناک قرار دیا۔ آزادی رائے یا آزادی صحافت کے اس عالمی دن کے موقع پر ایکبار پھر دنیا بھرسے بڑے بڑے دعوے اور اعلانات سامنے آئینگے اور تقریباً تمام ممالک کے سربراہان اور ذمہ داران آزادی رائے کی مکمل فراہمی کا اعادہ کرتے ہوئے نظر آئینگے لیکن حقیقت میں دنیا کے آمرانہ سوچ کے حامل حکمران کبھی بھی پریس فریڈم یا رائے کے اظہار کی آزادی کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائینگے۔ اب تک کے جو حالات اور اعداوشمار ہمارے سامنے ہیں اگلے سال ان میں بے بے انتہا اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ کیونکہ وقت بدل رہا ہے لیکن حکمران طبقے کی سوچ وہی ہے اور خود صحافتی حلقے بھی اپنی آزادی کا دفاع کرنے میں اس حد تک مؤثر انداز میں کام کرتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے جو موجودہ حالات کے مطابق وقت کی ضرورت ہے۔