Add 1

Wednesday, October 19, 2016

Special Article by Rauf kalasra

اسحاق ڈار نے پورے ملک کو گروی رکھنے کی منصوبہ بندی کرلی,

روف کلاسرہ کا کا لم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں پاکستان ٹیلی ویژن کی اسلام آباد، لاہور، کراچی اورکوئٹہ کی عمارتیں بچ گئی تھیں جنہیں گروی رکھ کر اب اسحاق ڈار سکوک بانڈزکے نام پر قرضہ لے رہے ہیں۔ وزارت خزانہ کو پتا چلا کہ پی ٹی وی کی ان عمارتوں سے بھی کام نہیں چلے گا کیونکہ قرضہ بڑی مقدار میں لینا مقصود ہے، لہٰذا فیصلہ ہوا کہ ریڈیو پاکستان کے ملک بھر میں پھیلے نیٹ ورک کی تمام عمارتوںکو بھی گروی رکھا جائے۔ سروے کرایا گیا تو پتا چلا پاکستان میں ریڈیو پاکستان کی اکسٹھ عمارتیں ہیں۔ حکم ہوا کہ ان سب کی قیمت لگائی جائے اور پتا کیا جائے کہ ان پرکتنا قرضہ مل سکتا ہے۔ جس نے قیمت لگائی اسے داد دیں، اس نے ان تمام عمارتوں کی مجموعی قیمت بہترکروڑ روپے لگائی۔ آپ یقیناً حیران ہوںگے کہ سپریم کورٹ کے سامنے واقع ریڈیو پاکستان کے ہیڈکوارٹر کی عمارت کی قیمت پانچ سے دس ارب روپے ہونی چاہیے جو ایک پنج ستارہ ہوٹل کے قریب واقع ہے۔ اس ہوٹل کی قیمت یقیناً اربوں روپے ہوگی، لیکن ریڈیو پاکستان کی اس عمارت کی قیمت صرف چند کروڑ روپے لگائی گئی۔
میرے پاس موجود دستاویزات کے مطابق ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کو وزارت خزانہ کی طرف سے حکم ملا کہ سکوک بانڈز خریدنے کے لیے ان کی عمارتوںکوگروی رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ یہ قرضہ ملک چلانے کے لیے ضروری ہے۔ ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی کی انتظامیہ کو مطمئن کرنے کے لیے کہا گیا کہ وہ پریشان نہ ہوں،اس سے پہلے اسحاق ڈار موٹروے اور کراچی ایئرپورٹ کو بھی گروی رکھ کر قرضے لے چکے ہیں۔ اب باری پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی عمارتوں کی ہے۔ اس پر ان اداروں کے سربراہوںکو حکم ہوا کہ وہ فوری طور پر اپنے اپنے بورڈزکے اجلاس بلائیں اوروزارت خزانہ کے اس حکم کی تعمیل کی جائے۔ ایک قرارداد بھی تیارکی گئی تاکہ اس کو منظور کرنے کے فوراً بعد ان سرکاری عمارتوںکی کاغذی کارروائی پوری کرکے دستاویزات ان سرمایہ کاروں کے حوالے کی جائیں جو ان عمارتوں پر قرضہ دیںگے۔ اگر سود سمیت انہیں قرضہ واپس نہ کیا گیا تو انہیں یہ حق ہوگا کہ وہ ان عمارتوںکا کنٹرول سنبھال لیں۔
میں نے جس دن یہ خبر اپنے ٹی وی شو میں بریک کی، اگلے روز ریڈیو پاکستان کے بورڈ کا اجلاس ہونا تھا اوران عمارتوں کو قرضہ لینے کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی جانی تھی۔ اجلاس میں یہ سوال اٹھایاگیا کہ کس نے اکسٹھ عمارتوںکی قیمت صرف بہترکروڑ روپے لگائی گئی؟ کس نے ان عمارتوں کی مارکیٹ ویلیو (قیمت) پتاکرائی کہ اگر انہیں بیچا جائے تو یہ صرف بہترکروڑ روپے کی بکیں گی؟ اب نئے سرے سے ان کا سروے ہوگا، شاید چند ڈالر زیادہ مل جائیں۔ اگرچہ اس اجلاس میں فیصلہ نہ ہو سکا لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی کیونکہ اسحاق ڈارکو اس وقت ڈالرز چاہئیں تاکہ وہ فخریہ کہہ سکیں کہ انہوں نے ملکی خزانہ بھر دیا ہے اور ریزرو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریزرو پہنچانے کا جنون ہمیں اس حالت میں لے آیا ہے کہ اب عالمی ادارے ہماری ساورن گارنٹی پراعتبار کرنے کو تیار نہیں رہے اور وہ چاہتے ہیںکہ پاکستان پہلے اپنی سرکاری عمارتیںگروی رکھے۔ مجھے یاد ہے،کبھی ساورن گارنٹی دینا بہت بڑی خبر ہوتی تھی کہ حکومت پاکستان نے قرضہ لینے کے لیے ساورن گارنٹی دے دی ہے کہ اگر فلاں محکمے نے قرضہ واپس نہ کیا تو حکومت واپس کرے گی، مدت پوری ہونے پر اگر قرضہ واپس نہ ہوا تو وہ پارٹی عالمی فورم پر جا کر سود سمیت اپنا قرضہ واپس لے سکتی ہے۔ پہلے ایک آدھ قرضے کے لیے ساورن گارنٹی دی جانے لگی، پھر قرضہ دینے والوںکو پتا چل گیاکہ ان تلوں میںتیل نہیں رہا، کب یہ دکان بند ہوجائے اور وہ قرضہ واپس نہ لے سکیں، لہٰذا ہر ایک نے ساورن گارنٹی مانگنا شروع کردی۔ ڈالرز لینے کے چکر میں ہمارے سب وزیرخزانہ یہ گارنٹیاں دیتے رہے اور ایک دن ساورن گارنٹیاں بھی ٹکے ٹوکری ہوکر رہ گئیں۔
اب بات سارون گارنٹی سے آگے نکل گئی ہے۔ اب ساہوکار حکومت پاکستان کی گارنٹی پر یقین بھی نہیں کرتا۔ اب وہ کہتا ہے آپ کا کیا بھروسہ، کل کو دلوالیہ ہوجائو تو ہم کہاں سے گارنٹیاں کیش کراتے پھریںگے۔ سیدھی بات کرو اور اپنے اثاثے ہمارے حوالے کرو اور ڈالر لو۔ یوں پہلی دفعہ پاکستان نے ایک فیصلہ کیا اور موٹرویزکوگارنٹی کے طور پرگروی رکھ کر قرضہ لیا۔ اس کے بعد دوسرے موٹر وے کی باری آئی اور پھر تیسرے کی۔ جب سب موٹروے ختم ہوگئے تو خیال آیا کہ اب ملک کے ایئر پورٹس کوگارنٹی
کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ سب سے پہلے کراچی ایئرپورٹ کو گروی رکھ کر قرضہ لیا گیا۔ یقیناً جن عالمی بینکوں یا ساہوکاروں سے قرضہ لیا گیا ہوگا وہ اپنی نسلوں کو فخر سے بتاتے ہوںگے کہ بیٹا میں پاکستان میں ایک ایئرپورٹ کا مالک ہوں، پاکستان کے موٹروے میری ملکیت ہیں۔ دعا کرو پاکستانی حکومت کرپشن پر لگی رہے، ایکسپورٹس گرتی رہے، بیرون ملک پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقومات میں کمی آتی رہے، اس ملک کے حکمرانوںکی شاہی خرچیاں چلتی رہیں، بیوروکریسی اسی طرح اپنے ہی ملک کو لوٹتی رہے، شاہی خاندان کی حفاظت پر سات ارب روپے خرچ ہوتے رہیں، لندن سے لاہور پی آئی اے کے خصوصی طیارے وزیراعظم کو لاتے رہیں، وزیراعظم پاکستان دنیا بھر کے سو ممالک کے دورے قرض کی رقم سے چند ماہ میں پورے کر کے ریکارڈ قائم کرلیں تو بیٹا یہ سب کچھ ہمارا ہوگا،کیونکہ پاکستانی ہمارے قرضے واپس نہیں کرسکیںگے۔ جس ملک کا بجٹ کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں کی واپسی میں جاتا ہے وہ بھلا کب اور کیسے قرضے واپس کرے گا۔ خصوصاً جب ماہرین معیشت یہ پیش گوئی کر رہے ہوںکہ موجودہ دور حکومت کے اگلے دو برس میں بیرونی قرضوں کا حجم نوے ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ بہتر ارب ڈالرکا قرضہ ہوچکا اور واپس کرنے کے لیے نئے قرضے لیے جاتے ہیں تو اندازہ کرو جب یہ قرضے دو برس بعد نوے ارب تک پہنچیں گے تو پھر گنجی کیا نہائے گی اور کیا نچوڑے گی!
سابق سیکرٹری خزانہ واجد رانا کا اخبار میںبیان پڑھا کہ اب تک اسحاق ڈار تین برسوں میں چوبیس ارب ڈالرقرضہ لے چکے ہیں۔ سابق وزیرخزانہ حفیظ پاشا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ 2018ء تک پاکستان کے قرضے نوے ارب ڈالر ہوجائیں گے اور پاکستان واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ سینیٹر انور بیگ کہتے ہیںکہ انہیں ایک مغربی سفارتکار نے بتایا تھا کہ پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسانے کا پورا پلان ہے۔ جب نوے ارب ڈالر تک قرضے پہنچیںگے اور پاکستان واپس کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا تو پھر اسے اپنے ایٹم بم پر کمپرومائزکرنا پڑے گا ورنہ دنیا بھر میں تنہائی کا شکار ہوگا اور چند دنوں میں ہی دلوالیہ ہوجائے گا۔
دوبرس قبل دھرنے کے دنوں میں جب پاکستان عوامی تحریک کے ورکرز پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوگئے تھے تو اسے پاکستان پر حملہ قرار دیا گیا تھا اور مقدمے درج کر کے گرفتاریاں شروع ہوگئی تھیں۔ اب جبکہ اسی پی ٹی وی کی عمارت کو گروی رکھ کر ڈالر لینے کا پلان ہے تو اسے کیا تصور کیا جائے؟پارلیمنٹ ہائوس، ایوان صدر ، وزیراعظم ہائوس اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھی گروی رکھا جاسکتا ہے۔ امید ہے یہ تمام عمارتیں بھی اسحاق ڈار کی فہرست میں شامل ہوںگی۔
ہاں، میں یہ تو بھول ہی گیا کہ ایک منسٹرانکلیو بھی موجود ہے جہاں سب وزراء کی سرکاری رہائش گاہیں ہیں۔ اگر اسے بھی گروی رکھا جائے تواسحاق ڈار بہت ڈالر ساہوکاروں اور عالمی بینکوں سے ہتھیا سکتے ہیں۔ ویسے تو ججوں کی کالونی بھی منسٹرز اینکلیو کے قریب ہی واقع ہے، اسے گروی رکھ کر بھی خاصہ قرضہ لیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیوکو بھی گروی رکھنے پر غور ہو سکتا ہے۔ تمام بڑے ممالک جو ہمیں قرضے دیتے ہیںان سب کے سفارت خانے وہیں ہیں، لہٰذا نئے قرضوں کی ڈیل جل................. جاری ہے.

2 kids injured by BSF firing in Nakiyal.

کوٹلی ۔نکیال بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک بچہ اور ایک بچی زخمی۔

نیوز ایجنسی :
کوٹلی: بھارتی فوج ک پاکستان کے سرحدی علاقے میں بلااشتعال فائرنگ سے دو معصوم بچے زخمی ہو گئے, تفصیلات کے مطابق بھارتی بارڈر فورس کی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں, ذرائع کے مطابق بھارتی فوج نے سرحدی علاقے نکیال سیکٹر کےقریب رہائشی علاقے میں بلااشتعال فائرنگ کر کے دو معصوم بچوں ولید ولد خادم حسین عمر 11سال جبکہ حلیمہ وحید ولد محمد وحید عمر دو سال کو زخمی کر دیا, زخمی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال نکیال طبعی امداد دی جا رہی ہے۔جبکہ پاکستانی جونوں کے جوابی فائرنگ سے دشمن کی گنیں خاموش ہو گئیں,

People reacted on PM's claim reducing inflation

مہنگائی میں کمی کا دعویٰ, وزیراعظم کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا,

سپیشل سروے رپورٹ:
اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مہنگائی کو بڑی حد تک کم کر دیا ہے اور مارکیٹ میں آلو 25 سے 30 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔لیکن عوام کاخیال کچھ اورہے لوگوں کاکیاکہناہے؟
تفصیلات کےمطابق نوازشریف نےتیسری  باروزارت عظمٰی کا قلمدان سنبھالاہےلیکن انہیں آج تک  یہ نہیں پتہ چلاکہ عوام کوآلوکس بھاؤ ملتےہیں۔ اسلام آبادمیں خطاب کرتے ہوئے انہوں  نےدعویٰ کیا کہ مہنگائی کےپرکاٹ دئیے۔اپنےدعوےکی تصدیق کےلئے وزیراعظم نےآلو کی  قیمت کاحوالہ دینا پسند کیا۔ مگر  عوام  وزیراعظم کی بات سےاتفاق نہیں کرتے۔ فیصل آبادکےشہریوں کاکہنا ہےوہ  مارے مارےپھررہےہیں،انہیں توآلوساٹھ روپے کلو  سےکم نہیں   مل رہے۔ یہی حالات ملتان  کےہیں  جہاں شہری کہتےہیں  سستےآلوتوخواب ہوگئے۔ ویسےوزیراعظم کوجب بھی موقع ملتاہےوہ آلوکی قیمت ہی بتاتےہیں۔شائدان کے ذہن میں  ہوگاکہ غریب اورآلوکاچولی دامن کاساتھ ہے۔ بیچارےصبح شام  آلوکھا کرہی زندہ رہتےہیں ۔

PPP don't want to send Nawaz to home. Musharaf

پی پی نواز شریف کا احتساب نہیں چاہتی، وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کیلئے عمران خان کو آخری حد تک جانا ہوگا: پرویز مشرف

مانیٹرنگ ڈیسک:
نیو یارک ، سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نواز شریف کا احتساب نہیں چاہتی کیونکہ اگر نواز شریف کا احتساب ہوا تو پیپلز پارٹی والوں کا بھی ہوگا۔ عمران خان کی تقریروں سے حکومت نہیں جائے گی، نواز شریف کو گھر بھیجنے کیلئے عمران خان کو آخری حد تک جانا ہوگا۔
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نواز شریف کا احتساب نہیں چاہتی کیونکہ اس کے تمام لوگوں کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 2008 سے 2013 تک ملک کو خوب لوٹا اور اگر نواز شریف کا احتساب ہوا تو پیپلز پارٹی والوں کا بھی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت 2018 تک چلے گی، 2014 کی طرح اگر عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر تقریریں کیں تو ناکام ہوں گے ۔ عمران خان اور قادری نے لمبے دھرنے کیے لیکن بیچ میں ہی چھوڑ دیا، عمران خان کی تقریروں سے حکومت نہیں جائے گی۔ نواز شریف کو گھر بھیجنے کیلئے عمران خان کو آخری حد تک جانا ہوگا۔
نیو یارک ، سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نواز شریف کا احتساب نہیں چاہتی کیونکہ اگر نواز شریف کا احتساب ہوا تو پیپلز پارٹی والوں کا بھی ہوگا۔ عمران خان کی تقریروں سے حکومت نہیں جائے گی، نواز شریف کو گھر بھیجنے کیلئے عمران خان کو آخری حد تک جانا ہوگا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نواز شریف کا احتساب نہیں چاہتی کیونکہ اس کے تمام لوگوں کی بیرون ملک اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 2008 سے 2013 تک ملک کو خوب لوٹا اور اگر نواز شریف کا احتساب ہوا تو پیپلز پارٹی والوں کا بھی ہوگا.
انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی حکومت 2018 تک چلے گی، 2014 کی طرح اگر عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر تقریریں کیں تو ناکام ہوں گے ۔ عمران خان اور قادری نے لمبے دھرنے کیے لیکن بیچ میں ہی چھوڑ دیا، عمران خان کی تقریروں سے حکومت نہیں جائے گی۔ نواز شریف کو گھر بھیجنے کیلئے عمران خان کو آخری حد تک جانا ہوگا۔

Life penalty in Qassas, prince Tarkee had killed by order of KSA SC.

شاہ سلمان نے عدل و انصاف کی مثال قائم کر دی۔دوست کو قتل کرنیوالا سعودی شہزادہ قصاص میں قتل کردیا گیا.

نیٹ نیوز:

ایک سعودی کو قتل کرنے کے جرم میں اپنے ہی بھتیجے ترکی بن سعود الکبیر کو قصاصا قتل کروا دیا۔
تفصیلات کے مطابق تین سال قبل شہزادہ ترکی بن سعود کی گولی سے ان کا دوست عادل المحیمید قتل ہو گیا اور عدالت نے شہزادے کو قصاصا قتل کرنے کے احکام جاری کر دیے، اور معاملہ سپریم کورٹ تک جا پہنچا، مقتول کے ورثاء دیت لینے پر رضا مند نہیں تھے، حالانکہ مقتول کے ورثاء کو شاہی خاندان کی طرف سے بہت بڑی بڑی پیشکشیں کی گئیں تھیں لیکن مقتول کے ورثاء نے سب کو جوتے کی نوک پر ٹھکرا دیا، اس پر سپریم کورٹ نے قصاصا قتل کے فیصلے پر تصدیق کر دی اور آج 18 اکتوبر 2016 کو شہزادہ ترکی بن سعود کو قتل کر دیا گیا۔
شاہ سلمان کے اس فیصلے پر سعودی معاشرے میں بالخصوص اور دیگر مسلمانوں میں بالعموم خوشی کا اظہار کیا گیا ہے کہ مملکت سعودی عرب میں اللہ کی حدود اور اسلامی قانون سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہے، چاہے اس کا تعلق شاہی خاندان سے ہی کیوں نہ ہو۔
واضح رہے کہ شاہ سلمان نے گزشتہ برس جدہ میں منعقد ہونے والی اینٹی کرپشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی شخص میرے یا میرے خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف دعوی دائر کر سکتا ہے۔

#شاہ_سلمان
خبر کی تصدیق کیلیے لنک:
https://goo.gl/e5dm1P

Tuesday, October 18, 2016

Close vine shops in all over Provence, SHC ordered.

سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں شراب کی غیر قانونی دکانیں بند کرانے کا حکم دیدیا

مانیٹرنگ ڈیسک:
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں شراب کی غیر قانونی دکانیں بند کرانے کا حکم دیدیا
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں شراب کی غیر قانونی دکانیں بند کرانے کا حکم دیدیا ۔ تفصیلات کےمطابق سندھ ہائی کورٹ میں غیر قانونی شراب خانوں سے متعلق درخواست کی سماعت میں ڈی جی ایکسائز نے عدالت میں رپورٹ پیش کی کہ کراچی میں 120شراب خانون کے لائسنس ہیں جبکہ صرف ضلع جنوبی میں ہی 24لائسنس دیے گئے۔ ڈی جی ایکسائز کی رپورٹ کےمطابق ضلع جنوبی میں بیس ہزار اقلیتی افراد اور شراب کی 24 دکانیں ہیں۔ عدالت نے آئی جی سندھ کو شراب کی تمام دکانیں فوری بند کرانے کا حکم سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شراب کی دکان سارا سال کھلی رکھنے کا کون سا قانون ہے؟۔
عدالت کا کہناتھاکہ سال کے365دن شراب کی دکانوں کے لائسنس غیر قانونی ہیں اورحدود آرڈیننس کے تحت شراب اقلیتوں کے تہواروں پر دی جا سکتی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ضلع جنوبی میں شراب اقلیتوں کے نہانے کے بعد بھی بچ جائے گی،صرف اقلیتوں کے تہوار، ہولی ، کرسمس اوردیوالی سے پانچ روز قبل شراب دی جاسکتی ہے۔
عدالت نے سندھ حکومت کو حکم دیا کہ دو روز میں شراب خانوں کو بند کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے اور شراب کے لائسنس ری کال کر لیے جائیں جبکہ ڈی جی ایکسائز کو حکم دیا گیا کہ وہ شراب کے لائسنس ری کال کر کے رپورٹ آج ہی جاری کریں۔

High profile involvement in Nandi pur power project scandal,

ملک کی انتہائی اہم شخصیات بھی نندی پور پاور پراجیکٹ سکینڈل کی زد میں آگئے

۔نندی پور پاور پراجیکٹ اسکینڈل ،انتہائی اہم شخصیات بھی زد میں
 ایڈیشنل سیشن جج جمشید مبارک بھٹی کی عدالت میں درخواست پر بحث ہونا تھی تاہم درخواست دہندہ منظور قادر بھنڈر ایڈووکیٹ کے کلرک عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ منظور قادر بھنڈر ایڈووکیٹ ضروری کام کے سلسلہ میں دبئی گئے ہیں اسلئے درخواست کی سماعت ملتوی کی جائے ۔ عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں وزیر اعظم نواز شریف ، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف ، وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف ، تھانہ اروپ میں درج مقدمہ کے مدعی کیپٹن ریٹائرڈ رانا مہتاب عالم اور ایڈمن انچارج نندی پور پاور پراجیکٹ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ نندی پور پاور پراجیکٹ میں آئل کی خریداری سمیت اہم ریکارڈ کے ضائع کئے جانے کے معاملہ میں مقدمہ تھانہ اروپ میں درج ہو ا ۔ پاور پراجیکٹ میں روزانہ کروڑوں اور ماہانہ اربوں روپے کا آئل استعمال کیا جا رہا ہے ، میڈیاپر چلنے والی خبروں سے خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ نندی پور پاور پراجیکٹ میں بڑے پیمانے پر آئل کرپشن ہو رہی ہے ۔ ایف آئی آر بڑے لوگوں کو بچانے کے لئے اس انداز سے درج کروائی گئی کہ تفتیش کے بعد مقدمہ کو عدم پتہ کر کے داخل دفتر کر دیا جائے ۔

"No more Corruption" Nov.2 fixed for Islamabad shutdown,Imran khan

تاریخ تبدیل, اسلام آباد اب دو نومبر کو بند کرینگے, عمران خان

سٹاف رپورٹر:
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے 'اسلام آباد بند کرنے' کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے اگلے ماہ 2 نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں احتجاج کا اعلان کر دیا۔ اس سے قبل عمران خان نے 30 اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا تھا، تاہم بعدازاں انھوں نے اپنی تقریر میں اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ ’اسلام آباد کو بند‘ کرنے کی تاریخ میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 2 نومبر کو اسلام آباد بند کر دیں گے۔ احتجاج کی تاریخ میں تبدیلی کی وجہ بتاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وکلاء برادری کی وجہ سے تبدیلی کی گئی، جن کی پارٹی کے لیے بے شمار خدمات ہیں۔ عمران خان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ وہ پارٹی نہیں ہے جسے 2013 میں آپ نے ڈنڈے مارے تھے، اگر ہمیں پر امن رہنے دیا گیا تو ہمارا احتجاج پر امن ہوگا'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'ہم نواز شریف سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، لہذا میری گزارش ہے کہ ہمیں نہ روکا جائے'۔ اپوزیشن جماعتوں کے اسلام آباد احتجاج میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ 'ہم نے باقی پارٹیوں سے بھی ساتھ دینے کی اپیل کی لیکن سب نے اپنے اپنے بہانے سنا دیئے، اصل بات یہ ہے کہ ان کی لیڈر شپ کو دلچسپی نہیں ہے، زرداری اور نواز ایک ہی پلیٹ فارم پر ہیں جن کا مقصد عوام کو لوٹنا ہے'۔ ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز کراچی میں ریلی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو 27 دسمبر تک کا وقت دیا ہے لیکن یہ عوام کو گمراہ کرنے والی بات ہے کیوں کہ اندر سے یہ سب ملے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ 'میں تمام جماعتوں کے کارکنوں اور پاکستانی عوام کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں کہ جو بھی سمجھتا ہے کہ اس ملک کا نظام کرپٹ ہے وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں اور ملک کو عدل انصاف کی جانب لے کر جائیں'۔

Get ready, bad news for Gas consumers

خبردار ہوشیار! پنجاب کے متعدد شہروں کو بڑی مصیبت کا سامنا، بر وقت تیاری کر لیں

مانیٹرنگ ڈیسک:
خبردار ہوشیار! پنجاب کے متعدد شہروں کو بڑی مصیبت کا سامنا، بر وقت تیاری کر لیں
موسم سرما میں پہلی مرتبہ صوبہ پنجاب کے تمام گھریلو صارفین کو رات 10 تا صبح 5 بجے تک گیس کی سپلائی بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔اس حوالے سے وزیر پٹرولیم چاہد خاقان عباسی کی منظوری کے بعد وزارت پٹرولیم نے سوئی نادرن کیلئے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان جاری کردیاہے، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد پنجاب میں گیس کی طلب پوری کرنا بہت مشکل ہوچکا ہے، جس کے باعث دسمبر تا فروری پنجاب بھر کے گھریلو صارفین کو رات 10 تا صبح 5 بجے تک گیس کی فراہمی بند رکھی جائے گی،گیس پریشر میں کمی کے باعث سوئی نادرن نے پنجاب کے بیشتر شہروں میں رات کے اوقات میں گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند کردی ہے، اس حوالے سے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں گھریلو صارفین کو 40 فیصد گیس کی قلت کا سامنا ہے،وزیر پٹرولیم کا کہنا ہے کہ ایل این جی کی درآمد کے باوجود گھریلو صارفین کو بدترین گیس شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑے گا، ایل این جی کی قیمت زیادہ ہونے کے باعث گھریلو صارفین کو سپلائی نہیں کی جاسکتی، ایل این جی صرف پاور سیکٹر، صنعتوں اور فرٹیلائزر کو سپلائی کی جارہی ہے،سوئی نادرن کمپنی حکام کے مطابق موسم سرما میں پنجاب کو 1 ارب 50 کروڑ کیوبک فٹ گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا، گھریلو صارفین کیلئے بچھائی گئی ٹرانسمیشن لائنیں بوسیدہ ہونے کے باعث گیس لاسز یا نقصان کی شرح بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جس کے باعث گھریلو صارفین کو ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کے ذریعے ایل این جی کی فراہمی ممکن نہیں،ایم ڈی سوئی نادرن امجد لطیف نے بتایا کہ گذشتہ تین سال کے دوران سوئی نادرن ریجن میں 10 ارب روپے مالیت کی گیس چوری ہوئی، سوئی نادرن گیس چوری اور لیکج روکنے کیلئے کوشاں ہیں