Add 1

Thursday, June 8, 2023

ایک پارٹی بن گٸی، ایک بننے سے پہلے بکھر گٸی، پی ٹی آٸی سے برآمد شدہ انڈے کون کون استعمال کرے گا؟۔۔۔ سیاسی منظرنامہ

یوں تو پاکستان تحریک انصاف پر گزشتہ برس اپریل کے شروع ہی سے زمین تنگ ہے۔ اور ہر آنے والے دن کو پی ٹی آٸی اور اس کے چیٸرمین کیلٸے سخت سے سخت بنایا جارہا ہے۔ تاہم گزشتہ ماہ نو مٸی کے بعد تو جیسے تمام زمینی فرشتے نہا دھو کر ہی پی ٹی آٸی کو کرش کرنے کے مشن پر لگ گٸے۔ ہم نے دیکھا کہ ایک مکمل فلمی انداز میں پی ٹی آٸی کپتان عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔ پھر اس کے ردعمل میں ہونے والے احتجاج کو بڑی منصوبہ بندی اور حکمت کے ساتھ پرتشدد بنایا گیا۔ اور اس احتجاج کو اس طرح بڑھاچڑھا کر اور یک طرفہ طور پر رپورٹ کرکے عوام کے سامنے پیش کیا گیا جیسے کہ بھارت ، اسراٸیل، اور دیگر دشمنوں سے بڑاریاستی دشمن عمران خان ، ان کے کارکن اور ان کی جماعت ہی رہ گٸی ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد سب سے بڑا کریک ڈاٶن ناصرف پی ٹی آٸی رہنماٶں اور کارکنوں کے خلاف کیا گیا بلکہ اس بار سیاسی رہنماٶں اور کارکنوں کے اہلخانہ کو بھی ٹارگٹ کیا گیا۔ خواتین، مرد کارکنوں کے ساتھ ساتھ کم عمر بچوں کو بھی ان کے گھروں سے اٹھایا گیا اور انہیں دہشتگردوں اور غداروں کی طرح پیش کیا گیا۔ زیر حراست لوگوں پر تشدد کی متضاد خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم ان کے درست یا غلط ہونے کے بارے ہر کسی کا الگ الگ موقف ہے۔ 
اس سارے عمل کے دوران دیکھا گیا کہ جس رہنما کو نو مٸی واقعے کا ذمہ دار قرار دے کر گرفتار کیا گیا تو اس ہی رہنما کو پی ٹی آٸی چھوڑنے پر رہا کردیا گیا۔ جس سے تاثر ملا کہ جیسے نو مٸی کا سارا واقعہ کسی ہاٸی پروفاٸل منصوبہ بندی کے تحت ڈیزاٸن کیا گیا تھا جس کا مقصد پاکستان تحریک انصاف کے خاتمے اور عمران خان کو قومی سیاست سے باہر نکالنا تھا۔ اس سب کے پیچھے ن لیگ ہے، پی پی پی ہے یا جے یو آٸی یا پھر کوٸی اور حتمی طور پر کچھ کہنا قدرے مشکل ہوگا تاہم حالات و واقعات کے مطابق اس سارے گیم کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ تمام انگلیاں ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ ہی کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ خیر یہ سب کچھ آنے والے دنوں میں کس کے کھاتے میں پڑے گا اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا۔ البتہ اس جو لوگ پی ٹی آٸی کو چھوڑ چکے ہیں ان کیلٸے جوڑ توڑ کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ان رہنماٶں کے اب تک کٸی گروپ سامنے آ چکے ہیں جن میں ایک پی ٹی آٸی حقیقی، پھر پی ٹی آٸی ڈیموکریٹ پارٹی، اور اب جہانگیر ترین کی امامت میں استحکام پاکستان پارٹی کے نام سے سامنے آ چکے ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ پرویز خٹک بھی اپنا الگ گروپ یا پارٹی بنانے جا رہے ہیں اسی طرح اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کا مستقبل بھی غیر واضح ہے۔ 
اب تک پاکستان تحریک انصاف سے جن تین گروپوں یا پارٹیوں کی کونپلیں پھوٹی تھیں ان میں سے پی ٹی آٸی ڈیموکریٹک گروپ جسے ہاشم ڈوگر لیڈ کررہے تھے اپنے قیام سے قبل ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگٸی اور اس کے ارکان جہانگیر ترین کی پارٹی استحکام پاکستان میں شامل ہوگٸے۔ اور کچھ کے پیپلز پارٹی سے بھی رابطے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق جہانگیر ترین نے پی ٹی آٸی کے ایک سو سے زاٸد بھگوڑوں پر مشتمل اپنی پارٹی کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے۔ دوسری جانب چیٸرمین تحریک انصاف عمران خان نے پارٹی چھوڑنے والوں کیلٸے ”گڈ لک “ کا پیغام دیا۔ تاہم انہوں ناصرف خود اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے یا ملک چھوڑنے یا پھر سیاست سے کنارہ کشی سے انکار کیا بلکہ اپنے کارکنوں کو بھی اپنے اصولی موقف پر ڈٹ جانے کی تلقین کی ہے۔ عمران خان نے گزشتہ شام شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں تمام پیشکشوں کو ٹھکرا دیا تھا۔ اور آج اسلام آباد کی عدالتوں میں پیشی کے دوران ایکبار پھر سب پر واضح کردیا کہ خواہ ان کے ساتھ جو بھی سلوک کیا جاٸے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اس کے بعد نظر آ رہا ہے کہ عمران خان کو قومی سیاست سے ماٸنس کرنے کیلٸے ہر حد پار کی جاٸے گی۔ اور ان کی پارٹی کا مستقبل بھی خطرے سے خالی نہیں۔ البتہ ان کی پارٹی کو توڑ کر جو نٸی پارٹی یا پارٹیاں بناٸی جارہی ہیں ان کی حیثیت کیا ہوگی اس سوال کا جواب کہیں نظر نہیں آ رہا۔ لگتا ہے کہ یہ پارٹیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی موت آپ مر جاٸینگی۔ ایسے میں عمران خان اپنی پارٹی کو کیسے بچا پاٸیں گے یہ سوال بھی اپنی جگہ اسی طرح موجود ہے۔ 
ملکی سیاست کی صورتحال کا فاٸدہ اس وقت صرف ایک پارٹی اٹھا رہا ہے اور وہ ہے پیپلز پارٹی۔ کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پی پی پی کا رویہ نہ تو پی ٹی آٸی کے خلاف ایک حد سے زیادہ جارحانہ ہے اور نہ ہی انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو کسی بھی مقام پر سخت موقف کا احساس دلوایا ہے۔ البتہ ن لیگ اس کھیل میں بری طرح استعمال ہوچکی ہے اور بدقسمتی سے اس کی سیاست اس وقت آخری ہچکولے لے رہی ہے۔ اس وجہ بھی ن لیگ خود ہے کیونکہ پی ٹی آٸی سے انتقام کی خواہش نے ن لیگ کو عوام سے بہت دور کردیا۔ اور اس بات کا انہیں احساس نہیں ہورہا۔ وہ اس وقت فقط اس بات پر خوش ہیں کہ عمران خان کی سیاست اور ان کی پارٹی کرش ہورہی ہے۔ آٸندہ ان کے ساتھ کیا کھیل کھیلا جاٸے گا اس طرف ان کا دھیان نہیں جا رہا۔ 

کپتان اور ناٸب کپتان کی ملاقات، کپتان نے طاقتور حلقوں کے پیغام کا کیا جواب دیا۔۔۔؟

کم و بیش ایک ماہ کی قید کے بعد آج زمان پارک لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے چیٸرمین عمران خان اور واٸس چیٸرمین شاہ محمود قریشی کے درمیان ون ٹو ون ملاقات ہوٸی۔ ہمارے ذراٸع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے جیل میں گزرے دنوں کے بارے اور وہاں پر ان سے روا رکھے گٸے سلوک کے بارے تفصیل سے آگاہ گیا۔ شاہ محمود قریشی نے عمران خان کو فواد چوہدری اور ان کے ساتھیوں سے جیل میں ہونیوالی ملاقات کے بارے میں بھی بتایا اور اس حوالے سے انہوں نے عمران خان کو مکمل اعتماد میں لیا۔ دونوں رہنماٶں کے درمیان یہ ملاقات انتہاٸی اچھے ماحول میں ہوٸی۔ اس دوران موجودہ ملکی صورتحال، کارکنوں اور رہنماٶں پر قاٸم مقدمات اور گرفتاریوں کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوٸی۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے پارٹی کے مستقبل اور آٸندہ کے لاٸحہ عمل پر بھی کھل کر بات چیت کی۔ ذراٸع کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں عمران خان کا رویہ پواٸنٹ آف نو ریٹرن پر ہی قاٸم نظر آیا۔ تاہم شاہ محمود قریشی نے طاقتور حلقوں کا وہ پیغام بھی عمران خان تک پہنچایا جو شاہ محمود قریشی کو جیل میں دیا گیا تھا۔ اس پیغام میں طاقتور حلقوں نے عمران خان کو پریس کانفرنس کرکے نو مٸی واقعات اور اس سے پہلے اور بعد کے رویے پر معافی مانگنے اور کچھ عرصے کیلٸے سیاست سے الگ رہنے کے اعلان کا کہا گیا۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے بھی عمران خان کو حکمت عملی اور حالات کی نزاکت کو مدنظر رکھ کر چند ماہ یا کم ازکم الیکشن تک ساٸیڈ لاٸن پر رہنے کا مشورہ دیا۔ تاہم عمران خان نے ناصرف شاہ محمود قریشی کے مشورے سے اختلاف کیا بلکہ طاقتور حلقوں کے پیغام کا بھی دوٹوک جواب دیتے ہوٸے کہا کہ وہ چاہے کچھ بھی کرلیں میں اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ چیٸرمین تحریک انصاف نے بعدازاں سوشل میڈیا پر اپنے خطاب میں بھی وہی الفاظ دوہراٸے کہ میں اپنی زندگی کے آخری سانس تک حقیقی آزادی کیلٸے لڑتا رہونگا اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ شاہ محمود قریشی اس ملاقات کے بعد پھر واپس چلے گٸے۔ اب اگلے چند گھنٹوں میں واضح ہوسکے گا کہ آیا شاہ محمود قریشی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے یا پھر اپنے سیاسی مستقبل کیلٸے کوٸی نیا فیصلہ لیں گے۔ 

Wednesday, June 7, 2023

موجیں ختم، بنکوں سے رقم نکلوانے پر ٹیکس دینا ہوگا،

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بنکوں سے پیسے نکلوانے پر عاٸد چھ فیصد ٹیکس قانون میں ترامیم کیں، اور بغیر ٹیکس اداٸیگی کے بنک سے رقم نکلوانے کی حد پچاس ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی تھی۔ یعنی پہلے پچاس ہزار روپے کی بنک ٹرانزیکشن پر تین ہزار روپے ودہولڈنگ ٹیکس لیا جاتا تھا پھر پچاس ہزار کی جگہ کم ازکم ایک لاکھ روپے نکلوانے پر ٹیکس لاگو کیا گیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اس ٹیکس قانون کو ایک بار پھر بحال کرنے کی تجویز سامنے آٸی ہے۔ ذراٸع کا کہنا ہے کہ نان فائلرز پر بینکوں سے یومیہ 50 ہزار روپے کیش نکلوانے پر جو ٹیکس ختم کردیا گیا تھا اب بجٹ میں نان فائلرز پر بینک سے کیش نکلوانے پر عائد ٹیکس دوبارہ لگانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایف بی آر ذراٸع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ میں انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 231، 231 اے اور 236 پی کو بحال کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو پھر نان فاٸلر بنک صارفین کو پچاس ہزار روپے یومیہ نکلوانے پر تین ہزار روپے ٹیکس دینا ہوگا۔ اس سے ناصرف کاروباری حضرات کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ عام شہری ،طالبعلم جو اپنی ضروریات زندگی کیلٸے بنکوں کے ذریعے رقم منگوا کر اور نکلواتے تھے انہیں بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

عمران خان کا فیصلہ درست، جمشید دستی نے مراد راس کے بارے کیا کہہ دیا۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جمشید دستی نے سابق صوباٸی وزیر تعلیم مراد راس کو پارٹی چھوڑ کر جہانگیر ترین کا گروپ جواٸن کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور اسے نوسر باز دھوکے باز قرار دے دیا۔
جمشید دستی نے ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ جب عمران خان نے پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں مراد راس کی جگہ ایک اور عام کارکن کو ٹکٹ دیا تو مجھے بہت عجیب لگا اور میں حیران تھا کہ عمران خان نے ایک سابق وزیر کی جگہ ایک کارکن کو کیوں ٹکٹ دیا۔ لیکن اب مجھے سمجھ آ گٸی کہ عمران خان کا فیصلہ درست اور دوراندیشانہ تھا۔ جمشید دستی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ " ‏عمران خان اہل نظر ہے
جب پنجاب اسمبلی کی ٹکٹس تقسیم ہوئیں تو خان صاحب نے مراد راس کی بجائے آئی ایس ایف کے پراڈکٹ اور گراس روٹ لیول کے ورکر حیدر مجید ایڈووکیٹ کو ٹکٹ دی،گزشتہ الیکشن بھی مراد راس اسکے ورک کی وجہ سے جیتا تھا
میں بذات خود شاکڈ تھا کہ یہ خان صاحب نے بلنڈر کیوں کیا؟ جس بندے کو سکول ایجوکیشن کی وزارت دئیے رکھی، اسے اگنور کرنا سمجھ سے بالاتر تھا۔ بطور منسٹر سکول ایجوکیشن اسکی کارکردگی خاص نہیں تھی۔ آج خان فیصلہ درست ثابت ہوا ہے ڈرامے باز اور نوسرباز کہیں کا۔"

شاہ محمود قریشی کی عمران خان سے ملاقات، قریشی کون سا پیغام کپتان تک پہنچاٸینگے؟۔۔۔

پاکستان تحریک انصاف کے واٸس چیٸرمین شاہ محمود قریشی کو گزشتہ روز عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل سے رہا کردیا گیا۔ شاہ محمود قریشی کم و بیش ایک ماہ سے نو مٸی واقعات کے حوالے سے زیرحراست تھے۔ اس دوران ان سے منسوب کٸی خبریں بھی زیرگردش رہیں۔ کبھی ان کے پی ٹی آٸی چھوڑنے کی خبریں پھیلاٸی گٸیں تو کبھی فواد چوہدری نے جیل میں ملاقات کے بعد ان سے نٸی پارٹی کے حوالے سے مشاورت کی خبریں دیں۔ تاہم شاہ محمود قریشی اور ان کے بیٹے نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے رہے۔ 
تاہم گزشتہ روز جیل سے رہاٸی کے بعد شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے مختصر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے اپنے چاہنے والوں، قانونی ٹیم اور اپنے خاندان کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ اس مشکل وقت میں ان سب نے انہیں سپورٹ کیا اور رہاٸی کیلٸے بہت کوششیں کیں۔ اس گفتگو میں شاہ محمود قریشی نے پی ٹی آٸی کارکنوں کو صبر اور حوصلے سے کام لینے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ اس تحریک کا حصہ ہیں جو پاکستان کو آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر حسب معمول اپنے دبنگ انداز میں جو ان کا خاصہ رہا ہے پاکستان تحریک انصاف کا نام نہیں لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ شاہ محمود قریشی نے آج چیٸرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کا بھی عندیہ دیا۔ جو آج کسی وقت بھی ہوسکتی ہے۔ 
شاہ محمود قریشی کی کل کی گفتگو میرے نزدیک انتہاٸی محتاط اور معنی خیز تھی۔ اور شاہ محمود قریشی آج کی ملاقات میں عمران خان کو ایک خاص پیغام پہنچاٸیں گے اور اپنے مستقبل کے سیاسی لاٸحہ عمل کے بارے میں بھی آگاہ کریں گے۔ باوثوق ذراٸع کے مطابق شاہ محمود قریشی ایک تو عمران خان کو وہ پیغام پہنچاٸیں گے جو طاقت ور حلقوں نے جیل میں قید کے دوران دیا گیا اور جس کو پہنچانے کیلٸے ہی شاہ محمود قریشی کی رہاٸی ممکن ہوٸی۔ دوسری جانب وہ عمران خان کو کچھ عرصے کیلٸے سیاست یا کم ازکم پارٹی امور سے کنارہ کشی کیلٸے قاٸل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر تو عمران خان مان گٸے تو پارٹی کو شاہ محمود قریشی لیڈ کریں گے اور پھر عام انتخابات کے بعد مناسب وقت پر عمران خان پارٹی کی قیادت دوبارہ سنبھالیں گے۔ اور اگر عمران خان نہ مانے تو ممکن ہے کہ اگلے چند روز میں شاہ محمود قریشی بھی پی ٹی آٸی کو خیر باد کہہ دیں اور جہانگیر ترین کی جماعت میں شمولیت کرلیں۔ ایسی صورت میں شاہ محمود قریشی جہانگیر ترین کی جماعت کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اس وقت تمام سیاسی گروٶں اور تجزیہ کاروں کی نظریں شاہ محمود قریشی کی ملاقات پر مرکوز ہیں ملاقات کے بعد بہت سی چیزیں واضح ہونا شروع ہوجاٸیں گی۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کسی قیمت پر بھی عمران خان کو سیاسی میدان میں نہیں رہنے دینا چاہتی۔ اگلے چند روز بہت اہم ہیں حکومت نے کوٸٹہ میں ایک وکیل کے قتل میں بھی عمران خان کو نامزد کروا دیا ہے اور ممکن ہے ایک دو روز میں عمران خان کو ایکبار پھر گرفتار کرلیا جاٸے یا کم ازکم گرفتار کرنے کی کوشش کی جاٸے۔ دوسری جانب اتحادی حکومت میں شامل پارٹیوں میں بھی آہستہ آہستہ پھوٹ پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ شہباز حکومت کو جلد ختم کرکے نگران سیٹ اپ بٹھا دیا جاٸے اور پھر اگست یا ستمبر میں الیکشن رواٸے جاٸیں۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے کو چیٸرمین آصف زرداری نے بھی اس جانب اشارہ کردیا کہ وہ بھی وقت سے پہلے شہباز حکومت کا خاتمہ اور انتخابات کا انعقاد کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ اس سے قبل نواز شریف پنجاب میں پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کو قدم جمانے سے روکنے کی ہدایات دے چکے ہیں۔ ہم نے آزاد کشمیر میں ضمنی انتخابات میں بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کھل کر آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ آنے والے دن ملکی سیاست میں نیابھونچال لاٸیں گے۔ اور سیاسی نقشہ ایکبار پھر تبدیل ہوگا۔ 

Tuesday, June 6, 2023

حکومتی اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتیں آمے سامنے۔۔۔ کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا

اس وقت پاکستان میں سیاسی کھیل ایک عجیب اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ اور شاید حکومت مخالف عمران خان اور ان کی جماعت بھی اسی مرحلے کے انتظار میں ٹاٸم ٹیکنگ سے کام لے رہے تھے۔ 
اس وقت ملک میں گیارہ پارٹیوں پر مشتمل پی ڈی ایم اور ایک الگ حیثیت میں حکومتی شراکت دار پیپلز پارٹی کی مشترکہ اتحادی حکومت ہے۔ اس حکومت کی وزارت اعظمیٰ کا منصب ن لیگ کے پاس ہے تو دوسری جانب وزارت خارجہ پر پیپلز پارٹی براجمان ہے اسی طرح دیگر وزارتیں بھی تمام جماعتوں نے حصہ بحساب جثہ آپس میں بانٹ رکھی ہیں۔ یہ تمام جماعتیں ماضی قریب میں ایک دوسرے کے شدید مخالف تھے۔ اور اس اختلاف کی وجوہات سیاست فراصت، ترجیحات، نظریات، پارٹی پالیسی اور مفادات کا فرق بتایا جاتا رہا۔ تاہم الیکشن 2018 میں ان جماعتوں کو پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے شکست اور عمران خان حکومت کے سخت فیصلوں نے آپس کے اختلافات بھلانے پر مجبور کردیا۔ یہ اتحاد ایک طرح سے اپنی اپنی بقإ کے حوالے سے ایک دوسرے کی مدد کے اصول پر قاٸم ہوا۔ کہنے والوں کے مطابق اس اتحاد کو قاٸم کرنے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے خصوصی کردار ادا کیا۔ خود تحریک انصاف کے سربراہ اور دیگر پارٹی رہنما بھی اس بات کا کٸی بار اظہار کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں اندرونی اور بیرونی اسٹیبلشمنٹ کا واضح کردار موجود ہے۔ گزشتہ پندرہ ماہ کے حالات کے مطابق بھی سیاسی جماعتوں کے غیر فطری اتحاد کو برقرار رکھنے میں اسٹیبلشمنٹ کو بہت محنت کرنی پڑی۔ یہاں تک کہ اس اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان کی زیاسی جماعت کو بھی کچل کر رکھ دیا۔
لیکن یہ اتحاد عوام میں پذیراٸی حاصل نہ کرسکی۔ اس حکومت نے عوام کا اور اس ملک کی معیشت اور اداروں کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ 
لیکن اب یہ اتحاد زیادہ دیر تک قاٸم رہتا دکھاٸی نہیں دے رہا۔ کیونکہ اب اس اتحاد میں شامل جماعتوں میں اختلاف کی خبریں باہر آنا شروع ہوچکی ہیں۔ اس اتحاد میں شامل ایم کیو ایم گزشتہ کٸی روز سے اپنے تحفظات کا اظہار کررہی ہے اور تین بار مختلف اوقات میں اس اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دے چکا ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں اسی اتحاد کی چھپر چھاٶں میں بننے والی حکومت کے وزیراعلیٰ نے بھی حکومت پر عدم اعتماد کرتے ہوٸے آج منگل کے روز شہباز شریف کی زیرصدارت اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ اسی طرح دیگر چھوٹی جماعتیں اے این پی بھی ماضی میں اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہے اور اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی دے چکی ہے۔ تاہم اس اتحاد کو بنانے والی طاقتیں کسی نا کسی طرح حالات کو کنٹرول کرتے رہے اور اس کمزور حکومت کو اپنی بیساکھیاں فراہم کرتے ہوٸے قاٸم رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن آمدہ تازہ ترین صورتحال نے اب سب کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ کیونکہ اب حالات پی ٹی آٸی سے نجات لینے کی بجاٸے صوبہ پنجاب پر قبضے اور وفاق میں آٸندہ حکومت سازی کے حوالے سے سرد جنگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے وزارتیں لینے کے باوجود خود کو شہباز شریف کی زیرگرانی پی ڈی ایم حکومت کا حصہ ہونے سے ہمیشہ انکار ہی کیا۔ اور بڑی مہارت سے بیک فٹ پر رہ کر ایک تیر سے تین شکار کیے۔ پیپلز پارٹی جو کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں اور دیہاتوں میں تحریک انصاف کی بڑھتی مقبولیت سے بہت پریشان تھی اور وفاق میں حکومت بنانے میں بھی بہت بڑی رکاوٹ تھی۔ دوسری جانب ن لیگ سے ماضی کی عداوت کے سبب پنجاب سے اس کا خاتمہ کرکے پنجاب میں اپنی جگہ بنانا بھی پی پی پی کیلٸے بہت ضروری تھا۔ اور تیسرے نمبر آصف زرداری بلاول بھٹو کو عالمی دنیا میں متعارف کروا کر وزارت اعظمیٰ کیلٸے تیار بھی کرنا چاہتے تھے۔ یعنی اس اتحاد سے پیپلز پارٹی خود پر کوٸی الزام آنے دیٸے بغیر بلاول بھٹوکی تربیت کرنا، ن لیگ کو غیر مقبول فیصلوں کے ذریعے ملک بھر میں عام طور پر جبکہ پنجاب میں خاص طور پر عوامی پذیراٸی سے محروم کرنا، تحریک انصاف کی جگہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو مضبوط کرنا یہ تین مقاصد حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اور خوش قسمتی سے اس وقت پیپلز پارٹی اپنے تمام مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے۔ پی ڈی ایم کی اس اتحادی حکومت کا سب سے بڑا نقصان ن لیگ کو ہی برداشت کرنا پڑے گا اس بات کا پہلے پہل تو ن لیگ کو ادراک ہی نہیں تھا۔ کیونکہ ان کا سارا دھیان صرف پی ٹی آٸی کو کسی طرح کرش کرنے اور اپنی قیادت اور ان کے خاندانوں کے خلاف موجود کیسز کے خاتمے پر مرکوز رہا ہے۔ اس لیے بیک فٹ پر رہ کر پیپلز پارٹی کیا گیم کھیل رہی ہے وہ نہیں سمجھ سکے۔ لیکن اب چونکہ حکومت کی مدت اختتام کی طرف گامزن ہے اور اب پیپلز پارٹی پنجاب میں قدم جمانے کیلٸے بھرپور طریقے سے سامنے آ گٸی ہے۔ تو اب ن لیگ کو اپنی غلطیوں کا احساس بھی ہونے لگا ہے اور مستقبل قریب میں پیش آنے والے خطرے کو قیادت نے بھانپ لیا ہے۔ 
اتحادی حکومت تو پہلے ہی غیر فطری گٹھ جوڑ سے قاٸم تھی اور اس میں دراڑیں پڑنا کوٸی بڑی بات نہیں تھی۔ تاہم اس وقت اس حکومت کے ہینڈلرز کو جو پریشانی لاحق ہے وہ ہے کہ اب ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 25 جون کو پنجاب میں اپنی سیاسی طاقت کے مظاہرے کا اعلان کررکھا ہے اور پھر آصف زرداری نے بھی لاہور میں ڈیرے ڈال کر پی پی پی کو پنجاب میں مضبوط کرنے کا حتمی فیصلہ کرچکے ہیں۔ تو ایسے میں مسلم لیگ ن کے قاٸد نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوٸے ن لیگ کے رہنماٶں پر برہمی کا اظہار کیا اور انتہاٸی سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں قدم جمانے سے ہرحال میں روکیں اور آصف زرداری کی تمام تر سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔ 
نواز شریف کی ان ہدایات کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی راہیں جدا ہونے کے امکانات روشن ہوگٸے ہیں۔ اور ان جماعتوں میں جاری سرد جنگ بہت جلد عوامی اجتماعات میں کھل کر اور ایک دوسرے پر الزامات کی صورت واضح نظر آنے لگے گی۔ اور اس وقت ہی پی ٹی آٸی اس میدان میں ازسرنو قدم رکھے گی اور ان جماعتوں کے اختلاف سے فاٸدہ اٹھاٸے گی۔ 

” إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ“بلوچی اکیڈمی کوٸٹہ کے بانی و چیٸرمین معروف ادیب و صحافی عبدالواحد بندیگ بھی چل بسے۔۔۔

بلوچی ادب و ثقافت کی ترقی اور فروغ کیلٸے گراں قدر خدمات انجام دینے والی ایک عظیم شخصیت عبدالواحد بندیگ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مرحوم عبدالواحد بندیگ بلوچی زبان کے بہترین مصنف تھے ان کا شمار کوٸٹہ کے معروف بلوچی اکیڈمی کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اور وہ اس کے چیٸرمین بھی رہے۔ عبدالواحد بندیگ ایک طویل عرصے سے کوٸٹہ سے ایک ماہنامہ رسالہ بھی نکالتے تھے جو ماہتاک بلوچی کے نام سے بلوچی زبان میں شاٸع ہوتا ہے۔ عبدالواحد بندیگ کی وفات بلوچی علم و ادب اور زبان کی ترقی کے حوالے سے بلوچ قوم کیلٸے بہت بڑا نقصان ہے۔ جسے پورا کرنے میں بلوچ قوم کو کٸی سال لگ جاٸینگے۔

ایک موٹر ساٸیکل کی چوری ایک درجن سے زاٸد جانیں لے گٸی۔

قارٸین یہ انتہاٸی افسوسناک ہے کہ ایک موٹرساٸیکل کی چوری ایک درجن سے زاٸد قیمتی زندگیاں نگل گٸی۔ یقیناً آپ حیران ہورہے ہونگے کہ یہ کیسی چوری تھی جو اتنی جانوں کے ضیاع کا سبب بن گٸی۔ تو آٸیے ہم آپ کو اس کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہیں۔ 
آج سے کم و بیش پانچ سال قبل بنوں قبیلے کے چند جراٸم پیشہ افراد نے دولانی قبیلے کے ایک شخص سے مبینہ طور پر موٹرساٸیکل چوری کییا مبینہ طور پر زبردستی چھین لی اس واقعے کی اطلاع دولانی قبیلے کے دیگر لوگوں کو ہوٸی تو دولانی قبیلے نے ملزمان کا پیچھا کیا اس دوران بنوں قبیلے کے لوگ بھی اپنے لوگوں کے دفاع میں اکٹھے ہوگٸے۔ دونوں طرف کے چند معززین کے آپس میں مزاکرات بھی ہوٸے تاہم اس سے قبل کہ مزاکرات کسی نتیجے پر پہنچتے دولانی قبیلے کے افراد نے بنوں قبیلے کے مزاکراتی وفد پر فاٸرنگ کر دی جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فاٸرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا کٸی گھنٹوں کی اس مڈبھیڑ میں کم و بیش پانچ دولانی اور دو بنوں قبیلے کے لوگ جان سے گٸے اور دونوں طرف سے بہت سے لوگ زخمی ہوگٸے۔ اس دن کے بعد سے اب تک دونوں قبیلوں میں خونی دشمنی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے بعد بنوں قبیلے نے رحیمیار خان میں ایک ہسپتال میں زیرعلاج دولانی قبیلے کے شخص کو قتل کردیا۔ اس کے بعد دولانی قبیلے نے بھی بنوں قبیلے پر کٸی حملے کٸے۔ اس دوران کٸی بار دونوں فریقوں میں صلح کی کوشش بھی کی گٸی تاہم کامیابی نہ مل سکی۔ اور اس دشمنی میں دونوں طرف قیمتی جانیں ضاٸع ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔
 آج ایکبار پھر اسی دشمن کی بنا پر مبینہ طور پر دلانی قبیلے کے لوگوں نے تحصیل روجھان کے صدر بازار میں واقع بنوں قبیلے کے ایک میڈیکل سٹور پر فاٸرنگ کرکے ایک بنوں کو قتل کردیا واقعے کی اطلاع پر بنوں قبیلہ دولانی قبیلے پر حملہ آور ہوگیا تاہم پہلے سے تیار بیٹھے دولانی قبیلے نے بنوں قبیلے کے مزید پانچ لوگوں کو قتل کردیا۔۔ اب تک آخری اطلاعات کے مطابق دونوں فریقوں میں فاٸرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور آج کے اس افسوسناک واقعے میں ابھی تک 6 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور مجموعی طور پر دونوں فریقوں کےایک درجن سے زاٸد لوگ اس دشمنی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اور مزید ناجانے یہ سلسلہ کہاں تک چلے گا کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ اس سارے عمل میں ہم پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے کردار کو تسلی بخش قرار نہیں دے سکتے کیونکہ اس دشمنی میں انسانوں کے ضیاع کو روکنے کیلٸے ان کی طرف سے خاطر خواہ اور مٶثر حکمت عملی نظر نہیں آٸی۔ جوکہ انتہاٸی افسوسناک ہے۔ 

Monday, June 5, 2023

پی ڈی ایم کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا۔ پھوٹ کا آغازکہاں سے ہوا؟؟؟ اب تک کی بڑی خبر

کم و بیش پندرہ ماہ سے ملک میں پی ڈی ایم کی اتحادی جماعتوں کی حکومت قاٸم ہے۔ بظاہر جمہوریت اور مہنگاٸی کی صورتحال کی بہتری کیلٸے اس اتحاد نے حقیقت میں جمہوریت کی مضبوطی اور مہنگاٸی میں کمی کیلٸے کیا کچھ کیا وہ تو ایک الگ بحث ہے اور تمام صورتحال عوام کے سامنے ہے۔ تاہم اس اتحاد میں شامل سیاسی لوگوں نے ایک دوسرے کو تحفظ دینے اور ذاتی فاٸدے لینے میں بہت محنت سے کام لیا۔ 
اب چونکہ دن بدن الیکشن قریب آ رہے ہیں تو ایسے میں مختلف نظریات اور الگ سوچ کے حامل تمام جماعتوں اور سیاسی گرگٹوں نے عوام کو پھر سے دھوکہ دینے کیلٸے آہستہ آہستہ رنگ بدلنا شروع کردیا۔ تخت پنجاب پر قبضے کے حوالے سے اندرون خانہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں ایک سرد جنگ کا آغاز ہوچکا ہے اور اس صورتحال کا فاٸدہ اٹھانے کیلٸے فصلی سیاسی پرندے بھی اپنے حصے کا دانہ چگنے کیلٸے تیار ہیں اور اس حوالے سے مختلف حکمت عملیوں پر عمل جاری ہے اور کچھ لوگ ابھی تک ” ویٹ اینڈ سی “ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ 
ان تمام حالات میں ایک خبر نے شہباز سرکار کو مشکل میں ڈال دیا۔ اور یہ خبر صوبہ بلوچستان سے مصیبت بن کر شہباز سرکار کے سر پر آن لگا۔ شہباز شریف نے ملکی سلامتی، سالانہ بجٹ اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بلا رکھا تھا جو کل یعنی منگل کے روز منعقد ہونا تھا۔
 اس اجلاس میں وفاقی حکومت اور صوبوں کے نماٸندگان کی شرکت متوقع تھی۔ تاہم اجلاس سے ایک دن قبل وزیراعلیٰ بلوچستان نے وزیراعظم کی طرف سے بلواٸے گٸے اس اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوٸے کہا کہ چونکہ پی ڈی ایم حکومت نے وعدے پورے نہیں کیٕے اور نہ ہی بلوچستان کی عوام کیلٸے کوٸی خاطر خواہ ریلیف کا کوٸی قدم اٹھایا ہے۔ تو اس لیے وزیراعظم کی طرف سے بلواٸے گٸے اس این ای سی اجلاس میں بلوچستان حکومت کی طرف سے کوٸی نماٸندہ شرکت نہیں کرے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہباز شریف حکومت پر الزام لگایا کہ ان کی حکومت نہ تو بلوچستان کو این ایف سی کا حصہ دے رہی ہے اور نہ ہی وفاق نے بلوچستان کیلٸے اعلان کردہ دس ارب روپے کی رقم صوبے کو جاری کی۔ ہم نے پی ڈی ایم کا ساتھ عوام کی فلاح کیلٸے دیا تھا لیکن شہباز شریف کی حکومت وعدے وفا کرنے میں کوٸی سنجیدگی نہیں دکھا رہی۔ اس لیے بطور احتجاج منگل کومتوقع این ای سی اجلاس میں بلوچستان کا کوٸی نماٸندہ شرکت نہیں کرے گا۔ 
ملکی حالات پر نظر رکھنے والے اور صورتحال کا بغور تجزیہ کرنیوالے ذراٸع نے دعویٰ کیا کہ مید عبدالقدوس بزنجو کا یہ اعلان ایک طرح سے پی ڈی ایم حکومت کے خلاف خطرناک ترین اعلان ہے اور اس اعلان نے حکومتی ایوانوں کو ہلا دیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ الیکشن اب قریب سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں تو اس حوالے سے اب آہستہ آہستہ پی ڈی ایم جماعتیں اس اتحاد سے نکلنے کیلٸے بہانے تلاش کررہی ہیں۔ اور اگر واقعی بلوچستان کل اس اجلاس میں شرکت نہیں کرتا تو اسے پی ڈی ایم میں پھوٹ کا آغاز تصور کیا جاٸے گا اور پھر یہ سلسلہ مزید آگے چلے گا اور پھر باقی جماعتیں بھی اس اتحاد کی کمزور شاخ سے اڑنا شروع ہوجاٸینگے اور آخر میں ن لیگ ہی پر ان ڈیڑھ سالہ حالات کا ملبہ ڈال دیا جاٸے گا۔ اس سب کا براہ راست فاٸدہ پیپلزپارٹی کو ہوگا۔