Add 1

Friday, June 16, 2023

نو مٸی واقعات کا معاملہ، لاہور ہاٸی کورٹ نے بڑا حکم دے دیا۔۔۔

نو مئی واقعات کے ملزمان کی شناخت پریڈ 48 گھنٹوں مکمل کی جائے، لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم۔
 لاہور ہائی کورٹ نے 9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کی شناخت پریڈ میں تاخیر ہونے پر بڑا فیصلہ سناتے ہوٸے حکم دیا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ 48 گھنٹوں میں مکمل کروائی جائے۔
جسٹس طارق سلیم شیخ  نے صوبے بھر کے سیشن ججز اور اسپیشل کورٹس کو شناخت پریڈ کا عمل 48 گھٹنوں میں مکمل کرانے کا حکم دیتے ہوئے شہری محمد رمضان کی درخواست پر 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار لاہور ہاٸی کورٹ اس فیصلے کی کاپی صوبے کے تمام سیشن ججز اور آئی جی پنجاب کوفوری بھجوائیں ۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ شناخت پریڈ کے پراسس میں بہت تاخیر کی گئی، جس سے شہریوں کی آزادی پر قدغن لگائی گئی۔ ہر انسان کو عزت ،آزادی اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے ۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین بھی شہریوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ گرفتاری،  ملزم  اور اس کے خاندان کے علاوہ بعض صورتوں میں معاشرے کےلیے بھی دُور رس اثرات رکھتی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ لوگ سزا سے پہلے گرفتار اور سزا کے بعد گرفتار میں فرق نہیں کر پاتے۔ کسی شخص کی گرفتاری ٹھوس شواہد اور صرف اسی صورت ہونی چاہیے جب دوسرا کوئی راستہ نہ ہو ۔ بین الاقوامی انسانی حقوق نے بھی ٹرائل سے پہلے گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ کسی گرفتار ملزم کا بے گناہ ڈکلیئر ہونا ٹرائل سے پہلے گرفتاری کا درد ناک پہلو ہے ۔ بے گناہ شخص کےلیے ٹرائل سے پہلے گرفتاری ذہنی اذیت یا کسی تضحیک سے کم نہیں ہے۔
فیصلے میں عدالت نے تحریر کیا کہ کسی بھی ملزم کے لیے شناخت پریڈ کا عمل بہت اہم ہوتا ہے۔ شناخت پریڈ کا موجودہ عمل بہت ناکارہ ہے، اس عمل میں تاخیر سارے پراسس کو مشکوک بناتی ہے ۔ شناخت پریڈ کے عمل میں تاخیر  بنیادی حقوق، تکریم اور فیئر ٹرائل کی خلاف ورزی ہے۔ آئینی عدالتیں آئین کے تحفظ کی ذمے دار ہیں۔ آئینی عدالتوں کو انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار 25 مئی سے شناخت پریڈ کےلیے جیل میں ہے۔ شناخت پریڈ میں تاخیر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ 9مئی کو کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی، سرکاری اور پرائیوٹ املاک کو نقصان پہنچایا ۔ حالات پر قابو پانے کےلیے ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے ۔ نظر بندی کے احکامات معطل ہونے پر افراد کو مقدمات میں نامزد کر کے گرفتاریاں کی گئیں۔ گرفتاری کے بعد ملزمان کو شناخت پریڈ کےلیے عدالت پیش کیا گیا ۔

آٸین اور قانون پر بات مہنگی پڑ گٸی، معروف وکیل سردار لطیف کھوسہ کے گھر پر فاٸرنگ۔۔

لاہور میں معروف وکیل اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ کے گھر پر نامعلوم افراد کی فاٸرنگ، ڈراٸیو زخمی ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شام ایک کنونشن میں ملک کے معروف وکیل سردار لطیف کھوسہ نے ملک میں جاری آٸین اور قانون کی خلاف ورزیوں اور فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے کھل کر تفصیلی گفتگو کی۔ جو شاید کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگی۔ سردار لطیف کھوسہ نے اپنے گھر پر ہونے والی فاٸرنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوٸے بتایا کہ گھر پر رات گئے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی کینٹ اویس شفیق پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچے، جہاں پولیس نے شواہد جمع کیے۔  واقعے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق  لطیف کھوسہ کے گھر پر 7 فائر کیے گئے ۔ فائرنگ میں پستول اور رائفل کا استعمال کیا گیا ۔ گولیاں گھر کے دروازے اور گیراج میں کھڑی کار میں لگیں  جب کہ  ایک گولی گیراج میں موجود ڈرائیور جاوید کی ٹانگ میں لگی ۔
پولیس کے مطابق زخمی ڈرائیور جاوید کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا  ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لی جارہی ہے، جس سے واضح ہو سکے گا کہ حملہ آور کون تھے اور کار پر تھے یا موٹرسائیکل پر ۔ مزید تفتیش کے لیے زخمی ڈرائیور کا بھی بیان لیا جائے گا۔
سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے بتایا کہ میرے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس میں ڈرائیور زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں سینئر وکیل اعتزاز احسن بھی وہاں رہائش گاہ پر پہنچے۔  لطیف کھوسہ نے بتایا کہ 7 بجے تک ہمارا کنونشن چل رہا تھا، جس میں آئین کی بالادستی اور فوجی عدالتوں کی بات کی۔ جوڈیشل سسٹم کے حوالے سے بات کی گئی۔ میں نے تقریر میں کہا کہ پاکستان کو سرزمین بے آئین بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کہا کہ 2 صوبوں میں غیر آئینی حکومت قائم کی گئی ہے۔ جس طرح سے سپریم کورٹ کے باہر نعرے لگائے جاتے ہیں، وہ توہین ہے۔ وہاں بہت تالیاں بجیں لیکن یہاں پھلجھڑیاں چلائی گئیں۔ میں گھر میں کلائنٹ کا کیس سن رہا تھا۔ فائرنگ کی آواز آئی میرے ڈرائیور نے اندر آ کر کہا کہ اس کو فائر لگا ہے۔ باہر جا کر دیکھا تو دروازے میں سوراخ تھے۔ گاڑی پر فائر لگا۔ 

Thursday, June 15, 2023

پٹرول کی قیمت کتنی کم ہوگی، ہوگی بھی یا نہیں؟ فیصلے کی گھڑی بج اٹھی

اس وقت دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی قیمتیں تنزلی کا شکار ہیں۔ اس کمی کا کچھ فاٸدہ پاکستانی عوام کو بھی ملا تاہم عالمی منڈی میں جس تناسب سے قیمتوں میں کمی ہوٸی حکومت نے عوام کو اس تناسب سے فاٸدہ نہیں دیا۔ البتہ اوگرا نے جون کے آخری پندرہ دنوں کیلٸے پٹرول کی قیمتوں میں پانچ سے دس روپے فی لٹر تک کمی کی تجویز دی ہے۔ تاہم اس کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کرینگے کہ پٹرولیم قیمتوں میں کتنی کمی کرنی ہے۔ دوسری جانب معاشی اور کاروباری میدان کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ روسی تیل پاکستان میں ابھی پہنچا ہی ہے اور ابھی تک ریفاٸنریوں میں بھی نہیں پہنچا۔ اس لیے زیادہ امکان یہ ہے کہ حکومت جون کے ان پندرہ دنوں کیلٸے پٹرولیم قیمتوں کو برقرار رکھے گی یا پھر معمولی رد و بدل کرے گی۔ البتہ جولاٸی کے پہلے پندرہ دن اور آخری پندرہ دنوں کیلٸے الیکشن سٹنٹ کے طور پر قابل ذکر کمی کی جاٸے گی۔ اور پھر اسی کمی کو الیکشن مہم کیلٸے بھی استعمال کیا جاٸے گا۔ لہٰذا عوام اس بار موجودہ حکومت سے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے حوالے سے زیادہ امیدیں وابسطہ نہ کرے۔ 
یاد رہے کہ وزارت خزانہ آج کسی بھی وقت وزیراعظم کی منظوری سے پٹرولیم مصنوعات کی نٸی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ ممکنہ طور پر نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نٸی قیمتوں کا اطلاق بھی آج ہی ہوجاٸے گا۔ 

کراچی میٸر کا متنازعہ انتخاب، شہر بھر میں حالات کشیدہ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکن آمنے سامنے، پتھراٶ پولیس اور رینجرز سے بھی جھڑپیں۔

سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے بعدکراچی کے میٸر کا انتخاب بھی متنازعہ ہوگیا۔ کراچی میٸر کی سیٹ پر پیپلز پارٹی کی طرف سے مرتضیٰ وہاب جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے حافظ نعیم میدان میں تھے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتاٸج کے مطابق جماعت اسلامی اور پی پی پی کے درمیان بہت ہی کم ووٹوں کا فرق تھا۔ چونکہ پاکستان تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان کررکھا تھا تو پی ٹی آٸی چیٸرمینوں کے ووٹوں کو ملا کر جماعت اسلامی کی برتری واضح تھی۔ لیکن آج جب ووٹنگ کا عمل شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے پی ٹی آٸی کے بہت سے چیٸرمینوں کو پولیس کے ذریعے گھروں سے اٹھوا لیا اور لگ بھگ بیس چیٸرمینوں کو ووٹنگ والے ہال میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔ پی ٹی آٸی کے چیٸرمین احتجاج کرتے رہے شور مچاتے رہے لیکن ان کیلٸے دروازہ نہیں کھولا گیا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی نے مرتضیٰ وہاب کو میٸر کراچی منتخب کروا لیا۔ اس طرح متنازعہ انتخاب کے بعد جماعت اسلامی کے کارکن سڑکوں پر نکل آٸے اور احتجاج شروع کردیا۔ جماعت اسلامی کے احتجاج کو روکنے کیلٸے پیپلز پارٹی کے کارکن بھی ان کے مدمقابل نکل آٸے۔ جس پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ جماعت اسلامی ذراٸع کے مطابق پولیس اور رینجرز نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو کھلی چھٹی دے دی جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو پکڑ پکڑ کر گاڑیوں میں ڈالتی رہی۔ صورتحال کشیدگی اختیار کرگٸی۔ اور پورے کراچی شہر میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کارکنوں میں لڑاٸی شروع ہوگٸی۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر پتھراٶ کیا گیا کچھ علاقوں میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوٸی ہیں۔ جماعت اسلامی نے کل بروز بدھ ملک بھر میں یوم سیاہ منانے اور احتجاج کی کال دے دی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے جماعت اسلامی سے بات چیت کرنے کیلٸے ان کے پاس جانے کا عندیہ دیا ہے۔ 

طاہر رندھاوا کے بعد محمود مولوی کا بیان بھی آ گیا، ترین کی استحکام پارٹی بکھرنے میں تیز ترین نکلی

نو مٸی کا بہانہ بنا کر جس عجلت میں پاکستان تحریک انصاف کو توڑ کر جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی بناٸی گٸی۔ بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ کی یہ پارٹی چند روز بھی قاٸم نہ رہ سکی۔ بڑے بڑے سیاسی ناموں کی موجودگی کے باوجود یہ پارٹی عوامی حمایت یا مقبولیت حاصل نہ کرسکی۔ اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہنے والے سیاسی لوگوں کو اپنی غلطی کا ادراک ہونے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے قیام کے دو روز بعد ہی اس میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس حوالے سے سب سے پہلا استعفیٰ طاہر رندھاوا کی طرف سے آیا جنہوں نے استحکام پاکستان پارٹی سے علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد دیگر کٸی لوگ بھی پس پردہ جہانگیر ترین کی پارٹی سے علیحدگی کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں اور بہت سے تو پی ٹی آٸی میں واپسی کیلٸے عمران خان سے رابطے کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کو چھوڑنے کے حوالے سے پہلی پریس کانفرنس کرنے والے محمود مولوی جو استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کیلٸے سرگرم بھی تھے نے کہا ہے کہ وہ اس پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ نجی چینل ہم نیوز کے مطابق محمود مولوی نے کہا ہے کہ وہ جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ اور پارٹی کی تقریب میں ویسے ہی شریک ہوٸے ان کا کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی کی تقریب میں ان کی طرح اور بھی بہت سے لوگ تھے جو پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ 
جہانگیر ترین کو استعمال کرکے تحریک انصاف کو توڑنے والوں کو یہاں بھی بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ ایک ساتھ ایک سو سے زاٸد الیکٹیبلز کے پارٹی چھوڑ جانے پر بھی پی ٹی آٸی کی مقبولیت میں کوٸی کمی آٸی اور نہ ہی پٕی ٹی آٸی کے بیانیہ میں کوٸی فرق آیا۔ الٹا جو لوگ چھوڑ گٸے ان کی سیاست تباہ ہوگٸی۔ وہ لوگ اپنی اپنی عوام کے سامنے ذلیل و رسوا ہوگٸے ہیں۔ لیکن افسوس کہ قابل احترام اداروں میں بیٹھے چند لوگوں کی ضد اور انإ کی جنگ نے ملک پاکستان کو ناکافی نقصان پہنچا دیا۔ اس پر بھی مزید افسوس یہ کہ وہ سب کچھ دیکھ بھال کر بھی اپنی ضد اور انإ سے پیچھے ہٹنے کیلٸے تیار نہیں۔ اور بدمست ہاتھی کی طرح ملک کی ہر شٸے کو تہس نہس کرتے جارہے ہیں۔ ان کے اس عمل سے ملکی عوام کی ان سے محبت بڑی تیزی سے بدل رہی ہے وہ عوام جو دشمنوں کے ہر قدم کو ان سے پہلے ہی روک لیتی تھی آج انہیں اپنا محافظ اور خیرخواہ ماننے کو تیار نہیں۔ 

Wednesday, June 14, 2023

وزیرآباد حملہ، کپتان نے جے آٸی ٹی سوالوں سے متعلق پروپیگنڈہ کا جواب دے دیا۔۔


گزشتہ روز چیٸرمین پاکستان تحریک انصاف وزیرآباد حملہ کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے بناٸے گٸے جے آٸی ٹی کے سامنے پیش ہوٸے جے آٸی ٹی ممبران نے چار گھنٹے تک واقعے سے متعلق اور اس کے بعد ان کی طرف سے کچھ لوگوں پر الزامات کے حوالے سے سوالات پوچھے۔ پی ٹی آٸی کے چیٸرمین عمران خان نے سوالوں کے جواب دیٸے۔ تاہم جے آٸی ٹی کی یہ کاررواٸی جو مکمل طور پر خفیہ ہونی چاہیے تھی اسے مبینہ طور پر جے آٸی ٹی میں شامل ایک افسر (جسے ن لیگ سے قریبی تعلقات کے حوالے سے جانا جاتا ہے ) نے لیک کرتے ہوٸے ن لیگ کے ہی میڈیا پینل میں موجود کچھ صحافیوں کو ناصرف بھیجا گیا۔ جے آٸی ٹی کی کاررواٸی لیک کرنے والے نے عمران خان کے جوابوں کو اس طرح بیان کیا کہ جیسے ان کے پاس اپنے اوپر حملے سے متعلق لگاٸے گٸے الزامات کا کوٸی ثبوت نہیں ہے۔ اور وہ ان الزامات سے مکر گٸے۔ 
پاکستانی میڈیا پر اس چیز کو لے کر بہت پروپیگنڈا کیا گیا۔ اور عمران خان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی گٸی۔ اس پر بلآخر عمران خان کو خود میدان میں آنا پڑا۔ اور انہوں نے ٹویٹر پر اس پروپیگنڈا کا جواب دیتے ہوٸے لکھا کہ حکومتی جے آٸی ٹی کو انہوں نے سارے سوالوں کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میں وزیرآباد حملے سے متعلق ویڈیو بیانات کو قبول کرتا ہوں تو میں نے ان ویڈیو بیانات کو قبول کیا۔ پھر مجھے کہا گیا کہ آپ جو الزامات لگا رہے ہیں اس بارے ثبوت دیں۔ تو اس پر میں نے کہا کہ مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آٸی آر درج نہیں ہونے دی گٸی اور وقوعہ کے بعد تین تین لوگوں نے ( شہباز شریف، رانا ثنإاللہ اور فیصل نصیر ) نے پلاننگ کے ساتھ چیزوں کو کوراپ کیا۔ جب میری مرضی کے مطابق ایف آٸی آر درج نہیں ہونے دی گٸی تو پھر ثبوت میں آپ کو کیسے دے سکتا ہوں۔ ہاں البتہ جب کبھی کوٸی عدالتی کمیشن بنا جو ایمانداری سے اس واقعے کی تحقیقات کرے تو اس کو ثبوت بھی دونگا۔ 
قارٸین ! یہاں پر کچھ چیزیں ہیں جو اس جے آٸی ٹی کو مشکوک بناتی ہیں۔ اول تو یہ کہ اس جےآٸی ٹی میں تمام لوگ حکومت کی اپنی مرضی کے شامل کیے گٸے ہیں اور ان سب کو ن لیگ کے قریب خیال کیا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جے آٸی ٹی کی تمام تر کاررواٸی خفیہ ہوتی ہے اور نتاٸج تک یہ سب چیزیں صرف متعلقہ افسران کے درمیان ہی رہتی ہیں انہیں لیک نہیں کیا جاتا لیکن اس جے آٸی ٹی کی کاررواٸی اس ہی کے ایک افسر نے چند صحافیوں کو لیک کردی۔ جس کے بعد شکوک و شہبات میں اضافہ ہوگیا اور جے آٸی ٹی کی جانبداری بھی عیاں ہوگٸی۔ کیونکہ کاررواٸی لیک کرکے عمران خان کے سیاسی مخالفین کو براہ راست فاٸدہ پہنچانے کی دانستہ کوشش کی گٸی۔ تو ایسے میں یہ جے آٸی ٹی درست رپورٹ کیسے پیش کرسکتی ہے۔ آخری بات کہ عمران خان جن لوگوں کو خود پر حملے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ان ہی کے لوگوں کو اس جے آٸی ٹی میں شامل کیا گیا تو کیا گارنٹی ہے کہ عمران خان جو ثبوت انہیں فراہم کریں وہ محفوظ رہے گا۔ جبکہ اس سے پہلے اس واقعے کے ثبوت مٹانے کی کوشش بھی کی جاچکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کے پاس بہت ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن کی وجہ سے الزام علیہ بہت پریشان ہیں۔ اور وہ ان ثبوتوں کو کسی طرح حاصل کرکے مٹانا چاہتے ہیں۔ تاہم فی الوقت تو عمران خان ان سب کے گلے کی وہ ہڈی بن چکے ہیں  جسے نہ تو یہ نگل پارہے ہیں اور نہ نکال پا رہے ہیں۔ 

Tuesday, June 13, 2023

تخت پنجاب اور اسلام آباد پر کس کا راج ہوگا؟ نیا لندن پلان سامنے آ گیا، آصف زرداری سے وعدہ خلافی، نتیجہ کیا نکلے گا؟

استحکام پاکستان کے پیٹرن انچیف جہانگیر ترین آج کل لندن میں مقیم ہیں۔ اور ذراٸع کے مطابق جہانگیر ترین کی اب تک ن لیگی قاٸد نواز شریف سے ایک طویل نشست بھی ہوچکی ہے۔ اس ملاقات کے حوالے سے اور ملکی سیاست کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے حوالے سے بہت ہی اہم انکشافات سامنے آ رہی ہیں۔ ذراٸع کا دعویٰ ہے کہ جہانگیر ترین اور نواز شریف کی ملاقات کو اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جاٸے کہ اسٹیبلشمنٹ نے ہی ممکنہ طور پر یہ پلان بنا کر جہانگیر ترین کو نواز شریف سے ملاقات اور مذاکرات کیلٸے لندن بھیجا۔ صاحب احوال ذراٸع کے مطابق جہانگیر ترین اسٹیبلشمنٹ کا منصوبہ یا پلان لے کر لندن گٸے۔ اور ابتداٸی ملاقات میں پلان کی تفصیلات پر سیر حاصل گفتگو کی گٸی۔ 
عمران خان کی حکومت کو گرانے میں پی ڈی ایم جماعتوں کا کردار رہا ہے۔ اس کام کیلٸے اگر پاکستان پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کا ساتھ نہ دیتی تو شہباز شریف کی حکومت بن ہی نہیں سکتی تھی۔ پیپلز پارٹی نے یہ سب کچھ باقاعدہ ایک معاہدے کے تخت ہی کیا۔ 
عمران خان کی حکومت گرانے کیلٸے تمام اپوزیشن نے جس معاہدے کے تحت یہ ساری جماعتیں اکٹھی ہوٸیں اس معاہدے کے تحت عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد اسمبلیوں کے باقی ماندہ مدت کیلٸے پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو وزیراعظم بنوا دیا۔ رجیم چینج آپریشن یا پھر عمران خان حکومت کے خلاف تحریک کے وقت پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان ڈیل ہوٸی تھی کہ فوری طور پر ملک کی وزارت اعظمیٰ کا منصب ن لیگ یعنی شہباز شریف کو دی جاٸے گی اور پھر اگلے پانچ سال کیلٸے وفاق میں پیپلز پارٹی حکومت بناٸے گی اور پنجاب میں ن لیگ کو وزارت اعلیٰ کا منصب ملے گا۔ اس دوران قانون سازی کے ذریعے نواز شریف مریم نواز وغیرہ کی سزاٸیں ختم کرواٸی جاٸیں گی اور پھر اس سے اگلے 
پانچ سال ن لیگ ملک کا تخت سنبھالے گی۔ یہی وجہ تھی کہ آصف زرداری نے جہاں ایک طرف پی ڈی ایم اتحادی حکومت کا ساتھ دیا اور ساتھ ساتھ بلاول بھٹو کی مناسب تربیت اور اسکے وزیراعظم بننے کیلٸے راہ ہموار کرنا شروع کردیا۔ آصف زرداری پہلے ہی یہ خواہش ظاہر کر چکے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں بلاول کو وزیراعظم بنتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس ہی لیے آصف زرداری نے اسٹیبلشمنٹ سے متعلق سخت موقف بھی ترک کردیا۔ بلکہ ان کے حق میں بولتے دکھاٸی دیٸے۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن بات اس وقت بگڑ گٸی جب ن لیگ کے قاٸد نواز شریف نے مریم نواز کو وزیراعظم بنانے کیلٸے منصوبہ بندی اور گٹھ جوڑ کا آغاز کیا۔ یہاں سے اندرونی طور پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں پھڈا شروع ہوگیا۔ اور صورت حال سرد جنگ کی صورت اختیار کر گٸی۔ اس کا اظہار ہم باغ کے ضمنی الیکشن اور نواز شریف کی طرف سے آصف زرداری کے پنجاب جلسے کی مخالفت اور پیپلز پارٹی کو پنجاب میں جڑیں مضبوط کرنے سے روکنے کی ہدایات کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ن لیگ اور پیپلز پارٹی کےدرمیان اختلافات میں ناصرف اضافہ ہوا بلکہ یہ اختلافات کھل کر سامنے بھی آٸے۔ البتہ اس سب میں پی ٹی آٸی سے علیحدگی اختیار کرکے جہانگیر ترین کی قیادت میں استحکام پاکستان کی چھتری میں جانے والوں کی سرگرمیوں نے پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ کے جھکاٶ اور اگلے منصوبے سے پردہ ہٹا دیا ہے۔ پلان یہ تھا کہ پی ٹی آٸی سے بندوں کو توڑ کر پی پی پی میں شامل کروایا جاٸے گا اور پھر وفاق میں بلاول کو وزارت اعظمیٰ سونپی جاٸے گی جبکہ صوبے میں ن لیگ کی حکومت ہوگی اور ن لیگ کی طرف سے عبدالعیم خان کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوایا جاٸے گا۔ لیکن اب سارا پلان بدل چکا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی ن لیگ سے مبینہ طور پر ڈیل ہوگٸی ہے اور اس لیے جہانگیر ترین کو نیا پلان دے کر نواز شریف سے معاملات فاٸینل کرنے کیلٸے لندن بھیجا گیا ہے۔ اب نٸے پلان کے مطابق پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا منصب عبدالعلیم خان کی بجاٸے ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے دیرینہ وفادار ساتھی سابق ناظم لاہور میاں محمد عامر محمود کو استحکام پاکستان کے پلیٹ فارم سے وزیراعلیٰ پنجاب بنوایا جاٸے گا۔ بظاہر ن لیگ تخت لاہور سے دستبردار ہوجاٸے گی۔ البتہ وفاق میں جہانگیر ترین کی پارٹی ن لیگ سے اتحاد کرے گی اور مریم نواز کو وزیراعظم بنوانے کیلٸے ن لیگ کا ساتھ دے گی۔ اس طرح پیپلز پارٹی کا پنجاب میں قدم جمانے کا خواب ناصرف ٹوٹے گا بلکہ وفاق میں حکومت بنانا بھی ممکن نہیں رہے گا۔ 
باوثوق ذراٸع کے مطابق شہباز شریف اور نواز شریف پیپلز پارٹی کے کو_چیٸرمین آصف زرداری سے کیے گٸے وعدے اور معاہدے سے مکر چکے ہیں اور آصف زرداری کو بھی اس بات کا علم ہوچکا ہے۔ اس لیے آنے والے چند دنوں میں بلاول بھٹو وزارت خارجہ کا منصب اور پی پی پی کے دیگر رہنما بھی وزارتوں اور حکومتی عہدوں سے استعفیٰ دے کر اپوزیشن بنچوں پر جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب جہانگیر ترین اور نواز شریف کے درمیان لندن میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ باخبر ذراٸع کے مطابق جہانگیر ترین اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت پر نواز شریف سے مل کر سارے پلان کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق نواز شریف نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ سے دستبرداری پر آمادگی ظاہر کی ہے اور میاں عامر کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر بھی رضامندی ظاہر کردی ہے۔ زیر مشاورت پلان کے مطابق وفاق میں ن لیگ ، پنجاب میں استحکام پاکستان جہانگیر ترین کی جماعت حکومت بناٸیں گے جبکہ جنرل الیکشن کے بعد جلد ہی بلدیاتی الیکشن بھی کرواٸے جاٸیں گے اور اس سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے بلدیاتی نماٸندوں اور رہنماٶں کو ڈرادھمکا کر پی ٹی آٸی سے الگ کیا جاٸے گا پھر بلدیات میں ن لیگ اور جہانگیر ترین کی پارٹی کو تقریباً برابر برابر حصہ دیا جاٸے گا۔ اس طرح اگلے پانچ سال پی پی پی کو فقط سندھ تک محدود رکھا جاٸے گا جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں عملی طور پر ن لیگ اور استحکام پاکستان کو حق حکمرانی ملے گی۔ اس سارے کھیل میں پیپلز پارٹی کو بھی پی ٹی آٸی کی طرح کمزور کرنے کی کوشش کی جاٸے گی۔ کے پی میں جے یو آٸی اور اے این پی کی مخلوط حکومت قاٸم کی جاٸے گی۔ اس میں ممکنہ طور پر مولانا فضل الرحمان کے بیٹے کو وزیراعلیٰ بناٸے جانے کی توقع ہے۔ جبکہ بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ بی اے پی کو دوبارہ منظم کرکے پی پی کا اثر رسوخ کم کرواٸے گی۔ اسی فارمیشن پر اگلے پانچ سال حکومت چلے گی۔ اس منصوبے کو باضابطہ بنانے کیلٸے جہانگیر ترین پندرہ روزہ دورے پر لندن میں موجود ہیں۔ اور پواٸنٹ ٹو پواٸنٹ چیزوں کو حتمی شکل دے کر معاہدے کو فاٸینل کرنے میں لگے ہوٸے ہیں۔ اس سارے معاملے میں ایک روز روشن کی طرح طے ہے کہ پیپلز پارٹی سے ایکبار پھر دھوکہ کیا گیا۔ اور آنے والے دنوں میں بلاول بھٹو اور مریم نواز ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونگے۔
 اس وقت جس مخالفت سے عمران خان اور ان کی پارٹی گزر رہی ہے بہت جلد اسی شدت سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہونگے۔ اور ملک کی تباہی کے الزامات ایک دوسرے پر لگا رہے ہوں گے۔ یہ کھیل بہت جلد شروع ہونے والا ہے ممن ہے اسی جون کےمہینے میں ہو یا پھر جولاٸی کے پہلے دوسرے ہفتے میں۔ البتہ بہت جلد ملک کی سیاست نٸی کروٹ لینے کو تیار ہے۔ کس کو کامیابی میسر آتی ہے اور کون ناکامی سے دوچار ہوگا یہ فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا۔ اس گھمسان کی لڑاٸی کا جو بھی نتیجہ نکلے اس کا فاٸدہ بھی انہیں سیاستدانوں کو ہوگا عوام اس کھیل میں پہلے سے کہیں زیادہ مشکل صورتحال سے دوچار رہے گی۔ کیونکہ اس کی بہتری کیلٸے کسی کے پاس نہ کوٸی منصوبہ ہے اور نہ ہی عوامی فلاح پر سوچ بچار کیلٸے مقتدر حلقوں کے پاس وقت۔ عوام کے حصے میں فقط نعرے ہی آنے والے ہیں۔ فلاں زندہ باد اور فلاں مردہ باد۔

Monday, June 12, 2023

مشہور و معروف ٹک ٹاکر حریم شاہ عدالت میں رو پڑی۔۔۔

متنازعہ آڈیو ویڈیوز سے شہرت پانے والی مشہور ٹک ٹاکر حریم شاہ کا آج کل ایک اور معروف ٹک ٹاک سٹار صندل خٹک سے شدید قسم کا جھگڑا چل رہا ہے۔ دونوں ٹک ٹاکرز کا جھگڑا اس قدر طول پکڑ گیا کہ معاملہ ایف آٸی اے اور عدالت تک جا پہنچا۔ چند روز قبل صندل خٹک نے حریم شاہ کے خلاف ایف آٸی اے کو اندراج مقدمہ کی درخواست دی تھی تاہم اسلام آباد کی سنٹرل کورٹ میں حریم شاہ کی طرف سے صندل خٹک کے خلاف ویڈیو لیکس کے حوالے سے داٸر درخواست پر سماعت ہوٸی۔ دوران سماعت عدالت میں صندل خٹک کی جانب سے لیک شدہ ویڈیوز پیش کی گٸیں۔ صندل خٹک نے ویڈیو لیکس میں ملوث ہونے سے انکار کردیا۔ تاہم دلاٸل کے بعد عدالت نے صندل خٹک کی عبوری ضمانت خارج کردی اور ایف آٸی اے کو صندل خٹک کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالتی حکم پر ایف آٸی اے نے صندل خٹک کو گرفتار کرلیا۔ صندل خٹک کی گرفتاری پر حریم شاہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور خوشی سے رو پڑی۔ اس موقع پر صحافیوں نے حریم شاہ سے گفتگو کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت کسی سے بھی بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ 

ایک بھکارن خاتون کے گھر سے کتنی رقم برآمد ہوٸی، یہ جان کر آپ کے ہوش اڑ جاٸینگے۔