Add 1

Tuesday, October 11, 2016

Rajan pur: search operation conducted by security forces in Rajanpur.

محرم الحرام کی سیکیورٹی یقینی بنانے کیلئے پولیس, پاک فوج اور حساس اداروں کا سرچ آپریشن, 5 مشتبہ افراد گرفتار.

رپورٹ: سعید مزاری.

راجن پور: محرم الحرام میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور مشتبہ افراد کی اطلاعات پر پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن, 5 افراد مشتبہ افراد گرفتار, ایک موٹرسائیکل بھی قبضے میں لے لی گئی,
محرم الحرام میں ممکنہ دہشتگردی کے خطرہ اور مشتبہ افراد کی خفیہ اطلاعات پر راجن پور شہر کے مختلف علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاک فوج کے جوانوں کے ہمراہ سرچ آپریشن کیا, راجن پور کے علاقہ بستی کھمبڑا میں کھیتوں سے ملنے والے بارودی مواد اور حساس اداروں کی طرف سے 9 یا 10 محرم کو ممکنہ دہشتگردی کی اطلاعات کے پیش نظر پولیس, پاک فوج کے جوانوں اور دیگر حساس اداروں نے مل کر راجن پور کی ہوٹلوں, ریستورانوں, ریلوے اسٹیشن اور لاری اڈا کے گردونواح میں سرچ آپریشن کے دوران مشتبہ مقامات کی تلاشی لی, ہوٹل اور ریستوران انتظامیہ سے مہمانوں کی آمدورفت کا ریکارڈ چیک کیا, اور وہاں پر موجود افراد کی بائیو میٹرک سسٹم سے ڈیٹا چیک کیا, سیکیورٹی فورسز کا یہ سرچ آپریشن رات گئے تک جاری رہا اور اس دوران 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ایک مشکوک موٹرسائیکل کو بھی قبضے میں لے لیا گیا, محرم الحرام کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے اس سرچ آپریشن میں پولیس, ایلیٹ فورس, حساس اداروں اور پاک فوج کے جوانوں نے حصہ لیا,

Monday, October 10, 2016

Destruction of historical tombs in Rojhan by negligence of govt.


راجن پور: نہ چاردیواری نہ ہی مناسب دیکھ بھال,صدیوں پرانی روجھان کی ہَندِیراں قبرستان کی تاریخی عمارات کھنڈرات بن گئیں, کوئی پرسان حال نہیں,
مسلمانوں کی عظمت رفتہ آج ہمیں اس دورمیں تعمیر شدہ عمارتوں کی جاہ جلال میں نظر آتا ہے, فن تعمیر کی اعلیٰ شاہکار اور صدیوں پرانی تاریخی ایسی ہی عمارتیں روجھان کی قدیمی ہَندِیراں قبرستان میں موجود ہیں,مقبروں کی صورت میں موجودان عمارتوں کی دیواروں پردلکش نقش ونگار اور چھتوں کو اعلیٰ ترین کشید شدہ لکڑیوں سے مزین کیا گیا, یہ عمارتیں سترہویں اور اٹھارویں صدی میں اس وقت کے مزاری سرداروں نےتعمیر کیں, لیکن بعدازاں ان عمارتوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں, قیام پاکستان کے بعد بھی ان پُرشقوہ عمارتوں پر کسی قسم کی توجہ نہیں دی گئی اور یہ فن تعمیر کے اعلیٰ ترین نمونے آہستہ آہستہ کھنڈرات میں تبدیل ہونے لگیں, محکمہ آثارِقدیمہ اگر ان تاریخی عمارتوں پر تھوڑی توجہ دے تو تاریخ کا یہ باب ضائع ہونے سے بچ سکتا ہے.
رپورٹ: سعید مزاری راجن پور

Friday, October 7, 2016

Corruption, its kinds and solution ( by. Saeed Mazari )

کرپشن, اس کی اقسام اور اس کا حل,
تحریر: سعید مزاری,

ہمارے ہاں کرپشن کی دواقسام ہیں 1. کرپشن شوقیہ 2. کرپشن باامر مجبوری,
شوقیہ کرپشن کرنے والے کل کرپٹ عناصر کا بمشکل پانچ سے دس فیصد ہیں, لیکن بدقسمتی سے کرپشن کا 95 فیصد حصہ ان کے حصے میں جاتا ہے, پاکستان میں ان کی تعداد مجموعی طور پر کبھی دوہزار کے لگ بھگ ہوتی تھی لیکن اب یہ تقریبا" پانچ سے چھ ہزار سے زائد نہیں ہیں,  اتنی کم تعداد میں ہونے کے باوجود یہ بے انتہا طاقتور ہیں اول تو یہ اپنی کرپشن ثابت نہیں ہونے دیتے لیکن اگر کسی وجہ سے یہ کرشمہ ہو جائے تو انہیں سزا نہیں ہو سکتی اور اگر یہ معجزہ بھی ہو جائے تو اس سزا کی نوعیت کچھ اس طرح سے ہوتی ہے کہ اس مزکورہ کرپٹ شخصیت نے کرپشن ایک کروڑ کی کی ہوتی ہے جبکہ ہمارا قانون یا عدالتی نظام اسے دوسال قید اور زیادہ سے زیادہ دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دیتا ہے, اب جس نے ایک کروڑ کی کرپشن کر رکھی ہوتی ہے وہ دس لاکھ جرمانہ دیکر اور پانچ لاکھ جیل انتظامیہ کو دے دیتا ہے اور وہاں اے کلاس لے لیتا ہے, اب اسے اس ایک سالہ قید کے دوران جیل میں اسے گھر سے بڑھ کر سہولیات میسر آ جاتی ہیں, مزید وہ کوئی دس لاکھ اور خرچ کر جاتا ہے اور جیل میں ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی گزارتا ہے,  جب وہ نام نہاد قید سے رہا ہو کر باہر آتا ہے تو اس وقت تک وہ اپنی کل کرپشن سے پچیس لاکھ خرچ کر چکا ہوتا ہے لیکن اسے پچھتر لاکھ روپے کی بچت ہوتی ہے جب وہ باہر آتا ہے تو پھر وہ ایک کروڑ کی نہیں بلکہ پچاس کروڑ کی کرپشن کریگا, ایسے کرپٹ کو شوقیہ کرپٹ کہتے ہیں جو صرف دولت جمع کرنے کے شوق میں کرپشن کرتا ہے,
اب ہمارے ہاں کرپٹ عناصر کا ایک اور گروہ ہے جو شوقیہ کرپشن نہیں کرتا بلکہ اس سے کرپشن کروائی جاتی ہے وہ گروہ ہے کرپشن باامر مجبوری والوں کا,
ان کی کرپشن ہزاروں, لاکھوں میں ہوتی ہے یا فقط چند صورتوں میں کروڑ تک ویسے اس حد تک ہوتی نہیں ہے, یہ کرپٹ لوگ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن نسبتا" کمزور اور خوفزدہ ہوتے ہیں, آگے ان کی کرپشن کے بھی دواقسام ہیں ایک وہ جو یہ اپنے سینئرز کیلئے زبردستی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور اس کرپشن کا انہیں شاید پانچ سے بیس فیصد تک حصہ نصیب ہوتا ہے اور باقی سب سینئرز لے جاتے ہیں, جبکہ ان کی کرپشن کی دوسری قسم ان کی اپنی مجبوریاں اور ضرورتیں ہوتی ہیں ایک سرکاری ملازم کی تنخواہ جو اندازا" دس سے بارہ ہزار سے شروع ہو کر آج کل چالیس ہزار تک ہوتی ہے لیکن اب اگر چالیس ہزار لینے والے بندے کو گھر سے کئی کلومیٹر دور تعینات کر دیا جائے اور اسے وہاں آنے جانے یا رہائش کی سہولت تک نہ دی جائے اور پھر اگر اس کی فیملی میں کم از کم دوبچے, بیوی, اور والدین ہوں تو پھر یہ حساب لگانا مشکل نہیں کہ اس کا بجٹ کیسے ہوگا, یہاں ایک ہلکا اشارہ دینا چاہوں گا تا کہ بات واضح ہو سکے,
1. اگر وی روزانہ گھر واپس آئے تو اس کا روزانہ وہاں سے گھر تک کم از کم دوسو روپے ٹرانسپورٹ, کم از کم ایک وقت کا کھانہ کم از کم ایک سو رو روپے یہ ماہانہ 9000 بنتے ہیں, ظاہر ہے کہ وہ اور کچھ نہیں تو کم از کم ایک سو روپے اپنے ظاہری حالت کو درست رکھنے پر بھی خرچ کرے گا, یوں ماہانہ بارہ ہزار اس کی تنخواہ سے نکل گیا اب جا بچا 28 ہزار,
2. گھر کے سات, آٹھ افراد کے راشن کا خرچ اگر میں کم سے کم بھی لگاؤں تو پندرہ سے بیس ہزار کے درمیان ہی رہے گا, چلیں ہم اسے بھی پندرہ رکھ لیں اب اس کے پاس باقی 13 ہزار بچا, دو بچوں کے سکول کی فیس کم از کم دوہزار, روزانہ جیب خرچ پچاس فی کس ماہانہ تین ہزار, بچوں کو سکول لانے لے جانے کا خرچہ چھ ہزار لگا لیں تو یہ رقم گیارہ ہزار روپے جا بنتی ہے, اب اس کے بعد اس بے چارے ملازم کے پاس فقط دوہزار روپے جا بچے, اب ان دوہزار روپوں میں سے اس نے مکان کا کرایہ دینا ہے, والدین کو کچھ نہ کچھ دینا ہے بیوی کی چھوٹی موٹی ضرورتیں پوری کرنی ہیں,  معاشرے میں شادی اور غمی کے مواقع بھی نمٹانے ہیں, بیماری وغیرہ کا بھی سامنا کرنا ہے تو آپ خود سوچیں ان سب ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے اس کے پاس کرپشن کے سوا کون سا راستہ رہ جاتا ہے, بدقسمتی سے پاکستان میں87 فیصد سے زائد ایسے کرپٹ لوگ ہیں ان کی کرپشن سو روپے سے لیکر یومیہ اوسط تین ہزار روپے سے زیادہ نہیں ہے بدقسمتی سے ان کو پکڑے جانے کی صورت میں سخت سزاؤں کی شرح بھی سب سے زیادہ ہے, اور جب یہ سزا بھگت کر واپس آتے ہیں تو گھر میں بھوک اور مفلسی رقص کر رہی ہوتی ہے ان کو اب گھر کا چولہا جلانے کیلئے دوبارہ کرپشن کا سہارا لینا پڑتا ہے, البتہ اگر ان کی ضروریات کا ذمہ  سرکاری طور پر لے لیا جائے جو یہ 87 فیصد لوگ رضاکارانہ طور پر کرپشن چھوڑنے پر آمادہ ہوتے ہیں, تین سے پانچ فیصد اپنے افسران کے کہنے پر کرپشن کر رہے ہوتے ہیں اگر ان کے بڑے کرپٹ افسران کو صحیح قانونی شکنجے میں لایا جائے اور انہیں سخت ترین سزا دی جائے تو یہ تین فیصد بھی راہ راست پر آ سکتے ہیں اب رہ گئے باقی دس فیصد یہ اس وقت تک ٹھیک نہیں ہو سکتے جب تک ہمارا عدالتی و قانونی نظام دوہرا ہو گا, امیر اور غریب کیلئے تفریقی قوانین اور رویوں کو ختم کر کے سب کیلئے ایک مساوی نظام بنا دیا جائے جیلوں میں اے بی سی کلاس والا سسٹم ختم کیا جائے عدالت میں ایک مساوی قانون اور نظام کو نافذ کردیا جائے اور شوقیہ کرپشن کرنے والے بڑے مگر مچھوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ کہ فقط ایک سال کے اندر اندر پورے ملک سے کرپشن جیسی ناسور کا نام و نشان تک مٹ جائے,
تحریر: سعید مزاری

Monday, October 3, 2016

Hazrat Imam Hussain (SAW) ki Shahadat ka asal paigham.

حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا مقصد اور محرم کا اصل پیغام
( تحریر: سعید مزاری)

کربلا میں جو ظلم اور سفاکی کی داستان رقم ہوئی وہ صرف تاریخ اسلام ہی نہیں بلکہ تاریخ انسانی کا سیاہ ترین باب ہے, حضرت امام حسین, ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں پر یزیدی فوج نےجو مظالم ڈھائے ان پر جس قدر ماتم کیا جائے کم ہے, حضرت امام حسین نے عظیم ترین قربانی کسی منصب یا حکومت کے حصول کی خاطر نہیں دی بلکہ اپنے خون سے باطل اور حق کے درمیان تفریق کا خط کھینچ دیا, اور قیامت تک کی انسانیت پر واضح کر دیا کہ جو اس لکیر کے جس طرف ہوگا اسی کا ساتھی کہلائے گا, حضرت امام حسین کی شہادت حضرت امام حسن کی طرح ایک اٹل فیصلہ تھا اور یہ فیصلہ واقعہ کربلا سے کئی سال قبل نبیِ کریم صلٰواۃ السلام کی زندگی اور دونوں امامین کے بچپن ہی میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہی کیا تھا, حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو سیدالشہداء کا خطاب بھی اس دن مل گیا تھا جب ان کیلئے عید کے کپڑے جنت سے جبریل لے کے آئے تھے, یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ حضرت امام حسین ,ان کے اہل خانہ اور ان کی لشکر کیلئے کربلا کا واقعہ کوئی انہونی بات نہیں تھی بلکہ بچپن سے اس آخیر عمر تک اللہ کی طرف سےحضرت امام حسین کی اس واقعہ کیلئے تربیت کا عمل جاری رہا, اس واقعے کے رونما ہونے کا یقین ہمارے نبیِ مکرم, حضرت علی کرم اللہ وجہہ, حیاءِ کامل حضرت فاطمہ سمیت اس وقت کے تمام اکابرین کو تھا, یہاں تک کہ حضرت امام حسین کو بھی معلوم تھا کہ کربلا میں یہ داستان رقم ہو گی, اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب سب کچھ معلوم تھا تو اس سے بچنے یا نمٹنے کیلئے کوئی قدم یا حیلہ کیوں نہ کیا گیا, دراصل اسی سوال ہی کے جواب میں وہ اصل وہ پیغام ہے جو حضرت امام حسین قیامت تک کی انسانیت کو دینا چاہتے تھے, جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ ایک اٹل فیصلہ تھا اس لیے اس سے کنارہ کشی ممکن ہی نہ تھی, دوسرے یہ کہ اس واقعے سے رہتی دنیا کو قدرت کا پیغام پہنچانا تھا کہ حق کو وقتی طور پر مصائب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن کبھی بھی باطل کو سربلندی نصیب نہیں ہو گی حق ہمیشہ قائم رہنے کیلئے ہے اور باطل نیست و نابود ہونے کیلئے آج حسین کے پیروکار کروڑوں اور اربوں میں ہیں جبکہ یزید کا کوئی نام لیوا تک موجود نہیں,
واقعہ کربلا اور شہادتِ خضرت امام حسین سے دوسراسبق جو ہمیں ملا ہے وہ یہ ہے کہ آپ جس سے واقعی محبت کادعوہ کرتے ہیں پھر صرف اس کی مانتے سنتے اور کرتے ہیں, حضرت امام حسین کو اللہ, اس کے نبی اور اس نبی کے لائے ہوئے دین سے محبت تھی, اس لیے انہوں اپنی اور اپنے اہل وعیال سمیت سینکڑوں جانثاروں کے جانوں کا نظرانہ دے کر بھی باطل کاراستہ اختیار نہ کیا بلکہ زندگی کے آخری لمحے کو بھی نبیِ کریم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اللہ کے حکم کی بجا آوری میں گزارا, جسم زخموں سے چُور تھا لیکن حکم خدا منظور تھا, گردن کٹوا دی لیکن نماز نہ چھوڑی, قافلہ لٹوا لیا لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا, اپنے لہوسے ہمارے لیے پیغام لکھ چھوڑا کہ کچھ بھی ہو جائے حق کا ساتھ نہ چھوڑنا, جان چلی جائے لیکن خدا کا حکم نہ توڑنا, گردن کٹوا دینا پر کبھی جھوٹ کے سامنے گردن جھکا نہ دینا, اللہ کا فیصلہ اٹل ہے اور وہ ٹل نہیں سکتا اس لیے کبھی مصلحت کے فریب میں بھٹک نہ جانا,
آج ہم بڑے فخر سے مسلمان, نبی کریم کے پیروکار اور امام حسین کے حب دار ہونے کا دعوہ کرتے ہیں,یکم محرم سے دس محرم کی شام تک غمِ حسین میں نڈھال رہتے ہیں, ان پر یزیدی فوج کے مظالم کا دردناک انداز میں رونا روتے ہیں, حضرت امام حسین اور ان کے اہلبیت کے زخموں کو یاد کر کے اپنے جسموں کو چھلنی کرتے ہیں, یزیدی فوج کی سفاکی پر ماتم کرتے ہیں, اور ایسا کرنا کسی حد تک شاید ضروری بھی ہے کہ اس واقعے کی یاد تازہ رہے, لیکن اس سارے عمل میں ہم اس واقعے, اس عظیم قربانی کے اصل مقصد اور پیغام کو بھلا بیٹھتے ہیں, ہم نے غمِ حسین کو سینوں میں زندہ رکھا لیکن ان کی سنت کو بھلا دیا, ہم نے امام حسین کو پہنچنے والی تکالیف کو یاد رکھا لیکن انہوں نے یہ تکالیف جس دین کی سربلندی کیلئے سہی تھیں اس دین کو ہم نے عملا" پس پشت ڈال دیا, حق و سچ کی خاطر امام حسین نے جان دی ہم نے ذاتی مفادات کیلئے مصلحت سے کام لیا, انہوں نے اللہ کے حکم کے آگے سر کٹوا لیا اور ہم نے اللہ کا حکم ہی بھلا دیا, انہوں نے اپنا سب کچھ لٹوا کر امت کو بکھرنے سے بچایا اور ہم نے ان ہی کے نام پر امت کو فرقوں میں بانٹ لیا, انہوں نے سینکڑوں جانیں دے کر بھی کسی کو کافر نہیں کہا اور ہم اپنی پسند کا نعرہ لگانے یا نہ لگانے پر لوگوں کو کفر کے سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں, انہوں نے آخری وقت بھی سجدہ نہیں چھوڑا اور ہم ایک فلم دیکھنے کیلئے نماز چھوڑ دیتے ہیں, انہوں نے سچائی کے تحفظ کیلئے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور ہم دس روپے کیلئے بھی جھوٹ نہیں چھوڑتے, وہ تمام عمر کردار سازی کی تعلیمات دیتے رہے اور ہم نے کردار ہی کا دھڑن تختہ کردیا, انہوں نے شرافت کا اعلیٰ ترین نمونہ قائم کیا ہم نے شرافت کا ہی جنازہ نکال دیا, انہوں نے جس بری خصلت سے ہمیں باز رہنے کی تلقین کی ہم نے ہر اس خصلت کو اپنی جبلت بنا لیا, کیا یہ تضاد نہیں ہے کہ یزید نے ایک ہی بار سفاکی کا مظاہرہ کیا آلِ رسول کو تکالیف پہنچائیں تو اسے ہم قیامت تک لعنت بھیجتے ہیں جبکہ ہم نے خود نبی کی آنکھو کی ٹھنڈک نماز کو ترک کر دیا تو ہم مومن کہلائے, یزید نے امام حسین کی ایک بار گردن کاٹی تو کافر ٹھہرا اور ہماری بدعمالیوں کے بدلے نبی کریم کو ہرروز شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے,  تو ہم حب دار کہلوائیں,
بھائیو!  خدا کیلئے ہمیں اس خودفریبی سے نکلنا ہوگا, محرم کا پیغام خود کو زخمی کر لینا یا چندروز ماتم کرنا نہیں ہے بلکہ یہ وہ عالمگیر پیغام ہے جس پر عمل کرکے ایک اعلیٰ ترین معاشرے کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے, بس ہمیں اس پیغام کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے اللہ ہمیں حضرت امام حسین کی اس قربانی کے اصل مقصد کو سمجھنے کی توفیق دے اور ان کی تعلیمات پر صحیح معنوں میں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے,  آمین
تحریر: سعید مزاری

Kashmir solidarity really by SDP in multan

کشمیری عوام اور پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور بھارتی گیدڑبھبکیوں کیخلاف سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے ملتان میں احتجاجی ریلی,
کارکنوں اور پارٹی لیڈروں کی بھرپور شرکت, مودی کا پتلا بھی نظرآتش کیا گیا,
ملتان( سٹاف رپورٹر) ملتان میں سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر اہتمام کشمیری عوام سے یکجہتی اور کنٹرول لائن پر بھارتی دراندازی کی گیدڑ بھبکیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایس ڈی پی کے چیئر مین رانا فراز نون نے مظاہرین کی قیادت کی جبکہ احتجاجی مظاہرے میں پارٹی کے دیگر ارکان و لیڈران نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس موقع پر بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا پتلا بھی پھانسی دیکر جلایا گیا, اس موقع پر موجود قائدین اجالا لنگاہ, فاریہ حسین, ضیغم عباس سمیت دیگر شرکاء نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی ممکنہ جارحیت کی صورت میں مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعلان کیا مظاہرین نے اس عزم کا بھی اعیادہ کیا کہ وقت پڑنے پر پوری پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہو گی,

Tuesday, September 27, 2016

Friday, September 23, 2016

Medical Dispensary not providing Heath facilities to people, By Saeed M...

Punjab Govt could not provide the Heath facilitation to the poor and needy people of BAMBKA of District RAJANPUR.
Report Saeed Mazari 24 News Rajanpur.