Add 1

Sunday, November 20, 2016

KARACHI: Rehan Hashmi visited central Karachi

 ضلع وسطی کو صاف ستھراء رکھنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ریحان ہاشمی

       چیئرمین ریحان ہاشمی،وائس چیئرمین سید شاکر علی کا بلدیہ وسطی کا دورہ، جاری صفائی مہم کا معائنہ    
     
نمائندہ ہمارامقصد
کراچی : چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا ہے کہ ضلع وسطی کو صاف و شفاف بنانے کا عزم کیا ہوا ہے وسائل کی کمی کو عوام کی خدمت کے کام میں آڑے نہیں آنے دیں گے وہ ضلع وسطی نیو کراچی زون کے مختلف علاقوں میں جاری صفائی مہم کے معائنہ کے موقع پرعوام سے گفتگو کررہے تھے اس موقع پر وائس چیئرمین سید شاکر علی،میونسپل کمشنر محمد وسیم سومرو، ڈائریکٹر سینی ٹیشن ندیم حیدر، غوث محی الدین،انفارمیشن آفیسر عالمگیر سیفی و دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے اس موقع چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا کہ بلدیاتی مسائل حل طلب ہیں جنھیں حل کرنے میں وسائل و فنڈز کی کمی سے دشواری پیش آرہی ہے بلدیاتی مسائل حل کرنے کے لئے بلدیاتی اداروں کو انکی ضرورت کے مطابق فنڈ جاری کئے جائیں حکومتِ سندھ کی جانب سے مالی معاونت بلدیاتی خدمات میں بہتری لانے میں اہم کردار اداکرے گی۔ جبکہ عوام کا تعاون شہر کی صفائی ستھرائی کو بہتر کرنے میں مددگار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ بلدیاتی خدمات کے علاوہ بھی دیگر عوامی خدمات کے ادارے مناسب مالی، افرادی اور تکنیکی وسائل کے بغیر بہتر خدمات انجام نہیں دے سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع وسطی میں کئی سو ٹن کچرا  پیدا ہوتا ہے جبکہ بلدیہ وسطی پیدا شدہ کچرا مکمل اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اس طرح کئی سو ٹن یومیہ کچر ے کا بیک لاگ شہری انتظامیہ اور شہریوں کے لئے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ اگر وسائل مہیا کئے گئے تو جلد ہی ضلع وسطی کو کراچی کے شفاف ترین اضلاع کی صف میں لاکھڑا کرئینگے  انہوں نے حکومت سندھ سے اپیل کی کہ وہ بلدیہ وسطی کو اس کی ضرورت کے مطابق مشینری اور فنڈز مہیاکریں تاکہ عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات مہیاکی جاسکیں۔ اس موقع پر وائس چئیرمین سید شاکر علی نے کہا کہ وسائل کی کمی کے باوجود بلدیہ وسطی کے افسران و کارکنان شب و روز محنت و جانفشانی سے کام کررہے ہیں تاہم وسائل کی کمی سے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں وہ وزیرِ اعلی اور وزیر ِ بلدیات کی جانب سے خصوصی توجہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔انہوں بلدیہ وسطی کی جانب سے عوام کی خدمات میں کوئی کسر نہ اُٹھارکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Wednesday, November 2, 2016

Thursday, October 27, 2016

PTI's 2Nov lockdown and PMLN Govt's planing

تحریک انصاف کے 2 نومبر کے دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے ن لیگی حکومت نے خوفناک حکمت عملی تیار کرلی ۔ خفیہ اجلاس کی تفصیلات منظرعام پر آ گئیں۔
ٹی وی رپورٹ:

نجی ٹی وی کے ایک ذرائع نے بتایا کہپی ٹی آئی کے 2نومبر کے دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے ایک خفیہ اجلاس صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں 7 کلب روڈ( وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ) میں منعقد ہوا ، جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی رانا مقبول ، چیف سیکرٹری پنجاب ، سیکرٹری داخلہ ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ ، آئی جی پنجاب ، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے نمائندے نے شرکت کی ۔ یہ اجلاس بروز جمعرات مورخہ 20 اکتوبر کو اڑھائی بجے دوپہر شروع ہوا اور ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہا ، جس میں بعدازاں کمشنر لاہور ڈویژن ، کمشنر گوجرانوالہ ، ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ رینج ، ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ ریجن اور سی سی پی او لاہور نے بھی مذکورہ اجلاس میں ساڑھے پانچ بجے کے بعد شرکت کی ، سی سی پی او لاہور نے سب سے آخر میں میٹنگ میں اس وقت شرکت کی ،جب اجلاس بالکل اختتام کے قریب تھا ۔

تین قسم کی فہرستیں بنانے کا حکم

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے پولیس ، انٹیلی جنس بیورو اور سپیشل برانچ کے حکام کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی تین کٹیگریز میں علیحدہ علیحدہ فہرستیں مرتب کرنے کا ٹاسک دیدیا ۔اجلاس میں تحریک انصاف کے کارکنان کی فہرستیں مرتب کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اس حوالے سے تین کیٹگری کی لسٹیں تیارکرنے کے احکامات جاری ہوئے۔ کیٹگری اے میں مرکزی قیادت اور منتخب ارکان اسمبلی شامل ہیں۔ کیٹگری بی میں ڈویژنل اور ضلعی عہدیدار شامل ہیں جبکہ کیٹگری سی میں یونین کونسل کے چیئرمین ، کونسلرز، سرگرم کارکنان، ،سہولت کار،موبلائزر اور فنانسرز شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ضلع کی سپیشل برانچ، آئی بی کے نمائندوں اور سیکورٹی برانچزکے ذریعے فہرستیں مرتب کریں۔

حتمی فہرستیں مرتب کرنے کی ڈیڈ لائن

رانا ثناء اللہ نے پولیس ، سپیشل برانچ اور آئی بی کو منگل تک ہر صورت میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی تین علیحدہ علیحدہ کٹیگریز میں فہرستیں مرتب کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔

فہرستوں کوفائنل کون کرے گا ؟

رانا مقبول کی سربراہی میں کمیٹی جس میں سیکرٹری داخلہ ، آئی جی اور پراسیکیوٹرشامل ہیں ، پی ٹی آئی کے رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاری یا نظر بندی کے حوالے سے سپیشل برانچ ، آئی بی اور پولیس کی جانب سے تیار کی گئی فہرستوں کو حتمی شکل دیں گے ۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب وزیراعظم کے پاس کون سی فہرستیں لیکر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں

سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان ابتدائی فہرستیں لیکر وزیر اعظم کے پاس پہنچیں گے جہاں وہ وزیراعظم کو پی ٹی آئی کے 2 نومبر کے دھرنے کو ناکام بنانے کے حوالے سے تیار کی گئی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیں گے ۔

کارکنوں کی نظر بندی کیلئے حکمت عملی

اجلاس میں سپیشل برانچ کو ایک اور ٹاسک یہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں سرگرم رہنماؤں،پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی ، ٹکٹ ہولڈرز، یونین کونسل چیئرمینوں ، کونسلرز ، سہولت کاروں ، موبلائزر اور فنانسرز کے علاوہ سرگرم کارکنوں کی2 نومبر کے دھرنے کی تیاری کے حوالے سے رپورٹس تیار کریں کہ ان کارکنان کی ’’خفیہ میٹنگز‘‘ ہوئیں جہاں یہ منصوبہ بندی بنی کہ مسلح افراد اور ڈنڈا بردار تحریک انصاف کے قافلوں کا حصہ ہوں گے۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی اوز)ز ایم پی او کے تحت ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن افسروں(ڈی سی اوز)کو احکامات جاری کرنے کیلئے کہیں گے، جن کی بنیادپر تحریک انصاف کے کارکنان کی گرفتاری یا نظر بندیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے کہا کہ ڈی پی اوز سپیشل برانچ کی رپورٹس کو ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرز سے بھی چیک کروائیں گے تاکہ کوئی قانونی سقم باقی نہ رہے ۔دوسری جانب رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے کہا کہ سپیشل برانچ کی رپورٹس کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے اس لئے یہ فرضی / جھوٹی (پیڈنگ ) رپورٹس ضرور تیار کی جائیں تاکہ عدالتوں میں حکومت کی سبکی نہ ہو۔

ڈی سی او کیسے حکمنامے جاری کریں ؟

راناء ثناء اللہ نے ڈی سی اوز کو ہدایت کی کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بارے میں نظربندی کے احکامات میں ایک ہی طرح کی سٹیریو ٹائپ عبارت لکھنے سے گریز کریں اور کوشش کی جائے کہ مختلف آرڈرز میں گراؤنڈز بھی مختلف ہوں ۔ ڈی سی اوز کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اگر ڈی پی او کی طرف سے نظر بندی کے 20 مراسلے موصول ہوں تو اسی تاریخ میں 14 یا پندرہ آرڈر جاری کریں تاکہ یہ تاثر نہ ابھرے کہ انتظامی مشینری کوئی انتقامی کارروائی کررہی ہے ۔

عمران خان غداری کے مرتکب ؟  مگر کیسے ؟

خفیہ اجلاس میں سپیشل برانچ کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں ، جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ عمران خان پاکستان کے آئین کی غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔ منصوبہ یہ طے پایا کہ اس رپورٹ کے حوالے سے ایک ایف آئی آر درج کروا کر اسے سیل کردیا جائے۔ موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق اجلاس میں سپیشل برانچ کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کی تقریروں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ تیار کریں جن کو بیک ڈیٹڈ کیا جائے جس کے ذریعے عمران خان کو آئین سے غداری کا مرتکب ثابت کیا جاسکے۔ اس رپورٹ کے پیش منظر عمران خان کی نظری بندی یا گرفتاری کی حکمت عملی طے کی گئی ہے۔

وکلاء کی خصوصی ٹیموں کی تشکیل

خفیہ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ بڑے پیمانے پر نظربندیوں کے بعد نظر بند رہنماؤں اور کارکنوں کے عزیز و اقارب لاہور ہائیکورٹ اوراسلام آباد ہائیکورٹ رجوع کرکے آرڈر کالعدم کرانے کی کوشش کریں گے لہذاسلام آباد کے علاوہ راولپنڈی، لاہور،ملتان اور بہاولپورجہاں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ ہیں ،ان کیسز کی پیروی کیلئے بڑے پیمانے پر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں جو حکومت کی جانب سے پیش ہوں گے جنہیں فی کس 2 سے 4 لاکھ بھی دینا پڑے تویہ رقم سرکاری خزانے سے اداکی جائے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن ۔۔۔۔۔اور پولیس مورال ۔۔۔۔ریجنل پولیس افسر گوجرانوالہ کو رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے کیا جواب دیا

اجلاس میں آر پی او گوجرانوالہ کا یہ کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد سپاہ (پولیس فورس) بہت ڈی مورال ہوچکی ہے، جس پر رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے یہ کہا کہ پولیس کا مورال بلند کریں اور انہیں عمران خان کیخلاف موٹیویٹ کریں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ حکومت کا اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں بلکہ یہ سب کچھ ملکی مفاد کے تحت کیا جارہا ہے، عمران خان غیر آئینی اقدامات کرکے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ رانا ثناء اللہ نے آئی جی پنجاب کی جانب اشارہ کرکے کہا کہ ان سے پوچھیں کیا ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کے ذمہ داروں کیساتھ معاونت نہیں کررہے ؟ کیا ہم ان کی مالی امداد نہیں کررہے ؟ ہم نے کیا ذمہ دار پولیس افسروں کو بیرون ملک نہیں بھیجا؟ کیا اتنی زیادہ سٹیٹ مشینری استعمال کرنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ؟ لہذا ایسی بات نہیں ہے۔ اور اسی طرح آئندہ بھی حکومت ایسے افسروں اوراہلکاروں کیساتھ کھڑی ہوگی۔ رانامقبول نے کہا کہ ہم نے سو گنا پولیس کی تنخواہیں بڑھائی ہیں، انہیں نوکریاں دی ہیں ۔ پولیس کو یہ باور کرایا جائے کہ عمران خان جو کام کرنے جارہے ہیں وہ غیرآئینی ہے۔

کنٹینر وں میں کیا بھرا جائے گا؟

آئی جی پنجاب نے ماتحت پولیس افسروں کو ہدایت کی کہ خالی کنٹینروں کو پکڑا جائے اور ان کو راستوں پر رکھ کر ان کو ریت یا مٹی سے بھرا جائے تاکہ اگر بڑی تعداد میں پولیس کی رکاوٹیں توڑ دھرنے میں شامل ہونے والے افراد پہنچ بھی جائیں تو وزنی ہونے کی بناء ان کو راست سے نہ ہٹا سکیں ۔

رکاوٹیں کہاں کہاں ہوں گی ؟

آئی جی پنجاب نے ڈی پی او قصور اور ڈی پی او گجرات کے سوال پر بتایا کہ ہر ضلع میں مختلف تحصیل اور قصبہ میں رکاوٹیں(چوکنگ پوائنٹس) کی نشاہدہی کرلی جائے تاکہ یہاں سے کسی کو آگے نہ جانے دیا جائے اور اگر لوگ احتجاج کرکے یہی بیٹھ جائیں تو ان پر لاٹھی چارج ، شیلنگ یا ہوائی فائرنگ نہ کی جائے ۔اور میڈیا کی موجودگی میں لاٹھی چارج وغیرہ سے گریز کیا جائے تاہم میڈیا کی عدم موجودگی میں انکی خوب ٹھکائی کی جائے ۔

میڈیا مینجمنٹ کمیٹی میں کون کون شامل ، اور اسکی کیا ذمہ داریاں

2 نومبر کے قافلوں کی کم سے کم کوریج اور پولیس کی پی ٹی آئی کے رہنماؤں و کارکنوں سے جھڑپوں کی کوریج کو روکنے کیلئے رانا مقبول کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری اطلاعات ، آئی جی اور ڈی جی پی آر بھی شامل ہونگے ۔

گرفتاریاں کب ہونگی ؟

ڈی پی او قصور نے دریافت کیا کہ گرفتاریاں کب سے شروع کرنی ہیں ، جس پر رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ گرفتاریوں یا نظربندیوں کے حوالے سے 2 یا 3 گھنٹے قبل بتادیا جائے گا ۔

گرفتاریوں اور نظربندیوں کا سگنل کون دے گا ؟

شرکاء کو بتایا گیا کہ نظر بندیوں اور گرفتاریوں کے بارے میں وفاقی حکومت حتمی فیصلہ کرے گی کہ کب نظربندیوں اور گرفتاریوں کا عمل شروع کرنے ہے تاہم پولیس اور انتظامیہ اس حوالے تیار رہی گی اور حکم ملتے ہی عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ۔

گرفتار یا نظر بند رہنماؤں وکارکنوں کو کہاں رکھا جائے گا؟

رانا ثناء اللہ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ گرفتار یا نظر بند رہنماؤں کو اس ضلع میں بند نہ کیا جائے جہاں کے وہ رہائشی ہیں بلکہ ان کو دوردراز کے اضلاع تھانوں اور جیلوں میں رکھا جائے ۔

جڑواں شہروں اور کے پی کے سے دھرنے میں شریک ہونیوالوں کو روکنا کس کی ذمہ داری

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ راولپنڈی ڈویژن ، اسلام آباد اور خیبر پختونخواہ سے دھرنے میں شرکت کرنیوالوں کو روکنے کی ذمہ داری وفاقی وزیر داخلہ کی ہوگی اور ان تمام معاملات کی وہ براہ راست نگرانی کریں گے ۔

جڑواں شہروں کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی کڑی نگرانی

جڑواں شہروں کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے بارے میں پولیس ،انتظامیہ، سپیشل برانچ اور آئی بی کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ ان پر نظررکھیں کہ کہیں ان میں دھرنے میں شرکت کرنیوالے تو پہلے سے آکررہائش پذیز نہیں ہوگئے ، اس حوالے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹل مالکان کو تنبیہ کی جائے کہ وہ ایسے لوگوں کو ٹھہرائیں جو معمول کے وزٹرز ہیں ۔

افغان آبادیوں اور مہاجروں کی نگرانی ؟

پولیس اور سپیشل برانچ کو راناء ثناء اللہ نے ہدایت کہ افغانیوں اورافٖٖغان مہاجرین کا بھی دھرنے میں شمولیت کا خدشہ ہے اس لئے افغان آبادیوں اور مہاجرین پرنہ صرف کڑی نظر رکھی جائے بلکہ انکے خلاف سرچ آپریشن بھی کیا جائے ۔

کون کون سے مین راستے بند ہونگے ؟

اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ راوی پل ، لاہور اسلام آباد موٹروے سکیشن ، جی ٹی روڈ ، چناب پل ، جہلم پل اور اٹک پل کے علاوہ پشاور سے راولپنڈی و اسلام آباد آنیوالے راستوں کو بھی بند کردیا جائے گا ۔

اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کیا کرے گی ؟

وزیر اعظم کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی میڈیا اور عوام کو مس لیڈکرنے کیلئے بار بار میڈیا پر آکر یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گی کہ حکومت پی ٹی آئی کی تقریباً تمام شرائط ماننے کو تیار ہے اور وزیر اعظم اور انکی فیملی بھی خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی پہلے بھی پیشکش کرچکے ہیں ، اب بھی تیار ہیں لہذا پی ٹی آئی کے دو نومبر کے دھرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

Tuesday, October 25, 2016

Army Chief visited Quetta: picture of one terrorist attacked Police Training center has been published.

آرمی چیف کادورہ کوئٹہ, پولیس سینٹر پر حملے میں مارے جانے والے ایک دہشتگرد کی تصویر جاری, کوئٹہ پولیس سینٹر پر حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے ایک دہشتگرد کی تصویر جاری کر دی گئی, گذشتہ شب کچھ دہشتگردوں نے کوئٹہ کے سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ کر دیا تھا, مسلح دہشتگردوں نے پولیس ٹریننگ سنٹر کے ہاسٹل میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی وہاں پر موجود اہلکاروں نے بھی جوابی فائرنگ کی تو دو دہشتگردوں نے یکے بعد دیگرے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ باقی پولیس اہلکاروں کو ڈھال بنا کر سیکیورٹی فورسز سے مقابلہ کرتے رہے, اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایک دہشتگرد کو ہلاک کردیا جبکہ باقی خودکش دھماکوں میں جہنم واصل ہوئے, واقع کے بعد پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی کوئٹہ پہنچ گئے اور حالات کا جائزہ لیا, اور واقعے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی. جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کی تمام کارروائیوں کے اصل کرداروں تک پہنچ کر انہیں کیفرکردار تک پہنچانے کا عزم بھی دہرایا.

Quetta: Terorists attacked on Police training center, more then 60 martyred.

دہشتگردوں کا کوئیٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ 60 سے زائد جوان شہید, 120زخمی ہونے کی اطلاعات,

کوئٹہ: لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں نےسریاب روڈ پر پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا اور ہاسٹل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی آخری اطلاعات موصول ہونے تک 60 سے زائد پولیس جوان شہید جبکہ 120 کے قریب زخمی ہوگئے ہیں جبکہ مقابلے میں 3 دہشتگردوں کے مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں حملے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جس کےبعد فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ ہوتا رہا کوئٹہ کے علاقے سریاب میں واقع پولیس ٹریننگ سینٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا اور سینٹر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جب کہ مسلح افراد ہاسٹل کی طرف چلے گئے۔ پولیس حکام نے ٹریننگ سینٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سینٹر پر 5 سے 6 دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے اور فائرنگ کرتے ہوئے ہاسٹل کی جانب گئے ہیں، حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے سینٹر میں داخل ہوئے اور اس دوران سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں نے بھی فائرنگ کردی جس کے بعد دو طرفہ فائرنگ کا سلسہ شروع ہوگیا۔ پولیس ٹریننگ سینٹر کے نیو ہاسٹل پر حملہ کیا گیا ہے جہاں 200 سے 250 اہلکار زیر تربیت ہیں۔
فائرنگ کی اطلاعات ملتے ہی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور سینٹر کو چاروں طرف سے گھیر لیا پولیس کمانڈوز اور ایف سی کے اہلکار ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوگئے جن کا دہشت گردوں سے مقابلہ جاری ہے۔
صوبائی حکومت نے ٹریننگ سینٹر پر فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی شہر بھر کے اسپتالوں مین ایمرجنسی نافذ کردی ہے جب کہ شہر سے مزید پولیس کی نفری کو فوری طور پر ٹریننگ سینٹر طلب کرلیا گیا ہے۔ فورسز نے ٹریننگ سینٹر کے اطراف کے علاقوں کو بھی سیل کردیا اور علاقے میں ٹریفک کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی ٹریننگ سینٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف فوری طور پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو طلب کرلیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے ٹریننگ سینٹر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی بلوچستان اور ڈی آئی جی کوئٹہ سے رابطہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے آئی جی پولیس کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپورکارروائی اور زیر تربیت  اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور فوری طور پر انسداد دہشت گردی فورس کو وہاں پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔اطلاعات کے مطابق دہشتگرد کارروائی کے دوران افغانستان سے مسلسل ہدایات لیتے رہے اور ان افغانستان سے رابطہ رہا, ابتدائی طور پر دہشتگردوں کا تعلق لشکر جھنگوی سے بتایا گیا جن کی تعداد 6 کے قریب بتائی گئی.

Monday, October 24, 2016

Modi and Nawaz has tie to defame Pak Army, Imran Khan

سرحدی کشیدگی مودی,نواز گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے, اسلام آباد دھرنے میں دس لاکھ افراد شریک ہونگے, عمران خان,

سوشل میڈیا نیوز:

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مودی پاک فوج کو بدنام کررہے ہیں ، جب بھی حکومت کے خلاف کچھ ہوتا ہے سرحد پر فائرنگ شروع ہوجاتی ۔ 10 لاکھ افراد لے کر اسلام آباد جارہا ہوں ،نواز شریف کو اب جدہ جانے کا وقت نہیں ملے گا۔تفصیلات کے مطابق کپتان آج درگئی میں میدان سجانے کے لئے روانگی سے پہلے میڈیا کے سامنے حکومت پر خوب گرجے برسے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور مودی کا بیانیہ ایک ہی ہیں، پاکستان کی فوج پر جو حملے ہورہے ہیں اس کے لئے مودی نواز شریف کو سپورٹ کررہا ہے۔ جب بھی نواز شریف کے خلاف کچھ ہوتا ہے تو ایل او سی پر فائرنگ شروع ہوجاتی ہے، ان کو مشکلات سے نکالنے کے لئے اب یہ حربہ استعمال کیا جا راہا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز حکومت نے پاکستان کی سکیورٹی کو اتنا نقصان پہنچایا ہے جس کی حد نہیں، اب تک اس چیز کا نہیں پتا چل سکا کہ بات کہاں سے لیک ہوئی ۔اپنی فوج کو اکیلا کرنا کہاں کی محب وطنی ہے؟ کپتان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع کا کام ہے کہ آئی ایس آئی اور فوج کے خلاف بیان کا جواب دے لیکن وزیر دفاع صرف نواز شریف کے خلاف بیان کا جواب دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سارا پاکستان مطالبہ کرتا ہے کہ جس نے سیکورٹی لیکس کی ہیں اسے سامنے لایا جائے۔عمران نےوزرا کے الزاما ت کا جواب دیتے ہوئے کہا حکومتیں الزامات نہیں لگاتیں ،کارروائی کرتی ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ6  ماہ سے خود کو احتساب کے لئے پیش کررہےہیں اگر انہوں نے کرپشن کی ہے تو احتساب کیوں نہیں کرتے؟ آج تک ایک نوٹس بھی نہیں ملا، اگر ان کے خلاف کوئی بات ہے تو پکڑا جائے لیکن بلیک میل نہ کیا جائے۔کپتان نے اس بات کا دعوا کیا کہ جس طرح کی عوام اسلام آباد آرہی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا،دو نومبر کو کم از کم دس لاکھ افراد دھرنے میں شامل ہوں گے اور حکومت کچھ نہ کر سکے گی۔

Former President Musharaf's tenure was better then PPP and PMLN. Says Khawaja Izhar

پرویز مشرف کا دور بہت بہتر تھا, خواجہ اظہارالحسن

مانیٹرنگ ڈیسک:
کراچی: بلا خوف کہتے ہیں کہ مشرف صاحب کا دور بعد کے دونوں ادوار سے بہت زیادہ اچھا تھا۔ ہمیں موجودہ حکمران مشرف صاحب کی یاد دلاتے ہیں۔یہ بات ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیں,ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کا دور حکومت بہت اچھا تھا لیکن بعد کی حکومتوں نے ہمیں مایوس کیا اور پیلپز پارٹی اور نواز حکومت کے اقدامات نے ہمیں مشرف دور کی یاد دلا دی, موجودہ حکمرانوں کا رویہ ہمیں مشرف دور کی یاد رہی ہے.

Sunday, October 23, 2016

Fire hit cotton factory in Rojhan

راجن پور کی تحصیل روجھان میں کاٹن فیکٹری کو آگ لگ گئی, کوئی جانی نقصان نہیں ہوا,
راجن پور کی تحصیل روجھان میں کاٹن فیکٹری کو آگ لگ گئی, ریسکیو اہلکار تین گھنٹے سے آگ بجھانے میں مصروف ہیں, تفصیلات کے مطابق راجن پورکی تحصیل روجھان میں انڈس ہائی وے روڈ کے قریب واقع کاٹن فیکٹری میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے فیکٹری میں موجود کاٹن کو اپنی لپیٹ میں لے لیا, آگ کی اطلاع پا کر ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ راجن پور سے بھی فائر برگیڈ کی گاڑی منگوا لی گئی, جو گزشتہ تین گھنٹوں سے آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم فیکٹری کے آس پاس پانی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو آگ بجھانے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے, فیکٹری کو آگ لگنے کی خبر سن کر اہل علاقہ کی بڑی تعداد بھی موقع پر پہنچ گئی اور ریسکیو اہلکاروں کی معاون بن گئی, آخری خبریں آنے تک آگ لگنے کی وجہ معلوم نہ ہو سکی,اہل علاقہ کے مطابق فیکٹری میں مقامی لوگوں کی کپاس پڑی تھی اور فیکٹری مالکان نے تاحال اس کی پیمنٹ نہیں کی تھی,ہمارے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مزکورہ آگ مبینہ طور پر فیکٹری انتظامیہ نے خود لگوائی ہے تاکہ ایک طرف انشورنس کلیم کیا جائے تو دوسری جانب مقامی لوگوں کا وہ قرضہ بھی ہضم کرلیا جائے جو انہوں نے عرصہ سے دینا ہے, شنید میں آیا ہےکہ مزکورہ فیکٹری نے مقامی لوگوں سے مختلف اوقات میں کروڑوں روپے کی کپاس لے کر ادائیگیاں روک رکھی تھیں.