Add 1

Tuesday, November 29, 2016

Well done Raheel Sharif, history can't forget your good works.

الوداع راحیل شریف ۔۔۔۔۔۔ !

جنگی لحاظ سے دنیا کے سب سے مشکل علاقے فاٹا کے 27000 مربع کلومیٹر رقبے میں سے 16000 مربع کلومیٹر پر دہشت گردوں کا کنٹرول تھا جنکا اثرونٖفوذ نہ صرف فاٹا کے بقیہ علاقوں تک پھیلا ہوا تھا بلکہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد تک ان کے نشانے پر تھے۔
راحیل شریف نے نہ صرف پورے فاٹا کو دہشت گردوں سے آزاد کروایا بلکہ صوبہ کے پی کے میں ان کے چھپے ہوئے ٹھکانوں تک سے ان کو نکال باہر کیا۔ بہت سے مارے یا پکڑے گئے۔ جو بچ گئے وہ افغانستان بھاگ گئے۔
مختلف رپورٹوں کے مطابق راحیل شریف کے آپریشن ضرب عضب کے نیتجے میں کم از کم 10،000 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔ 450 کے لگ بھگ کو پھانسیاں دی گئیں اور 1000 سے زائد کو گرفتار کیا گیا۔
راحیل شریف کے اس آپریشن کا اثر پاکستان سے باہر بھی محسوس کیا گیا۔ دنیا بھر کے دفاعی تجزیہ نگاروں نے رائے دی کہ ضرب عضب نے عالمی سطح پر دہشت گردوں کا مورال ڈاؤن کیا ہے جسکی وجہ سے اس آپریشن کے بعد وہ دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی شکست سے دوچار ہیں۔
جو مبصرین ٹی ٹی پی اور داعش کو امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کی مشترکہ پراکسی قرار دیتے ہیں ان کے مطابق راحیل شریف نے اس پراکسی جنگ کو بہت بڑی زک پہنچائی ہے اور اسکو بہت بری طرح سے تباہ برباد کر کے رکھ دیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ راحیل شریف کو یہ کامیابی صرف عسکری محاذ پر ہی نہیں ملی بلکہ وہ نظریاتی محاذ پر بھی عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے جن میں وہ علماء بھی شامل ہیں جو پہلے دہشت گردوں کے حمایتی سمجھے جاتے تھے۔
راحیل شریف صرف پاکستان میں جنگ کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس سلسلے میں اس نے افغانستان کے بھی کئی دورے کیے اور افغان حکومت سے موثر بات چیت کر کے افغان سرزمین بھی دہشت گردوں پر تنگ کر دی۔
رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں پاکستان کا نام لینا تک جرم بن گیا تھا۔ غیر بلوچوں کا قتل عام معمول تھا اور پورے بلوچستان میں پاکستان کے خلاف نفرت کی ایک مصنوعی فضا قائم تھی۔ حالت یہ تھی کہ قوم پرست بلوچ لیڈر اختر مینگل نے شیخ مجیب کی طرح اپنا 6 نقاطی ایجنڈا تک پیش کر دیا تھا۔
راحیل شریف نے جتنی توجہ بلوچستان پر دی اتنی شائد اس نے فاٹا پر بھی نہیں دی ہوگی۔ اس نے بلوچستان میں بیک وقت دو محاذوں پر جنگ کی۔
عسکری محاذ پر نہ صرف بلوچستان کے طول و عرض میں دہشت گردوں کا چن چن کر صفایا کیا بلکہ انڈین اور افغان اینٹلی جنس ایجنسیوں کے نیٹ ورکس بھی پکڑنے میں کامیاب رہا۔ جس میں انڈین ایجنٹ کھل بھوشن یادیو کی گرفتاری کو انٹلی جنس کی تاریخ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی گرفتاری قرار دیا جاتا ہے۔
ان آپرینشنز کے نیتجے میں لڑنے والے تقریباً تمام بڑے باغی لیڈر مارے گئے اور سینکڑوں جنگجوؤں نے ہتھیار ڈالے جن کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم پہنا کر قومی دھارے میں دوبارہ شامل کر لیا گیا۔
وہ بلوچستان جو کل تک پاکستان مخالف نعروں سے گونج رہا تھا " پاکستان زندہ باد " کے نعروں سے گونجچ اٹھا۔ آج بلوچستان میں انڈیا کے لیے جتنی نفرت پائی جاتی ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق راحیل شریف نے انڈیا کی 50 سالہ محنت اور سرمایہ کاری پر پانی پھیر دیا ہے۔
بلوچوں کو بہکانے والے غداروں کے خلاف راحیل شریف برطانیہ تک گیا جس کے بعد وہاں پناہ گزین ہربیار مری اور براہمداغ بگٹی سے برطانوی وزیراعظم کو انڈیا جانے کی درخواست کرنی پڑی۔
پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے گنجان شہر کراچی میں قتل غارت گری، اغواء برائے تاون اور بھتہ خوری روز کا معمول تھا۔ حالت یہ تھی کہ صرف بھتہ نہ ملنے پر ڈھائی ڈھائی سو لوگوں کو بیک وقت زندہ جلا دیا جاتا تھا۔
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بیان جاری کیا کہ  "کراچی میں تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گرد ونگ موجود ہیں۔"
راحیل شریف نے کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بہت بڑا آپریشن کیا جس کے نتیجے میں یہ بھیانک انکشافات ہوئے کہ دہشت گردی کے پیچھے پاکستان کی مںتخب جمہوری قوتیں ہیں اور وہ کرپشن کی رقم دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔
ان کاروائیوں کے نتیجے میں پاک فوج نے آصف زرداری کے دست راست ڈآکٹر عاصم کو گرفتار کیا، ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مار کر کئی ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کر لیا۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے کئی "منتخب عوامی نمائندے" بمع شرجیل میمن جیسے وزیروں کے پاکستان سے بھاگ گئے۔ بھاگنے والوں میں پیپلز پارٹی کی اعلی ترین قیادت بھی شامل تھی۔
اس آپریشن کے نتیجے میں کم از کم تین عشروں کے بعد پہلی بار کراچی کو بھتہ خوری، اغواء اور ٹارگٹ کلنگ سے پاک کر دیا گیا۔
تین عشروں کے بعد پہلی بار کراچی کے عوام نے قربانی کی کھالیں اپنی مرضی سے دیں۔ تاجروں کو بھتے کی پرچیاں ملنا بند ہوگئیں۔
کراچی میں دہشت کی علامت الطاف حسین کو اس طرح بے نقاب کیا گیا کہ پوری دنیا نے اسکی اصلیت جان لی۔ اب وہ ایک زندہ لاش میں تبدیل ہو چکا ہے جس کو اسکی پشت پناہی کرنی والی طاقتیں مصنوعی تنفس دے رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے نام سے اسکا دہشت گرد بازو تقریباً معذور ہوچکا ہے۔
مہاجروں کو پہلی بار الطاف حسین سے آزاد ہوکر محب وطن سیاسی قیادتوں کو منتخب کرنے کا موقع ملا۔
قیام امن کو یقینی بنانے کے لیے پاک افغان بارڈر کے قیام اور افغان مہاجرین کی واپسی کا ناممکن کام شروع کیا جس کے لیے افغانستان سے ایک چھوٹی سی جھڑپ بھی ہوئی۔ لیکن آج الحمد اللہ یہ کام نہایت تیزی اور کامیابی سے جاری ہے۔
اس معاملے میں قوم پرست سیاسی لیڈروں کے تمام تر تحفظات اور چیخ و پکار کو نظر انداز کر دیا۔
پاک افغان بارڈر کے قیام کے سلسلے میں افغان نیشنل آرمی کی مزاحمت کو ایک مختصر لیکن بھرپور کاروائی کی مدد سے ختم کر دیا۔
اب تک کم از کم 6 لاکھ افغان مہاجرین وطن واپس جا چکے ہیں اور بہت بڑے حصے پر سرحد کی تعمیر کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق 60 لاکھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ااشیائے خورد نوش کی قیمتوں میں استحکام آئیگا اور لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع دستیاب ہونگے۔ جبکہ پاک افغان سرحد کے قیام کے بعد افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دراندازیوں کا سلسلہ بھی رک جائیگا جو پچھلے70 سال سے جاری ہے۔
انڈیا افغانستان کو پاکستان کے خلاف ایک بفر زون کے طور پر استعمال کرنے کے لیے وہاں سینکڑوں ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ راحیل شریف کے ان اقدمات کےنیتجے میں انڈیا کو اپنی وہ سرمایہ کاری ڈوبتی محسوس ہو رہی ہے۔
گوادر پراجیکٹ اور اس کے لیے بننے والی معاشی راہداری کے حوالے سے جو مرضی دعوے کیے جائیں لیکن سچ یہی ہے کہ یہ آمریت ہی کے تحفے ہیں۔
پرویز مشرف کے جانے کے بعد یہ منصوبہ تقریباً مردہ ہوچکا تھا۔ نواز شریف کی آمد کے بعد بھی حالت یہی رہی۔ لیکن راحیل شریف نے آکر اس میں دوبارہ جان ڈالی۔
پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے فوجی آپریشن کے ذریعے قیام امن کو یقینی بنانے کے بعد راحیل شریف نے گوادر پراجیکٹ اور اس کے لیے بننے والی معاشی راہداری ( سی پیک ) کے لیے جو دیوانہ وار بھاگ دوڑ کی اسکا مشاہدہ پوری قوم نےکیا۔
جمہوری طاقتوں کی جانب سے اس کو کالاباغ ڈیم بنانے کی ساری کوششیں ناکام بنا دیں اور جانے سے پہلے پہلے اس راہداری کے ذریعے پہلی کامیاب شپمنٹ کر کے اسکو آپریشنل بھی کردیا۔
راحیل شریف اس منصوبے کو گیم چینجر قرار دیتا رہا۔ اس منصوبے کے نتیجے میں نہ صرف چین بری طرح سے پاکستان پر انحصار کرنے لگا ہے بلکہ روس اور ایران بھی انڈیا کی نسبت پاکستان کے قریب آرہے ہیں۔
اس کے لیے پاکستان میں آنے والے سرمائے کا تخمینہ 46 ارب ڈالر سے بڑھ کا 56 ارب ڈالر تک جا چکا ہے جو روس اور ایران کی شمولیت کی صورت میں مزید آگے جائیگا۔
اس منصوبے کی بدولت پاکستان ایک زبردست قسم کی معاشی چھلانگ لگانے کے لیے بلکل تیار ہوچکا ہے۔ یہ راحیل شریف کا قوم پر وہ احسان ہے جسکا پھل نسلیں کھائینگی۔

ویسے تو راحیل شریف بہت کچھ کر کے جا رہا ہے لیکن یہ تین بہت بڑے کام ہیں جنکا ااثر عشروں تک محسوس کیا جائیگا۔

کچھ عرصہ پہلے میرے ایک عزیز دوست نے سوال اٹھایا تھا کہ " کیا کوئی آنے والا راحیل شریف کی طلسماتی اور سحر انگیز شخصیت کا طلسم توڑ سکے گا ؟"

آپ کیا کہتے ہیں ؟؟ سلام ہے اس کی حکمت عملی کو, ہم بطور پاکستانی جناب باجوہ صاحب سے امید رکھتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے نام نہاد جمہوری مصلحت کے بغیر امت مسلمہ اور پاکستان کی سلامتی کو ہر قسم کے جمہوری مصلحت سے بالا تر رکھیں گے,

Sunday, November 27, 2016

General Qamar Javed Bajwa Pakistan' new Chief of Army Staff(COAS)

جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کی بری فوج کے نئے سربراہ

مانیٹرنگ ڈیسک:

جنرل قمر جاوید باجوہ اس سے قبل سنہ 2014 میں دھرنے کے دوران وہ کور کمانڈر راولپنڈی رہ چکے ہیں
پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو بری فوج کا نیا سپہ سالار جب کہ جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کر دیا ہے۔
سنیچر کو وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق صدر پاکستان ممنون حسین نے وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو جنرل کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی ہے۔
جنرل راحیل کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے الوداعی ملاقاتیں شروع
نیا فو جی سربراہ کون ہو گا؟
بیان کے مطابق ترقی کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ کو بری فوج کا نیا چیف اور جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر کردیا گیا۔
جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل زبیر محمود حیات 29 نومبر سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے اور اسی روز موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی کیریر کا آغاز 16 بلوچ ریجمنٹ میں اکتوبر 1980 میں کیا تھا۔ وہ کینڈا اور امریکہ کے دفاعی کالج اور یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں انفرینٹری سکول میں انسٹریکٹر کے طور پر فراض سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج کی کمانڈ سنبھال چکے ہیں۔
وہ راولپنڈی کی انتہائی اہم سمجھی جانے والی 10 ویں کور کو بھی کمانڈ کرچکے ہیں۔
نئی تعیناتی سے قبل وہ انسپکٹر جنرل تھے جی ایچ کیو میں جنرل ٹرینگ اور ایولیوشین کے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں اُن تربیتی مشقوں کی خود نگرانی کی جو لائن آف کنٹرول کے اطراف کشیدگی کی وجہ سے کی جا رہی تھیں۔ اِن مشقوں کا معائنہ موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل نے خود کیا تھا۔

Sunday, November 20, 2016

KARACHI: Rehan Hashmi visited central Karachi

 ضلع وسطی کو صاف ستھراء رکھنا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ریحان ہاشمی

       چیئرمین ریحان ہاشمی،وائس چیئرمین سید شاکر علی کا بلدیہ وسطی کا دورہ، جاری صفائی مہم کا معائنہ    
     
نمائندہ ہمارامقصد
کراچی : چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا ہے کہ ضلع وسطی کو صاف و شفاف بنانے کا عزم کیا ہوا ہے وسائل کی کمی کو عوام کی خدمت کے کام میں آڑے نہیں آنے دیں گے وہ ضلع وسطی نیو کراچی زون کے مختلف علاقوں میں جاری صفائی مہم کے معائنہ کے موقع پرعوام سے گفتگو کررہے تھے اس موقع پر وائس چیئرمین سید شاکر علی،میونسپل کمشنر محمد وسیم سومرو، ڈائریکٹر سینی ٹیشن ندیم حیدر، غوث محی الدین،انفارمیشن آفیسر عالمگیر سیفی و دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے اس موقع چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے کہا کہ بلدیاتی مسائل حل طلب ہیں جنھیں حل کرنے میں وسائل و فنڈز کی کمی سے دشواری پیش آرہی ہے بلدیاتی مسائل حل کرنے کے لئے بلدیاتی اداروں کو انکی ضرورت کے مطابق فنڈ جاری کئے جائیں حکومتِ سندھ کی جانب سے مالی معاونت بلدیاتی خدمات میں بہتری لانے میں اہم کردار اداکرے گی۔ جبکہ عوام کا تعاون شہر کی صفائی ستھرائی کو بہتر کرنے میں مددگار ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ بلدیاتی خدمات کے علاوہ بھی دیگر عوامی خدمات کے ادارے مناسب مالی، افرادی اور تکنیکی وسائل کے بغیر بہتر خدمات انجام نہیں دے سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع وسطی میں کئی سو ٹن کچرا  پیدا ہوتا ہے جبکہ بلدیہ وسطی پیدا شدہ کچرا مکمل اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں اس طرح کئی سو ٹن یومیہ کچر ے کا بیک لاگ شہری انتظامیہ اور شہریوں کے لئے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ اگر وسائل مہیا کئے گئے تو جلد ہی ضلع وسطی کو کراچی کے شفاف ترین اضلاع کی صف میں لاکھڑا کرئینگے  انہوں نے حکومت سندھ سے اپیل کی کہ وہ بلدیہ وسطی کو اس کی ضرورت کے مطابق مشینری اور فنڈز مہیاکریں تاکہ عوام کو بہتر بلدیاتی سہولیات مہیاکی جاسکیں۔ اس موقع پر وائس چئیرمین سید شاکر علی نے کہا کہ وسائل کی کمی کے باوجود بلدیہ وسطی کے افسران و کارکنان شب و روز محنت و جانفشانی سے کام کررہے ہیں تاہم وسائل کی کمی سے جو مسائل پیدا ہورہے ہیں وہ وزیرِ اعلی اور وزیر ِ بلدیات کی جانب سے خصوصی توجہ کا تقاضہ کرتے ہیں۔انہوں بلدیہ وسطی کی جانب سے عوام کی خدمات میں کوئی کسر نہ اُٹھارکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

Wednesday, November 2, 2016

Thursday, October 27, 2016

PTI's 2Nov lockdown and PMLN Govt's planing

تحریک انصاف کے 2 نومبر کے دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے ن لیگی حکومت نے خوفناک حکمت عملی تیار کرلی ۔ خفیہ اجلاس کی تفصیلات منظرعام پر آ گئیں۔
ٹی وی رپورٹ:

نجی ٹی وی کے ایک ذرائع نے بتایا کہپی ٹی آئی کے 2نومبر کے دھرنے کو ناکام بنانے کیلئے ایک خفیہ اجلاس صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں 7 کلب روڈ( وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ) میں منعقد ہوا ، جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی رانا مقبول ، چیف سیکرٹری پنجاب ، سیکرٹری داخلہ ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ ، آئی جی پنجاب ، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے نمائندے نے شرکت کی ۔ یہ اجلاس بروز جمعرات مورخہ 20 اکتوبر کو اڑھائی بجے دوپہر شروع ہوا اور ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہا ، جس میں بعدازاں کمشنر لاہور ڈویژن ، کمشنر گوجرانوالہ ، ریجنل پولیس آفیسر شیخوپورہ رینج ، ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ ریجن اور سی سی پی او لاہور نے بھی مذکورہ اجلاس میں ساڑھے پانچ بجے کے بعد شرکت کی ، سی سی پی او لاہور نے سب سے آخر میں میٹنگ میں اس وقت شرکت کی ،جب اجلاس بالکل اختتام کے قریب تھا ۔

تین قسم کی فہرستیں بنانے کا حکم

صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے پولیس ، انٹیلی جنس بیورو اور سپیشل برانچ کے حکام کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی تین کٹیگریز میں علیحدہ علیحدہ فہرستیں مرتب کرنے کا ٹاسک دیدیا ۔اجلاس میں تحریک انصاف کے کارکنان کی فہرستیں مرتب کرنے کا فیصلہ ہوا ہے اس حوالے سے تین کیٹگری کی لسٹیں تیارکرنے کے احکامات جاری ہوئے۔ کیٹگری اے میں مرکزی قیادت اور منتخب ارکان اسمبلی شامل ہیں۔ کیٹگری بی میں ڈویژنل اور ضلعی عہدیدار شامل ہیں جبکہ کیٹگری سی میں یونین کونسل کے چیئرمین ، کونسلرز، سرگرم کارکنان، ،سہولت کار،موبلائزر اور فنانسرز شامل ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسران کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ضلع کی سپیشل برانچ، آئی بی کے نمائندوں اور سیکورٹی برانچزکے ذریعے فہرستیں مرتب کریں۔

حتمی فہرستیں مرتب کرنے کی ڈیڈ لائن

رانا ثناء اللہ نے پولیس ، سپیشل برانچ اور آئی بی کو منگل تک ہر صورت میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی تین علیحدہ علیحدہ کٹیگریز میں فہرستیں مرتب کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔

فہرستوں کوفائنل کون کرے گا ؟

رانا مقبول کی سربراہی میں کمیٹی جس میں سیکرٹری داخلہ ، آئی جی اور پراسیکیوٹرشامل ہیں ، پی ٹی آئی کے رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاری یا نظر بندی کے حوالے سے سپیشل برانچ ، آئی بی اور پولیس کی جانب سے تیار کی گئی فہرستوں کو حتمی شکل دیں گے ۔

سیکرٹری داخلہ پنجاب وزیراعظم کے پاس کون سی فہرستیں لیکر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں

سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان ابتدائی فہرستیں لیکر وزیر اعظم کے پاس پہنچیں گے جہاں وہ وزیراعظم کو پی ٹی آئی کے 2 نومبر کے دھرنے کو ناکام بنانے کے حوالے سے تیار کی گئی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دیں گے ۔

کارکنوں کی نظر بندی کیلئے حکمت عملی

اجلاس میں سپیشل برانچ کو ایک اور ٹاسک یہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں سرگرم رہنماؤں،پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی ، ٹکٹ ہولڈرز، یونین کونسل چیئرمینوں ، کونسلرز ، سہولت کاروں ، موبلائزر اور فنانسرز کے علاوہ سرگرم کارکنوں کی2 نومبر کے دھرنے کی تیاری کے حوالے سے رپورٹس تیار کریں کہ ان کارکنان کی ’’خفیہ میٹنگز‘‘ ہوئیں جہاں یہ منصوبہ بندی بنی کہ مسلح افراد اور ڈنڈا بردار تحریک انصاف کے قافلوں کا حصہ ہوں گے۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(ڈی پی اوز)ز ایم پی او کے تحت ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن افسروں(ڈی سی اوز)کو احکامات جاری کرنے کیلئے کہیں گے، جن کی بنیادپر تحریک انصاف کے کارکنان کی گرفتاری یا نظر بندیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے کہا کہ ڈی پی اوز سپیشل برانچ کی رپورٹس کو ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹرز سے بھی چیک کروائیں گے تاکہ کوئی قانونی سقم باقی نہ رہے ۔دوسری جانب رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے کہا کہ سپیشل برانچ کی رپورٹس کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے اس لئے یہ فرضی / جھوٹی (پیڈنگ ) رپورٹس ضرور تیار کی جائیں تاکہ عدالتوں میں حکومت کی سبکی نہ ہو۔

ڈی سی او کیسے حکمنامے جاری کریں ؟

راناء ثناء اللہ نے ڈی سی اوز کو ہدایت کی کہ وہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے بارے میں نظربندی کے احکامات میں ایک ہی طرح کی سٹیریو ٹائپ عبارت لکھنے سے گریز کریں اور کوشش کی جائے کہ مختلف آرڈرز میں گراؤنڈز بھی مختلف ہوں ۔ ڈی سی اوز کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ اگر ڈی پی او کی طرف سے نظر بندی کے 20 مراسلے موصول ہوں تو اسی تاریخ میں 14 یا پندرہ آرڈر جاری کریں تاکہ یہ تاثر نہ ابھرے کہ انتظامی مشینری کوئی انتقامی کارروائی کررہی ہے ۔

عمران خان غداری کے مرتکب ؟  مگر کیسے ؟

خفیہ اجلاس میں سپیشل برانچ کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں ، جس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ عمران خان پاکستان کے آئین کی غداری کے مرتکب ہورہے ہیں۔ منصوبہ یہ طے پایا کہ اس رپورٹ کے حوالے سے ایک ایف آئی آر درج کروا کر اسے سیل کردیا جائے۔ موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق اجلاس میں سپیشل برانچ کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ عمران خان کی تقریروں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ تیار کریں جن کو بیک ڈیٹڈ کیا جائے جس کے ذریعے عمران خان کو آئین سے غداری کا مرتکب ثابت کیا جاسکے۔ اس رپورٹ کے پیش منظر عمران خان کی نظری بندی یا گرفتاری کی حکمت عملی طے کی گئی ہے۔

وکلاء کی خصوصی ٹیموں کی تشکیل

خفیہ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ بڑے پیمانے پر نظربندیوں کے بعد نظر بند رہنماؤں اور کارکنوں کے عزیز و اقارب لاہور ہائیکورٹ اوراسلام آباد ہائیکورٹ رجوع کرکے آرڈر کالعدم کرانے کی کوشش کریں گے لہذاسلام آباد کے علاوہ راولپنڈی، لاہور،ملتان اور بہاولپورجہاں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ ہیں ،ان کیسز کی پیروی کیلئے بڑے پیمانے پر وکلاء کی خدمات حاصل کی جائیں جو حکومت کی جانب سے پیش ہوں گے جنہیں فی کس 2 سے 4 لاکھ بھی دینا پڑے تویہ رقم سرکاری خزانے سے اداکی جائے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن ۔۔۔۔۔اور پولیس مورال ۔۔۔۔ریجنل پولیس افسر گوجرانوالہ کو رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے کیا جواب دیا

اجلاس میں آر پی او گوجرانوالہ کا یہ کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے بعد سپاہ (پولیس فورس) بہت ڈی مورال ہوچکی ہے، جس پر رانا ثناء اللہ اور رانا مقبول نے یہ کہا کہ پولیس کا مورال بلند کریں اور انہیں عمران خان کیخلاف موٹیویٹ کریں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں کہ حکومت کا اس میں کوئی ذاتی مفاد نہیں بلکہ یہ سب کچھ ملکی مفاد کے تحت کیا جارہا ہے، عمران خان غیر آئینی اقدامات کرکے ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ رانا ثناء اللہ نے آئی جی پنجاب کی جانب اشارہ کرکے کہا کہ ان سے پوچھیں کیا ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن سانحہ کے ذمہ داروں کیساتھ معاونت نہیں کررہے ؟ کیا ہم ان کی مالی امداد نہیں کررہے ؟ ہم نے کیا ذمہ دار پولیس افسروں کو بیرون ملک نہیں بھیجا؟ کیا اتنی زیادہ سٹیٹ مشینری استعمال کرنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی ؟ لہذا ایسی بات نہیں ہے۔ اور اسی طرح آئندہ بھی حکومت ایسے افسروں اوراہلکاروں کیساتھ کھڑی ہوگی۔ رانامقبول نے کہا کہ ہم نے سو گنا پولیس کی تنخواہیں بڑھائی ہیں، انہیں نوکریاں دی ہیں ۔ پولیس کو یہ باور کرایا جائے کہ عمران خان جو کام کرنے جارہے ہیں وہ غیرآئینی ہے۔

کنٹینر وں میں کیا بھرا جائے گا؟

آئی جی پنجاب نے ماتحت پولیس افسروں کو ہدایت کی کہ خالی کنٹینروں کو پکڑا جائے اور ان کو راستوں پر رکھ کر ان کو ریت یا مٹی سے بھرا جائے تاکہ اگر بڑی تعداد میں پولیس کی رکاوٹیں توڑ دھرنے میں شامل ہونے والے افراد پہنچ بھی جائیں تو وزنی ہونے کی بناء ان کو راست سے نہ ہٹا سکیں ۔

رکاوٹیں کہاں کہاں ہوں گی ؟

آئی جی پنجاب نے ڈی پی او قصور اور ڈی پی او گجرات کے سوال پر بتایا کہ ہر ضلع میں مختلف تحصیل اور قصبہ میں رکاوٹیں(چوکنگ پوائنٹس) کی نشاہدہی کرلی جائے تاکہ یہاں سے کسی کو آگے نہ جانے دیا جائے اور اگر لوگ احتجاج کرکے یہی بیٹھ جائیں تو ان پر لاٹھی چارج ، شیلنگ یا ہوائی فائرنگ نہ کی جائے ۔اور میڈیا کی موجودگی میں لاٹھی چارج وغیرہ سے گریز کیا جائے تاہم میڈیا کی عدم موجودگی میں انکی خوب ٹھکائی کی جائے ۔

میڈیا مینجمنٹ کمیٹی میں کون کون شامل ، اور اسکی کیا ذمہ داریاں

2 نومبر کے قافلوں کی کم سے کم کوریج اور پولیس کی پی ٹی آئی کے رہنماؤں و کارکنوں سے جھڑپوں کی کوریج کو روکنے کیلئے رانا مقبول کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری اطلاعات ، آئی جی اور ڈی جی پی آر بھی شامل ہونگے ۔

گرفتاریاں کب ہونگی ؟

ڈی پی او قصور نے دریافت کیا کہ گرفتاریاں کب سے شروع کرنی ہیں ، جس پر رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ گرفتاریوں یا نظربندیوں کے حوالے سے 2 یا 3 گھنٹے قبل بتادیا جائے گا ۔

گرفتاریوں اور نظربندیوں کا سگنل کون دے گا ؟

شرکاء کو بتایا گیا کہ نظر بندیوں اور گرفتاریوں کے بارے میں وفاقی حکومت حتمی فیصلہ کرے گی کہ کب نظربندیوں اور گرفتاریوں کا عمل شروع کرنے ہے تاہم پولیس اور انتظامیہ اس حوالے تیار رہی گی اور حکم ملتے ہی عملدرآمد کو یقینی بنائے گی ۔

گرفتار یا نظر بند رہنماؤں وکارکنوں کو کہاں رکھا جائے گا؟

رانا ثناء اللہ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ گرفتار یا نظر بند رہنماؤں کو اس ضلع میں بند نہ کیا جائے جہاں کے وہ رہائشی ہیں بلکہ ان کو دوردراز کے اضلاع تھانوں اور جیلوں میں رکھا جائے ۔

جڑواں شہروں اور کے پی کے سے دھرنے میں شریک ہونیوالوں کو روکنا کس کی ذمہ داری

رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ راولپنڈی ڈویژن ، اسلام آباد اور خیبر پختونخواہ سے دھرنے میں شرکت کرنیوالوں کو روکنے کی ذمہ داری وفاقی وزیر داخلہ کی ہوگی اور ان تمام معاملات کی وہ براہ راست نگرانی کریں گے ۔

جڑواں شہروں کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کی کڑی نگرانی

جڑواں شہروں کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز کے بارے میں پولیس ،انتظامیہ، سپیشل برانچ اور آئی بی کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ ان پر نظررکھیں کہ کہیں ان میں دھرنے میں شرکت کرنیوالے تو پہلے سے آکررہائش پذیز نہیں ہوگئے ، اس حوالے گیسٹ ہاؤسز اور ہوٹل مالکان کو تنبیہ کی جائے کہ وہ ایسے لوگوں کو ٹھہرائیں جو معمول کے وزٹرز ہیں ۔

افغان آبادیوں اور مہاجروں کی نگرانی ؟

پولیس اور سپیشل برانچ کو راناء ثناء اللہ نے ہدایت کہ افغانیوں اورافٖٖغان مہاجرین کا بھی دھرنے میں شمولیت کا خدشہ ہے اس لئے افغان آبادیوں اور مہاجرین پرنہ صرف کڑی نظر رکھی جائے بلکہ انکے خلاف سرچ آپریشن بھی کیا جائے ۔

کون کون سے مین راستے بند ہونگے ؟

اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ راوی پل ، لاہور اسلام آباد موٹروے سکیشن ، جی ٹی روڈ ، چناب پل ، جہلم پل اور اٹک پل کے علاوہ پشاور سے راولپنڈی و اسلام آباد آنیوالے راستوں کو بھی بند کردیا جائے گا ۔

اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کیا کرے گی ؟

وزیر اعظم کے سمدھی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی میڈیا اور عوام کو مس لیڈکرنے کیلئے بار بار میڈیا پر آکر یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گی کہ حکومت پی ٹی آئی کی تقریباً تمام شرائط ماننے کو تیار ہے اور وزیر اعظم اور انکی فیملی بھی خود کو احتساب کیلئے پیش کرنے کی پہلے بھی پیشکش کرچکے ہیں ، اب بھی تیار ہیں لہذا پی ٹی آئی کے دو نومبر کے دھرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔