This Blog is officially being supervise and administrating by Weeky Hamara Maqsad Multan ( A project of Rindaan Media Group Pakistan). Weekly HAMARA MAQSAD Multan is a one of Pakistan's especially south Punjab based news paper , which being publish under the editorial of well known and energetic Journalist Saeed Ahmad Mazari, Hamara Maqsad Multan has slogan of Hamara Maqsad Pakisatan which means that Pakistan' solidarity, Honour and its cultural over view stands first in all rspects.
Add 1
Friday, June 16, 2023
بڑی خبر۔۔۔ ایل پی جی کی قیمت میں اب تک کی بڑی کمی۔۔۔ نٸی قیمت کیا ہوگی۔۔اعلان ہوگیا۔۔
ملک بھر میں ایل پی جی گیس صارفین کیلٸے اب تک کی سب سے بڑی خوشخبری سامنے آ گٸی۔ اوگرا نے ایل پی جی صارفین کیلٸے گیس کی قیمتوں میں سب سے بڑی کمی کا اعلان کردیا۔ نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق ایل پی جی گیس ڈسٹری بیوٹر لوکل اور امپورٹڈ ایل پی جی کے نام پر صارفین کو مہنگے داموں گیس فروخت کررہے تھے۔ جس سے ایل پی جی گیس صارفین کو بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس لیے اوگرا نے ملک بھر میں امپورٹڈ اور لوکل ایل پی جی گیس کی قیمت یکساں مقرر کردی۔ جس کے باعث ایل پی جی گیس کی قیمت 350 روپے سے کم ہوکر 210 روپے فی کلو ہوگٸی۔ اوگرا کی جانب سے صارفین کو ہدایت کی گٸی کہ وہ امپورٹڈ ایل پی جی کے نام پر کسی بھی دکاندار یا ڈسٹری بیوٹر کو اضافی رقم نہ دیں۔ اب ملک بھر میں امپورٹڈ اور لوکل ایل پی جی گیس ایک ہی قیمت پر فروخت ہوگی۔
پرانی رنجشیں، فقط ایک ماہ کے دوران ایک درجن کے لگ بھگ جانیں ضاٸع ہوگٸیں
ضلع راجن پور میں مٸی سے جون کے وسط تک قتل وغارت گری ، پرانی دشمنی ، زمین کاتنازعہ اور ڈکیتی مزاحمت سے اب ایک درجن سے زاٸد افراد کی قیمتی جانیں چلی گئی،،، مئی اور جون کی وسط کا دورانیہ ضلع راجن پورپرانتہائی بھاری گزرا،،، ہفت روزہ ہمارا مقصد کو موصول ہونے والی تفصیلات کےمطابق مٸی اور جون کی سولہ تاریخ تک کے اعدادو شمار کےمطابق اب تک کم ازکم چودہ افراد کی قیمتیں جانیں ضاٸع ہوگٸیں،، نواحی علاقہ آسنی میں ڈکیتی مزاحمت پر شاہدنامی نوجوان فائرلگنےسےدم توڑگیا ،،اسی طرح پرانی دشمنی پر روجھان میں مخالفین کے گروہ کی جانب سے 4 افراد کو قتل کردیا گیا،،، کوٹلہ عیسن کےعلاقےمیں 4 افراد کو مخالفین کی جانب سے گھرمیں گھس کر قتل کیاگیا،،،،
اسی طرح کوٹلہ عیسن ہی کےعلاقے میں ممتاز نامی شہری کو جان سے مار دیا گیا،،، بستی لاکھامیں چچانے بھتیجےکوفائرنگ کرکےموت کےگھاٹ اتادیا،،، نواحی علاقہ ہڑند روڈ پر نامعلوم افراد نے نوجوان کو مارڈالا،، جبکہ گزشتہ رات داجل بائی پاس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شکیل نامی پولیس کانسٹیبل کو پرانی رنجش پر موت کےگھاٹ اتار دیا،،، اتنے واقعات کے بعد بھی پولیس اب تک کسی ملزم کو گرفتارنہ کرسکی۔
پاکستانی ریسکیو 1122اہلکار نے سعودی عرب میں ایک شخص کو بچا لیا۔۔۔
کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں ریسکیو1122 پنجاب بھر میں انسانی خدمت کا ایک قابل اعتبار ادارہ ہے۔ کوٸی بھی مشکل ہو، سیلاب ہو آندھی ہو یا کوٸی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ریسکیو 1122 کے اہلکار ہمیشہ فرنٹ لاٸن پر لوگوں کی مدد کرتے دکھاٸی دیتے ہیں۔
اپنے ملک اور اپنے صوبے میں تو یہ ادارہ گزشتہ دو دہاٸیوں سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروٸے کار لاتے ہوٸے ایک شخص کی جان بچا لی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں حج کی ادائیگی کے لیے جانے والے کراچی پاکستان کے رہائشی 60 سالہ بزرگ محمد شاہد انور کو بطح قریش مکہ مکرمہ سیکٹر نمبر 8 بلڈنگ نمبر 804 پر شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا، ڈاکٹرز کی طرف سے اس مریض کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، تاہم سعودی عرب میں معاونین حج کی ڈیوٹی سرانجام دینے والے پنجاب ایمرجنسی سروس یعنی ریسکیو 1122 جہانیاں کے ایک اہلکار شاہد جمیل جو بطور JCO نائٹ شفٹ ڈیوٹی آفیسر بلڈنگ نمبر 804 معمور تھا نے اس مریض کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے CPR تکنیک کے ذریعے سانس اور دل کی دھڑکن مصنوعی طریقے سے بحال کرتے ہوئے اسے زندہ رکھا اور پھر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں اس مریض کی جان بچ گئی۔ وہ مریض اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ بہترین پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دیہی پر سعودی عرب کے سیکٹر کمانڈر ہاشم خان کی طرف سے محمد شاہد جمیل کی کارکردگی کو بے حد سراہا گیا۔
نو مٸی واقعات کا معاملہ، لاہور ہاٸی کورٹ نے بڑا حکم دے دیا۔۔۔
نو مئی واقعات کے ملزمان کی شناخت پریڈ 48 گھنٹوں مکمل کی جائے، لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم۔
لاہور ہائی کورٹ نے 9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کی شناخت پریڈ میں تاخیر ہونے پر بڑا فیصلہ سناتے ہوٸے حکم دیا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ 48 گھنٹوں میں مکمل کروائی جائے۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے صوبے بھر کے سیشن ججز اور اسپیشل کورٹس کو شناخت پریڈ کا عمل 48 گھٹنوں میں مکمل کرانے کا حکم دیتے ہوئے شہری محمد رمضان کی درخواست پر 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار لاہور ہاٸی کورٹ اس فیصلے کی کاپی صوبے کے تمام سیشن ججز اور آئی جی پنجاب کوفوری بھجوائیں ۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ شناخت پریڈ کے پراسس میں بہت تاخیر کی گئی، جس سے شہریوں کی آزادی پر قدغن لگائی گئی۔ ہر انسان کو عزت ،آزادی اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے ۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین بھی شہریوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ گرفتاری، ملزم اور اس کے خاندان کے علاوہ بعض صورتوں میں معاشرے کےلیے بھی دُور رس اثرات رکھتی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ لوگ سزا سے پہلے گرفتار اور سزا کے بعد گرفتار میں فرق نہیں کر پاتے۔ کسی شخص کی گرفتاری ٹھوس شواہد اور صرف اسی صورت ہونی چاہیے جب دوسرا کوئی راستہ نہ ہو ۔ بین الاقوامی انسانی حقوق نے بھی ٹرائل سے پہلے گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ کسی گرفتار ملزم کا بے گناہ ڈکلیئر ہونا ٹرائل سے پہلے گرفتاری کا درد ناک پہلو ہے ۔ بے گناہ شخص کےلیے ٹرائل سے پہلے گرفتاری ذہنی اذیت یا کسی تضحیک سے کم نہیں ہے۔
فیصلے میں عدالت نے تحریر کیا کہ کسی بھی ملزم کے لیے شناخت پریڈ کا عمل بہت اہم ہوتا ہے۔ شناخت پریڈ کا موجودہ عمل بہت ناکارہ ہے، اس عمل میں تاخیر سارے پراسس کو مشکوک بناتی ہے ۔ شناخت پریڈ کے عمل میں تاخیر بنیادی حقوق، تکریم اور فیئر ٹرائل کی خلاف ورزی ہے۔ آئینی عدالتیں آئین کے تحفظ کی ذمے دار ہیں۔ آئینی عدالتوں کو انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار 25 مئی سے شناخت پریڈ کےلیے جیل میں ہے۔ شناخت پریڈ میں تاخیر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ 9مئی کو کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی، سرکاری اور پرائیوٹ املاک کو نقصان پہنچایا ۔ حالات پر قابو پانے کےلیے ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے ۔ نظر بندی کے احکامات معطل ہونے پر افراد کو مقدمات میں نامزد کر کے گرفتاریاں کی گئیں۔ گرفتاری کے بعد ملزمان کو شناخت پریڈ کےلیے عدالت پیش کیا گیا ۔
آٸین اور قانون پر بات مہنگی پڑ گٸی، معروف وکیل سردار لطیف کھوسہ کے گھر پر فاٸرنگ۔۔
لاہور میں معروف وکیل اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ کے گھر پر نامعلوم افراد کی فاٸرنگ، ڈراٸیو زخمی ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شام ایک کنونشن میں ملک کے معروف وکیل سردار لطیف کھوسہ نے ملک میں جاری آٸین اور قانون کی خلاف ورزیوں اور فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے کھل کر تفصیلی گفتگو کی۔ جو شاید کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگی۔ سردار لطیف کھوسہ نے اپنے گھر پر ہونے والی فاٸرنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوٸے بتایا کہ گھر پر رات گئے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی کینٹ اویس شفیق پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچے، جہاں پولیس نے شواہد جمع کیے۔ واقعے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لطیف کھوسہ کے گھر پر 7 فائر کیے گئے ۔ فائرنگ میں پستول اور رائفل کا استعمال کیا گیا ۔ گولیاں گھر کے دروازے اور گیراج میں کھڑی کار میں لگیں جب کہ ایک گولی گیراج میں موجود ڈرائیور جاوید کی ٹانگ میں لگی ۔
پولیس کے مطابق زخمی ڈرائیور جاوید کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لی جارہی ہے، جس سے واضح ہو سکے گا کہ حملہ آور کون تھے اور کار پر تھے یا موٹرسائیکل پر ۔ مزید تفتیش کے لیے زخمی ڈرائیور کا بھی بیان لیا جائے گا۔
سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے بتایا کہ میرے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس میں ڈرائیور زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں سینئر وکیل اعتزاز احسن بھی وہاں رہائش گاہ پر پہنچے۔ لطیف کھوسہ نے بتایا کہ 7 بجے تک ہمارا کنونشن چل رہا تھا، جس میں آئین کی بالادستی اور فوجی عدالتوں کی بات کی۔ جوڈیشل سسٹم کے حوالے سے بات کی گئی۔ میں نے تقریر میں کہا کہ پاکستان کو سرزمین بے آئین بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کہا کہ 2 صوبوں میں غیر آئینی حکومت قائم کی گئی ہے۔ جس طرح سے سپریم کورٹ کے باہر نعرے لگائے جاتے ہیں، وہ توہین ہے۔ وہاں بہت تالیاں بجیں لیکن یہاں پھلجھڑیاں چلائی گئیں۔ میں گھر میں کلائنٹ کا کیس سن رہا تھا۔ فائرنگ کی آواز آئی میرے ڈرائیور نے اندر آ کر کہا کہ اس کو فائر لگا ہے۔ باہر جا کر دیکھا تو دروازے میں سوراخ تھے۔ گاڑی پر فائر لگا۔
Thursday, June 15, 2023
پٹرول کی قیمت کتنی کم ہوگی، ہوگی بھی یا نہیں؟ فیصلے کی گھڑی بج اٹھی
اس وقت دنیا بھر میں پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل کی قیمتیں تنزلی کا شکار ہیں۔ اس کمی کا کچھ فاٸدہ پاکستانی عوام کو بھی ملا تاہم عالمی منڈی میں جس تناسب سے قیمتوں میں کمی ہوٸی حکومت نے عوام کو اس تناسب سے فاٸدہ نہیں دیا۔ البتہ اوگرا نے جون کے آخری پندرہ دنوں کیلٸے پٹرول کی قیمتوں میں پانچ سے دس روپے فی لٹر تک کمی کی تجویز دی ہے۔ تاہم اس کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کرینگے کہ پٹرولیم قیمتوں میں کتنی کمی کرنی ہے۔ دوسری جانب معاشی اور کاروباری میدان کے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ روسی تیل پاکستان میں ابھی پہنچا ہی ہے اور ابھی تک ریفاٸنریوں میں بھی نہیں پہنچا۔ اس لیے زیادہ امکان یہ ہے کہ حکومت جون کے ان پندرہ دنوں کیلٸے پٹرولیم قیمتوں کو برقرار رکھے گی یا پھر معمولی رد و بدل کرے گی۔ البتہ جولاٸی کے پہلے پندرہ دن اور آخری پندرہ دنوں کیلٸے الیکشن سٹنٹ کے طور پر قابل ذکر کمی کی جاٸے گی۔ اور پھر اسی کمی کو الیکشن مہم کیلٸے بھی استعمال کیا جاٸے گا۔ لہٰذا عوام اس بار موجودہ حکومت سے پٹرولیم قیمتوں میں کمی کے حوالے سے زیادہ امیدیں وابسطہ نہ کرے۔
یاد رہے کہ وزارت خزانہ آج کسی بھی وقت وزیراعظم کی منظوری سے پٹرولیم مصنوعات کی نٸی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ ممکنہ طور پر نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نٸی قیمتوں کا اطلاق بھی آج ہی ہوجاٸے گا۔
کراچی میٸر کا متنازعہ انتخاب، شہر بھر میں حالات کشیدہ، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکن آمنے سامنے، پتھراٶ پولیس اور رینجرز سے بھی جھڑپیں۔
سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے بعدکراچی کے میٸر کا انتخاب بھی متنازعہ ہوگیا۔ کراچی میٸر کی سیٹ پر پیپلز پارٹی کی طرف سے مرتضیٰ وہاب جبکہ جماعت اسلامی کی طرف سے حافظ نعیم میدان میں تھے۔ بلدیاتی انتخابات کے نتاٸج کے مطابق جماعت اسلامی اور پی پی پی کے درمیان بہت ہی کم ووٹوں کا فرق تھا۔ چونکہ پاکستان تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان کررکھا تھا تو پی ٹی آٸی چیٸرمینوں کے ووٹوں کو ملا کر جماعت اسلامی کی برتری واضح تھی۔ لیکن آج جب ووٹنگ کا عمل شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے پی ٹی آٸی کے بہت سے چیٸرمینوں کو پولیس کے ذریعے گھروں سے اٹھوا لیا اور لگ بھگ بیس چیٸرمینوں کو ووٹنگ والے ہال میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا۔ پی ٹی آٸی کے چیٸرمین احتجاج کرتے رہے شور مچاتے رہے لیکن ان کیلٸے دروازہ نہیں کھولا گیا۔ اسی دوران پیپلز پارٹی نے مرتضیٰ وہاب کو میٸر کراچی منتخب کروا لیا۔ اس طرح متنازعہ انتخاب کے بعد جماعت اسلامی کے کارکن سڑکوں پر نکل آٸے اور احتجاج شروع کردیا۔ جماعت اسلامی کے احتجاج کو روکنے کیلٸے پیپلز پارٹی کے کارکن بھی ان کے مدمقابل نکل آٸے۔ جس پر کشیدگی میں اضافہ ہوگیا۔ جماعت اسلامی ذراٸع کے مطابق پولیس اور رینجرز نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو کھلی چھٹی دے دی جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو پکڑ پکڑ کر گاڑیوں میں ڈالتی رہی۔ صورتحال کشیدگی اختیار کرگٸی۔ اور پورے کراچی شہر میں جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کارکنوں میں لڑاٸی شروع ہوگٸی۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر پتھراٶ کیا گیا کچھ علاقوں میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ بھی جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوٸی ہیں۔ جماعت اسلامی نے کل بروز بدھ ملک بھر میں یوم سیاہ منانے اور احتجاج کی کال دے دی ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے جماعت اسلامی سے بات چیت کرنے کیلٸے ان کے پاس جانے کا عندیہ دیا ہے۔
طاہر رندھاوا کے بعد محمود مولوی کا بیان بھی آ گیا، ترین کی استحکام پارٹی بکھرنے میں تیز ترین نکلی
نو مٸی کا بہانہ بنا کر جس عجلت میں پاکستان تحریک انصاف کو توڑ کر جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی بناٸی گٸی۔ بدقسمتی سے اسٹیبلشمنٹ کی یہ پارٹی چند روز بھی قاٸم نہ رہ سکی۔ بڑے بڑے سیاسی ناموں کی موجودگی کے باوجود یہ پارٹی عوامی حمایت یا مقبولیت حاصل نہ کرسکی۔ اس لیے پاکستان تحریک انصاف کو خیرباد کہنے والے سیاسی لوگوں کو اپنی غلطی کا ادراک ہونے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے قیام کے دو روز بعد ہی اس میں ٹوٹ پھوٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس حوالے سے سب سے پہلا استعفیٰ طاہر رندھاوا کی طرف سے آیا جنہوں نے استحکام پاکستان پارٹی سے علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد دیگر کٸی لوگ بھی پس پردہ جہانگیر ترین کی پارٹی سے علیحدگی کا اظہار کرتے نظر آ رہے ہیں اور بہت سے تو پی ٹی آٸی میں واپسی کیلٸے عمران خان سے رابطے کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کو چھوڑنے کے حوالے سے پہلی پریس کانفرنس کرنے والے محمود مولوی جو استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کیلٸے سرگرم بھی تھے نے کہا ہے کہ وہ اس پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ نجی چینل ہم نیوز کے مطابق محمود مولوی نے کہا ہے کہ وہ جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔ اور پارٹی کی تقریب میں ویسے ہی شریک ہوٸے ان کا کہنا تھا کہ استحکام پاکستان پارٹی کی تقریب میں ان کی طرح اور بھی بہت سے لوگ تھے جو پارٹی کا حصہ نہیں ہیں۔
جہانگیر ترین کو استعمال کرکے تحریک انصاف کو توڑنے والوں کو یہاں بھی بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ ایک ساتھ ایک سو سے زاٸد الیکٹیبلز کے پارٹی چھوڑ جانے پر بھی پی ٹی آٸی کی مقبولیت میں کوٸی کمی آٸی اور نہ ہی پٕی ٹی آٸی کے بیانیہ میں کوٸی فرق آیا۔ الٹا جو لوگ چھوڑ گٸے ان کی سیاست تباہ ہوگٸی۔ وہ لوگ اپنی اپنی عوام کے سامنے ذلیل و رسوا ہوگٸے ہیں۔ لیکن افسوس کہ قابل احترام اداروں میں بیٹھے چند لوگوں کی ضد اور انإ کی جنگ نے ملک پاکستان کو ناکافی نقصان پہنچا دیا۔ اس پر بھی مزید افسوس یہ کہ وہ سب کچھ دیکھ بھال کر بھی اپنی ضد اور انإ سے پیچھے ہٹنے کیلٸے تیار نہیں۔ اور بدمست ہاتھی کی طرح ملک کی ہر شٸے کو تہس نہس کرتے جارہے ہیں۔ ان کے اس عمل سے ملکی عوام کی ان سے محبت بڑی تیزی سے بدل رہی ہے وہ عوام جو دشمنوں کے ہر قدم کو ان سے پہلے ہی روک لیتی تھی آج انہیں اپنا محافظ اور خیرخواہ ماننے کو تیار نہیں۔
Wednesday, June 14, 2023
وزیرآباد حملہ، کپتان نے جے آٸی ٹی سوالوں سے متعلق پروپیگنڈہ کا جواب دے دیا۔۔
پاکستانی میڈیا پر اس چیز کو لے کر بہت پروپیگنڈا کیا گیا۔ اور عمران خان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی گٸی۔ اس پر بلآخر عمران خان کو خود میدان میں آنا پڑا۔ اور انہوں نے ٹویٹر پر اس پروپیگنڈا کا جواب دیتے ہوٸے لکھا کہ حکومتی جے آٸی ٹی کو انہوں نے سارے سوالوں کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا میں وزیرآباد حملے سے متعلق ویڈیو بیانات کو قبول کرتا ہوں تو میں نے ان ویڈیو بیانات کو قبول کیا۔ پھر مجھے کہا گیا کہ آپ جو الزامات لگا رہے ہیں اس بارے ثبوت دیں۔ تو اس پر میں نے کہا کہ مجھ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی ایف آٸی آر درج نہیں ہونے دی گٸی اور وقوعہ کے بعد تین تین لوگوں نے ( شہباز شریف، رانا ثنإاللہ اور فیصل نصیر ) نے پلاننگ کے ساتھ چیزوں کو کوراپ کیا۔ جب میری مرضی کے مطابق ایف آٸی آر درج نہیں ہونے دی گٸی تو پھر ثبوت میں آپ کو کیسے دے سکتا ہوں۔ ہاں البتہ جب کبھی کوٸی عدالتی کمیشن بنا جو ایمانداری سے اس واقعے کی تحقیقات کرے تو اس کو ثبوت بھی دونگا۔
قارٸین ! یہاں پر کچھ چیزیں ہیں جو اس جے آٸی ٹی کو مشکوک بناتی ہیں۔ اول تو یہ کہ اس جےآٸی ٹی میں تمام لوگ حکومت کی اپنی مرضی کے شامل کیے گٸے ہیں اور ان سب کو ن لیگ کے قریب خیال کیا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ جے آٸی ٹی کی تمام تر کاررواٸی خفیہ ہوتی ہے اور نتاٸج تک یہ سب چیزیں صرف متعلقہ افسران کے درمیان ہی رہتی ہیں انہیں لیک نہیں کیا جاتا لیکن اس جے آٸی ٹی کی کاررواٸی اس ہی کے ایک افسر نے چند صحافیوں کو لیک کردی۔ جس کے بعد شکوک و شہبات میں اضافہ ہوگیا اور جے آٸی ٹی کی جانبداری بھی عیاں ہوگٸی۔ کیونکہ کاررواٸی لیک کرکے عمران خان کے سیاسی مخالفین کو براہ راست فاٸدہ پہنچانے کی دانستہ کوشش کی گٸی۔ تو ایسے میں یہ جے آٸی ٹی درست رپورٹ کیسے پیش کرسکتی ہے۔ آخری بات کہ عمران خان جن لوگوں کو خود پر حملے کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ان ہی کے لوگوں کو اس جے آٸی ٹی میں شامل کیا گیا تو کیا گارنٹی ہے کہ عمران خان جو ثبوت انہیں فراہم کریں وہ محفوظ رہے گا۔ جبکہ اس سے پہلے اس واقعے کے ثبوت مٹانے کی کوشش بھی کی جاچکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کے پاس بہت ٹھوس ثبوت موجود ہیں جن کی وجہ سے الزام علیہ بہت پریشان ہیں۔ اور وہ ان ثبوتوں کو کسی طرح حاصل کرکے مٹانا چاہتے ہیں۔ تاہم فی الوقت تو عمران خان ان سب کے گلے کی وہ ہڈی بن چکے ہیں جسے نہ تو یہ نگل پارہے ہیں اور نہ نکال پا رہے ہیں۔
Subscribe to:
Posts (Atom)