Add 1

Sunday, March 6, 2022

روس ، یوکرین جنگ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا چہرہ ایکبار پھر بے نقاب.

نام کالم: عرضداشت 
تحریر: سعید مزاری (Rndaannews@gmail.com) 
عنوان:  روس ، یوکرین جنگ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا چہرہ ایکبار پھر بے نقاب
روس نے یوکرین پر حملہ کرکے اس کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا عین ممکن ہے کہ جب تک یہ مضمون شائع ہو اس وقت تک روس یوکرین کے دارلحکومت پر بھی قابض ہو چکا ہو۔ کیونکہ تاوقت تحریر آمدہ اطلاعات کے مطابق روسی فوج اور یوکرینی افواج کے درمیان یوکرین کے دارالحکومت کیئف کے قریب گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ 
یوکرین سابق سویت یونین سے الگ ہونیوالے تمام ممالک اور ریاستوں میں رقبے، آبادی، فوجی طاقت، قدرتی ذخائر کے علاوہ سیاسی سماجی اور معاشی وسائل کے حوالے سے سب سے بڑا ملک ہے۔ یوکرین سوویت یونین سے آزاد ہونیوالے ممالک میں سے وہ واحد ملک بھی ہے جس کے پاس دنیا کا تیسرا بڑا ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا۔ یوکرین دنیا کی کل ضرورت کا تیس فیصد گندم پیدا کرنیوالا ملک ہے جبکہ پورے یورپ کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کیلئے یورینیم فراہم کرتا ہے۔ یوکرین کی صنعتی شعبے کو بھی پوری دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ 
یوکرین کی فوج عددی لحاظ سے پاکستان کی فوج سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ یوکرین کی فوج عراق، افغانستان سمیت نیٹو کے جھنڈے تلے ہر محاذ پر ہمیں برسرپیکار دکھائی دیا۔ دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ نیٹو کے چھترسایہ میں امریکی مفاد میں جتنی جنگیں جن جن ممالک میں لڑی گئیں ان سب میں یوکرین کی فوجی طاقت قربانی کے بکرے کی طرح پیش پیش رہی۔ دراصل امریکہ، فرانس، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کو بے تحاشہ سبز باغ دکھائے گئے یہاں تک کہ 1999 میں یوکرین سے سی ٹی بی ٹی جیسے خود کش معاہدے پر دستخط کروا کر اس کے تمام ایٹمی ہتھیار امریکہ اور اتحادیوں نے لے لیے اور یوکرین کا سارا ایٹمی پروگرام ختم کروا دیا۔ یوکرین کو روسی حملے کا خدشہ ہمیشہ سے تھا اور اسی خطرے کو مدنظر رکھ کر ہی یوکرین نے اپنی ایٹمی پروگرام کو وسعت دی تھی لیکن امریکہ اور اتحادیوں کی چالاکیوں کے سامنے یوکرین بے بس ہوگیا۔ امریکہ اور اتحادیوں نے ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کے بدلے میں کسی قسم کے بیرونی حملے کی صورت میں تحفظ اور ہر طرح کے دفاعی   تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ اور یوں یوکرین جیسا عظیم طاقتور ملک آج صرف ایک غلطی کی وجہ سے روس کے غضب کا شکار ہے۔ وہ واحد غلطی یہ تھی کہ یوکرین نے غیروں کے بہکاوے میں آ کر اپنی دفاعی صلاحیت کم کردی اور سمجھ بیٹھا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں کوئی اور اس کی لڑائی لڑے گا۔ جبکہ یہی نیٹو ممالک اسی یوکرین کو اس وقت بھی تنہا چھوڑ گئے تھے جب یہی روس اس سے کریمیا کو چھین رہا تھا۔ 
سویت یونین کے خاتمے کے بعد روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ وہ یوکرین اور دیگر ایسی ریاستوں کو جو سویت یونین کا حصہ تھیں یورپی یونین میں شامل نہیں کرینگے۔ یوکرین نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور یورپ سے پینگھیں بڑھانا شروع کردیں روس نے یوکرین کو اس حرکت سے باز رکھنے کیلئے مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن یوکرین امریکہ فرانس برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کے دھوکے میں رہا۔ اب چونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی روس اور چین کے گرد گھیرہ تنگ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اور اس لیے یوکرین کو یورپی یونین میں شامل کرنے کا جھانسہ دیکر وہاں اپنا بیس بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے تو ایسے میں روس کے پاس سوائے اس اقدام کو طاقت کے زور پر روکنے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی آخری وقت تک یوکرین کو دلاسے دیتے رہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیز کئی ماہ قبل ہی یہ رپورٹ دے چکے تھے کہ روس یوکرین پر حملہ آور ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود امریکی حکام نے یوکرین کو اندھیرے میں رکھا۔ اب جب روسی افواج نے یوکرین کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو اب یوکرینی صدر امریکہ اور اس کے اتحادیون کو وعدے اور معاہدے یاد دلواتا پھر رہا ہے، اور کہیں سے کوئی مدد نہ پا کر کہنے پر مجبور ہو گیا کہ امریکہ نیٹو اور ان سب کے اتحادیوں نے انہیں تباہی و بربادی کیلئے تنہا چھوڑ دیا ہے۔
امریکہ کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے اپنے اتحادیوں کو ہمیشہ ہی دھوکہ دیا۔ امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے دوسرے ممالک کو استعمال کرتا ہے اور ان کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلاتا ہے۔ جب مطلب نکل جائے تو پھر پلٹ کر خبر تک نہیں لیتا۔ یہی کچھ امریکہ نے یوکرین کا ایٹمی پروگرام رول بیک کروا کر کیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس وقت سرف زبانی بیان بازی تک ہی یوکرین کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ اس وقت یوکرین کو عسکری امداد اور ساتھ کی ضرورت ہے اور امریکہ سمیت تمام اتحادیوں نے روس کے مقابلے میں اپنی فوج بھیجنے سے صاف انکار کردیا۔
امریکہ نے پاکستان کو بھی اسی طرح کئی مرتبہ استعمال کیا لیکن جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت پڑی امریکہ نے پیٹھ دکھا دی۔ امریکہ نے پاکستان پر بھی مختلف طریقوں سے اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کیلئے دباؤ ڈالا اور اپنے ساتھ ہونے کی جھوٹی تسلیاں دیتا رہا لیکن شکر ہے کہ پاکستان اس کے جھانسے میں نہیں آیا۔ بات ہو رہی تھی روس اور یوکرین جنگ کی تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ روس کو یوکرین سے جنگ کی قطعی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی حملے کیلئے کوئی معقول جواز موجود تھا۔ روس دراصل امریکہ سبق سکھانا چاہتا ہے کہ اگر تمہاری شیطانی چالیں نہ رکیں تو تمہارے اتحادیوں کا یہی حشر ہوگا۔ خبروں کے مطابق روس نے پولینڈ کو بھی خبردار کردیا کہ نیٹو شیٹو کے چکر میں آکر روس سے متعلق کوئی غلطی نہ کر بیٹھنا ورنہ یوکرین جیسا ہی حشر ہوگا۔
عالمی منظر نامے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اس وقت دنیا کو دو گروہوں میں بانٹتے دکھائی دیتے ہیں جن میں ایک طرف امریکہ فرانس برطانیہ اسرائیل بھارت اور ان کے دیگر اتحادی ہیں جبکہ دوسری جانب روس چین پاکستان اور ان کے اتحادی ہیں۔ تیزی سے بدلتے حالات سے ظاہر ہے کہ مفادات کا ٹکراؤ دونوں گروہوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جو تیسری عالمی جنگ کی طرف پیشقدمی کو ظاہر کررہا ہے۔ 
یوکرین کو فتح کرنے کے بعد عین ممکن ہے کہ روس اس پر قبضہ نہ کرے تاہم وہ یہاں پر اپنی کٹھ پتلی حکومت ضرور بنائے گا۔ کیونکہ موجودہ حکومت روس کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ جنگ میں فتح یا شکست سے بالاتر ہوکر یوکرین میں ایک چیز جو سب منفرد دکھائی دی وہ وہاں کے صدر ولادیمیر کی ہمت اور بہادری ہے۔ ہم نے عام طور پر دیکھا کہ جہاں کوئی ملک جنگ ہار جائے تو عام طور پر وہاں کے حکمران ملک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال ہم افغانستان میں اشرف غنی اور اس کی کابینہ کے لوگوں کے فرار کی شکل میں دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی قوم کو مشکل وقت میں قابض طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑ کر خود جلاوطنی اختیار کرلی۔ اس کے مقابلے میں یوکرین کا صدر روسی حملے کے بعد جہاں امریکہ اور دیگر نیٹو ممالک کی بے وفائی کا گلہ کرتے دکھائی دے رہا ہے وہاں پر اس کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ جنگ میں شکست کی صورت میں ملک سے بھاگنے کی بجائے لڑ کر مرنے کو ترجیح دے گا۔ اگر تو واقعی یوکرینی صدر اپنی بات پر قائم رہتا ہے اور ڈٹ مقابلہ کرتا ہے تو قطع نظر جنگ میں شکست کے اس کا یہ کردار تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا اور دنیا کی جنگی تاریخ میں اسے ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
روس اور یوکرین بظاہر پاکستان سے بہت دور ہیں لیکن ان کے درمیان جاری اس جنگ کے اثرات سے پاکستان سمیت دنیا کے اور بے شمار ممالک متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پاکستان اور روس کے درمیان ابھی روابط اس نہج پر نہیں ہیں کہ جس سے ہماری مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع ہو تاہم یوکرین کی اس تباہی سے پاکستان کو اس لحاظ سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کہ پاکستان یوکرین سے گندم کی بہت بڑی کھیپ اپنی ضروریات کیلئے منگواتا تھا اس کے علاوہ دفاعی سازوسامان کی تیاری کیلئے پارٹس بھی یوکرین سے ہی آتے تھے۔ ہر سال پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار اور تعلیم کے سلسلے میں یوکرین کا سفر کرتی ہے۔ جو کہ اب ممکن نہیں رہا۔ یوکرین کا خطہ اب کسی بھی طرح روس کی چھترچھاؤں میں جنگ کے اثرات سے اتنی جلدی نہیں نکل پائے گا۔ وہاں کے شہر گاؤں اور گلیاں دہائیوں تک اس جنگ کی تباہ کاری کی داستان سناتے رہینگے۔ اس جنگ سے دنیا اور خاص طور پر یورپ اور امریکہ کے دلدادہ اسلامی ممالک کیلئے بہت بڑا سبق ضرور موجود ہے۔ کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں اپنے دفاعی معاملات میں ذرہ برابر بھی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔ کوئی بھی خواہ آپ کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہو وہ آپ کیلئے کسی سے قطعی نہیں لڑے گا۔ خاص طور پر یورپ یا امریکہ تو کسی صورت کسی سے وفا نہیں کرتے۔ پاکستان کیلئے تو روس اور یوکرین کی لڑائی ایک سبق ہے کہ امریکہ ہو یا اس کے اتحادی یاپھر چین روس اور ان کے اتحادی کسی کے بھی بہکاوے میں آکر ہمیں اپنی دفاع سے غافل نہیں ہونا بلکہ ہمارا اتحاد جس کسی سے بھی ہو اس میں بنیادی نقطہ جو سب سے مقدم ہونا چاہیے وہ ہمارے دفاعی پروگرام کا تحفظ اور اس میں مزید اضافے کیلئے عملی تعاون ہے۔ یوکرین کا دشمن فقط روس تھا جبکہ پاکستان تو چاروں اطراف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے تو اس لیے پاکستان کو اس وقت بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کے پاس اب امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر ایک فیصد بھی بھروسہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ تاریخ کئی بار ثابت کرچکا ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت اور اس کے مفادات کو ہی ترجیح دی ۔

Sunday, February 27, 2022

دنیاوی امتحان کیلئے پاگل انسان اُخروی امتحان سے غافل کیوں ؟؟؟

تحریر :- حافظ نعمان عارف 
"فقط خیالات تک بہت اچھی ہے زندگی"
آج انسان سے مجھے بہت نفرت ہوگئی  ہے۔
آج میں نے دوران پیپر  میں کچھ دیرکلاس کا معائنہ کیا اور جب میں نے حالات کو دیکھاتو  مجھے بہت حیرت ہوئی کہ انسان کتنا گر گیا ہے  کہ انسان ، انسان نہ رہا۔  تین گھنٹے کے پیپر کے لئے چھ ماہ دن رات ایک کرتا ہے    یعنی ایک سو اسی  دن    اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں پیپر میں پاس ہو جاوں  اگر فیل ہو گیا تو مجھے اسکی سزا ملے گی 
اور سزا کیا ملے گی کہ لوگ میری توہین کریں گے  یا  مجھے آگے نہ بڑھنے  پر دکھ  ہو گا 
بس یہی نہ ۔
یار کبھی  ہم نے یہ سوچا ہے کہ یہ سب کچھ کس لیے کرتے ہیں  اس لیے نہ   کہ ہمیں ڈگری  ملے گی  
اور ہم اس ڈگری کو اداروں میں لے جائیں گے اور ادارے والے اس ڈگری کی بناء پر مجھے نوکری دیں گے ۔میں  اس نوکری کی بناء پر رزق کماؤں گا  ۔

https://www.highrevenuegate.com/ivvqk2zz3?key=e4ac6073fadcfd72dbda5ef40abb77be
جب کہ انسان کو یہ بھی پتہ ہے میرے پیدا ہونے سے  پہلے میرے رب نے میرا رزق لکھ دیا ہے اور مجھے اس سے نہ کم ملتا ہے نہ زیادہ   نہ وقت سے پہلے نہ وقت کے بعد بس سوچنے کی بات ہے کہ یہ سب کچھ  انسان کو پتا ہے پھر وہ اتنا کیوں مغرور ہو کر دنیا کی  لغشات  میں گم ہو جاتا ہے ۔ 
خیر پھر میں نے پیپر کے دوران سوچا کہ بس میری ڈگری کی معیاد صرف قبر تک ہے ۔قبر کے بعد  اسکی تو کوئی قدروقیمت نہیں رہے گی جس کے لئے میں  نے بیس  بائیس سال تک محنت کی تھی  اس کا اور میرا ساتھ صرف اور صرف قبر کی اندھیری رات تک تھا بس . . . .  
 پھر میں نے سوچا کہ  مجھے تو دنیا میں  اللّٰہ تعالٰی نے ان پیپروں کے لیے تو نہیں بھیجا مجھے  تو میرے پروردگار نے کوئی اور پیپر حل کرنے کے لیئے بھیجا تھا جسکی سزا مجھے پہلے ہی بتا دی گئ ہے۔اور  اگر نیک کام کرو گے اور دوسروں کو نیکی کی  طرف بلاؤ گے  تو تمھارے لئے آخرت میں  جنت ہے اورانعام ہی انعام ہیں اگر برائی کرو گے اور برے افعال سے باز نہ آو گے تو . . .  ہر کام کی شروعات اور اس کااختتام برائی پرہو گا تو تمھارے لئے جہنم  یعنی دوزخ ہے ۔ اگر کامیاب ہو گئے تو پھر ساری زندگی آرام وسکون  نہ موت کی پریشانی نہ رزق کی نہ نام وشہرت  کی بس صرف سکون ہی سکون۔اور اللّٰہ نہ کرے اگر  ناکام ہوگئے تو بس پھر جہنم کی آگ ہی آگ اورگناہ گار  بدکار لوگ ہی ہونگے  جہنم کی آگ کے بارے میں آپ نے سنا تو ہو گا اور جو کامیاب ہو گۓ تو وہ جنت میں . . . .  
یہ ہمارے لیے لمہ فکریہ ہے کہ ہم کس امتحان کے  لئے پیداہوئے تھے اور کیسےکیسے امتحانات میں مصروف ہو کر رہ گئے ہیں  اللّه پاک ہمیں اصل امتحان کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے . . .  اے اللّه پاک ہمیں دونوں جہانوں میں کامیابی عطا فرما۔۔۔۔۔آمین

Thursday, February 24, 2022

اسلام آباد: عدالت نے مشہور زمانہ نور مقدم قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا، ظاہر جعفر کو سزائے موت کا حکم جاری

اسلام آباد: ‏نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی، کیس کے مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر سمیت چار گرفتار ملزمان ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی کی عدالت میں پیش کر دئیے گئے کمرہ عدالت سے تمام افراد کو باہر نکال دیا گیا میں نے ملزمان سے بات کرنی ہے سب افراد کمرہ عدالت سے باہر نکل جائیں جج کا حکم، 
کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے فاضل عدالت نے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے موت کی سزا سنا دی۔ 

Thursday, February 3, 2022

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنا دیا درجن سے زائد شرپسند انجام کو پہنچ گئے

دہشتگردوں کا بلوچستان کے علاقوں نوشکی اور پنجگور میں حملہ، سیکیورٹی فورسز نے درجن سے زائد شر پسندوں کو انجام تک پہنچا دیا۔
تفصیلات کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب دہشتگروں کے کچھ جتھوں نے بلوچستان کے علاقوں نوشکی اور پنجگور میں داخل ہوکر شر پسندی کی کوشش کی دہشتگردوں کے ایک گروہ نے ایف ہیڈ کوارٹر پر حملے اور قبضے کے خواب دیکھتے ہوئے داخلے کی کوشش کی۔
 تاہم سیکیورٹی فورسز کے بروقت ریسپانس نے ان منصوبے خاک میں ملاتے ہوئے ناصرف ان حملہ آوروں کو موت کی نیند سلا دیا بلکہسیکیورٹی فورسز نے دونوں علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد دہشتگردوں کو انجام تک پہنچا دیا آخری خبروں تک نوشکی اور پنجگور میں حملہ آور دہشتگردوں کو مارنے کے بعد کلیرنس آپریشن جاری ہے۔ذرائع کے مطابق تمام کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز کے چار جوان بھی شہید ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق مارے گئے دہشتگرد بھارتی تربیت یافتہ تھے۔ 

لاہوری سونے کا تاجر کراچی میں لٹ گیا، ساڑھے تین کروڑ روپے سے محروم۔

کراچی میں سال کی سب بڑی ڈکیتی واردات، ڈاکو لاہور کے تاجر سے ساڑھے تین کروڑ روپے لوٹ کر لے گئے، واقعہ کراچی کینٹ اسٹیشن کےقریب داؤدپوتاانڈرپاس کے قریب پیش آیا،
 لٹ جانے والا تاجر لاہورمیں جیولری کا کاروبار کرتا تھا اور کراچی وصولی کیلئے آیا ہوا تھا۔ تاجرگولڈٹریڈٹاورمیں سنارسے 3 کروڑروپے سے زائد رقم وصول کرکے تاجررکشےمیں سوارہوکرجارہاتھا کہ راستے میں موٹرسائیکل سوارڈاکوپیسوں سےبھرابیگ چھین کرفرارہوگئے، 
ذرائع کے مطابق لاہور کا جیولر گولڈ ٹریڈ  سے ساڑھے تین کروڑ  روپے لے کر کینٹ اسٹیشن کی طرف  نکلا تو دو موٹرسا ئیکلوں  پر سوار 4 ملزمان نے پیچھا کیا۔ شک ہونے پرتاجر نے رکشہ ڈرائیو کو سپیڈ بڑھانے کا کہا، رکشہ ڈرائیور نے رکشے کی اسپیڈ  بھی بڑھائی لیکن تیز رفتار ی  کے باعث رکشہ بے  قابو ہو کر الٹ گیا اور ڈاکو پہنچ گئے، موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے رقم سے بھرا بیگ اٹھایا  اور  آرام سے فرار ہوگئے۔ واردات کی اطاع ملنے پر پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر زخمی تاجر اور رکشہ ڈرائیور  کو اسپتال  منتقل کیا، اور واقعے کا مقدمہ بھی درج کیا۔ 
لاہور کے تاجر سے پیش آنے والے واقعے پر آل پاکستان جیولر ایسو سی ایشن کے صدر حاجی ہارون نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ صدر میں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا ہے پولیس تاجروں کو تحفظ نہیں دے پا رہی۔ انہوں نے سندھ حکومت اور آ ئی جی سے مطالبہ کیاکہ واردات کے  ملزمان کے خلاف  فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پولیس  کاکہنا ہےکہ واردات سے متعلق تفتیش شروع کردی ہے۔  واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل   کرکے ملزمان کو ٹریس کیا جائےگا۔

Monday, January 31, 2022

اپوزیشن لیڈر سینٹ یوسف رضا گیلانی نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

اسٹیٹ بنک بل اور دیگر بلز کی منظوری میں حکومت کی معاونت پر تنقید، سینٹ میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن لیڈر سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ  دے دیا۔
 پیر کے روز سینٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ان پر سٹیٹ بنک بل کی منظوری کیلئے معاونت کا الزام لگا۔ جس پر میں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ  پارٹی کو بھجوا دیا ہے۔ 

مہنگائی کی ستائی عوام کے ٹیکسوں پر ڈاکہ، کے پی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہوں اور مراعات میں ایک لاکھ روپے تک اضافے کی تجویزسامنے آگئی۔

عوام کی قسمت میں صرف مہنگائی، عوام کے ٹیکسوں سے ارکان اسمبلی کے وارے نیارے، خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران کی تنخواہوں تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ، تحریک انصاف کی حکومت ایک طرف تو وسائل کی کمی اور خزانے پر اخراجات کا بوجھ کا بہانہ بنا کر مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہا ہے تو دوسری طرف خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی ہی کے دورا اقتدار میں اراکین اسمبلی  اپنے لئے خود ہی ریلیف حاصل کرنےکیلئے سرگرم ہیں، 
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کے تنخواہوں اور مراعات میں ایک لاکھ روپے  تک کے اضافہ کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے فیصلہ  کل  صوبائی کابینہ کے اجلاس میں  کیا  جائے گا، ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور دیگر مراعات کے حوالے سے قائم خصوصی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ اراکین اسمبلی کی  مراعات میں ریسرچر  اور درجہ چھارم کے ملازم کی تنخوا دی جائے گی۔ صوبائی کابینہ اگر اس تجویز کی منظوری دے دیتی ہے تو اس منظوری کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کے ارکان کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے سے  بڑھ کر اڑھائی لاکھ روپے ماہوار ہو جائے گی۔ جس سے خزانہ پر سالانہ لگ بھگ 17 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

Friday, January 28, 2022

بپ جی گیم کا جنون، کھیلنے سے پر منع کرنے پر بیٹے نے ماں اور تین بہن بھائیوں کوقتل کردیا۔

پب جی گیم کے جنون نے پورا گھر اجاڑ دیا، جنونی لڑکے نے گیم کھیلنے سے منع کرنے پر اپنی ماں اور تین بہن بھائیوں کو قتل کردیا۔ لاہور  کے علاقے کاہنہ گجومتہ میں چند روز قبل ماں اور تین بچوں کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں،
 ایس پی سی  آئی اے کی ٹیم نے ملزم کا کھوج لگالیا۔ ذرائع کے مطابق  واردات میں بچ جانے والا بیٹا علی زین ہی قاتل ہے۔
لاہور کے علاقے کاہنہ گجومتہ میں چند روز قبل لیڈی ہیلتھ ورکر ناہید، اسکے بیٹے تیمور سلطان، بیٹیوں ماہ نور فاطمہ اور جنت فاطمہ کو گھر میں فاٸرنگ کر کے قتل کردیا گیا، چار اندھے قتل کی تفتیش کے لیے مختلف تفتیشی ٹیمیں تحقیقات کر رہی ہیں۔
ایس پی سی  آئی اے کی تشکیل دی جانے والی ٹیم نے چار افراد کے اندوہناک واقعے پر مقتولہ ناہید کے سابق شوہر سبطین سمیت متعدد افراد کو شامل تفتیش کرکے تحقیقات کی گئی، لیکن پولیس قاتل کا سراغ نہ لگا۔ سی  آئی اے پولیس کی تفتیشی ٹیم نے مقتولہ کے بیٹے علی زین سے تحقیقات شروع کیں تو ملزم علی زین   بار بار  بیان بدلتا رہا، ذرائع کے مطابق ملزم علی زین نے اعتراف جرم کر لیا، ملزم نےکہاوالدہ  پب جی کھیلنے سے منع کرتی تھی، گیم  کھیلتے ہوئے منع کیا تو طیش میں أکر ماں، بھائی اور دو بہنوں کو قتل کردیا.
ایس ایس پی انویسٹی گیشن عمران کشور کہتے ہیں مقتولہ کے بیٹے علی زین  کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے.

Thursday, January 27, 2022

نوازشریف اور جہانگیر ترین کی تاحیات نااہلی کیخلاف درخواست دائر۔

*سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کیخلاف آئینی درخواست دائر*
اسلام آباد: نواز شریف، جہانگیر ترین تاحیات نا اہلی معاملہ، سپریم کورٹ میں تاحیات نااہلی کیخلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی۔
صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون نے تاحیات نااہلی کیخلاف درخواست دائر کی۔ جس میں موقف اپنایا گیا کہ تاحیات نااہلی کے اصول کا اطلاق صرف انتخابی تنازعات میں استعمال کیا جائے، آرٹیکل 184/3 کے اختیار کے تحت سپریم کورٹ بطور ٹرائل کورٹ امور انجام نہیں دے سکتی، آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہیں ملتا، عدالتی فیصلے کیخلاف اپیل کا حق نہ ملنا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
https://www.highrevenuegate.com/ivvqk2zz3?key=e4ac6073fadcfd72dbda5ef40abb77be