Add 1

Saturday, May 27, 2023

پی ڈی ایم کی نیندیں اڑ گٸیں، عمران خان کو بڑی فتح مل گٸی

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یعنی پی ڈی ایم کوبہت بڑی ناکامی کا سامنا کرنا پڑگیا۔ 
حکومتی اتحاد کی جماعتیں جو نو مٸی کے واقعات کے بعد یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ پی ٹی آٸی اور عمران خان کی صورت میں انتخابات میں ان کی سب سے بڑی رکاوٹ اب ختم ہوجاٸے گی۔ اور عمران خان کی مقبولیت میں خاطرخواہ کمی واقع ہوجاٸے گی جس سے آنیوالے الیکشن میں ان کی جیت یقینی ہوگی۔ تو ایسے میں ایک تازہ ترین سروے رپورٹ نے تمام اتحادی جماعتوں اور ان کے سہولتکاروں کو حیران کردیا۔ 
سروے رپورٹ میں دکھایا گیا کہ نومٸی کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنماٶں اور کارکنوں کے خلاف جس طرح کا کریک ڈاٶن کیا گیا اور ریاستی مشینری اور اداروں کو استعمال کرکے تحریک انصاف کے لوگوں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اور ملکی تاریخ کے بدترین حالات کا سامنا کرنے کے باوجود عمران خان اور ان کی جماعت کی مقبولیت میں کمی نہیں ہوٸی بلکہ اس میں حیران کن اضافہ ہوگیا۔ 
نو مٸی واقعات سے چند روز قبل ایک سروے رپورٹ سامنے آٸی تھی جس کے مطابق عمران خان کو پاکستان میں شہباز شریف، مریم نواز، بلاول بھٹو، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے مقابلے میں ستر فیصد سے زاٸد مقبولیت حاصل تھی جبکہ مریم نواز کو لگ بھگ سترہ فیصد اور دیگر کو ایک سے چھ فیصد تک کی مقبولیت تھی۔ پھر اچانک عمران خان نو مٸی کو گرفتار ہوگٸے اور ان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران جلاٶ گھیراٶ اور تشدد کے واقعات رونما ہوگٸے۔ حکومت نے ان تمام تر واقعات کی ذمہ داری پاکستان تحریک انصاف پر ڈال دی اور انیس سو اکہتر مشرقی پاکستان کے کریک ڈاٶن کے بعد ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاٶن تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماٶں کے خلاف شروع کیا گیا۔ گرفتار کارکنوں اور رہنماٶں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا اور پارٹی کے دیرینہ اور نامور رہنماٶں اور متحرک کارکنوں نے بڑی تعداد میں مجبور ہو کر تحریک انصاف اور عمران خان سے راہیں جدا کرلیں۔ حکومتی اداروں کی طرف سے پی ٹی آٸی کے خلاف کریک ڈاٶن اور پکڑ دھکڑ کی کاررواٸیاں اب بھی جاری ہیں۔ 
ان حالات میں پی ڈی ایم جماعتیں سمجھ بیٹھی تھیں کہ وہ پی ٹی آٸی کو کرش کرنے اور عمران خان کو شکست دینے میں کامیاب ہوگٸے ہیں۔ لیکن ایسے میں ایکسپریس ٹریبیون نامی نامور اخبار کے تازہ ترین سروے رپورٹ نے عمران خان کے مخالفین کو حیران اور پریشان کردیا۔ 
سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ پی ٹی آٸی کو غیر مقبول کرنے کے حکومتی تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان کی عوامی مقبولیت میں حیران کن اضافہ ہوگیا ہے۔ 
تٸیس مٸی کو کیے گٸے اس سروے میں کل ایک لاکھ پچاسی ہزار پانچ سو چودہ افراد نے حصہ لیا۔ یہ سروے سماجی رابطوں کی ساٸٹ ٹویٹر پر عمل میں لایا گیا۔ سروے نتاٸج کے مطابق اکانوے فیصد پاکستانیوں نے عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ان کے مدمقابل ن لیگ کو فقط چار فیصد، پیپلز پارٹی کو تین فیصد اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت جے یو آٸی کو دو فیصد لوگوں نے ووٹ دیٸے۔ 


ایکسپریس ٹریبیون کے اس حالیہ سروے نے پی ڈی ایم جماعتوں اور ان کے اتحادیوں کو پریشان کرکے رکھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور دیگر عمران خان مخالف پارٹیوں کے رہنماٶں کی طرف سے بہت سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف پی ٹی آٸی رہنماٶں اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ کے دوران تشدد کی مبینہ ویڈیوز اور تصاویر کو واٸرل کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز ن لیگ کی چیف ایگزیکٹو مریم نواز نے عمران خان اور ان کے متوقع ٹکٹ ہولڈروں کو دھمکیاں دیتے ہوٸے کہا تھا کہ ” میں دیکھتی ہوں تمہارا ٹکٹ لیتا کون ہے“۔ مریم نواز کے اس بیان کے بعد عوامی سطح پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ تاہم اس سے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والےدن عمران خان اور ان کے کارکنوں پر بہت مشکل اور صبر آزما ہونگے۔ حکومت تحریک انصاف کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کیلٸے کسی بھی حد تک جانے کیلٸے تیار نظر آ رہی ہے۔ 

نجم سیٹھی بھی عمران خان کے حق میں بول پڑے، بڑا انکشاف کردیا۔


چیٸرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے بڑا انکشاف کردیا۔ وفاقی وزیرصحت قادر پٹیل کی جانب سے چیٸرمین تحریک انصاف عمران خان پر نشہ کرنے اور شراب نوشی کے الزام پر سینٸر صحافی و چیٸرمین پی سی پی نجم سیٹھی عمران خان کے حق میں بول پڑے۔

چیٸرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ کرکٹرز میں سرفراز نواز عمران خان کے بدترین مخالف تھے۔  سرفراز نواز نے مجھے کہا تھا کہ مختلف موقعوں پر ہم سب کرکٹرز شراب یا بیئر منگواتے تھے جبکہ عمران خان ہمیشہ دودھ پیتے تھے سرفراز نواز کے مطابق عمران خان نے کبھی شراب نہیں پی۔
یادرہے کہ جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر صحت قادر پٹیل نے عمران خان پر شراب نوشی کا الزام لگا دیا تھا۔ جس کی وجہ سے قادر پٹیل کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 

وفاقی وزیر قادر پٹیل کی واٹ لگ گٸی۔۔

Click for More

وفاقی وزیر صحت قادر پٹیل کو عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس مہنگی پڑ گٸی۔
جمعہ کے روز وفاقی وزیر صحت و پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم و چیٸرمین تحریک انصاف عمران خان پر سنگین قسم کے الزامات لگاٸے۔ انہوں نے کہا کہ نو مٸی کو جب عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت پمز ہسپتال میں ان کا طبی معاٸنہ ہوا۔ قادر پٹیل کے مطابق اس معاٸنہ رپورٹ میں ڈاکٹروں نے عمران خان کی دماغی حالت ٹھیک نہ ہونا بتایا اوران کے بلڈ اور یورین نمونوں میں شراب اور ہیروٸن بھی پایا گیا۔ 
وفاقی وزیر کے ان الزامات پر شہریوں نے سوشل میڈیا پر انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔ اور قادر پٹیل کی تعلیمی قابلیت اور ان کی اپنی دماغی حالت پر سوالات اٹھا دیٸے۔ سوشل میڈیا پر وزیرصحت کی پریس کانفرنس کے برعکس ایک صارف نے عمران خان کی اوریجنل میڈیکل رپورٹ بھی شیٸر کردی جس میں قادر پٹیل کی جانب سے لگاٸے گٸے الزامات کی تردید کی گٸی۔ اور نہ صرف عمران خان کو مکمل فٹ قرار دیا گیا بلکہ ان کے خون اور پیشاب کے سیمپل میں کسی قسم کے نشہ آور چیز کی موجودگی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ایک صارف نے سوشل ساٸٹ پر لکھا کہ جب عمران خان کو گرفتار کیا گیا اس وقت خود قادر پٹیل مبینہ طور پر نشے میں جھوم رہا تھا۔ 

Friday, May 26, 2023

دیکھتی ہوں کون تمہارا ٹکٹ لیتا ہے، مریم نواز کی عمران خان کو دھمکی

Click Here For More” دیکھتی ہوں تمہارا ٹکٹ لیتا کون ہے۔ مریم نواز“
ن لیگ کی مرکزی رہنما مریم نواز نے چیٸرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو مخاطب کرتے ہوٸے دھمکی دی کہ میں دیکھتی ہوں کون تمہارا ٹکٹ لیتا ہے۔ 
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ” ‏کہتا ہے جس نے جانا ہے جائے میں جس کو بھی ٹکٹ دوں گا وہ جیت جائے گا، میں دیکھتی ہوں تمہارے جیسے غدار وطن کا ٹکٹ کون لیتا ہے، تم ٹکٹ لے کر گھومتے رہو گے کوئی تمہارا ٹکٹ لینے والا نہیں ہو گا-“

Saturday, March 12, 2022

سوشل میڈیا کی مدد سے عوام کے مسائل کے حل

تحریر: سوشل میڈیا کی مدد سے عوام کے مسائل کے حل

مصنف : رانا عابد حسین

آج کل کے دور میں سوشل میڈیا ایک بہت عام سی چیز ہو گئی ہے پہلے لوگ فیس بک اور ٹیوٹر صرف اس لئے استعمال کرتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے بات کر سکیں لیکن آج کے دور میں لوگ سوشل میڈیا اس لئے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مسئلوں کا حل حکومت سے کروا سکے پاکستان تحریک انصاف حکومت سے پہلے ایسے اقدامات نہیں کیے جاتے تھے سوشل میڈیا پر لوگوں کے مسائل حل نہیں کئے جاتے تھے لیکن اب جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت آئی ہے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان ڈیجیٹل میڈیا بنایا اور ہر منسٹری کیلئے فوکل پرسن بنائے گئے تاکہ فوکل پرسن سوشل میڈیا پر رہتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کروا سکیں تاکہ عوام کو پتہ لگے کہ ان کی حکومت ان کے درمیان ہی ہے پہلے جو کام ایک سال میں ہوا کرتا تھا عدل و انصاف بہت عرصے بعد ملتا تھا آج صرف ٹیوٹر پر جا کر پوسٹ کرنے سے اور حکومتی اداروں کو ٹیگ کرنے سے آپکا مسئلہ چند گھنٹوں میں حل ہو جاتا ہے یہ ساری کی ساری محنت پنجاب حکومت کے فوکل پرسنز کو جاتی ہے اور اس کا سارا کا سارا کریڈٹ کو حکومت پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ سوشل میڈیا کو اہمیت نہ دیتے تو آج پاکستان اتنا تبدیل نہ ہوتا آج کے دور میں رہتے ہوئے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں ہوتے ہوئے کتنا اچھا کام کر رہی ہے اور کتنے اچھے طریقے سے سوشل میڈیا کو ہینڈل کر رہی ہے اتنی اچھی کارکردگی شوشل میڈیا پر پہلے آج تک کسی حکومت کی نہیں رہی۔ وہ بے شک پاکستان کے وزیر اعظم کے فوکل پرسن ارسلان خالد ہو یا سی ایم پنجاب کے فوکل پرسن ہوں اظہر مشوانی ہوں یا وزیر بلدیات کے فوکل پرسن وقاص امجد ہو یا وہ بے شک سپورٹس کے فوکل پرسن زبیر خالد ہو یا فوکل پرسن چائلڈ پروٹیکشن ارسلان نعیم ہو یا ہیومن رائٹس کے فوکل پرسن فیصل کھوکھر ہوں سب اتنی تیزی کے ساتھ ایکشن لیتے ہیں مسائل چند گھنٹوں میں حل ہو جاتے ہیں پہلے یہی مسائل نواز شریف صاحب خود جا کر یا شہباز شریف صاحب خود جاکر حل کرواتے تھے لیکن آج یہ ہی کام سوشل میڈیا پر بیٹھتے ہوئے فوکل پرسنز کر رہے ہوتے ہیں آپ اس سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کتنے اچھے طریقے سے لوگوں کے مسائل سن رہی ہے اور ان کو بغیر کسی سفارش کے جلد از جلد حل کروانے کی بھی کوشش کر رہی ہے اور اس میں میں اپنی عوام اپنے نوجوانوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ بھی سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کریں اور دوسروں کی اس پلیٹ فارم سے مدد بھی کریں تاکہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر وہ بھی ایک اچھی قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جب ہم سب ایک ضرورت مند کی سوشل میڈیا پر مدد کریں گے اور اس کی آواز حکومت تک پہنچانے میں اس کی مدد کریں گے تو مجھے یقین ہے کل کو جب آپ کو خود کے لیے اپنی آواز پہنچانے کی ضرورت ہوگی تو سب لوگ آپ کی مدد کے لیے پہنچیں گے جن کی مدد کے لیے آ پہنچے تھے اور ایسے آپ کی آواز پہنچے گی منٹوں میں آپ کے مسائل حل ہوں گے جب حکومت آپ کو اتنے طریقہ سے ڈیل کر رہی ہے اور آپ کے مسائل حل کر رہی ہے تو کچھ آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ حکومت کے لیے اور اس قوم کے لئے کچھ نہ کچھ کریں تاکہ ہم ایک عظیم قوم بن سکیں اور اس میں میں تمام فوکل پرسنز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو دن رات اس قوم کے لئے بلا تفریق کام کر رہے ہیں اور بغیر کسی لالچ کے مسائل حل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں بے شک یہی وہ لوگ ہیں جو ہماری قوم کا اثاثہ ہے

Tweeter Account: @AbidRana876
  About writer: Rana Abid is a freelancer writer and contributer of Weekly Hamara Maqsad Multan ( A project of Rindaan Media Group Pakistan). Rana Abid has experties on Politics and Current afairs

وکیل اور خدمت

تحریر: وکیل اور خدمت

مصنف :عابد حسین رانا

آج ہم ذکر کریں گے ممتاز قانون دان عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا آپ کا شمار وزیرآباد اور گردونواح کے اعلیٰ ترین وکلاء میں ہوتا ہے
عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ کا تعلق وزیرآباد محلہ کانواں والا کے متوسط کاروباری شخصیت حاجی فیروز دین مرحوم کے گھرانے سے ہیں جو ان کے دادا تھے
آپ کی پیدائش 14 مارچ 1974 کو میں ہوئی آپ کا تعلق آرائیں برادری سے ہے
میٹرک تک تعلیم پبلک ہائی اسکول وزیرآباد سے حاصل کی ایف ایس سی FSC مولانا ظفر علی خان ڈگری کالج وزیرآباد سے کیا بعد ازاں بی کام b.com اور ڈی سی ایم اے DCMA ایم اے MA پنجاب یونیورسٹی لاہور اور بی بی اے BBA علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے کرنے کے بعد ایل ایل بی LLB کی ڈگری لاء کالج پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی آپ تعلیم کے ساتھ سپورٹس مین بھی تھے اچھے فٹبالر ہونے کی وجہ سے دورانِ تعلیم وزیرآباد کی تھری سٹار فٹبال کلب اور لاء کالج پنجاب یونیورسٹی کے کپتان بھی رہے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد فوجداری وکالت کا آغاز آفتاب احمد باجوہ سابقہ سیکرٹری سپریم کورٹ آف پاکستان کے آفس میں ہی سال 2000 سے کیا ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد لاہور ہی میں اپنا ذاتی آفس بنا کر وکالت شروع کی تقریباً 7 سال لاہور میں وکالت کے بعد نومبر 2006 میں واپس وزیرآباد آ کر مدینہ مارکیٹ میں آفس بنا کر وزیرآباد میں باقائدہ وکالت شروع کی اور دو تین سال کے اندر ہی تحصیل وزیرآباد کے فوجداری وکلاء میں ایک الگ مقام حاصل کیا سال 2010/2011 میں بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری منتخب ہوئے سیاست میں قدم رکھا تو ابتدائی دنوں میں تحریک انصاف کے سیکرٹری اور بعد میں تحصیل صدر کے فرائض بھی سر انجام دیتے رہے مگر وکالت میں مصروفیت کی وجہ سے لوکل سیاست کو خیر باد کہہ دیا آپ نے مشہور مقدمات کی پیروی کرتے ہوئے لاہور راولپنڈی گوجرانولہ گجرات نوشہرہ ورکاں میں فرائض سر انجام دیئے حال ہی میں گوجرانولہ بار کونسل کا الیکشن لڑا اور اب تک وزیرآباد میں الیکشن لڑنے والوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیئے اس وقت وزیرآباد گوجرانولہ اور لاہور ہائی کورٹ میں یکساں مصروف ہیں آپ نے 300 سے زائد 302 کے مقدمات کی پیروی کی اور ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا وزیرآباد اور گردونواح کی اعلیٰ شخصیات کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے ان کے کیسسز کی پیروی عمران عصمت چوہدری ایڈووکیٹ ہی کریں
Twitter Account Handel
@AbidRana876
AbidRana876
  About writer: Rana Abid is a freelancer writer and contributer of Weekly Hamara Maqsad Multan ( A project of Rindaan Media Group Pakistan). Rana Abid has experties on Politics and Current afairs .

پاکستانی عوام کا مستقبل اور حکومتی ترجیحات

تحریر: عوام کامستقبل اور حکومت 
مصنف:عابد حسین رانا  
کبھی ہمارا دھیان اس طرف گیا ہی نہیں کے ہماری اصل پرابلم کیا ہے ہم ہر چیز کا ذمہ دار حکومت وقت اور حاکم وقت کو ٹھہراتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں

اخبار کے پہلے پیج پر ہم ایک مہلک بیماری کا ذکر سنتے ہیں مثلاً ہارٹ اٹیک جس کی وجہ ناقص گھی سے کولیسٹرول کا بڑھنا ہوتا ہے۔

اور اخبار کی چھٹے پیج پر ایک خبر چھپی ہوتی ہے جس میں گھی کی ایک ایسی پروڈکٹ کی مشہوری دی جاتی ہے جو ابھی مارکیٹ میں لانچ ہی نہیں ہوئی ہوتی۔

ہم نے کیا کھانا ہے اس کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتے ہے اور ہم نے کیا پہننا ہے کیسا پہننا ہے اس کا بھی فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

ہمارے ملک میں بڑھتے جرائم، منشیات، چوری، ڈاکہ اس سب کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہوتا ہے جس کا ہمیں علم ہی نہیں ہوتا وہ ہاتھ ہے ایک بزنس میں کا ہاتھ۔

ہماری روز مرہ کی ضرورت ایک نزنس مین طے کرتا حتیٰ کے ایک میڈیسن جو ہم نے کھانی ہوتی ہے جو ڈاکٹر لکھتا ہے وہ بھی ایک بزنس مین کی ایڈوائز پر لکھی جاتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ حاکم وقت کرتا ہے لیکن حاکمِ وقت کے مستقبل کا فیصلہ ایک بزنس مین کرتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو آپ کو ہر اچھے دانشمند جنہوں نے عوام کے مستقبل کا فیصلہ اپنی منشاء کی مطابق کرنے کی کوشش کی ان کو سولی چڑھا دیا گیا۔

چاہے وہ لیاقت علی خان کو لگنے والی گولی ہوئی ہو یا بھٹو کی پھانسی، ضیاء الحق کا حادثہ ہو یا بے نظیر بھٹو کا قتل ان سب کی تحقیقات کی جائیں تو سب کے پیچھے بزنس مین کا ہاتھ ملے گا۔

پھر انہی کی بزنس مین لوگوں نے دوبارہ فرنٹ پر آ کر حکومت بھی کی اور بزنس بھی جس میں زرداری اور نوازشریف ایک زندہ مثال ہیں سیاست دانوں کو بے رحمی سے موت کے گھات اتار دیا گیا لیکن بزنس مافیا کامیاب بزنس اور غریبوں کی کھال اتار حکومت بھی کر گیا۔

ہم اتنے جاہل نہیں ہیں کے سمجھ نہ سکیں پچھلے اڑھائی سالوں میں کی جانے والی تحقیقات میں آپ اور ہم سب نے دیکھا ٹارکٹ کلنگ، سے لے کر بنک ڈکیتوں تک جو قرضے کی صورت میں لے کر معاف کرائے گے، بچوں کے اغواء سے بچوں کے ریپ تک، آپ نے دیکھا کی ان کا رشتہ کہیں نا کہیں کسی بڑے بزنس مین کے ساتھ ملتا ہے۔

ہر حکومت میں بزنس مین کی مرضی سے لوگ بٹھائے جاتے ہیں جو حکومت کے ہر درست اور عوام دوست پیکج میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔

موجودہ اسمبلی میں بیٹھنے والی اپوزیشن ٹوٹل بزنس مین اپوزیشن ہے جو پچھلے 73 سالوں سے لیگل اور الیگل عوام کو چونا لگاتی رہی یہ نہیں کے حکومتی اراکین سب دودھ کے دھولے ہوئے ہیں %35 لوگوں کا تعلق بھی بزنس مافیا سے جُڑا ہوا ہے۔

جن میں ایک چھوٹی سی مثال امین علی گنڈا پور اور جہانگیر ترین دنیا کے سامنے ہیں۔ اگر اس تحریر سے کسی کا شک و شبہ ہو تو آذاد کشمیر میں پلانٹ کیے جانے والی سردار تنویر الیاس کا ماضی اور مستقبل آپ کے سامنے ہے۔

اور سابقہ ن لیگ حکومت کا ٹھیکداری نظام بھی آپ کے سامنے ہے پہلے محکموں کے ذریعے کام ہوتے تھے اس حکومت نے ترقیاتی بجٹ جو مطلقہ محکموں کو دیا جانا تھا وہ برائے راست ایم ایل اے کو دیا گیا۔

جس میں سے 5/5 ۔ 10/10 لاکھ مختلف علاقوں میں چمچوں کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کھانے کو دیا گیا اگر یہ بزنس مین اور ٹھیکداری نظام حکومت کو بدلی نہیں کیا گیا تو ہماری نسلوں کا مستقبل ایک سیاست دان نہیں بلکہ تنویر الیاس جیسا بزنس مین اور فاروق طاہر جیسا ٹھیکدار لکھے گا۔
ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ضامن تنویر الیاس کے محل کے نوکر یا فاروق طاہر کی بوکلین آپریٹر، یا ڈمپر ڈرائیو لکھیں گے۔۔
Twitter Account Handel
@AbidRana876
  About writer: Rana Abid is a freelancer writer and contributer of Weekly Hamara Maqsad Multan ( A project of Rindaan Media Group Pakistan). Rana Abid has experties on Politics and Current afairs. 

فقط خیالات تک بہت اچھی ہے زندگی


"فقط خیالات تک بہت اچھی ہے زندگی"
آج انسان سے مجھے بہت نفرت ہوگئی  ہے۔

تحریر :- حافظ نعمان عارف 

آج میں نے دوران پیپر  میں کچھ دیرکلاس کا معائنہ کیا اور جب میں نے حالات کو دیکھاتو  مجھے بہت حیرت ہوئی کہ انسان کتنا گر گیا ہے  کہ انسان ، انسان نہ رہا۔  تین گھنٹے کے پیپر کے لئے چھ ماہ دن رات ایک کرتا ہے    یعنی ایک سو اسی  دن    اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں پیپر میں پاس ہو جاوں  اگر فیل ہو گیا تو مجھے اسکی سزا ملے گی 
اور سزا کیا ملے گی کہ لوگ میری توہین کریں گے  یا  مجھے آگے نہ بڑھنے  پر دکھ  ہو گا 
بس یہی نہ ۔
یار کبھی  ہم نے یہ سوچا ہے کہ یہ سب کچھ کس لیے کرتے ہیں  اس لیے نہ   کہ ہمیں ڈگری  ملے گی  
اور ہم اس ڈگری کو اداروں میں لے جائیں گے اور ادارے والے اس ڈگری کی بناء پر مجھے نوکری دیں گے ۔میں  اس نوکری کی بناء پر رزق کماؤں گا  ۔
جب کہ انسان کو یہ بھی پتہ ہے میرے پیدا ہونے سے  پہلے میرے رب نے میرا رزق لکھ دیا ہے اور مجھے اس سے نہ کم ملتا ہے نہ زیادہ   نہ وقت سے پہلے نہ وقت کے بعد بس سوچنے کی بات ہے کہ یہ سب کچھ  انسان کو پتا ہے پھر وہ اتنا کیوں مغرور ہو کر دنیا کی  لغشات  میں گم ہو جاتا ہے ۔ 
خیر پھر میں نے پیپر کے دوران سوچا کہ بس میری ڈگری کی معیاد صرف قبر تک ہے ۔قبر کے بعد  اسکی تو کوئی قدروقیمت نہیں رہے گی جس کے لئے میں  نے بیس  بائیس سال تک محنت کی تھی  اس کا اور میرا ساتھ صرف اور صرف قبر کی اندھیری رات تک تھا بس . . . .  
 پھر میں نے سوچا کہ  مجھے تو دنیا میں  اللّٰہ تعالٰی نے ان پیپروں کے لیے تو نہیں بھیجا مجھے  تو میرے پروردگار نے کوئی اور پیپر حل کرنے کے لیئے بھیجا تھا جسکی سزا مجھے پہلے ہی بتا دی گئ ہے۔اور  اگر نیک کام کرو گے اور دوسروں کو نیکی کی  طرف بلاؤ گے  تو تمھارے لئے آخرت میں  جنت ہے اورانعام ہی انعام ہیں اگر برائی کرو گے اور برے افعال سے باز نہ آو گے تو . . .  ہر کام کی شروعات اور اس کااختتام برائی پرہو گا تو تمھارے لئے جہنم  یعنی دوزخ ہے ۔ اگر کامیاب ہو گئے تو پھر ساری زندگی آرام وسکون  نہ موت کی پریشانی نہ رزق کی نہ نام وشہرت  کی بس صرف سکون ہی سکون۔اور اللّٰہ نہ کرے اگر  ناکام ہوگئے تو بس پھر جہنم کی آگ ہی آگ اورگناہ گار  بدکار لوگ ہی ہونگے  جہنم کی آگ کے بارے میں آپ نے سنا تو ہو گا اور جو کامیاب ہو گۓ تو وہ جنت میں . . . .  
یہ ہمارے لیے لمہ فکریہ ہے کہ ہم کس امتحان کے  لئے پیداہوئے تھے اور کیسےکیسے امتحانات میں مصروف ہو کر رہ گئے ہیں  اللّه پاک ہمیں اصل امتحان کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے . . .  اے اللّه پاک ہمیں دونوں جہانوں میں کامیابی عطا فرما۔۔۔۔۔آمین

Sunday, March 6, 2022

روس ، یوکرین جنگ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا چہرہ ایکبار پھر بے نقاب.

نام کالم: عرضداشت 
تحریر: سعید مزاری (Rndaannews@gmail.com) 
عنوان:  روس ، یوکرین جنگ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا چہرہ ایکبار پھر بے نقاب
روس نے یوکرین پر حملہ کرکے اس کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا عین ممکن ہے کہ جب تک یہ مضمون شائع ہو اس وقت تک روس یوکرین کے دارلحکومت پر بھی قابض ہو چکا ہو۔ کیونکہ تاوقت تحریر آمدہ اطلاعات کے مطابق روسی فوج اور یوکرینی افواج کے درمیان یوکرین کے دارالحکومت کیئف کے قریب گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ 
یوکرین سابق سویت یونین سے الگ ہونیوالے تمام ممالک اور ریاستوں میں رقبے، آبادی، فوجی طاقت، قدرتی ذخائر کے علاوہ سیاسی سماجی اور معاشی وسائل کے حوالے سے سب سے بڑا ملک ہے۔ یوکرین سوویت یونین سے آزاد ہونیوالے ممالک میں سے وہ واحد ملک بھی ہے جس کے پاس دنیا کا تیسرا بڑا ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ تھا۔ یوکرین دنیا کی کل ضرورت کا تیس فیصد گندم پیدا کرنیوالا ملک ہے جبکہ پورے یورپ کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کیلئے یورینیم فراہم کرتا ہے۔ یوکرین کی صنعتی شعبے کو بھی پوری دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ 
یوکرین کی فوج عددی لحاظ سے پاکستان کی فوج سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ یوکرین کی فوج عراق، افغانستان سمیت نیٹو کے جھنڈے تلے ہر محاذ پر ہمیں برسرپیکار دکھائی دیا۔ دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ نیٹو کے چھترسایہ میں امریکی مفاد میں جتنی جنگیں جن جن ممالک میں لڑی گئیں ان سب میں یوکرین کی فوجی طاقت قربانی کے بکرے کی طرح پیش پیش رہی۔ دراصل امریکہ، فرانس، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کو بے تحاشہ سبز باغ دکھائے گئے یہاں تک کہ 1999 میں یوکرین سے سی ٹی بی ٹی جیسے خود کش معاہدے پر دستخط کروا کر اس کے تمام ایٹمی ہتھیار امریکہ اور اتحادیوں نے لے لیے اور یوکرین کا سارا ایٹمی پروگرام ختم کروا دیا۔ یوکرین کو روسی حملے کا خدشہ ہمیشہ سے تھا اور اسی خطرے کو مدنظر رکھ کر ہی یوکرین نے اپنی ایٹمی پروگرام کو وسعت دی تھی لیکن امریکہ اور اتحادیوں کی چالاکیوں کے سامنے یوکرین بے بس ہوگیا۔ امریکہ اور اتحادیوں نے ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کے بدلے میں کسی قسم کے بیرونی حملے کی صورت میں تحفظ اور ہر طرح کے دفاعی   تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ اور یوں یوکرین جیسا عظیم طاقتور ملک آج صرف ایک غلطی کی وجہ سے روس کے غضب کا شکار ہے۔ وہ واحد غلطی یہ تھی کہ یوکرین نے غیروں کے بہکاوے میں آ کر اپنی دفاعی صلاحیت کم کردی اور سمجھ بیٹھا کہ کسی بھی خطرے کی صورت میں کوئی اور اس کی لڑائی لڑے گا۔ جبکہ یہی نیٹو ممالک اسی یوکرین کو اس وقت بھی تنہا چھوڑ گئے تھے جب یہی روس اس سے کریمیا کو چھین رہا تھا۔ 
سویت یونین کے خاتمے کے بعد روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ وہ یوکرین اور دیگر ایسی ریاستوں کو جو سویت یونین کا حصہ تھیں یورپی یونین میں شامل نہیں کرینگے۔ یوکرین نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی اور یورپ سے پینگھیں بڑھانا شروع کردیں روس نے یوکرین کو اس حرکت سے باز رکھنے کیلئے مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن یوکرین امریکہ فرانس برطانیہ اور ان کے اتحادیوں کے دھوکے میں رہا۔ اب چونکہ امریکہ اور اس کے اتحادی روس اور چین کے گرد گھیرہ تنگ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے اور اس لیے یوکرین کو یورپی یونین میں شامل کرنے کا جھانسہ دیکر وہاں اپنا بیس بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے تو ایسے میں روس کے پاس سوائے اس اقدام کو طاقت کے زور پر روکنے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی آخری وقت تک یوکرین کو دلاسے دیتے رہے۔ امریکی خفیہ ایجنسیز کئی ماہ قبل ہی یہ رپورٹ دے چکے تھے کہ روس یوکرین پر حملہ آور ہوگا۔ لیکن اس کے باوجود امریکی حکام نے یوکرین کو اندھیرے میں رکھا۔ اب جب روسی افواج نے یوکرین کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تو اب یوکرینی صدر امریکہ اور اس کے اتحادیون کو وعدے اور معاہدے یاد دلواتا پھر رہا ہے، اور کہیں سے کوئی مدد نہ پا کر کہنے پر مجبور ہو گیا کہ امریکہ نیٹو اور ان سب کے اتحادیوں نے انہیں تباہی و بربادی کیلئے تنہا چھوڑ دیا ہے۔
امریکہ کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے اپنے اتحادیوں کو ہمیشہ ہی دھوکہ دیا۔ امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کیلئے دوسرے ممالک کو استعمال کرتا ہے اور ان کے کاندھے پر بندوق رکھ کر چلاتا ہے۔ جب مطلب نکل جائے تو پھر پلٹ کر خبر تک نہیں لیتا۔ یہی کچھ امریکہ نے یوکرین کا ایٹمی پروگرام رول بیک کروا کر کیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی اس وقت سرف زبانی بیان بازی تک ہی یوکرین کا ساتھ دے رہے ہیں جبکہ اس وقت یوکرین کو عسکری امداد اور ساتھ کی ضرورت ہے اور امریکہ سمیت تمام اتحادیوں نے روس کے مقابلے میں اپنی فوج بھیجنے سے صاف انکار کردیا۔
امریکہ نے پاکستان کو بھی اسی طرح کئی مرتبہ استعمال کیا لیکن جب بھی پاکستان کو اس کی ضرورت پڑی امریکہ نے پیٹھ دکھا دی۔ امریکہ نے پاکستان پر بھی مختلف طریقوں سے اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنے کیلئے دباؤ ڈالا اور اپنے ساتھ ہونے کی جھوٹی تسلیاں دیتا رہا لیکن شکر ہے کہ پاکستان اس کے جھانسے میں نہیں آیا۔ بات ہو رہی تھی روس اور یوکرین جنگ کی تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ روس کو یوکرین سے جنگ کی قطعی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی حملے کیلئے کوئی معقول جواز موجود تھا۔ روس دراصل امریکہ سبق سکھانا چاہتا ہے کہ اگر تمہاری شیطانی چالیں نہ رکیں تو تمہارے اتحادیوں کا یہی حشر ہوگا۔ خبروں کے مطابق روس نے پولینڈ کو بھی خبردار کردیا کہ نیٹو شیٹو کے چکر میں آکر روس سے متعلق کوئی غلطی نہ کر بیٹھنا ورنہ یوکرین جیسا ہی حشر ہوگا۔
عالمی منظر نامے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار اس وقت دنیا کو دو گروہوں میں بانٹتے دکھائی دیتے ہیں جن میں ایک طرف امریکہ فرانس برطانیہ اسرائیل بھارت اور ان کے دیگر اتحادی ہیں جبکہ دوسری جانب روس چین پاکستان اور ان کے اتحادی ہیں۔ تیزی سے بدلتے حالات سے ظاہر ہے کہ مفادات کا ٹکراؤ دونوں گروہوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے جو تیسری عالمی جنگ کی طرف پیشقدمی کو ظاہر کررہا ہے۔ 
یوکرین کو فتح کرنے کے بعد عین ممکن ہے کہ روس اس پر قبضہ نہ کرے تاہم وہ یہاں پر اپنی کٹھ پتلی حکومت ضرور بنائے گا۔ کیونکہ موجودہ حکومت روس کو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ جنگ میں فتح یا شکست سے بالاتر ہوکر یوکرین میں ایک چیز جو سب منفرد دکھائی دی وہ وہاں کے صدر ولادیمیر کی ہمت اور بہادری ہے۔ ہم نے عام طور پر دیکھا کہ جہاں کوئی ملک جنگ ہار جائے تو عام طور پر وہاں کے حکمران ملک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں جس کی تازہ ترین مثال ہم افغانستان میں اشرف غنی اور اس کی کابینہ کے لوگوں کے فرار کی شکل میں دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی قوم کو مشکل وقت میں قابض طالبان کے رحم وکرم پر چھوڑ کر خود جلاوطنی اختیار کرلی۔ اس کے مقابلے میں یوکرین کا صدر روسی حملے کے بعد جہاں امریکہ اور دیگر نیٹو ممالک کی بے وفائی کا گلہ کرتے دکھائی دے رہا ہے وہاں پر اس کا یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ وہ جنگ میں شکست کی صورت میں ملک سے بھاگنے کی بجائے لڑ کر مرنے کو ترجیح دے گا۔ اگر تو واقعی یوکرینی صدر اپنی بات پر قائم رہتا ہے اور ڈٹ مقابلہ کرتا ہے تو قطع نظر جنگ میں شکست کے اس کا یہ کردار تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا اور دنیا کی جنگی تاریخ میں اسے ہیرو کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
روس اور یوکرین بظاہر پاکستان سے بہت دور ہیں لیکن ان کے درمیان جاری اس جنگ کے اثرات سے پاکستان سمیت دنیا کے اور بے شمار ممالک متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پاکستان اور روس کے درمیان ابھی روابط اس نہج پر نہیں ہیں کہ جس سے ہماری مشکلات میں خاطر خواہ کمی واقع ہو تاہم یوکرین کی اس تباہی سے پاکستان کو اس لحاظ سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کہ پاکستان یوکرین سے گندم کی بہت بڑی کھیپ اپنی ضروریات کیلئے منگواتا تھا اس کے علاوہ دفاعی سازوسامان کی تیاری کیلئے پارٹس بھی یوکرین سے ہی آتے تھے۔ ہر سال پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار اور تعلیم کے سلسلے میں یوکرین کا سفر کرتی ہے۔ جو کہ اب ممکن نہیں رہا۔ یوکرین کا خطہ اب کسی بھی طرح روس کی چھترچھاؤں میں جنگ کے اثرات سے اتنی جلدی نہیں نکل پائے گا۔ وہاں کے شہر گاؤں اور گلیاں دہائیوں تک اس جنگ کی تباہ کاری کی داستان سناتے رہینگے۔ اس جنگ سے دنیا اور خاص طور پر یورپ اور امریکہ کے دلدادہ اسلامی ممالک کیلئے بہت بڑا سبق ضرور موجود ہے۔ کہ حالات خواہ کچھ بھی ہوں اپنے دفاعی معاملات میں ذرہ برابر بھی کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے۔ کوئی بھی خواہ آپ کے کتنے ہی قریب کیوں نہ ہو وہ آپ کیلئے کسی سے قطعی نہیں لڑے گا۔ خاص طور پر یورپ یا امریکہ تو کسی صورت کسی سے وفا نہیں کرتے۔ پاکستان کیلئے تو روس اور یوکرین کی لڑائی ایک سبق ہے کہ امریکہ ہو یا اس کے اتحادی یاپھر چین روس اور ان کے اتحادی کسی کے بھی بہکاوے میں آکر ہمیں اپنی دفاع سے غافل نہیں ہونا بلکہ ہمارا اتحاد جس کسی سے بھی ہو اس میں بنیادی نقطہ جو سب سے مقدم ہونا چاہیے وہ ہمارے دفاعی پروگرام کا تحفظ اور اس میں مزید اضافے کیلئے عملی تعاون ہے۔ یوکرین کا دشمن فقط روس تھا جبکہ پاکستان تو چاروں اطراف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے تو اس لیے پاکستان کو اس وقت بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کے پاس اب امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر ایک فیصد بھی بھروسہ کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ تاریخ کئی بار ثابت کرچکا ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت اور اس کے مفادات کو ہی ترجیح دی ۔