Add 1

Wednesday, May 13, 2020

گندم خریداری مہم 2020اور وزیراعلیٰ عثمان بزاد کے مثالی کسان دوست اقدامات(CM Usman Buzdar's initiatives for Wheat purchasing )


عنوان: گندم خریداری مہم 2020اور وزیراعلیٰ عثمان بزاد کے مثالی کسان دوست اقدامات

تحریر: محمد اسداللہ شہزاد
 
رواں سال گندم کی کٹائی کا سیزن آن پہنچا تو کارونا وائرس کا خوف عالمی افق پر چھایا ہوا تھا۔ ہر طر ف بے یقینی اور نفسا نفسی اپنے پیر جما چکی تھی۔ صوبہ بھرمیں کے گند م کی شکل میں سونا اگانے والے کسانوں کی امیدیں دم توڑ تی دکھائی دیتی تھیں اور کسانوں کے چہرے بے رونق ہو کر کسی بھی بڑی ناامیدی کا شکار ہوتے نظر آرہے تھے۔ ایسے میں حضرت شاہ سلیمان ؒکی دھرتی کے فرزند وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان خان بزدار نے واقعی بڑے ہونے کا حق ادا کردکھایا اور علی الاعلان کہا کہ حکومت پنجاب نہ تو کارونا وائرس سے ڈر کرکسانوں کا تنہا چھوڑے گی اور نہ ہی گندم کٹائی اور خریداری مہم کسی طور متاثر ہوگی۔ بلکہ انہوں نے واضح طور کہا کہ اس سال اوپن پالیسی کے تحت کسانوں سے ان کی گندم کا دانہ دانہ خرید کیا جائے گا اورانہیں کسی صورت بے یار و مدگار نہیں چھوڑا جائے گا۔ جس طرح T-20طرز کے کرکٹ میچ میں موثر اور مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ہنگامی اور بروقت فیصلے کیے جاتے ہیں ، بالکل ویسے ہی گندم خریداری مہم 2020میں وزیرعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی جانب سے ہنگامی اور موثر فیصلے کیے گئے۔ انہوں نے رواں سال گندم کٹائی و خریداری مہم کا آغاز ضلع راجن پور سے کیا جو کہنے کو تو ایک پسماندہ ضلع ہے اور صرف اپنی پسماندگی کے اور چھوٹوگینگ جیسے منفی رحجانات سے پکارا اور تصور کیا جاتا ہے۔ مگر اگر حقیت کی بات کی جائے تو ٹرائی بارڈ ایریا کا مرکز ہونے کے باعث یہ ضلع اپنی ایک کلیدی جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ صوبہ سندھ کے بعد ہمہ قسمی فصلات اسی ضلع میں پک کر تیار ہوتی ہیں جنہیں صوبہ پنجاب کے علاوہ باقی صوبوں کے عوام بھی استعمال میں لاتے ہیں اور اپنی غذائی و دیگر ضروریات پوری کرتے ہیں۔ یہاں کی عالمی سطح پر برآمد کی جانے والی فصلوں میں گندم، کپاس، مونگ، پیاز اور سرخ مرچ قابل ِ ذکر ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے 9اپریل 2020کو صوبہ پنجاب کی سے آخری تحصیل روجھان مزاری کے علاقہ مٹ واہ میں خود روایتی طریقہ سے درانتی سے اور ہارویسٹر چلا کر اور کسانوں میں اپنے ہاتھوں سے باردانہ تقسیم کرکے گندم کٹائی وخریداری مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ رواں برس 45لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے ہدف مقرر کیا گیا ہے۔بہاولپور ڈویژن میں گندم خریداری کا ہدف 853269میٹرک ٹن، ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں 752014میٹرک ٹن، ملتان ڈویژن میں 734575میٹرک ٹن، لاہور ڈویژن میں 344798میڑک ٹن، ساہیوال ڈویژن میں 418030میٹرک ٹن، گوجرانوالہ ڈویژن میں 468635میٹرک ٹن، فیصل آباد ڈویژن میں 592531میٹرک ٹن، سرگودھا ڈویژن میں 327808میٹرک ٹن اور راولپنڈ ی میں 8341میٹرک ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ کاشتکاروں سے 1400 روپے فی من کے حساب سے گندم خریدی جائے گی جبکہ گندم خریداری کیلئے گرداوری کی شرط پر عمل کرنے کی بجائے پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر باردانہ کی تقسیم کا اصول لاگوکیا گیا ہے۔گندم خریداری مہم کے دوران 15 بین الصوبائی داخلی اور خارجی راستوں کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مزید کہا کہ کاشتکار ہمارے محسن ہیں، گندم کے دانے دانے اور کاشتکار کی پائی پائی کا تحفظ کریں گے۔کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے پرائم منسٹر زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت پنجاب میں 300 ارب روپے کے منصوبہ جات لائے جا رہے ہیں۔گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے ساڑھے 12 ارب روپے کی لاگت سے پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔رواں برس کاشتکاروں کو تصدیق شدہ بیج کی 4 لاکھ بوریاں رعایتی نرخ پر فراہم کی گئی ہیں جبکہ اگلی فصل کیلئے بیج کی 12 لاکھ بوریاں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فصل بیمہ سکیم کا دائرہ کار بڑھا کر اڑھائی لاکھ کاشتکاروں کی فصل کی انشورنس کی گئی ہے۔کاشتکار کی خوشحالی کیلئے پیداواری لاگت کم کرنا بے حد ضروری ہے۔پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے 52 لاکھ کاشتکاروں کو کھادوں کی خریداری پر ساڑھے 8 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے 28 ارب روپے کی لاگت سے پنجاب میں 10 ہزار کھالوں کو پختہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب زرعی ترقی کیلئے مختلف سبزیوں، پھلوں اور اجناس کی 80 نئی اقسام متعارف کرا چکی ہے۔غیر معیاری اور جعلی ادویات و کھادوں کے سدباب کیلئے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم شروع کیا گیا ہے۔ای کریڈٹ سکیم کے تحت کاشتکاروں کو 15 ارب روپے کے بلاسود قرضے دیئے گئے ہیں۔حکومت پنجاب کاشتکاروں کی محنت کی قدردان ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ زراعت میں کمبائن ہارویسٹر جیسی جدید مشینوں کے استعمال سے نہ صرف وقت بلکہ سرمائے کی بھی بچت ہوتی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں سال ایک کروڑ 65 لاکھ زیر کاشت رقبے سے ایک کروڑ 90 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار حاصل ہونے کی توقع ہے۔صوبہ میں غذائی ضروریات پوری کرنے کیلئے 29,800 میٹرک ٹن گندم روزانہ فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے کے 11 لاکھ 91 ہزار تھیلے مارکیٹ میں فراہم کئے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ عوام کو آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے فوڈ گرین لائسنس کے بغیر گندم خریداری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ذاتی استعمال کیلئے ایک ہزار کلو سے زائد نجی طور پر گندم نہیں خریدی جا سکے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کاشتکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جو دیگرا قدامات کیے گئے ان میں کاشتکار کو 100بوری گندم کی نقد ادائیگی، فی ایکڑ باردانہ کی مقدار کو تعین نہ ہونا اور کاشتکاروں کی شکایات کے فوری ازالہ کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر شکایات سیل کا قیام شامل ہیں۔ مزید یہ کہ شکایات بارے رجوع کے لیے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنروں کے رابطہ نمبر بھی قومی اخبارات اور ٹیلی ویژن پر تشہیر کیے گئے تاکہ کاشتکار اپنے مسائل کے فوری حل کے لیے ٹھوکریں نہ کھاتے پھریں۔ 
ایک طرف وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی جانب سے صوبائی وزراء، مشیران اور معاونین خاص کی مختلف اضلاع میں گندم خریداری مہم کی نگرانی کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں جس سے گندم خریداری کا عمل او ربھی موثر اور تیز ہو گیا۔ جن وزراء، مشیران اور معاونین خاص کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں اس کے مطابق صوبائی وزیر چودھری ظہیر الدین فیصل آباد، رائے تیمور جھنگ،مہر اسلم چنیوٹ، آشفہ ریاض ٹوبہ ٹیک سنگھ، یاسمین راشدلاہور، ہاشم ڈوگر قصور،ملک اسد ننکانہ او رمیاں خالد شیخوپورہ ، راجہ راشد حفیظ راولپنڈی، حافظ عمار یاسر چکوال، آصف محمود جہلم، ملک انور اٹک،عنصر مجید خان نیازی سرگودھا، ممتاز احمد خوشاب، امیر محمد خان بھکر، میاں محمورالرشید گوجرانوالہ، محمد رضوان گجرات، عمر فاروق حافظ آباد، محمد اجمل منڈی بہاو ¿الدین، پیر سید سعید الحسن شاہ نارووال، محمد اخلاق سیالکوٹ ، ملک نعمان ساہیوال، صمصام بخاری اوکاڑہ، فیصل حیات پاکپتن، سمیع اللہ چودھری بہاولپور، شوکت لالیکا بہاولنگر، محسن لغاری رحیم یارخان،محمداختر ملتان، سید حسین جہانیاں گردیزی خانیوال،زوار وڑائچ لودھراں، جہانزیب کچھی وہاڑی، حنیف پتافی ڈی جی خان، حسنین بہادر دریشک راجن پو ر، عبدالحئی دستی مظفر گڑھ، سید رفاقت گیلانی لیہ میں مانیٹرنگ کے فوکل پرسن مقررکیے گئے۔ جہاں افسران نے گندم خریداری مہم کو کامیاب بنانے کے لیے دن رات ایک کیا وہیں وزیراعلیٰ کی جانب سے مقررکیے گئے فوکل پرسن صوبائی وزرائ، مشیران اور معاونین خاص نے بھی مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کیا۔ تمام فوکل پرسن اپنے متعلقہ ضلع کی انتظامیہ اور محکمہ خوراک کے عملہ کے ساتھ روابط میں رہے اور مہم کو مزید موثر بنانے کے لیے مفید ہدایات دیں۔اور مزید یہ کہ چیف سیکریٹری پنجاب کی جانب سے گندم خریداری مہم کو بروقت اور انتہائی شفاف طریقہ سے مکمل کرنے کے لیے مختلف افسران اور سیکریٹروں کی بھی ڈیوٹیاں لگائی گئیں جنہوں نے تمام اضلاع کے اچانک دورے کیے اور گندم خریداری مہم کی نگرانی کی۔حکومت ِ پنجاب کی اس موثر حکمت عملی سے شفافیت کے ساتھ گندم خریداری مہم کو مکمل کرنے میں بہت مدد ملی۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار نے سیاسی بصیرت سے کام لیتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو محکمہ خوراک کا قلمدان سونپ دیا جوکہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان اور منتظم ہیں۔ جنہوں نے قلمدان سنبھالتے ہی گندم کی غیر قانونی بین الصوبائی منتقلی اور اسمگلنگ کو سختی سے روکا اور واضح اعلان کیا کہ پہلے صوبہ پنجاب کی گندم کی ضروریات پوری کی جائیں گی پھر دوسرے صوبوں کو گندم دی جائیگی۔ مزید یہ کہ محکمہ خوراک کی جانب سے گندم خرید کے اپنے ہدف کے علاوہ سیڈ کمپنیوں کو بھی گندم فراہمی کے لیے معاونت کرے گا۔اب تک صوبہ بھر میں ایک ماہ کے اندر کل ہدف کا تقریباً75فی صد سے زائد ہد ف حاصل کرلیا گیا ہے۔ 
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی جانب سے گندم کٹائی وخریداری مہم 2020کے افتتاح کے بعد محکمہ خوراک راجن پور کی جانب سے فوکل پرسن گندم خریدار مہم /صوبائی وزیرلائیواسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ پنجاب سردار حسنین بہادر دریشک، ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقارعلی اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر محمد عمران کی سرپرستی و قیادت میں فوری طور باردانہ کی تقسیم و گندم خرید کرنے کے عمل کا آغاز کردیا گیا۔ ضلع بھر میں 9مختلف مقامات پر گندم خرید مراکز بنائے گئے جن میں راجن پور، فاضل پور، نور پور، مٹھن کوٹ، محمد پور دیوان، کوٹلہ مغلاں، جام پور، عمرکوٹ اور مٹ واہ شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر ضلع بھر میں 18لاکھ بوری گندم خرید کرنے کا ہدف مقررکیا گیا جو کہ گذشتہ سال سے 4لاکھ بوری زائد تھا ۔ مگر بعد ازاں گندم کی اچھی پیداوار اور حکومتی احکامات کے مدِ نظر ضلع راجن پور کا ہدف20 لاکھ 56ہزار 970بوری کردیا گیا۔ ہر مرکز پر کسانوں کی آن لائن رجسٹریشن کی گئی اور گردآوری کے عمل دخل کے بغیر اوپن پالیسی کے تحت ضلع بھر میں باردانہ تقسیم کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور کی متحرک قیادت میں محکمہ خوراک و مال راجن پور نے گندم خریداری مہم میں ہدف کے حصول کے لیے دن رات کام کرنا شروع کردیا۔ ڈپٹی کمشنر نے خود مختلف مراکز پر چھاپے مارے اور گندم کی خریداری کے عمل کا جائزہ لیا۔ مختلف کسانوں کی طرف سے ملنے والی شکایات کا موقع پر نوٹس لیا ۔ محکمہ خوراک راجن پور کی جانب سے ضلع کے تینوں داخلی و خارجی راستوں شاہ والی تحصیل روجھان، بے نظیر شہید پل مٹھن کوٹ تحصیل راجن پور اور کوٹ طاہر تحصیل جام پور مانیٹرنگ ٹیمیں تعینات کرکے ضلع سے گندم کی دوسرے علاقوں منتقلی کو موثر طریقہ سے روکا کیا گیا۔ اور صرف ایک ماہ کے اندر اندر گندم خریداری مہم کا ہدف 100فی صد سے بھی زائد حاصل کرلیا گیا اور کسانوں کوادائیگیاں بھی تقریباً مکمل کرلی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقارعلی اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ اس سال تفویض کردہ ہدف سے بہت زیادہ گندم خرید کی جائے گی جوکہ ضلع کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہوگا۔ اگر بات کی جائے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کرنے کی تو پنجاب حکومت کی جانب سے انسداد ذخیرہ اندوزی آرڈینینس2020کے نفاذ کے بعد ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقار علی کی جانب سے ضلع بھر کے 23پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو سخت ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ ضلع کی تینوں تحصیلوں راجن پور، جام پوراور روجھان کے اسسٹنٹ کمشنر نے اس حوالے سے کاروائیاں کرکے مختلف مقامات پر غیر قانونی طور پر ذخیرہ کی گئی 1لاکھ بوری سے زائد گندم قبضے میں لے کر محکمہ خوراک کے حوالے کردی ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر راجن پور ذوالفقارعلی کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں کو قبضہ میں لی گئی گندم کی مالیت کا 50فی صد جرمانہ کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع کرایا جائے گا جبکہ ذخیرہ اندوزوں کو جیل بھجوایا جائے گا تاکہ ان شر پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہو اور عوام کو صحیح معنوں میں ریلیف فراہم کیا جاسکے۔ 
یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کورونا وباءکے باعث مراکز گندم خریداری پر خصوصی انتظامات کئے گئے ، کاشتکاروں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے ضروری ایس او پیز پر من و عن عملدرآمد کیا گیا۔گندم خریداری مراکز پر داخلی و خارجی راستے الگ الگ بنائے گئے، جبکہ کاشتکاروں اور عملے کیلئے ہاتھ دھونے کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ ہر گندم خریداری مرکز پرباقاعدگی سے خراثیم کش محلول کا سپرے کیا گیا۔اور کاشتکاروں کے درمیان عملہ میں مناسب فاصلہ رکھنے کویقینی بنایا گیا۔ جہاں مہم کی کامیابی میں فعال کردار اداکرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، محکمہ خوراک اور محکمہ مال بنیادی اہمیت کے حامل ہیں وہیں ایک ایسا ادارہ بھی یقینا مبارکباد کا مستحق ہے جوتمام تر حکومتی اقدامات کو بروقت انتہائی کم وسائل کے ساتھ موثر طریقہ سے عوام الناس تک پہنچانے اور عوامی مسائل کو ارباب اختیار کے نوٹس میں لانے کے لیے سرگرم عمل رہتا ہے وہ ادارہ تعلقات عامہ ، محکمہ اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب ہے۔ اس ادارہ کا ہیڈ آفس ڈائریکٹر جنرل تعلقات عامہ پنجاب اور فیلڈ دفاتر ڈویژنل ڈائریکٹرز و ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسرز کی سربراہی میں حکومت پنجاب کے عوام کے لیے کیے گئے اقدامات کی موثر تشہیر میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ یہ وہ نہ دکھائی دیئے جانے والے اور بالکل غیر اہم محسوس کیے جانے والے افسران و ملازمین ہیں جن کی بدولت حکومت اور انتظامیہ کا میڈیا کے ساتھ توازن والاتعلق قائم ہے بلکہ عوام کے مسائل بھی بروقت حکومت تک پہنچ جاتے ہیں۔ضلع راجن پورمیں گندم خریداری مہم کو کامیاب بنانے اور حکومتی اقدامات کسانوں اور لوگوں تک بروقت پہنچانے میں محکمہ اطلاعات راجن پور نے بھی اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ 

<script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-8225283696374545"
     crossorigin="anonymous"></script>

Sunday, May 10, 2020

ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی میر دوست محمد مزاری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ، ڈپٹی سپیکر نے تصدیق کردی ڈDupty Speaker Punjab Corona Test positive

ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی میر دوست <script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js?client=ca-pub-8225283696374545"
     crossorigin="anonymous"></script>

محمد مزاری کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا ، ڈپٹی سپیکر نے تصدیق کردی تفصیلات کے مطابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی میر دوست محمد مزاری کا کورونا ٹیسٹ مچبت آ گیا، وہ چند روز قبل بیرون ملک سے واپس آئے تھے، واپسی پر انہوں نے پہلا کورونا ٹیسٹ کروایا جو منفی ایا تھا تاہم اب دوسری بار ٹیسٹ کروانے پر دوست محمد مزاری مین کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی، ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود ان میں کورونا مرض کی علامات موجود نہیں ہیں۔ اور انہوں نے خود کو گھر ہی میں کرنٹائن کر رکھا ہے

Sunday, May 3, 2020

کرونا وائرس کی وباء ،،،،، پریشان حال سفید پوش میڈیا ورکرز کا پرسان حال کون؟؟؟( Media workers facing Corona Virus)

 کرونا وائرس کی وباء ،،،،، پریشان حال سفید پوش میڈیا ورکرز کا پرسان حال کون؟؟؟

تحریر: سعید مزاریRindaannews@gmail.com

فون: 03334143061


'' اے ابنِ آدم ایک تیری چاہت ہے ایک میری چاہت ہے، تو ہو گا وہی جو میری چاہت ہے۔ پس اگر تو کردے گا وہ جو میری چاہت ہے تو میں عطا کر دوں گا وہ جو تیری چاہت ہے اور اگر تو کرے گا وہ جو تیری چاہت ہے تو میں تجھے تھکا دوں گا اس میں جو تیری چاہت ہے، پھر بھی ہو گا وہی جو میری چاہت ہے۔'' ( مفہوم حدیث قدسی)
آج کے جدید دور میں کرونا وائرس کی دنیا بھر میں تباہ کاریوں نے اس حدیث قدسی پر مہر ثبت کردی،  ترقی یافتہ ممالک جو خود کو دنیا کا ناخدا سمجھ بیٹھے تھے اور اپنی جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کے زعم میں دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک اور لوگوں کو کسی خاطر میں نہیں لاتے تھے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک انتہائی حقیر اور عام آنکھ سے دکھائی تک نہ دینے والے ایک وائرس سے پوری دنیا کی بساط لپیٹ کر دکھا دی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ایک وائرس سے سب کچھ بدل کر رکھ دیا، انسان کو انسان سے تو دور کر ہی دیا اللہ نے انسانی ذہنوں میں اس معمولی سے وائرس کا ایسا خوف ڈال دیا کہ ہر فرد اپنے ہی سائے سے بھی ڈررہا ہے۔ تادم تحریر دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پچیس لاکھ کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد لوگ  اپنی جانوں سے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ کم ہونے کی بجائے ہر آنیوالے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ دنیا کا کاروبار ٹھپ ہو گیا، بازار، مارکیٹیں، سڑکیں سب ویران ہو گئے ہر طرف خوف کے بادل اور گہرے ہوتے جا رہے ہیں ۔ دنیا میں بڑے بڑے ادارے بند ہو رہے ہیں یا پھر انہوں نے اپنا سٹاف انتہائی محدود کردیا ہے۔ گزشتہ چار ماہ سے دنیا بھر کے سائنسدان، ڈاکٹرز اس آفتِ خدا وندی سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن تاحال اس مصیبت سے نکلنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ اس وقت پوری دنیا اس خطرناک وباء سے بچنے کی جنگ لڑ رہا ہے اس جنگ میں دنیا کا ہر فرد اپنی اپنی حیثیت اور بساط کے مطابق شریک ہے، تاہم ڈاکٹرز اور شعبہ صحافت سے منسلک لوگ کرونا وائرس سے بچاؤ کی اس جنگ میں فرنٹ لائن پر موجود ہیں ۔ ڈاکٹر حضرات ہسپتالوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور اس وائرس کا توڑ ڈھونڈنے کیلئے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ۔ دنیا بھر میں ڈاکٹروں کے اس کردار کی ناصرف تعریف کی جا رہی ہے بلکہ کرونا وائرس سے متاثرہ مریضون کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو ہر طرح کی سہولیات باہم پہنچانے کا بھرپور اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت کئی ملکوں نے ڈاکٹروں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے خصوصی اقدامات بھی کیے۔ ڈاکٹروں کیلئے خصوصی کٹس تیار کیے گئے ان کی تنخواہون مین غیر معمولی اضافے کے ساتھ ساتھ مزید مراعات بھی دیئے جا رہے ہیں۔  جو واقعی اچھا ہے ایسا ہونا بھی چاہیے، پاکستان میں بھی ڈاکٹروں کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بے شمار سہولیات اور مراعات کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود ڈاکٹر حضرات کی ایک بڑی تعداد ہمیں اب بھی سہولیات کی کمی کا گلہ کرتے ہوئے اور احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔  کچھ علاقوں اور شہروں کی حد تک ان ڈاکٹرون کے گلے شکوے اور مطالبات جائز بھی ہیں تاہم مجموعری طور پر ڈاکٹروں کو کرونا وائرس کی وباء سے بچاؤ اور ان کی خدمات کے حوالے ان کو ملنے والی سہولیات کم از کم موجودہ حالات میں کافی حد تک مناسب ہیں۔  ڈاکٹروں کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستانی حکومت نے بھی عام شہریوں کیلئے کم و بیش دو ماہ سے جاری لاک ڈاؤن کیلئے ریلیف پیکج کا ناصرف اعلان کیا بلکہ اربوں روپے کے فنڈز مستحق لوگوں کو دے بھی دیئے۔ ملک کے غریب اور مستحق افراد کیلئے اس مشکل وقت میں معمولی ہی سہی لیکن بروقت ملنے والی یہ امداد کسی نعمت سے کم نہیں، ابھی تو وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالے سے مزید اقدامات کرنے کے خواہاں ہیں ۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کا اس اہم مسئلے کے دوران بروقت رد عمل اور اب تک کے اقدامات واقعی قابل تعریف ہیں۔
اس سارے معاملے میں یہ بات شدت سے مشاہدے میں آئی ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں ڈاکٹروں کے بعد دوسرے نمبر پر فرنٹ لائن پر موجود پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا ورکروں کو کم از کم پاکستان میں حکومت اور نجی ادارون کی طرف سے یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ میڈیا انڈسٹری کے چند ایک لوگوں کے علاوہ صحافتی اداروں کے بیشتر ورکروں کو ان حالات میں بھی بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک میں میڈیا ورکرز کو باوجود تمام وسائل کی دستیابی کے کرائسز کے وقت  ان کے اداروں سمیت حکومت کی طرف سے بھر پور سپورٹ فراہم کیا جاتا ہے اور ان کو دستیاب سہولیات میں کئی گنا اضافہ کردیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے صورتحال اس سے یکسر مختلف ہے۔ پاکستان میں صحافتی ادارے پہلے ہی بے پناہ مسائل کا شکار ہیں  اور مختلف ادوار میں حکومتوں کی ذاتی پسند اور نا پسند سمیت ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بے شمار بڑے اور درمیانے درجے کے ادارے بند ہو گئے اور جو باقی بچے کھچے صحافتی ادارے موجود ہیں  حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور بلا جواز قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ کسی ادارے کے اشتہارات بند ہیں تو کسی کے سر پر آئے روز پیمرا نوٹسز اور جرمانوں کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اب رہی سہی کسر کرونا وائرس کی وباء نے پوری کردی پاکستان کے کم و بیش سارے ہی صحافتی ادارے اس وقت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہے ہیں چینلز مالی بحران اور موجودہ لاک ڈاون کی وجہ سے پہلے سے تنگدستی کا شکار ورکروں کو لمبی چھٹیوں پر بھیجنے اور ملازمت سے فارغ کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی اخباروں اور چینلز نے اپنا سٹاف  کم کرکے تیس سے چالیس فیصد پر لا کھڑا کردیا۔ اس بحرانی کیفیت میں متعدد ادارے ورکروں کو تین تین چار چار مہینوں کی تنخواہیں تک ادا نہیں کر سکے۔ صحافتی اداروں کے ورکرز جو پہلے ہی بہت زیادہ پریشان تھے اچانک کرونا کی آفت سر پر آجانے سے مزید مشکلات کا شکار ہو گئے۔ سفید پوشی کے بھرم یہ صحافتی ورکرز بدترین حالات کے باوجود اپنے صحافتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ کہ یہ ورکرز اپنا دکھڑا بھی کسی کو نہیں سنا سکتے۔ ان صحافتی ورکروں کے اپنے ادارے چاہتے ہوئے بھی ان کی کوئی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ وفاقی حکومت اور صوبوں نے یوں تو مختلف مواقع پر میڈیا ورکروں کیلئے زبانی جمع خرچ کے طور پر بڑے بڑے اعلانات کر رکھے ہیں تاہم عملی طور پر وہ تمام اعلانات فقط اعلانات ہی رہے، ماسوائے چند منظور نظر افراد کے تمام میڈیا ورکرز حکومت کی طرف سے کسی قسم کے ریلیف سے تاحال محروم ہیں۔ صحافی اور میڈیا ورکروں کو حکومت کی جانب سے کرونا وباء سے بچنے کیلئے جسی قسم کے حفاظتی کِٹس فراہم کیے گئے ہیں اور نہ ہی انہیں کرونا وائرس سے متعلق جاری کردہ کسی ریلیف پروگرام میں شامل کیا گیا۔ صحافتی ورکرز اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر ناصرف اس کرونا وباء سے فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے لڑ رہے ہین بلکہ عوام کو پل پل کی بدلتی ملکی و غیر ملکی صورتحال سے آگاہ بھی کر رہے ہیں ۔ صحافتی ادارون کے ورکرز بھی تو اسی ملک کے باشندے ہیں اور موجودہ لاک ڈاؤن کی صورتحال مین وہ اور ان کے اہلخانہ سمیت بچے بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں ۔ جو ورکرز اس بحران کے دوران اپنی نوکریاں گنوا چکے ہیں وہ کن حالات میں ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ میڈیا ورکرز میں فطری طور پر سفید پوشی کے بھرم کو قائم رکھنے کا عنصر ہوتا ہے اور ان کی اسی سفید پوشی کو دیکھتے ہوئے اکثر اوقات حکومت ، فلاحی ادارے اور مخیر حضرات بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور یہ سفید پوش ورکرز اکثر اوقات اپنے بچوں کو بھوکا سلانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ حال تو ان میڈیا ورکروں کا ہے جو باقائدہ طور پر صحافتی ادارون کے تنخواہ دار ہیں جبکہ دور دراز دیہاتوں اور چھوٹے علاقوں میں موجود او ایس آرز( آؤٹ سورس رپورٹر) اور اعزازی نمائندگان کی حالت زار تو اس سے بھی بدتر ہے۔ کیونکہ ان کو تو ویسے بھی عام حالات میں کوئی سرکاری اور پرائیوٹ ادارہ خاطر میں نہیں لاتا اور نہ ہی میڈیا ورکر تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے۔ چئہ جائیکہ ان کی کوئی مدد کرے۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ہونیوالے لاک ڈاؤن کے باعث اگر کوئی صحافتی ادارے کا ورکر پارٹ ٹائم کوئی چھوٹا موٹا کام کرکے اپنا گزر بسر کر لیتا تھا اب انہیں یہ سہولت بھی میسر نہ رہی۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مقامی انتظامیہ کا رویہ بھی علاقائی صحافیوں کے ساتھ صرف اپنے مطلب کی تکمیل کی حد تک ہی درست رہتا ہے ورنہ تو ان صحافیوں پر اکثر سرکاری اور نجی دفاتر کے دروازے بند ہی ہوتے ہیں ۔
کرونا وائرس کی وباء جس قدر ملک کے دیگر شہروں اور شعبوں کیلئے تباہ کن اور باعث تشویش ہے اسی طرح میڈیا ورکرز بھی اس وباء کے اثرات سے محفوظ نہیں ۔ کئی میڈیا ورکروں میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور متعدد ایسے ہیں جن کے ٹیسٹ نہ ہونے کی وجہ کرونا کے مرض کو لیے اپنے فرائض کی ادائیگی کر رہے ہیں۔ تو ایسے میں ضروری ہے کہ جس طرض ڈاکٹروں اور دیگر شعبہ کے لوگون کو ان مشکل حالات میں سہولیات اور دیگر مراعات دی جا رہی ہیں اسی طرح ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت تمام میڈیا ورکروں کو بھی ضروری سہولیات اور مراعات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ بھی ان حالات کا احسن طریقے سے مقابلہ کر سکیں اور اپنے فرائض کی ادائیگی بہتر انداز میں کریں۔ اس حوالے سے سرگرم فلاحی ادارون اور مخیر حضرات کو بھی سفید پوش اور تنگدست میڈیا ورکروں کیلئے ان کی سفید پوشی اور عزت نفس کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقدامات کرنے چاہییں جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر خالی اعلانات کرنے کی بجائے میڈیا ورکروں کی فلاح اور اس مشکل سے نکلنے کیلئے عملی اقدامات کریں تاکہ میڈیا ورکرز اور ان کے اہلخانہ کو بھی لگے کہ وہ بھی اسی ملک اور معاشرے کا حصہ ہیں اور حکومت سمیت سب کو ان کے مسائل کا بھی ادراک ہے۔  

World Press Freedom/ Freedom of Expression Day Reality or Fiction (اظہار رائے کی آزادی، حقیقت یا فسانہ)

اظہار رائے کی آزادی، حقیقت یا فسانہ

تحریر: سعید مزاری 

Email:rindaannews@gmail.com
فون: 03334143061
آج دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔  اقوام متحدہ نے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس 1948 کی شق 19 کے تحت ہرسال 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن (پریس فریڈم ڈے ) قرار دے رکھا ہے، اسے آزادیِ اظہارِ رائے کا دن بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں صحافت سے جڑے ہوئے لوگوں کی خدمات کا اعتراف کرنا اور اظہار رائے کی ازادی کیلئے کوششیں کرنے والے اور اس مقصد کیلئے قربانیاں دینے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ 1991 میں افریقی اخبارات کے صحافیوں نے آزاد صحافت کے حوالے سے کچھ اصول وضع کیے جو بعد ازاں وقتاً فوقتاً کچھ تبدیلیوں کے ساتھ قابل استعمال قرار پاتے رہے۔
آزادی اظہار رائے یا پھر آزادی صحافت کیلئے جدو جہد ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور آج بھی دنیا میں 63 فیصد سے زائد ممالک میں صحافت اور اظہار رائے پر کسی نہ کسی طرح پابندی عائد ہے۔ دنیا کی مختلف صحافتی تنظیمیں آزادی صحافت اور آزادی اظہاررائے کیلئے مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی بیشتر حکومتیں آزاد صحافت اور رائے کی آزادی کو ناپسند کرتی ہیں۔ باوجود اس کے کہ زبانی کلامی طور پر اس حوالے سے بڑے بڑے دعوے اور اعلان کیے جاتے ہیں عملی طور پر مقتدر حلقہ صحافت کو اپنی مٹھی میں بندکرکے رکھنے کا خواہشمند ہی دکھائی دیتا ہے۔ اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کیلئے مختلف حیلے بہانوں سے ایسے ہتھکنڈے، قوانین اور اصول بروئے کار لاتے ہیں جن کی وجہ سے ناصرف کسی بھی صحافی یا صحافتی ادارے کیلئے آزادانہ طور پر کام کرنا مشکل ہوتا ہے بلکہ کسی بھی عام شہری کیلئے بھی اپنی رائے کا آزادانہ اظہار ممکن نہیں رہتا۔ اگر پھر بھی کوئی ادارہ ، صحافی یا کوئی شہری جراؑت کا مظاہرہ کرے اور مقتدر حلقوں یا ان کے زیرانتظام اداروں سے متعلق حقائق عوام  کے سامنے لے آئے اور ان کے غلد اقدامات پر تنقید کرے تو ایسے لوگوں اور اداروں کومقتدر اور طاقتور حلقوں کی طرف سے بے شمار سختیوں اور مسائل سے دوچار کردیا جاتاہے۔ انسانی حقوق کے طے شدہ قوانین کے مطابق دنیا کے ہر فرد کواپنے ارد گرد کے حالات سے باخبر رہنے اور اپنی رائے کے اظہار کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ لیکن دنیا کی آمرانہ سوچ کی حامل حکومتوں اور شخصیتوں کو اظہاررائے کی آزادی اور لوگوں کو باخبر رکھنا انتہائی ناگوار گزرتا ہے۔ اس لیے ایسی حکومتیں ،اور شخصیات اداروں اور صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے سمیت حکومتی اقدامات پر تنقید کرنے والوں کو ٹارگٹ کرتے ہوئے پریشان کرتے ہیں۔
سال 2020 کا آغاز ہی مختلف ممالک میں غیرجانبدارانہ رائے کا اظہار کرنے والے افراد اور صحافیوں کے خون سے ہوا ایک رپورٹ کے مطابق جنوری سے اپریل تک 7 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لوگوں کو حقائق کی آگاہی دینے کے دوران جانبحق ہونے والوں میں عراق اور شام سے 2،2 جبکہ پاکستان،سومالیہ، پیراگوئے سے ایک ایک صحافی شامل ہیں۔
گزشتہ کئی سالوں کی رپورٹس کے مشاہدے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ آزادی اظہار رائے یا پریس فریڈم کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک کی نسبت ترقی یافتہ اور خود کو انسانی حقوق کا علمبرادر سمجھنے والے امریکہ، چین اور بھارت جیسے ممالک اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے میں زیادہ  آگے ہیں۔ صحافیوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس ( سی پی جے) کی طرف سے صحافیوں اور اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے دس انتہائی برے ممالک کی فہرست میں چین کا پانچواں نمبر ہے جبکہ اس لسٹ میں ایریٹیریا پہلے، جنوبی کوریا دوسرے،ترکمانستان تیسرے اور سعودی عرب چوتھے نمبر پر موجود ہے سی پی جے کی لسٹ میں ساتویں نمبر ایران بھی دکھائی دے رہا ہے۔ جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکہ میں پریس فریڈم گزشتہ پانچ سالوں کی نسبت ٹرمپ دور میں زیادہ متاثر ہوا اور یہ پریس فریڈم اور اظہار رائے کے حوالے سے انتہائی برا وقت ہے۔
دنیا بھر میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے بلند و بانگ دعووں کے باوجود 1992 سے اپریل 2020 تک 1370 صحافی قتل ہوئے۔ ان سالوں میں 2009 کو صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ خطرناک قرار دیا گیا کیونکہ 2009 میں 76 صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کیا گیاجبکہ دوسرے نمبر پر 2012 اور 2013 کے سالوں کو صحافیوں کا قاتل سال کہا جا سکتا ہے ان دو سالوں کے دوران 148 صحافیوں کا قتل ہوااسی طرح 2015 میں بھی 73 صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنے جان کی قربانی دینی پڑی۔  1992 سے اپریل 2020 تک 872 صحافیوں کے قتل کے ایسے کیسز ہیں جو کئی سال گزر جانے کے باوجود التوا کا شکار ہو کرابھی تک کسی منتقی انجام کو نہیں پہنچے۔ امریکہ اور چین میں صحافیون کیلئے آزادانہ طور پر کام کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت ان دنوں صحافیوں اور صحافتی اداروں کے ساتھ مکمل طور پر برسرپیکار دکھائی دیتےہیں۔ نشریاتی اداروں اور صحافتی تنظیموں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان دنوں پریس فریڈم اور اظہار رائے کی آزادی کو جس طرح سلب کررکھا ہے اس کی امریکی تاریخ میں گزشتہ 20 سالوں میں مثال نہیں ملتی۔ صحافیوں کو مختلف اوقات میں صدر ٹرمپ کی طرف سے دھمکیاں دینے اور عوامی مقامات پر صحافیوں کی تذلیل کرنے کے واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔  اسی طرح چین میں بھی صحافتی اداروں اور سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے بے شمار پابندیوں کا سامنا ہے اور یہ چیز عام دیکھنے میں آئی ہے کہ چینی حکومت براہ راست صحافتی اداروں اور اظہار رائے کے پلیٹ فارمز کے معاملات میں دخل اندازی کرتی ہے اور وہاں پر سیلف سینسرشپ کا تناسب دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔  اظہار رائے اور پریس فریڈم کے حوالے سے کام کرنیوالے ایک بین الاقوامی ادارے فریڈم ہاؤس کی ایک سینئر ریسرچ ڈائریکٹر سارہ ریپیوسی نے کچھ عرصہ قبل جاری کردہ ایک رپورٹ میں باقاعدہ انکشاف کیا کہ پریس فریڈم اور آزادی اظہار رائے کے حوالےسے بڑے بڑے دعوے کرنیوالے ملک بھارت میں وہاں کی برسراقتدار پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) باقاعدہ طور پر ان مہمات اور اقدامات کی سپورٹ کرتی ہے جو حکومتی غلط اقدامات سے متعلق حقائق کو سامنے لانے والے اور سچائی پر مبنی تنقید کرنے والے صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے اور تشدد کرنے کیلئے منظم انداز میں شروع کیے جاتے ہیں معروف ریسرچر اور تجزیہ نگار سارہ ریپیوسی اپنی رپورٹ میں لکھتی ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بذات خود اکثر صحافیوں کو حکومتی مرضی کی خبریں چلانے کیلئے ہدایات دیتے ہیں۔ فریڈم ہاؤس نے لکھا کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت جب کوئی غیر جمہوری قدم اٹھانے لگتی ہے یا اٹھاتی ہے تو وہ سب سے پہلے میڈیا کو کنٹرول کرکے ان کی آزادانہ کام کرنے کا حق سلب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ 2017 میں ایک ملیشئین صحافی کو فقط اس لیے قتل کردیا گیا کہ اس نے سیاستدانوں کی کرپشن کو نقاب کیا تھا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ امریکہ، وسطی ایشیا، اور افریکی ممالک میں 2014 سے لیکر 2019 تک اظہاررائے کی آزادی یا آزادی صحافت کے حوالے سے حالات میں فقط 3 فیصد کا فرق ہی دیکھنے میں آیا۔  مشرقی ایشیا کے حوالے سے اسی ادارے کی ایک اور سینئر ریسرچر سارہ کاک نے اپنی رپورٹ میں چین میں صحافتی اداروں میں سرکاری مداخلت میں مسلسل اضافے پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔
آزادی اظہار رائے کی سلبی میں یوں تو بھارت ہمیشہ سے ہی آگے رہا تاہم نریندر مودی کے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد آزادی رائے کو دبانے کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انتہا پسندانہ سوچ اور پرتشدد مزاج کے حامل مودی سرکار بھارت میں کئی سالوں سے مکین سکھ ، مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جو ظلم اور بربریت روا رکھے ہوئے ہے وہاں کے کسی فرد، ادارے یا صحافی کو اس ظلم و بربریت کی آزادانہ رپورٹنگ کی قطعی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ بھارتی حکومت نے صحافتی اداروں سے بڑھ کر سوشل میڈیا پر بے شمار پابندیاں عائد کررکھی ہیں اور خلاف ورزی کرنے پر انسانی حقوق کے برعکس سخت ترین سزائیں دینے کے واقعات عام ہیں ۔  مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی کو منظر عام پرآنے سے روکنے کیلئے بھارتی فوج اور حکومت وہاں کے صحافیوں کو آئے روز تشدد کا نشانہ بناتی اور ان کی نقل وحمل پر پابندیوں سمیت فون اور انٹر نیٹ کے استعمال پر بھی پابندیاں لگاتی رہتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی اور پریس فریڈم کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ بھی کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ پاکستان میں 1994 سے اب تک 70 کے قریب صحافیوں کو قتل کردیا گیا، فریڈم نیٹ ورک نامی تنظیم نے انکشاف کیا کہ مئی 2019 سے اپریل 2020 تک 90 سے زائد صحافیوں پر تشدد اور حملوں کے واقعات ہو چکے ہیں فریڈم نیٹ ورک کے مطابق اس دوران سب سے زیادہ تشدد کے واقعات وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آئے جن کی تعداد 34 ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سندھ میں صحافیوں پر تشدد کے 24، پنجاب میں 20، خیبر پختونخوا میں 13 اور بلوچستان میں 3 واقعات رونما ہوئے۔
 فروری 2020 میں پاکستانی حکومت نے بڑی خاموشی کے ساتھ سوشل میڈیا سے متعلق قانون نافذ کردیا جس کے بعد صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کیلئے حکومتی اقدامات پر تنقید کرنا بہت مشکل ہو گیا۔ گزشتہ سال دسمبر میں نصراللہ چوہدری نامی صحافی کو دہہشتگردی کی عدالت نے ممنوعہ مواد کی تشہیر کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی۔ اسی طرح حکومت اور اس کے حامی اسٹیبشمنٹ پر تنقید کرنے کی وجہ سے معروف صحافیوں حامد میر، سلیم سافی، منیزہ جہانگیر، شاہ زیب خانزادہ سمیت متعدد اینکروں کے پروگرام بند اور سینسر کردیئے گئے۔ فروری 2020 میں سندھ کا ایک صحافی عزیز میمن کا مبینہ قتل ہوا جس کا تاحال یہ طےنہیں کیا جا سکا کہ عزیز میمن کو قتل کیا گیا یا پھر اس کی موت کسی اور وجہ سے ہوئی۔سی پی این ای کی گزشتہ سال جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال پاکستان میں 60 صحافیوں پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کیے گئے ۔ سرکاری محکموں کے تقریباً تمام دفاتر میں حقائق کو چھپانے کیلئے صحافتی اداروں کے نمائندوں کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔ کسی صحافی کو کسی ادارے میں ماسوائے اپنے مطلب کی رپورٹنگ کے موبائل کیمرہ تک لیجانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ حکومت کے نامناسب اقدامات اور متنازعہ پالیسیوں پر تنقید کرنے کے جرم میں پیمرا آئے روز ٹی وی چینلز کو نوٹسز اور جرمانے کرتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ اظہار رائے کی آزادی کو کم کرنے کیلئے موجودہ حکومت نے نئے اخبارات اور میگزینوں کے دیکلریشن کے اجراء پر بلاجواز پابندی عائد کررکھی ہے۔ اور چھوٹے اخباروں اور ادارون کو اشتہارات کی بندش اور ان کے واجبات کی عدم ادائیگی ان اداروں میں کام کرنے والے ورکروں کے بنیادی حقوق کو متاثرکرنے اور انہیں آزادنہ طور پر اپنی رائے کے اظہار سے روکنے کی کوشش ہے۔
بین الاقوامی اخبار گارڈین نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کی موجودہ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ عمران خان کی حکومت پر تنقید کرنے کا مطلب اخبار یا چینل کو بند کرنا ہے۔  گارڈین نے عمران خان کے دور حکومت میں میڈیا  اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں کو ایوب خان اور ضیاء الحق کے دور آمریت سے بھی زیادہ بدتر اور خطرناک قرار دیا۔ آزادی رائے یا آزادی صحافت کے اس عالمی دن کے موقع پر ایکبار پھر دنیا بھرسے بڑے بڑے دعوے اور اعلانات سامنے آئینگے اور تقریباً تمام ممالک کے سربراہان اور ذمہ داران آزادی رائے کی مکمل فراہمی کا اعادہ کرتے ہوئے نظر آئینگے لیکن حقیقت میں دنیا کے آمرانہ سوچ کے حامل حکمران کبھی بھی پریس فریڈم یا رائے کے اظہار کی آزادی کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائینگے۔ اب تک کے جو حالات اور اعداوشمار ہمارے سامنے ہیں اگلے سال ان میں بے بے انتہا اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ کیونکہ وقت بدل رہا ہے لیکن حکمران طبقے کی سوچ وہی ہے اور خود صحافتی حلقے بھی اپنی آزادی کا دفاع کرنے میں اس حد تک مؤثر انداز میں کام کرتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے جو موجودہ حالات کے مطابق وقت کی ضرورت ہے۔

Thursday, December 20, 2018

لبرلینڈ پاکستان کوتوانائی کے بحران سے نکالنے میں ہر ممکن مدد کرے گا, ڈاکٹر طارق عباسی

لبرلینڈ پاکستان کوتوانائی کے بحران سے نکالنے میں ہر ممکن مدد کرے گا ، پاک لبرلینڈ چیمبر آف کامرس کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ سٹیٹ سیکرٹری لبرلینڈ ڈاکٹر طارق عباسی
لبرلینڈ پاکستان کے تعلیمی سیکٹرمیں سرمایہ کاری کر کے پاکستان میں تدریسی شرح کو بڑھانے میں تعاون کرے گا ، قونصل جنرل پاکستان فیصل بٹ

لاہور (نمائندہ ہمارا مقصد) یورپ کے نقشے پر ابھرنے والے نئے ملک ”لبرلینڈ“ کے سٹیٹ سیکرٹری ڈاکٹر طارق عباسی اور پاکستان میں تعینات لبرلینڈ کے قونصل جنرل فیصل بٹ نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔
پریس کانفرنس میں قونصل جنرل پاکستان فیصل بٹ نے لبرلینڈ کا تفصیلی تعارف بیان کیا ۔ بعد ازاں سٹیٹ سیکرٹری ڈاکٹر طارق عباسی نے لبرلینڈ کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر طارق عباسی کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ یورپین پارلیمنٹ میں اپنا اہم مقام بنا چکا ہے جسکا منہ بولتا ثبوت USA Libertarian Party اور UK Libertarian Party کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ لبرلینڈ کو تسلیم کرنے کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ اب تک 14 ممالک لبرلینڈ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ابھی ہم ان ممالک کے نام عیاں نہیں کر سکتے ، وقت کو بھانپتے ہوئے ان ممالک کے نام ظاہر کر دیے جائیں گے ۔
انکا کہنا تھا کہ صومالیہ سفارتی طور پر لبرلینڈ کو تسلیم کرچکا ہے دریں اثناء لبرلینڈ اور صومالیہ کے درمیان تجارتی و اقتصادی روابط قائم ہو چکے ہیں ، اسکے علاوہ لبرلینڈ صومالیہ کو بنکنگ ، ای کامرس ، کرپٹو کرنسی اور انرجی سیکٹر ز میں تعاون کر رہا ہے ۔
ڈاکٹر طارق عباسی کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ UNPO(Unrepresented Nations and Peoples Organization) میں آبزرور کے طو پرر موجود ہے ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا میں لبرلینڈ کے 106 آپریٹنگ دفاتر موجود ہیں جو لبرلینڈ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پاکستان میں تعینات لبرلینڈ کے قونصل جنرل ”فیصل بٹ“ کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ ریاستی بالادستی کے قیام کے لیے Montevideo conventionکے آرٹیکل 1 کے مطابق اپنی اہلیت مکمل کر چکا ہے ۔
پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فیصل بٹ کا کہنا تھا کہ پچھلے دور حکومت میں وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے لبرلینڈ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات قائم نہ ہوسکے ۔ لبرلینڈ اور پاکستان کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے لیے موجودہ وزیر خارجہ کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لبرلینڈ پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالنے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا ۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہنر مند افراد پوری دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ، لبرلینڈ کے انفرا سٹرکچر میں پاکستانی ماہرین کی خدمات لی جائیں گے ۔ جس سے پاکستان کی اکانومی بہتر ہوگی، یہ اقدام بیروزگاری کے خاتمے میں معاون ثابت ہو ں گے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گا ، پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے ، لبرلینڈ پاکستان جیسے ممالک میں سرمایہ کاری کرکے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کروانے کی کوشش کرے گا ۔
انکا کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان چیمبر آف کامرس کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے پاکستان اور لبرلینڈ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا ۔ قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ وہ پاکستانی کمپنیاں جو یورپ میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہشمند ہیں انہیں چاہیے کہ وہ لبرلینڈ کی وساطت سے خود کو رجسٹرڈ کروائیں تاکہ انہیں یورپ میں بھاری بھرکم ٹیکس سے چھٹکارہ مل سکے ۔ انکا کہنا تھا کہ لبرلینڈ یورپ میں واحد ملک ہے جو ٹیکس فری سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرہا ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان میں نا صرف Block Chain Technology متعارف کروائے گا بلکہ پاکستان کو اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کرنے میں بھی معاونت کرے گا ۔ قونصل جنرل فیصل بٹ کا کہنا تھا کہ لبرلینڈ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سرمایہ کاری کرکے شرح خواندگی کو بڑھانے میں مدد کرے گا ۔ آخر میں قونصل جنرل نے عوام کو آسان شرائط پر لبرلینڈ کی شہریت حاصل کرنے کی متعلق بتایا ۔

Thursday, December 13, 2018

Missing educational facilities in Layya.

علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے, اس قول کی زندہ مثال شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر پڑھنے والے لیہ کے بچے
(تحریر : مرزا رضوان بیگ لیہ)

لیہ میں ایک ایسا سکول بھی موجود ہے جوشدید سردی میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر علم کے روشنی پھیلانے کے لیے کوشاں ہے بغیر چھت کے سکول کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سکول وزیر اعلی پنجاب کے ایڈوائزر سید رفاقت گیلانی کے حلقہ میں واقع ہے

پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمپین کے دوران ووٹرز سے تعلیمی بجٹ میں اضافہ، سکول سے باہر سکول جانے والی عمر کے بچوں کا سکولوں میں داخلہ،نظام تعلیم کی بہتری، مفت صحت و تعلیم دینے اورغریب طبقے کو غربت کی لکیر سے نکالنے جیسے وعدوں کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے لیکن 100 دن سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے باوجود لیہ شہر کے وسط میں آباد کچی آبادی کے مکین بچوں کو محکمہ تعلیم قریبی سرکاری سکولوں میں داخل کروانے میں ناکام ہے

پل انگڑا کے قریب آباد کچی آبادی کے مکینوں نے بتایا کہ ایک نجی تنظیم کی تقریب میں انہیں بتایا گیا کہ غربت سے نکلنے کا واحد ہتھیار بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا ہے اس کے بعد ہم تمام بستی والوں نے بچوں کو پڑھانے کا فیصلہ کیا اور حصول تعلیم کے لیے تمام بچوں کو قریبی گورنمنٹ سکول میں داخل کروا دیا تاکہ بچے پڑھ لکھ کر اچھے شہری بن سکیں لیکن سکول میں اساتذہ کے غیر منصفانہ رویے اور دوسرے بچوں کی مار پیٹ کی وجہ سے جلد ہمارے بچوں نے سکول جانا چھوڑ دیا انہوں نے شہر کے معززین سے بات کی کہ ہم بچوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن تعلیم کی سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے نہیں پڑھا پا رہے سماجی کارکنوں اور خداترس شہریوں کی مدد سے لٹریسی ڈیپارٹمنٹ نے بستی میں غیر روائتی سکول بنا دیا 1 مارچ 2018 کو سکول کا ہوا جس پر ہم سب والدین سمیت بچے بھی بہت خوش ہوئے تمام بچے روزانہ صبح 8:30 بجے سکول جاتے ہیں اور 12:30 بجے تک تعلیم حاصل کرتے ہیں

بستی کے رہائشی قمر عباس جوکہ بلدیہ میں کلاس چہارم کا ملازم ہے نے بتایا کہ والدین کی اولین ترجیح اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا اور اچھا انسان بنانا ہوتی ہے لیکن محدود وسائل کی وجہ سے تعلیم دلوانا مشکل ہوجاتا ہے لٹریسی سکول بن جانے سے ہمارے بچوں کو تعلیم تو مل رہی ہے لیکن دسمبر کی اس شدید سردی میں کھلے آسمان تلے اس چھونپڑی میں صبح سویرے بچوں کا آنا اور تعلیم جاری رکھنا بہت مشکل ہے بجائے اس کے کہ گورنمنٹ سکول کے اساتذہ کو منصفانہ رویے پر آمادہ کیا جاتا ہمارے بچوں کو شدید سردی اور تیز ہواوں میں کھلے آسمان تلے جھونپڑی بنا کر تعلیم کی نعمت سے نوازا جارہا ہے ہم اس پر بھی حکومت وقت کے شکر گزار ہیں مخیر حضرات کے تعاون سے بچوں کو بستے اور کاپیاں تو مل گئی ہیں لیکن جوتے، جرسیاں اور ٹھنڈی ہوا کو روکنے کے لیے تاحال کوئی انتظامات نہیں ہو سکے

سکول ٹیچر تصور عباس کا کہنا ہے کہ غربت تعلیم کے راستے میں حائل ضرور تھی لیکن بستی کے بچے عام سہریوں کے بچوں کی طرح ذہین ہیں اور ذمیہ کام ذمہ داری سے کرکے آتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں محدود تنخواہ کے باوجود صدقہ جاریہ سمجھتے ہوئے غریب پسماندہ بستی کے بچوں کو تعلیم دینے کے لیے کوشاں ہوں حکومتی نمائندگان کو چاہیے کہ بچوں کے بیٹھنے اور سردی سے بچنے کے لیے انتظامات کریں بچوں کو بنیادی سہولیات مل جائیں تو ان کا مستقبل سنور جائے گا

مشیر وزیر اعلی پنجاب سید رفاقت علی گیلانی نے بتایا کہ جلد صوبہ بھر میں تعلیمی اصلاحات لارہے ہیں جس کے تحت سکول سے باہر سکول جانے کی عمر کے تمام بچوں کو سکول داخل کروایا جائے گا۔

پروجیکٹ انچارج لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ مہر انوار تھند نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ایسے علاقہ جات جہاں سکول دور ہو اور بچوں کی زیادہ تعداد سکول نہ پہنچ سکے وہاں لیٹریسی ڈیپارٹمنٹ ہنگامی بنیادوں پر غیر روائتی سکول کا قیام کرتا ہے اور بچوں کو تعلیم کی سہولیات فوری بہم پہنچائی جاتی ہیں کچی آبادی کے بچوں کو استاد اور کتابیں مہیا کردی گئی ہیں دیگر اخراجات اور لوازمات لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کی ذمہ داری نہیں ہے۔

بقول شاعر

کشکول میں جس روز کوئی بھیک نہ ہوگی
وہ رات میری قوم پر تاریک نہ ہوگی
اس شہر کے ماتھے پر لکھی ہے تباہی
جس شہر کی مکتب کی فضا ٹھیک نہ ہوگی

Tuesday, December 11, 2018

آشیانہ سکیم سکینڈل, سابق وفاقی وزیر سعد رفیق اپنے بھائی خواجہ سلیمان کے ساتھ گرفتار.

آشیانہ سکیم سکینڈل میں سعد رفیق اور خواجہ سلمان کو گرفتار کرلیا گیا.
( مانیٹرنگ ڈیسک)

حکومت کیا گئی ن لیگ پر تو جیسے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے, ہر آنے والا دن پہلے سے زیادہ برا ثابت ہونے لگا, نواز شریف اور مریم نواز ضمانت پر ہیں تو شہباز شریف ان دنوں نیب کی حراست میں, خبر ہے کہ حمزہ شہباز کو بھی بیرون ملک سفر سے روک دیا گیا. جبکہ آج ن لیگ کے اہم رہنما و سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو آشیانہ / پیراگون ہاؤسنگ سکیم سکینڈل میں گرفتار کرلیا گیا, دونوں بھائیوں کے خلاف منصوبے کا جنرل منیجر وعدہ معاف گواہ بن گیا جس کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی, دوسری جانب نیب نے سابق وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب کے خلاف بھی آمدن سے زائد کے اثاثوں پر تحقیقات کا عندیہ دے دیا ہے. حالات سے لگتا ہے کہ اگلے دو تین ماہ میں بڑے پیمانے پر مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائینگی. ان گرفتاریوں کی زد میں چند ایک حکومتی ارکان کے آنے کا بھی خدشہ ہے.

FIA offloaded Hamza Shehbaz

آپ بیرون ملک نہیں جاسکتے,ایف آئی اے نے حمزہ شہباز کو جہاز سے اتار لیا,
(ٹی وی رپورٹ)

ایف آئی اے کی ٹیم نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے و رکن صوبائی اسمبلی حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا, تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز ایک نجی ایئر لائن کی پرواز سے بیرون ملک جا رہے تھے کہ ایف آئی اے حکام نے انہیں بیرون ملک جانے سے روکتے ہوئے جہاز سے اتار لیا, یاد رہے کہ حمزہ شہباز اور انکے والد شہباز شریف کیخلاف کیسز کی تحقیقات چل رہی ہیں جبکہ شہباز شریف پہلے ہی نیب کی حراست میں ہیں.

Monday, December 10, 2018

موسم سرما کی پہلی بارش, ملک بھر میں جل تھل, روجھان کے شہری بارش سے خوش ہونے کی بجائے پریشان.

موسم سرما کی پہلی بارش, ملک بھر میں جل تھل, روجھان کے شہری بارش سے خوش ہونے کی بجائے پریشان.
( ہمارا مقصد رپورٹ)

ملک کے دیگر حصوں کی طرح راجن پور میں بھی ابررحمت جم کے برسا, موسم سرما کی پہلی بارش سے جہاں درختوں کے پتے دھل گئےاور فصلیں ہری بھری ہوگئیں, وہاں روجھان میں  باران رحمت شہریوں کیلئے باعث زحمت بن گیا تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح راجن پور اور اس کے مضافات میں بھی موسم سرما کی پہلی بارش نے ہر طرف جل تھل کردی, باران رحمت سے درختوں کے پتے دھل گئے تو کھیت اور کھلیان بھی کھل اٹھے, دوسری طرف بارشوں کی پیشگی اطلاعات کے باوجود مقامی انتظامیہ کی طرف سے مناسب انتظامات کی کمی کے باعث روجھان میں بارش کا پانی اور کیچڑ شہریوں کیلئے وبال جان بن گیا, سیوریج کا نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی گلیوں, محلوں اور سڑکوں پر پھیل گیا, لوگوں کو آمد ورفت میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ گیا.