افسوسناک واقعے پر پاکستان بھر میں عام طور پر جبکہ آزاد کشمیر میں خاص طور پر غم کے بادل چھاٸے ہوٸے ہیں آج آزاد کشمیر میں یوم سوگ منایا گیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے کل پاکستان بھر میں سوگ منانے اور پرچم سرنگو رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس واقعے کی تحقیقات کے بھی احکامات جاری کیے گٸے ہیں۔ دوسری جانب ایف آٸی اے حکام نے بتایا ہے کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس واقعے پر ہر آنکھ اشکبار ہے اور اس حوالے سے کٸی طرح باتیں سوشل میڈیا اور دیگر خبری ذریعوں پر زیرگردش ہیں۔ کچھ حلقے اس واقعے کو ملک میں آٸے روز بڑھتی بے روزگاری، مہنگاٸی کے سبب موجودہ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے بھی دکھاٸی دیتے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے اسلام آباد کے معروف صحافی صدیق جان جو ایک نجی چینل کے بیورو چیف بھی ہیں نے اپنی ایک ٹویٹ میں وفاقی حکومت اور خاص طور پر وزیر داخلہ رانا ثنإ اللہ پر تنقید کرتے ہوٸے کہا کہ ان کی زیر نگرانی چلنے والا ادارہ ایف آٸی اے اب چھوٹے چھوٹے ایجنٹوں کو پکڑ کر لوگوں کو بتانے کی کوشش کر رہی ہے کہ انہوں نے انسانی اسمگلر پکڑ لیے ہیں۔ صدیق جان نےاتنا بڑا کام بڑے لوگوں کے ملوث ہوٸے بغیر نہیں ہوسکتا۔ سوال کیا کہ ایک ملک سے چارسو افراد کا ایک ہی جہاز کے ذریعے ایک جگہ اور ایک ہی راستے سے غیرقانونی طور پر بیرون ملک روانہ ہونا بغیر کسی بڑے سیاستدان، یا کسی طاقتور شخصیت اور خود ایف آٸی اے کے افسران کی ملی بھگت کے کیسے ممکن ہے ۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھاکہ کہ ایف آٸی اے چھوٹے ایجنٹوں کو پکڑ کر کارکردگی دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ اگر واقعی انسانی اسمگلروں کے خلاف کاررواٸی کرنی ہے تو اس سارے کھیل میں ملوث ایف آٸی اے افسران، سیاستدان اور دیگر طاقتور افراد کو پکڑ کر کٹہرے میں لاٸے۔ دورہرا معیار رکھ کر تو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن نہیں ہوگی۔
This Blog is officially being supervise and administrating by Weeky Hamara Maqsad Multan ( A project of Rindaan Media Group Pakistan). Weekly HAMARA MAQSAD Multan is a one of Pakistan's especially south Punjab based news paper , which being publish under the editorial of well known and energetic Journalist Saeed Ahmad Mazari, Hamara Maqsad Multan has slogan of Hamara Maqsad Pakisatan which means that Pakistan' solidarity, Honour and its cultural over view stands first in all rspects.
Add 1
Sunday, June 18, 2023
پاکستان سے بیرون ملک انسانی اسمگلنگ، معروف صحافی صدیق جان نے نیا " کٹّا " کھول دیا۔۔۔
پاکستان سے انسانی اسمگلنگ کی خبریں نٸی تو نہیں ہیں۔ یہ دھندہ درحقیقت کٸی دہاٸیوں سے جاری ہے۔ مہنگاٸی، بدامنی اور بے روزگاری سے تنگ ہو کر ہر سال لاکھوں لوگ پاکستان سے بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد سفری اخراجات کی کمی، یا دستاویزی پیچیدگیوں کے سبب باقاعدہ قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کی بجاٸے غیرقانونی طریقے سے عمان ، یونان، ایران اور دیگر ممالک چلے جاتےہیں۔ اس کیلٸے یہ لوگ انسانی اسمگلروں کا سہارا لیتے ہیں جو انہیں بغیر کسی ویزے ورک پرمٹ یا قانونی دستاویز کے بیرون ملک لے جاکر چھوڑ دیتے ہیں جہاں یہ لوگ چھپا کر رہتے ہیں اور عام ورکروں کی نسبت کم اجرت پر کام کرتے اور ایک مخصوص عرصے کے بعد وہاں پر قانونی طور پر رہاٸش اختیار کرلیتے ہیں یا پھر واپس پاکستان آ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہی چند روز قبل چار سو پاکستانیوں سمیت لگ بھگ دوہزار افراد پر مشتمل ایک بحری جہاز یونان جاتے ہوٸے سمندر میں الٹ گیا۔ جس کے نتیجے میں کم ازکم پندرہ سو افراد کے ڈوب جانے یا لاپتہ ہوجانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ یونانی سمندری رضاکاروں نے اطلاع ملنے پر لگ بھگ تین سے ساڑھے تین سو لوگوں کو زندہ بچا لیا ہے اور لگ بھگ دو سو لاشیں بھی نکالی جا چکی ہیں۔ زندہ نکالے گٸے ان تارکین وطن میں سے اب تک فقط بارہ افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جبکہ پچاس سے زاٸد پاکستانیوں کی لاشیں بھی نکالی گٸی ہیں۔
کپتان سے ملاقات ناقابل معافی جرم، سپریم کورٹ کے معروف و مقبول وکیل مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا
آج کل ملک پاکستان جس کا آٸین اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیتی ہے میں نہ تو کہیں جمہوریت دکھاٸی دیتی ہے ار نہ ہی اسلام۔ بلکہ اگر درست کہا جاٸے ( ویسے درست کہنے کی بھی اجازت نہیں کیونکہ درست کہنے والا بھی آجکل غدار کہلوا رہا ہے ) تو اس خطہ زمین پر جہاں چوبیس کروڑ سے زیادہ عوام کا ایک ہجوم رہتا ہے کہیں کوٸی آٸین اور قانون نام کی کوٸی شٸے نہیں ہے بس جس کی لاٹھی اس کی بھینس وہ بھی چرواہے سمیت۔۔۔والا معاملہ ہے۔ ملک میں اس وقت عوام کے بنیادی انسانی حقوق ممل طور پر معطل کردیٸے گٸے ہیں۔ کسی کو بی بولنے لکھنے سننے حتیٰ کہ اپنی مرضی سے ملنے ملانے تک کی بھی اجازت نہیں ہے۔ حکومت اور مقتدر حلقوں نے اس وقت ہر اس گردن پر چھری رکھی ہوٸی ہے جو مآبدولت اشرافیہ سے متعلق کچھ بھی کہنے کی سکت رکھتا ہو۔ حکومت اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کا گٹھ جوڑ کامیابی سے جبر کی تاریخ رقم کیے جارہا ہے۔ اپنی مخالفت میں نکلنے والی ہر آواز کو اب دبایا نہیں جا رہا بلکہ اسے اس صفحہ ہستی تک سے مٹایا جارہا ہے۔ اس وقت ملک میں ہر وہ فرد غدار ڈکلیٸر ہورہا ہے جو تحریک انصاف سے کسی بھی سطح پر وابستگی رکھتا ہے۔ وہ اس کے گھر والے بہن بھاٸی والدین یہاں تک کہ دور کے رشتہ دار تک بھی غیر محفوظ ہیں۔ عمران خان کی بات کرنا ان کا نام لینا ان کی تصویر دکھانا آج کل پاکستان میں غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ یہاں تک کہ عمران خان سے ملاقات کرنیوالوں کو خواہ ان کا کوٸی جرم نہ ہو تب بھی اغوا کرکے غاٸب کردیا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے معروف و مقبول وکیل لطیف کھوسہ کے گھر پر فاٸرنگ فقط اس لیے کی گٸی کہ انہوں نے آٸین اور قانون کی خلاف ورزیوں پر لب کشاٸی کی تھی۔ اسی طرح کا دوسرا واقعہ آج پیش آیا کہ سپریم کورٹ ہی کے ایک اور سینٸر ترین وکیل عذیر بھنڈاری کو فقط اس لیے مبینہ طور پر اغوا کرلیا گیا کہ انہوں نے چیٸرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ عذیر بھنڈاری کے مبینہ اغوا پر عمران خان نے ردعمل دیتے ہوٸے ٹویٹ کیا کہ " عزیر بھنڈاری ایڈوکیٹ کا شمار سپریم کورٹ کے معزز اور سینئر ترین وکلاء میں ہوتا ہے۔ فوجی عدالتوں، جن کیخلاف ہم عدالت سے رجوع کا ارادہ رکھتے ہیں، کے حوالے سے انہوں نے مجھ سے ملاقات کی۔
(مجھ سے ملاقات سے) واپسی پر انہیں ان کی جانب سے اغواء کر لیا گیا جن کا نام نہیں لیا جا سکتا کیونکہ وہ قانون سے بالاتر ہیں۔
ہم (ہر لحاظ سے) ایک مکمل مارشل لاء کی گرفت میں جکڑے جارہے ہیں۔
Saturday, June 17, 2023
پارٹی میٹنگ کے دوران کیا بات کی کہ والد کو گرفتار کیا گیا، پنجاب میں اصل حکومت کس کی ہے؟ پیپلز پارٹی رہنما ندیم افضل چن کے انکشافات، سیاست چھوڑنے کا بھی عندیہ دے دیا۔۔۔
تین سال قبل پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں جانے والے ندیم افضل چن آٸین و قانون کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہ رہ سکے۔ ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ سیاست سے کنارہ کش ہوجاٶں کیونکہ موجودہ صورتحال میں آٸین و قانون کے مطابق عوام کیلٸے کچھ نہیں کرپا رہا۔ اس وقت ملک میں بدترین لاقانونیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت بیوروکریسی کی حکومت ہے اور وہ ساری کی ساری ن لیگ کی ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔ محسن نقوی ایک کمزور اور ڈمی ٹاٸپ وزیراعلیٰ ہیں بیوروکریسی میں کوٸی بھی ان کی بات تک نہیں سنتا۔ ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ اس وفاق اور پنجاب کے بیورو کریسی کی گٹھ جوڑ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان پر کوٸی مقدمہ نہیں ہے لیکن پھر بھی والد کو گرفتار کیا گیا۔ اس گرفتاری پر مزید بات کرتے ہوٸے انہوں نے کہ کہ میں نے پیپلز پارٹی کی میٹنگ دوران پنجاب میں پی ٹی آٸی سے اتحاد کی بات کی تھی لگتا ہے کہ کسی نے وہ ریکارڈ کرکے حکومتی لوگوں کو بھیج دی ہوگی اور انہوں نے اس وجہ سے والد کو گرفتار کیا ہوگا۔ ندیم افضل چن نے اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر جانے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان حالات میں ان لوگوں کو پی ٹی آٸی نہیں چھوڑنی چاہیے تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اگر تین سال پہلے پارٹی نہ چھوڑی ہوتی تو ان حالات میں کسی صورت تحریک انصاف کو نہ چھوڑتا۔ انہوں نے کہ اب سوچ رہا ہوں کہ سیاست ہی چھوڑ دوں۔
ن لیگ کے قاٸد میاں نواز شریف کب واپس آٸیں گے، بڑی خبر آ گٸی
گزشتہ برس اپریل میں عمران خان مخالف سیاسی اتحاد نے جن مقاصد کیلٸے عمران خان خان کی حکومت کا تختہ الٹا ان پر اقتدار کے پہلے دن سے کوششیں شروع کردی گٸیں۔ گزشتہ چودہ پندرہ ماہ کے دوران ملک تاریخ میں سب سے زیادہ قانون سازی کی گٸی۔ اور یہ بات بھی حیران کن ہے کہ سات دہاٸیوں سے زاٸد ملکی تاریخ میں پہلی بار اتحادی حکومت نے عجیب و غریب قسم کی قانون سازی کی۔ اس دوران کٸی گٸی قانون سازی سے حکمران اتحاد نے اپنے خلاف موجود نہ صرف کیسز ختم کرواٸے بلکہ ملک کے جوڈیشری سسٹم، احتسابی عمل، قانون نافذ کرنیوالے اداروں، میڈیا سمیت تمام انتظامی شعبوں کو تلپٹ کردیا۔ اس دوران حکومت نے عالمی قوانین، انسانی حقوق سمیت اسلامی روایات اور احکام الہٰی کو بھی پس پشت ڈال دیا۔
اس وقت ملک کے تمام کرپٹ لوگوں نے خود ہی قانون سازی کرکے اپنے آپ کو کلیٸر کروا لیا۔ اس وقت پاکستان میں مجرم اور جرم کی تعریف بدل چکی ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں لوگوں کو یہ بات سمجھ آ چکی ہے کہ سزا و جزا صرف سیکنڈ اور تھرڈ کلاس عوام کیلٸے ہے۔ باقی سرمایہ دار اور طاقتور طبقہ کچھ بھی کرلے تو اس کو کوٸی روک ٹوک نہیں کی جاسکتی۔ اشرافیہ کو ہر لحاظ سے تحفظ دینے میں عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی ، میڈیا اور اندرونی و بیرونی محافظوں نے بھرپور اور واضح کردار ادا کیا۔ اس دوران جبروتشدد کی بھی لازوال اور ہولناک داستانیں رقم کی گٸیں۔ مخالفین کو دبانے کیلٸے نت نٸے حربے آزماٸے گٸے۔ عوام میں خوف و ہراس کا ایک طوفان پیدا کرنے کی کوشش کی گٸی تاکہ آٸندہ کبھی کوٸی بھی مڈل مین اشرافیہ کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت نہ کرے۔ بہرحال اب یہ حکومت بظاہر فقط دو ماہ کی مہمان ہے تو اس لیے اس وقت ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں کہ آٸندہ الیکشن میں اقتدار کی بندربانٹ مناسب طریقے سے ہوسکے۔ اس سلسلے میں آخری قانون سازی بھی جاری ہے۔ اس وقت شہباز شریف حکومت کی ساری توجہ نواز شریف کو وطن واپس لانے ان کی سزاٸیں ختم کروا کر ایکبار پھر نواز شریف یا ان کی بیٹی مریم نواز کو وزارت اعظمیٰ کے منصب پر لاکر بٹھانے پر مرکوز ہیں۔ اس مقصد کے حصول کیلٸے انہوں ملکی معیشت ہی نہیں بلکہ سالمیت کو بھی داٶ پر لگا دیا۔ عدالتی نظام کو تقریباً تباہ کردیا اور آٸین پاکستان کا سارا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔
ہمارے باوثوق ذراٸع سے اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ میاں نواز شریف کی واپسی کی تمام رکاوٹیں دور کردی گٸی ہیں۔ اور نٸی قانون سازی کے بعد اگلے چند دنوں میں ان کی تاحیات نااہلی کو بھی ختم کروایا جاٸے گا اور ان کو ملنے والی سزاٶں کو بھی کالعدم قرار دلوایا جاٸے گا۔ اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی سزاٶں کے خاتمے اور ان کی نااہلی سے متعلق درخواستیں اسی جون کے آخری ہفتے یا پھر جولاٸی کے پہلے ہفتے میں داٸر کردی جاٸیں گی۔ جن پر اگست سے پہلے پہلے ہی فیصلہ ہوجاٸے گا۔ اس کے بعد ممکنہ طور پر میاں نواز شریف جولاٸی کے آخری ہفتے یا پھر اگست کے پہلے ہفتے میں پاکستان واپس آ جاٸیں گے۔ ابھی تک ن لیگ کی طرف سے میاں نواز شریف کی واپسی بارے بیانات سے آگے بڑھ کر کوٸی حتمی تاریخ سامنے نہیں آٸی۔ ذراٸع کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف دس اگست سے تیرہ اگست کے درمیان کسی بھی روز اسمبلی تحلیل کردیں گے۔ جس کے بعد نواز شریف اور آصف زرداری کی مشاورت سے نگران سیٹ اپ لگایا جاٸے گا۔ تاہم الیکشن نومبر کے دوسرے ہفتے میں کرواٸے جاٸینگے۔ تاہم اتحادی حکومت عمران خان یا ان کی جماعت کو ہر قیمت پر آٸندہ الیکشن سے دور رکھنے کیلٸے ہاتھ پیر مار رہی ہے۔ اس مقصد کیلٸے ان کی نااہلی، ملڑی کورٹس سے سزا اور زبردستی کی جلاوطنی جیسے تین آپشن پر اس وقت کام جاری ہے۔
Friday, June 16, 2023
بڑی خبر۔۔۔ ایل پی جی کی قیمت میں اب تک کی بڑی کمی۔۔۔ نٸی قیمت کیا ہوگی۔۔اعلان ہوگیا۔۔
ملک بھر میں ایل پی جی گیس صارفین کیلٸے اب تک کی سب سے بڑی خوشخبری سامنے آ گٸی۔ اوگرا نے ایل پی جی صارفین کیلٸے گیس کی قیمتوں میں سب سے بڑی کمی کا اعلان کردیا۔ نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق ایل پی جی گیس ڈسٹری بیوٹر لوکل اور امپورٹڈ ایل پی جی کے نام پر صارفین کو مہنگے داموں گیس فروخت کررہے تھے۔ جس سے ایل پی جی گیس صارفین کو بڑی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس لیے اوگرا نے ملک بھر میں امپورٹڈ اور لوکل ایل پی جی گیس کی قیمت یکساں مقرر کردی۔ جس کے باعث ایل پی جی گیس کی قیمت 350 روپے سے کم ہوکر 210 روپے فی کلو ہوگٸی۔ اوگرا کی جانب سے صارفین کو ہدایت کی گٸی کہ وہ امپورٹڈ ایل پی جی کے نام پر کسی بھی دکاندار یا ڈسٹری بیوٹر کو اضافی رقم نہ دیں۔ اب ملک بھر میں امپورٹڈ اور لوکل ایل پی جی گیس ایک ہی قیمت پر فروخت ہوگی۔
پرانی رنجشیں، فقط ایک ماہ کے دوران ایک درجن کے لگ بھگ جانیں ضاٸع ہوگٸیں
ضلع راجن پور میں مٸی سے جون کے وسط تک قتل وغارت گری ، پرانی دشمنی ، زمین کاتنازعہ اور ڈکیتی مزاحمت سے اب ایک درجن سے زاٸد افراد کی قیمتی جانیں چلی گئی،،، مئی اور جون کی وسط کا دورانیہ ضلع راجن پورپرانتہائی بھاری گزرا،،، ہفت روزہ ہمارا مقصد کو موصول ہونے والی تفصیلات کےمطابق مٸی اور جون کی سولہ تاریخ تک کے اعدادو شمار کےمطابق اب تک کم ازکم چودہ افراد کی قیمتیں جانیں ضاٸع ہوگٸیں،، نواحی علاقہ آسنی میں ڈکیتی مزاحمت پر شاہدنامی نوجوان فائرلگنےسےدم توڑگیا ،،اسی طرح پرانی دشمنی پر روجھان میں مخالفین کے گروہ کی جانب سے 4 افراد کو قتل کردیا گیا،،، کوٹلہ عیسن کےعلاقےمیں 4 افراد کو مخالفین کی جانب سے گھرمیں گھس کر قتل کیاگیا،،،،
اسی طرح کوٹلہ عیسن ہی کےعلاقے میں ممتاز نامی شہری کو جان سے مار دیا گیا،،، بستی لاکھامیں چچانے بھتیجےکوفائرنگ کرکےموت کےگھاٹ اتادیا،،، نواحی علاقہ ہڑند روڈ پر نامعلوم افراد نے نوجوان کو مارڈالا،، جبکہ گزشتہ رات داجل بائی پاس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شکیل نامی پولیس کانسٹیبل کو پرانی رنجش پر موت کےگھاٹ اتار دیا،،، اتنے واقعات کے بعد بھی پولیس اب تک کسی ملزم کو گرفتارنہ کرسکی۔
پاکستانی ریسکیو 1122اہلکار نے سعودی عرب میں ایک شخص کو بچا لیا۔۔۔
کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں ریسکیو1122 پنجاب بھر میں انسانی خدمت کا ایک قابل اعتبار ادارہ ہے۔ کوٸی بھی مشکل ہو، سیلاب ہو آندھی ہو یا کوٸی بھی چھوٹا یا بڑا حادثہ ریسکیو 1122 کے اہلکار ہمیشہ فرنٹ لاٸن پر لوگوں کی مدد کرتے دکھاٸی دیتے ہیں۔
اپنے ملک اور اپنے صوبے میں تو یہ ادارہ گزشتہ دو دہاٸیوں سے خدمات انجام دے رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے اپنی بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروٸے کار لاتے ہوٸے ایک شخص کی جان بچا لی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں حج کی ادائیگی کے لیے جانے والے کراچی پاکستان کے رہائشی 60 سالہ بزرگ محمد شاہد انور کو بطح قریش مکہ مکرمہ سیکٹر نمبر 8 بلڈنگ نمبر 804 پر شدید قسم کا ہارٹ اٹیک ہوا، ڈاکٹرز کی طرف سے اس مریض کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے فوری ہسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی، تاہم سعودی عرب میں معاونین حج کی ڈیوٹی سرانجام دینے والے پنجاب ایمرجنسی سروس یعنی ریسکیو 1122 جہانیاں کے ایک اہلکار شاہد جمیل جو بطور JCO نائٹ شفٹ ڈیوٹی آفیسر بلڈنگ نمبر 804 معمور تھا نے اس مریض کو اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے CPR تکنیک کے ذریعے سانس اور دل کی دھڑکن مصنوعی طریقے سے بحال کرتے ہوئے اسے زندہ رکھا اور پھر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں اس مریض کی جان بچ گئی۔ وہ مریض اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ بہترین پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دیہی پر سعودی عرب کے سیکٹر کمانڈر ہاشم خان کی طرف سے محمد شاہد جمیل کی کارکردگی کو بے حد سراہا گیا۔
نو مٸی واقعات کا معاملہ، لاہور ہاٸی کورٹ نے بڑا حکم دے دیا۔۔۔
نو مئی واقعات کے ملزمان کی شناخت پریڈ 48 گھنٹوں مکمل کی جائے، لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم۔
لاہور ہائی کورٹ نے 9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کی شناخت پریڈ میں تاخیر ہونے پر بڑا فیصلہ سناتے ہوٸے حکم دیا کہ ملزمان کی شناخت پریڈ 48 گھنٹوں میں مکمل کروائی جائے۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے صوبے بھر کے سیشن ججز اور اسپیشل کورٹس کو شناخت پریڈ کا عمل 48 گھٹنوں میں مکمل کرانے کا حکم دیتے ہوئے شہری محمد رمضان کی درخواست پر 13صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار لاہور ہاٸی کورٹ اس فیصلے کی کاپی صوبے کے تمام سیشن ججز اور آئی جی پنجاب کوفوری بھجوائیں ۔
عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ شناخت پریڈ کے پراسس میں بہت تاخیر کی گئی، جس سے شہریوں کی آزادی پر قدغن لگائی گئی۔ ہر انسان کو عزت ،آزادی اور تحفظ کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے ۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین بھی شہریوں کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ گرفتاری، ملزم اور اس کے خاندان کے علاوہ بعض صورتوں میں معاشرے کےلیے بھی دُور رس اثرات رکھتی ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا کہ لوگ سزا سے پہلے گرفتار اور سزا کے بعد گرفتار میں فرق نہیں کر پاتے۔ کسی شخص کی گرفتاری ٹھوس شواہد اور صرف اسی صورت ہونی چاہیے جب دوسرا کوئی راستہ نہ ہو ۔ بین الاقوامی انسانی حقوق نے بھی ٹرائل سے پہلے گرفتاری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ کسی گرفتار ملزم کا بے گناہ ڈکلیئر ہونا ٹرائل سے پہلے گرفتاری کا درد ناک پہلو ہے ۔ بے گناہ شخص کےلیے ٹرائل سے پہلے گرفتاری ذہنی اذیت یا کسی تضحیک سے کم نہیں ہے۔
فیصلے میں عدالت نے تحریر کیا کہ کسی بھی ملزم کے لیے شناخت پریڈ کا عمل بہت اہم ہوتا ہے۔ شناخت پریڈ کا موجودہ عمل بہت ناکارہ ہے، اس عمل میں تاخیر سارے پراسس کو مشکوک بناتی ہے ۔ شناخت پریڈ کے عمل میں تاخیر بنیادی حقوق، تکریم اور فیئر ٹرائل کی خلاف ورزی ہے۔ آئینی عدالتیں آئین کے تحفظ کی ذمے دار ہیں۔ آئینی عدالتوں کو انتظامیہ کے اقدامات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار 25 مئی سے شناخت پریڈ کےلیے جیل میں ہے۔ شناخت پریڈ میں تاخیر بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ 9مئی کو کارکنوں نے توڑ پھوڑ کی، سرکاری اور پرائیوٹ املاک کو نقصان پہنچایا ۔ حالات پر قابو پانے کےلیے ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی نظر بندی کے احکامات جاری کیے ۔ نظر بندی کے احکامات معطل ہونے پر افراد کو مقدمات میں نامزد کر کے گرفتاریاں کی گئیں۔ گرفتاری کے بعد ملزمان کو شناخت پریڈ کےلیے عدالت پیش کیا گیا ۔
آٸین اور قانون پر بات مہنگی پڑ گٸی، معروف وکیل سردار لطیف کھوسہ کے گھر پر فاٸرنگ۔۔
لاہور میں معروف وکیل اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار لطیف خان کھوسہ کے گھر پر نامعلوم افراد کی فاٸرنگ، ڈراٸیو زخمی ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شام ایک کنونشن میں ملک کے معروف وکیل سردار لطیف کھوسہ نے ملک میں جاری آٸین اور قانون کی خلاف ورزیوں اور فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے کھل کر تفصیلی گفتگو کی۔ جو شاید کچھ لوگوں کو اچھی نہیں لگی۔ سردار لطیف کھوسہ نے اپنے گھر پر ہونے والی فاٸرنگ سے متعلق گفتگو کرتے ہوٸے بتایا کہ گھر پر رات گئے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی کینٹ اویس شفیق پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچے، جہاں پولیس نے شواہد جمع کیے۔ واقعے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لطیف کھوسہ کے گھر پر 7 فائر کیے گئے ۔ فائرنگ میں پستول اور رائفل کا استعمال کیا گیا ۔ گولیاں گھر کے دروازے اور گیراج میں کھڑی کار میں لگیں جب کہ ایک گولی گیراج میں موجود ڈرائیور جاوید کی ٹانگ میں لگی ۔
پولیس کے مطابق زخمی ڈرائیور جاوید کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لی جارہی ہے، جس سے واضح ہو سکے گا کہ حملہ آور کون تھے اور کار پر تھے یا موٹرسائیکل پر ۔ مزید تفتیش کے لیے زخمی ڈرائیور کا بھی بیان لیا جائے گا۔
سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے بتایا کہ میرے گھر پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس میں ڈرائیور زخمی ہوگیا۔ بعد ازاں سینئر وکیل اعتزاز احسن بھی وہاں رہائش گاہ پر پہنچے۔ لطیف کھوسہ نے بتایا کہ 7 بجے تک ہمارا کنونشن چل رہا تھا، جس میں آئین کی بالادستی اور فوجی عدالتوں کی بات کی۔ جوڈیشل سسٹم کے حوالے سے بات کی گئی۔ میں نے تقریر میں کہا کہ پاکستان کو سرزمین بے آئین بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے کہا کہ 2 صوبوں میں غیر آئینی حکومت قائم کی گئی ہے۔ جس طرح سے سپریم کورٹ کے باہر نعرے لگائے جاتے ہیں، وہ توہین ہے۔ وہاں بہت تالیاں بجیں لیکن یہاں پھلجھڑیاں چلائی گئیں۔ میں گھر میں کلائنٹ کا کیس سن رہا تھا۔ فائرنگ کی آواز آئی میرے ڈرائیور نے اندر آ کر کہا کہ اس کو فائر لگا ہے۔ باہر جا کر دیکھا تو دروازے میں سوراخ تھے۔ گاڑی پر فائر لگا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)