آٸی ایم ایف کو بھیجا گیا یہ قانونی نوٹس پنجاب کے ضلع بہاولنگر کے شہریوں مسماة ستاں بی بی، رفیقاں بی بی، شکیل طالب، خلیل طالب، جلیل طالب ، عقیل طالب اور عدیل طالب وغیرہ نے اپنے وکیل طالب حسین جٹ میکن کی وساطت سے بھیجا۔
اس قانونی نوٹس میں باقاٸدہ طور پر ڈاٸریکٹر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آٸی ایم ایف ) کو فریق بنایا گیا۔ یہ قانونی نوٹس ڈاٸریکٹر آٸی ایم ایف تک پہنچ پاتا ہے یا نہیں اور وہاں سے اس پر کوٸی خاطر خواہ جواب بھی آٸے گا یا نہیں یہ کہنا تو قبل ازوقت ہوگا۔ تاہم آٸی ایم ایف کو لکھے گٸے اس قانونی نوٹس سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ پاکستانی شہری حکمرانوں کی طرف سے عوامی بہبود کے نام پر قرض لے کر عیاشیاں کرنے اور اپنے اثاثے بنانے کے عمل سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ اب کرپٹ حکمرانوں کی عیاشیوں اور کرپشن کا مزید بوجھ برداشت کرنے سے انکاری ہیں۔ دوسری جانب عالمی مالیاتی اداروں کیلٸے بھی یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے کہ جو حکمران جس عوام اور قوم کے نام پر اربوں ڈالر کا قرض لے کر ان پر خرچ کرنے کی بجاٸے کرپشن کی نظر کردیتے ہیں جبکہ عام شہری اس قرض سے نہ تو مستفید ہوتا ہے اور نہ ہی اس کا کوٸی فاٸدہ ہورہا ہے تو ایسے میں وہ یہ قرض کیونکر چکاٸے گی۔ یہ تو فی الوقت ایک نوٹس ہے اگر اسی طرح ہر عام شہری کی طرف سے لیے گٸے اب تک کے تمام قرض سے بری الذمہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تو یہ عالمی مالیاتی ادارے کس سے قرض لیں گے۔ جن لوگوں نے قرض معاہدے کر رکھے ہیں ان کی اکثریت کے پاس دو دو تین تین ملکوں کی قومیتیں ہیں وہ پاکستانی قومیت چھوڑنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاٸیں گے۔ گو کہ فی الوقت یہ ایک مفروضہ ہی ہے تاہم ملک کی معاشی صورتحال عوام کی بدحالی مہنگاٸی بیروزگاری اور روز بروز کی بڑھتی غربت کی شرح کے سبب ایسا ہونا بھی خارج ازامکان نہیں۔